انٹرنیٹ پر سنسر شپ کیخلاف لڑنے اور ایک انٹرنیشنل کو لیشن کیلئے

ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کے انٹرنیشنل ادارتی بورڈ کی جانب سے سوشلسٹ ،جنگ مخالف،بائیں با زو،ترقی پسند ویب سائٹس تنظیموں اور سرگرم سیاسی کارکنوں کے نام کھلا خط:

23 January 2018

گوگل ،فیس بک،ٹویٹر اور دوسری انفارمیشن ٹیکنالوجیکل کارپوریشن کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے امریکی حکومت نے بڑے پیمانے پر سوشلسٹ، جنگ مخالف اور ترقی پسند ویب سائٹس پر انٹرنیٹ کی ان ویب سائٹس تک رسائی پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ اس طرح کی جابرانہ پالیسیاں یورپ اور دوسری سرمایہ دار حکومتوں کی طرف سے بھی لاگو کی گئی ہیں۔

سنسر شپ کی نئی حکومت نے انٹرنیٹ کے صارفین پرنگرانی کے آپریشنز میں مزید اضافہ کیا ہے اس نگرانی کا مقصد یہ ہے کہ جب لو گ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں تو لوگ کیا پڑھتے ‘کیا لکھتے اور کیا سوچتے ہیں۔ریاست،فوجی انٹیلی جنس ایجنسی اور بڑی اجاراداریاں اور ٹیکنالوجی کارپوریشن کا یہ اتحاد اور اقدام آزادی اظہار اور بنیادی جمہوری حقوق کیخلاف خطرہ ہے۔

’’جعلی خبر‘‘ اور ’’روسی مداخلت‘‘ کی فراڈ کی آرڈر میں اور اسے ختم کرنے کی خاطر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس ڈھانچے کے تحت21وی صدی میں سرمایہ دارانہ پولیس ریاست کو کھڑا کردیاگیا ہے ۔

موسم سرما2017میں ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ گوگل کے سرچ ریذلٹ کی ہیرا پھیری جو کہ اپریل میں شروع کی گئی جس کا ہدف بائیں بازو کی ویب سائٹس کی رسائی کو محدود کرنا تھا کے بارے میں گوگل کے اس اقدام کا انکشاف کیا تھا۔ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹس نے رپورٹ دی تھی کہ70فیصد اسکے پڑھنے والوں میں گوگل کے ذریعے سرچ کے نتیجے میں کمی واقع ہوئی۔ اپریل2017تک گوگل کی150ٹاپ سرچ کے رزلٹ میں145سرچ کے رزلٹ میں ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس(wsws)تک رسائی نہیں ہوئی۔ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس کی تحقیقات نے یہ بھی انکشاف کیا کہ دوسری مزاحمتی ویب سائٹس جیسا کہ: (Consortiumnews.com. Globalresearch.ca. Wikileaks.com and Truthdig.org. ) نے بھی اسکا عملی تجربہ کیا کہ انکے پڑھنے والوں کی گوگل سرچ کے نتیجے میں بڑے پیمانے میں کمی واقع ہوئی۔

ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کے انٹرنیشنل ادارتی بورڈ کے چےئرپرسن ڈیوڈ نارتھ نے25اگست2017کو ایک کھلا خط گوگل کے پرنسپل ایگزیکٹیو کو لکھا:سنسر شپ کی یہ درجہ بندی ایک سیاسی بلیک میلنگ ہے گوگل کی سنسر شپ کا اور اس کے قواعد کا واضح مقصد ان خبروں کو روکنا ہے جو اپکی کمپنی رپورٹ نہیں کرنا چاہتی اور ان نقطہ نظر کو دبانا ہے جن سے آپ متفق نہیں اور یہ کہ سیاسی بلیک میلنگ ہر گز جائز طریقہ نہیں ہے اگر چہ گوگل ایک کمرشل انٹرپرائز کیوں ہی نہ ہو اس کے پاس یہ اختیار نہیں ہے ۔یہ طاقت اجاراداری کی بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہے۔آپ جو کچھ کررہے ہیں وہ رائے آزادی پر حملہ ہے ۔

گوگل نے اس خط کا جواب نہیں دیا۔ لیکن 26ستمبر2017کو نیویارک ٹائم نے ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس کی رپورٹ کے نتیجے میں جو بیان شائع کیا جس میں گوگل کے دعویٰ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ’’ کہ اس کے سرچ کے ضابطے سخت گیر طور پرٹیسٹ کے پروسس میں جاتے ہوئے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ اس کے رزلٹ میں کہیں سیاسی، جنسی ،نسلی گروہ کی عکاسی نہ کرئے‘‘

یہ جو کچھ بیان کیاگیا سراسر جھوٹ پر مبنی تھا۔ جب شروع میں ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس نے حکومتی،فوجی،انٹیلی جنس کارپوریٹ ٹیکنالوجی کمپلیکس کو منظر عام پر لائی تو یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ یہ قوتیں سنسر شپ کو عالمی سطح پر عائد کرنے کی تیز تر کوششوں میں مصروف تھیں۔دسمبر2017میں ٹرمپ انتظامیہ نے نیٹ کی غیر جانبداری کو منسوخ کردیا تھا جبکہ جرمنی،فرانس اور دوسرے ممالک میں انٹرنیٹ کی آزادی پر حملے شروع ہو چکے تھے۔جنوری2018میں فیس بک نے خاص کر بائیں بازو کی ویب سائٹس کی خبروں تک رسائی روکنی شروع کردی تھی فیس بک کے سی ای او مارک زیوکربرگ(Mark Zuckerberg) نے جھوٹے اور مہبم الفاظ میں اس خبر کو اس طرح پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا: کہ یہ تبدیلی جو کی گئی ہے اس کا مقصدصارفین ’’ اپنے کو زیادہ تعلق میں پائیں اور تنہائی کا کم احساس کریں‘‘

جمہوری حقوق پر اس خطرے کے فوری اور دو رس نتیجہ برآمد ہونگے ۔1990میں انٹرنیٹ کی آمد نے یہ امکانات پیدا کردئیے تھے کہ اس کے ذریعے وسیع انفارمیشن اور رابطوں کو عالمی طور پر شےئر کرتے ہوئے بڑھایا جائیگا لیکن پھٹتی ہوئی سماجی نا برابری ،بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی اور عالمی تناؤ میں شدید اضافے کے جواب میں سرمایہ دار ریاستوں اور کرب پتی مالیاتی اشرافیہ جو انفارمیشن،مصنوعی انٹیلی جنس اور کمیونیکشن کی مالک ہیں جنہیں یہ کنٹرول کرتے ہیں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے انٹرنیٹ کو ریاستی نگرانی،ڈکٹیٹرشپ،نجی منافع اور جنگ کیلئے ایک آلہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

ویکی لیکس کے خالق جو لین آسنیج(Julian Assange) نے ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کی میٹنگ(webinar)آرگنائزنگ ریسسٹنس ٹو انٹرنیٹ سنسر شپ(Organizing Resistence to internt censorship)کو16جنوری کو اپنا ایک بیان بھیجا جس میں اس نے درست طور پر انتباہ کیا :اگر چہ انٹرنیٹ نے لوگوں کی صلاحیت میں ایک انقلاب برپا کیا کہ وہ اپنے اور دوسروں کو تعلیم یافتہ کریں اس جمہوری مشاہدے اور اداراک کے نتیجے میں موجودہ اسٹبلشمنٹ کی بنیادوں کو اندر سے ہلا کر رکھ دیا۔ گوگل،فیس بک اور یکساں طور پر چین جو سماجی طور پر نقل و حرکت اور مالیاتی طور پر موجودہ اشرافیہ کے ساتھ پیوست ہیں وہ اسکو دوبارہ استوار کرتے ہوئے اپنے مکمل کنٹرول میں لینے کیلئے بحث کررہے ہیں ۔

ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کو ایک دوسرے پیغام میں فلم میکر اور سرگرم کارکن جان پلیچر(John pilger)نے گوگل کے سرچ کی رزلٹ کی ہیرا پھیری اور سنسر شپ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’آزاد صحافت کو مرکزی دھارے سے باہر نکلا جارہا ہے۔ اب تک دنیا میں ویب ایک بنیادی اور سنجیدہ معلوماتی اور آگہی کا ذریعہ ہے جو بحث و مباحثے اور تصدیق کی بنیاد پر تفصیلی جانچ کا نتیجہ فراہم کرتی ہے جو کہ ایک حقیقی صحافت ہے‘‘

انٹرنیٹ کو حکمران طبقہ انفارمیشن پر اپنی اجاراداری کیلئے مہلک خطرہ سمجھتا ہے جو اسے جنگ کے مسلط کرنے کیلئے ،بے پناہ دولت کے ارتقاز اور سماجی نابرابری کو قانونی جواز فراہم کرنے کیلئے ایک پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے ۔موجودہ سرمایہ داری نظام میں جمہوریت اور انفارمیشن دو متضاد چیزیں ہیں۔آٹھ افراد کے پاس جو دولت ہے وہ دنیا کی آدھی آبادی یعنی3.6بلین کے برابر ہے۔مالیاتی اشرافیہ جو دنیا کی معیشت کو مکمل طور پر کنٹرول کرتی ہے وہ اس بات سے خوف زدہ ہے کہ انٹرنیٹ جو انفارمیشن شےئر کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے جس کی بنیاد پر بحث و مباحثے جنم لیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں سیاسی تنظیمیں بین الاقوامی سطح پر سرمایہ داری نظام کے استحصال اور سامراجی جنگ کے خلاف جدوجہد کرتی ہیں۔

2017میں دنیا کے3.8بلین افراد نے انٹرنیٹ استعمال کیا جو کہ دنیا کی ٹوٹل52فیصد آبادی ہے جس کے مقابل2005میں16فیصد آبادی یعنی1.0بلین افراد نے انٹرنیٹ استعمال کیا۔70فیصد نوجوان اس وقت اون لائن ہیں یعنی کے830ملین افراد جس میں320ملین چین اور انڈیا کے ہیں2012:تک موبیل بورڈ بینڈ کی سبزکرپشن1.7بلین تھی جو بڑھ کر2017میں5بلین تک جاپہنچی جس میں بڑھ اضافہ اشیاء افریقہ ‘مشرق وسط اور لاطینی امریکہ میں ہوا ۔ عالمی محنت کش طبقے کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اسکی جڑت میں اضافہ ہوا ہے جس کے پاس سیاسی طاقت کی بڑی صلاحیت ہے ۔

ڈیموکریٹک اور ریپلیکن پارٹیاں اور کارپوریٹ میڈیا انٹرنیٹ کی سنسر شپ ،انفارمیشن کے کنٹرول اور پولیس کی نگرانی کے حق میں جو دلیل دے رہی ہیں وہ سرا سر جھوٹ اور دھوکہ دیہی پر مبنی ہے انکا مقصد ایک ایسے ماحول کو بنانا ہے جس میں جمہوری حقوق اور قانونی پروسس کا خاتمہ کیا جاسکے۔

امریکہ کے سابقہ آرمی اور ایف بی آئی کے ایجنڈ کلنٹ واٹس (Clint Watls)نے 17جنوری کو امریکی سینیٹ کو بتایا’’دنیا کی کم تعلیم یافتہ آبادی زیادہ تعداد میں موبائل فونز کے ذریعے سائبر سپیس میں داخل ہوئی جس سے دہشتگرد اور آمرانہ قوتیں سوشل میڈیا میں کارستانی کے ذریعے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

فیس بک کی اٹارنی موینکا بیکرٹ(Monika Bickert)نے اور ولین(Orwellion)زبان کا استعمال کرتے ہوئے سینیٹ کو بتایا ’’ کہ ہم تیزی کے ساتھ جعلی خبروں کو روکنے کیلئے نئے راستوں کی تلاش کررہے ہیں اور ہم لوگوں کی مدد کرینگے تاکہ انکی رسائی درست خبروں تک ہوسکے‘ہم جانتے ہیں کہ وہ کرنے کیلئے کیا چاہتے ہیں‘‘

’’روسی مداخلت‘‘ کی طرح’’جعلی خبروں‘‘ کی تمہید بھی ایک دھوکہ ہے ۔ڈیموکریٹس ‘ریپلیکن اور کارپوریٹ میڈیا کے پروپیگنڈا کرنے والے میڈیا نیو یارک ٹائم اور واشنگٹن پوسٹ جسکے مالک ایمازون کے جیف بیذوس(Amazon's Jeff Bezos)مزاحمتی ویب سائٹس پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ جعلی خبریں دیتے ہیں مگر دراصل حقیقت میں یہ مہارت اور خصوصیت سرمایہ دار جریدوں کی ہے جو کہ عوام الناس میں جعلی خبریں پھیلاتے ہیں۔

اسکی سب سے عمدہ مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ جوانہوں نے تباہی کے مہلک ہتھیاروں(Weapons of Mass destruction) کا دعویٰ کیا تھا اور اس کے بعد2003میں عراق پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک ملین افراد کو موت کے گھاٹ اتردیاگیا۔ مکمل طور پر غیر ثابت شدہ’’روسی مداخلت‘‘ کے دعوے کو حکومت پیش کررہی ہے جو کہ ایک مستقبل جنگ میں برسرپیکار ہے جس نے ہر برائے اعظم میں حکومتوں کی تبدیلی کے آپریشنز کئے ہیں اور جس کے فوجی اڈے تمام دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔

سامراجی جنگیں ہمیشہ سیاسی تشدد کے ساتھ شروع ہو تی ہیں پہلی عالمی جنگ کے شروع ہونے کے صرف ایک ہفتے کے بعد جب امریکہ اس جنگ میں شامل ہوا تو کانگریس نے اسپیونیج ایکٹ(Espionage act) پاس کیا اور اس ایکٹ کو استعمال کرتے ہوئے سوشلسٹوں کو جیل میں ڈالا اور تارکین وطن کے ریڈیکل افراد کو ملک بدر کیا ۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران سوشلسٹوں کے جریدوں پر ڈاک کی ترسیل پر پابندی عائد کی اور ٹراٹسکیوں کیخلاف سیمتھ ایکٹ (Smith act) کے تحد مقدمات اور ان کے خلاف انتظامی کارروائی عمل میں لائی گئی اور ایک لاکھ جاپانیوں کو کنسنٹر یشن کیمپوں میں قتل عام اور نظر بند کیاگیا۔ ویت نام کی جنگ میں جب امریکہ کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تو جانسن اور نکسن کی انتظامیہ نے بدنام زمانہ کوئن ٹیل پرو(Cointel pro) پروگرام کو لاگو کرتے ہوئے بے شمار شہری حقوق اور بائیں بازو کے فعال کارکنوں کیخلاف جاسوسی کی۔

ڈیموکریٹس اور ریپلیکن نے2001سے پیٹریاٹ(Patriot)اور فیسا(Fisa)ایکٹ کے پروگرام کے تحت عوامی نگرانی کو لاگو کیا۔جسکے تحت بلیک سائٹ (Black Site)جیلوں میں سی ای اے کے تشدد کو جواز بنانے کیلئے اسے دہشتگردی کے خلاف جنگ قراردیا۔

امریکی فوج کا نقطہ نظریہ ہے کہ سوشل میڈیا کی جمہوری طاقت اسکی فوجی آپریشنز کی راہ میں رکاوٹ اور اس کیلئے خطرہ ہے ۔یو ایس آرمی وار کالج(Us army war collage) نے دسمبر2016میں سٹیٹجی کے ڈاکومنٹ میں لکھا’’ کہ سوشل میڈیا سے انفارمیشن اور(ڈس انفارمیشن) کے تیز رفتار پھیلاؤ کے ان شہروں میں جو کمپیوٹرز اور جدید انٹرنیٹ سے آراستہ ہیں گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں یہاں امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں مارے جانیوالوں کی ویڈیوز کی اشاعت سے خاصے احتجاج اور سیاسی ہل چل اور تحریکیں جنم لیتی ہیں ۔

ایک دوسرے ڈاکومنٹ جیسے اپریل2017میں شائع کیاگیا وار کالج(War Collage)نے اپنے خطرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’کہ عوام کی اکثریت کے پاس سمارٹ فونز ہیں اور جو واقعات انکے علاقوں میں رونما ہوتے ہیں وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ ان واقعات کی تصاویر اسی لمحے دوسرے علاقوں تک بھیج دیتے ہیں‘‘

انٹرنیٹ پر سنسر شپ کے خطرے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ بحیثیت ایک آزاد صحافی کے کرس حیجز(Cris Hedges) جس نے ڈیوڈ نارتھ کے ساتھ ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ میں نیٹ کے ذریعے میٹنگ میں شرکت کرتے ہوئے وضاحت کی: یہ سنسر شپ گوبل ہے۔جرمنی کی حکومت نیٹ ورک این فورسمینٹ ایکٹ کے تحت سوشل میڈیا کمپنیز کے اعتراضی مواد پر جرمانے عائد کرتی ہے فرانس کے صدر ایمنلوں میکرون نے عہدو پیماں کیا ہے کہ وہ انٹرنیٹ میں ’’جعلی خبروں‘‘کو مٹا دیں گئے۔

فیس بک اور انسٹا گرام نے چیچنیا کے ڈکٹیٹر رمضان کیڈی رو کے اکاونٹ کو مٹادیا ہے کیونکہ وہ امریکہ کے زیرتاب ہے اور پابندیوں کی فہرست میں ہے کیڈی رو یقینی طور پر ایک ناگوار انسان ہے لیکن یہ پابندی جیسا کہ امریکن شہری آزادیوں کی یونین نے کہا کہ یہ اقدام امریکہ کو یہ اختیار دیگا کہ وہ پھر آسانی کے ساتھی کسی بھی مواد کو جو اسکے مفاد کے برعکس ہوگا اس کو سنسر کردیگا۔فیس بک نے اسرائیل کی حکومت کے ساتھ ملکر فلسطینیوں کے فعال کارکنوں کے100اکاؤنٹس کو مٹادیا ہے ۔

یہ اور ویلین دنیا کی پولیس سوچ کی طرح خوفزدہ کردینے کی جانب گامزن ہیں ۔’’بناوٹی سیاسی پروپیگنڈا‘‘جرائم کو سوچنا‘‘ جسے فیس بک نے اس طرح پسند کرتے ہوئے پیش کیا ہے ’’ ڈی رینکیکنگ‘‘ اور ’’ کونٹر سپیچ‘‘۔(Truthdig .com. January 26-2018) اس بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر بنیادی جمہوری حقوق کے وجود کیلئے مزاحمت انتہائی ضروری ہے۔انٹرنیٹ کی نگرانی اور سنسر شپ کیلئے

جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے تنظیم جو تمام قوتوں کو یکجا کرتے ہوئے ایک بڑا اتحاد اس کیخلاف تشکیل کرئے۔ اس طرف پیش قدمی کی جانب ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ سوشلسٹوں، جنگ مخالف اور ترقی پسند ویب سائٹس کے انٹرنیشنل کولیشن(اتحاد) کی تشکیل کو سپونسر کرتی ہے۔

ہم تمام سوشلسٹوں جنگ مخالف اور ترقی پسند ویب سائٹس اور تنظیموں کے ساتھ ساتھ وہ تمام فعال سیاسی افراد اور صحافیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں جو اس کولیشن جس کا بنیادی مقصد انٹرنیٹ کی سنسر شپ کیخلاف ہے میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ تاہم سوشلسٹوں‘جنگ مخالف اور ترقی پسند ویب سائٹس کے اس انٹرنیشنل کولیشن کو موثر بنانے کیلئے لازمی ہے کہ مخصوص اصولوں پر اتفاق ضروری ہوجو کہ مندرجہ ذیل ہیں:

ان اصولوں کے مطابق انٹرنیشنل کولیشن کو مندرجہ ذیل ضروری فریضہ کا بیڑا اٹھانا ہوگا۔:

اس اصولوں اورفریضوں پر کولیشن کا اتفاق رائے ایک موثر اندازمیں حکومت اور کارپوریٹ کی انٹرنیٹ پر سنسر شپ کے خلاف اور جمہوری حقوق کے خاتمے کی سازشوں کیخلاف انٹرنیشنل کولیشن کو ر د حملہ (Counter attak) میں بڑھوتری ملے گئی۔

سوشلسٹوں ‘جنگ مخالف اور ترقی پسند ویب سائٹس کی انٹرنیشنل کولیشن میں ناگزیر طور پر مختلف رائے ہوسکتی ہیں اور سیاسی سوالوں پر مختلف نقطہ نظر کے علاوہ نظریاتی تضادات بھی ہونگے اس کولیشن میں شامل ہونیوالوں کیلئے ضروری نہیں ہے کہ وہ ایک سیاسی لائن پر اتفاق کریں ۔کولیشن میں شامل ویب سائٹس اور تنظیمیں، بالکل آزاد ہونگی کہ وہ اپنا خود مختار کام جاری رکھیں۔

ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹس دوسری تنظیموں کو یہ نہیں کہیں گی کے انکی سیاست کیا ہے اور نہ ہی ہمارے سوشلسٹ سیاسی پرسپیکٹیو پر کولیشن کے مفاد میں کوئی بندش ہونی چاہئیں۔

تاہم ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ جو کہ انٹرنیٹ میں انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل کی نمائندگی کرتی ہے وہ مارکسسٹ اور سوشلسٹ پروگرام‘ پالیسی اور تجزیوں کو مستقل طور پر بڑھتی رہے گی‘ہم ٹیکنالوجی پر اجارداری کے خلاف جدوجہد اور انٹرنیٹ پر انٹرنیشنل جمہوری کنٹرول کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس سمجھتی ہے اور جس کیلئے جدوجہد کررہی ہے کہ اظہار رائے اور جمہوری حقوق کے موثر طور پر دفاع کیلئے ضروری ہے کہ ہم سامراجی جنگ کے مخالف ،سرمایہ داری نظام کے خاتمے اور اس کرہ ارض پر سوشلسٹ سماج کی تعمیر ہی کے ذریعے ہی انکا مکمل دفاع کیا جاسکتا ہے ۔

ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس تاکید کرتی ہے کہ انٹرنیٹ کی سنسر شپ طاقتور سرمایہ دار ریاستوں اور بڑی ٹرانس نیشنل کارپوریشن کی جانب سے کی گئی ہے۔اور اس کی کامیابی کے ساتھ مخالفت کیلئے عالمی محنت کش طبقے جو ایک بڑی طاقت ہے کو اس لڑائی میں شامل کیا جائے ۔

محنت کش طبقے میں یہ سمجھ بوجھ شدت سے پیدا کی جائے کہ انکے معیار زندگی ‘کام کے حالات‘ اجراتوں وغیرہ جمہوری حقوق کے دفاع طبقے کے مفاد کے حوالے سے بالکل جدا نہیں ہیں۔متبادل اور دوسری خبروں اور سوشل میڈیا کی رسائی کے بغیر مختلف ممالک کے محنت کش موثر طور پر کوارڈی نیشن اور اپنی عام یا روزمرہ کی جدوجہد کو آگے نہیں بڑھا سکتے‘انٹرنیٹ کی آزاد رسائی محنت کش طبقے کی عالمی اتحاد کیلئے ،سوشلزم،جمہوریت اور سماجی برابری کیلئے عالمی پیمانے پر لڑائی کیلئے انتہائی مددگار ہوگئی۔

ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ انٹرنیٹ کی سنسر شپ کیخلاف جدوجہد جو کہ بنیادی جمہوری حقوق کے دفاع کا ضروری حصہ ہے محنت کش طبقہ پرجوش انداز میں اسکی حمایت کریگا۔صرف اس حد تک کہ محنت کش طبقے کی شمولیت اظہار رائے کی آزادی کیلئے ضروری ہے یہ آسان ہے بلکہ اس کے برعکس اظہار رائے کی آزادی کے دفاع کیلئے لڑنا محنت کش طبقے کیلئے ضروری ہے ۔

کولیشن کے کام اور بحثوں کے دوران ہم دوسروں کو بھی اس پروگرام اور انقلابی سوشلسٹ اپروچ کیلئے قائل کرتے رہیں گئے انٹرنیٹ کی سنسر شپ اور حکومت،کارپوریٹ کنٹرول کیخلاف جدوجہد کرتے رہے گے۔

ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس تمام سوشلسٹ،جنگ مخالف اور ترقی پسند ویب سائٹس،تنظیموں اور سرگرم کارکنوں جو اس میں شامل ہیں تاکید اور خوش آمدید کہتی ہے کہ وہ انٹرنیشنل کولیشن آف سوشلسٹ ،جنگ مخالف اور ترقی پسند ویب سائٹس کے ساتھ ملکر تعاون کریں۔ تنظیموں اور ویب سائٹس کے نمائندوں اور وہ افراد جو اس کولیشن میں شامل ہونے کی دلچسپی رکھتے ہیں وہ برائے راست رابطہ کریں: endcensorship@wsws.org