انڈیا میں دو روزہ عام ہڑتال کے سیاسی اثرات

12 January 2019

سارے ہندوستان کے کروڑوں مزدور دائیں بازوں کی اس باؤلی حکومت کی ’’سرمایہ کار موافق‘‘ پالیسیوں کی مخالفت کے اظہار کیلئے اس منگل اور بُدھ کے روز 48گھنٹوں کے ایک مظاہرے میں شریک ہوئے ۔

اس مظاہرے میں مزدور طبقے کے وسیع تر دھڑوں نے حصہ لیا ۔۔۔کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں سے لیکر مینوفیکچرنگ ، بینکنگ، ٹرانسپورٹ اور حکومت کے دیگر محکموں میں کام کرنے والے ملازمین تک۔۔۔ذات پات اور فرقہ وارانہ تفریق کے اُن تمام تعصبات سے بالا تر ہوکر حکمران اشرافیہ جنہیں ’’لڑاؤاور حکمرانی کرو ‘‘ کے اصول کے تحت عشروں سے بھڑکاتی چلی آئی ہے ۔

انڈیا میں اس ہفتے کی عام ہڑتال ، جو کہ تاریخ کی بڑی ہڑتالوں میں سے ایک ہے ، عالمی مزدور طبقے کی بڑھتی ہوئی بیداری کا حصہ ہے ۔

ہمسایہ بنگلہ دیش میں ، ریاست کے بڑھتے ہوئے جبروتشدد کے خلاف لاکھوں فلاکت زدہ گارمنٹس مزدوروں نے بھی اس ہفتے ہڑتالیں اور مظاہرے کیئے ۔ منگل کے روز ایک22 سالہ نوجوان مزدور اس وقت ہلاک ہو گیا جب پولیس نے احتجاجی مظاہرین پر حملہ کر دیا ۔

سری لنکا میں ، انڈیا کے جنوبی ساحل سے کچھ دور ، چائے کے باغات میں کام کرنے والے مزدورکم اُجرتوں کے خلاف ایک ماہ طویل احتجاج کر رہے ہیں ۔ اس میں حکومتی حمایت یافتہ یونینز کے خلاف دسمبر کی 9دن لمبی وہ ہڑتال بھی شامل ہے جس میں100,000مزدور شریک ہوئے تھے ۔ صدر ایمینوئل میکرون کی اُجرتوں میں کٹوتیوں اوراخراجات میں کمی کی پالیسیوں کے خلاف ’’ پیلی واسکٹ ‘‘ والوں کی احتجاجی تحریک میں اب تک لاکھوں مزدورحصہ لے چکے ہیں ۔

امریکہ میں یونائیٹڈ ٹیچرز کی لاس اینجلس یونین ، کیلیفورنیا کی ریاستی حکومت اور اسکولوں کی ضلعی انتظامیہ کے یونینز کی تعاون سے ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت میں پبلک ایجوکیشن(مفت تعلیم) کو ختم کرنے کے فیصلے کے خلاف30,000 ہزار اساتذہ کی ہڑتال سے بچنے کی سرتوڑ کوشش کر رہی ہے ۔ شمالی امریکہ اور یورپ میں آٹو ورکرز کے درمیان ٹرانس نیشنل آٹو کمپنیز کے ملازمتیں کم کرنے اورپلانٹ بند کرنے کے منصوبوں کے خلاف آمادہء پیکار مزاحمت کی حمایت بڑھتی جا رہی ہے ۔ کارپوریٹسٹ یونیفور کے یونین کے نظم سے خود مختار بنیادوں پر اوشاوا کینیڈا کے جی ایم پلانٹ میں مزدوروں نے اس کارساز ادارے کے اپنے اس فیصلے کی دوبارہ توثیق کے بعد کہ وہ اپنا یہ پلانٹ اور امریکہ میں چار دوسرے پلانٹ بندکررہاہے کئی احتجاجی اقدامات اُٹھائے ہیں ۔

ایسے کئی عشروں کے بعد جن میں مزدور جدوجہد کو اسٹبلیشمنٹ کے جعلی ’’ لیفٹ ‘‘۔۔۔ٹریڈ یو نینز ، سوشل ڈیموکریٹک اور سٹالنسٹ پارٹیوں اور اُنکے جعلی لیفٹ کے ذیلی تنظیموں کے ذریعے مصنوعی طور پر دبایا گیا تھا ۔۔۔مزدور طبقہ خود مختار بنیادوں پر اپنے مفادات کو منوانے کی شروعات کر رہا ہے ۔

انڈیا اکیسویں صدی کے سرمایہ دارانہ نظام کی بربریت کی مثال ہے ۔ انڈیا کی ستر فیصد آبادی یا 90کروڑ سے زائد لوگ2 ڈالر یومیہ سے کم کی روزی روٹی حاصل کر پاتے ہیں ۔ جبکہ ، اشرافیہ اور اسکا میڈیا انڈیا کے ارب پتیوں کی تیز رفتار ترقی کا جشن مناتا ہے ، جو1990 کے وسط میں 3 بلین ڈالر کے اثا ثوں کے ساتھ صرف دو تھے اور آج 131 ہیں ،اور انڈیا کے جی ڈی پی کے 15 فیصد کے برابر دولت ہڑپ کرتے ہیں ۔

نریندر مودی اوراُسکی ہندو سپر مسٹ بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کو انڈیا کے مزدوروں اور محنت کشوں کو زیادہ شدید استحصال کا نشانہ بنانے کیلئے2014 میں اقتدار میں لایا گیا ۔ مودی سرکار نے اُجرتوں اور اخرجات میں شدید (اسٹیریٹی) کمی کی ہے، کنٹریکٹ لیبر میں اضافہ کیا ہے ، اور نج کاری کی رفتار کو تیز تر کیا ہے فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہوئے اور انڈیا کو چائنہ کے خلاف امریکی سامراجیت کی فوجی سٹیٹیجک جار حیت میں فرنٹ لائن اسٹیٹ بناتے ہوئے ۔ لیکن جیسا کہ اس ہفتے کی ہڑتال نے واضح طور پر آشکارہ کر دیا ہے ، کہ انڈیا کا مزدور طبقہ صرف استحصال کی کوئی شے نہیں ہے ۔ یہ بہت بڑی سماجی طاقت رکھتا ہے ۔

بین الاقوامی مزدور طبقے کا دوبارہ ظہور ، عالمی سامراجیت کی جارحیت ۔۔اسکی عالمی سطح پر منظم بیک وقت کئی ممالک میں کام کرتی کارپوریشنز،اسکی جنگیں اور سازشیں،اور حکمرانی کے آمرانہ طریقوں کی جانب اسکا رجوع اوردائیں بازو کی انتہا پسند اور فاشسٹ قو توں کی اسکی آبیاری ۔۔ ان سب کو روکنے کیلئے معروضی بنیاد یں فراہم کرتا ہے ۔

اب کرنے کا کام یہ ہے کہ مزدور طبقے کی اس باغی تحریک کو سیاسی طور پر ایک بین الاقوامی حکمت عملی اور جدوجہد کی نئی تنظیموں کے ساتھ مسلح کیا جائے تاکہ یہ ایک نیا سوشل آرڈر پیدا کر سکے، جو جنگ اور محرومی سے پاک ہو۔۔۔بین الاقوامی سوشلزم ۔

مزدور طبقے کیلئے ایک نئی سیاسی راہ کو روشن کرنے کا ایک اہم عنصر سرمایہ داری کی حامی اُن تنظیموں کی حقیقت کو بڑی بے رحمی سے آشکارہ کرنا ہے جو مزدور طبقے کے نا م پر بات کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں ، چاہے یہ امریکہ میں یونایٹڈآٹو ورکرز(یو اے ڈبلیو) ہو ، یا فرانس میں سی جی ٹی ہو ، یا جرمنی میں لیفٹ پارٹی ہو ۔

آل انڈیا احتجاجی ہڑتال سیاسی طور پر سٹالنسٹ کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) ، اور اسکی ملحقہ ٹریڈ یونین ، سینٹر آف انڈین ٹریڈیونینز (سی آئی ٹی یو) کی رہنمائی میں ہوئی ۔ اہم کردار ادا کرنے والوں میں سی پی ایم کی برادر سٹالنسٹ جماعت کی یونین فیڈریشن ، سی پی آئی ، بڑی کاروباری کانگرس پارٹی کی ذِیلی ٹریڈ یونین اور ڈی ایم کے جو تامل ناڈو سے تعلق رکھنے والی ایک دائیں بازو کی جماعت ہے ۔

ان تمام جماعتوں نے انڈین بورژوازی کی انڈیا کو عالمی سرمایہ داری کیلئے سستی لیبر کی جنت بنانے کی مہم میں مرکزی کردار اداکیا ہے ۔1991 سے 2008 کے درمیان ، سی پی ایم اور سی پی آئی نے یکے بعد دیگرے کئی حکومتوں کو برسراقتدار رکھا ، ان میں اکثر کانگرس پارٹی کی تھیں ، جنہوں نے نیو لبرل ایجنڈے کی رہبری کی اور واشنگٹن کے ساتھ قریبی تعلق بنایا ۔

25 سالوں سے زائد منڈی موافق اصلاحات جس معاشرتی تباہی کا سبب بنی ہیں اسکی مخالفت کیلئے ہی پچھلے ہفتے کی عام ہڑتال میں مزدور شریک ہوئے تھے ۔ اگرچہ ، سٹالنسٹ کیلئے تو یہ ایک ایسی منافقانہ مہم تھی جسکا مقصد مزدور طبقے کو ایک متبادل سرمایہ دارانہ حکومت کو اقتدار میں لانے کی کوششوں کے پیچھے اکٹھا کرنا تھا ۔۔۔جسکی قیادت خواہ کانگرس پارٹی کرے یا دائیں بازو کی چھوٹی علاقائی جماعتیں ۔۔۔اپریل مئی کے عام انتخابات کے بعد ۔

سٹالنسٹ تو بی جے پی اور اسکے دائیں بازو کی اتحادی جماعتوں کے جرائم کو بنیاد بنا کر مزدوروں کو بورژوازی کی جماعتوں اور اداروں کی باقائدہ ماتحتی میں لانے کی اپنی کوششوں کا جواز فراہم کرتے ہیں ۔

سچی بات تو یہ ہے ، کہ مودی اور اسکی بی جے پی مزدوروں کی سخت دشمن ہے ۔ لیکن اگر ہندو دایاں بازو ایسا بڑا خطرہ بن گیا ہے ، تو اسکی وجہ یہ ہے کہ سٹالنسٹ نے رُجعت پرستی کی نشو ونما کیلئے زمین کو زرخیز بنایا ہے ۔ سٹالنسٹ کے مزدور طبقے کو سماجی بُحران کا سماجی حل پیش کرنے سے روکنے کی وجہ سے ہی ، بی جے پی اس قابل ہوئی ہے کہ سٹالنسٹ کی حمایت یافتہ ’’ سیکولر‘‘ حکومتوں کے منڈی موافق پالیسیوں کے تباہ کن اثرات پر جذباتی تقریریں کرکے عوام کے غیض وغضب کا استحصال کرے ۔

انڈیا ، اسی طرح امریکہ ، فرانس اور ساری دنیا میں جمہوری حقوق کے تحفظ اور رُجعت پرستی کو شکست دینے کی واحد قابل عمل حکمت عملی وہ ہے جو فرسودہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بین الاقوامی طبقاتی جدوجہد اورمزدور طبقے کے خودمختار سیاسی تحرُک پر مبنی ہو ۔

انڈیا کے مزدوروں کو مودی حکومت اور اگلی حکومت کے خلاف جدوجہد کیلئے تیار ہونا پڑیگا ، اگلی حکومت خواہ اسکی ہیتِ ترکیبی کچھ بھی ہو ، اسکو اپنے بورژواآقاؤں کی جانب سے ایک ہی کام سونپا جائیگا کہ وہ انڈیا کے مزدوروں اورمحنت کشوں کے استحصال میں بہت زیادہ شدت لائے ۔ اسکے لیئے جدوجہد کی نئی تنظیمیں بنانے کی ضرورت ہے ۔

اس سلسلے میں ، انڈیا کے مزدوروں کو سری لنکاہ میں ایبٹسلے کے چائے کے باغات میں کام کرنے والے مزدوروں کی مثال کی پیروی کرنی چاہیے ۔ جنہوں نے سوشلسٹ ایکوئیلیٹی پارٹی کی رہنمائی میں ، عام کارکنوں پر مشتمل ایک ایکشن کمیٹی بنائی ہے جو اس ٹریڈ یونین کے نظم سے بالکل آزاد ہے جس نے عشروں تک اُن کے وحشیانہ استحصال سے چشم پوشی کی ہے ۔

کارخانوں میں عام کارکنوں پر مشتمل ایکشن کمیٹیوں کو سارے انڈیا میں مزدور وں کی جدوجہد کو باہم مربوط کرتے ہوئے اوردنیا بھر کے مزدوروں سے اپنا ناطہ جوڑتے ہوئے ، عالمی سرمایہ دارانہ طریقہ پیداوار نے اُنہیں جن سے قریبی طور پر جوڑرکھا ہے ، مزدور طبقے کی ایک موثر مزاحمتی تحریک بنانی چاہیے ۔

ان کمیٹیوں کو قتل کے جھوٹے الزامات میں عمر قید کی سزا پانے والے13 مار وتی سوزوکی ورکرز کو آزاد کرانے کی لڑائی لڑنی چاہیے ۔ یہ مزدور ، جن کا واحد ’’جرم‘‘ انتہائی کم اُجرتوں اور کنٹریکٹ ملازمتوں کے خلاف لڑنا ہے ، انہیں سٹالنسٹ اور یونینز نے بڑے شرمناک انداز سے تنہا چھوڑ رکھا ہے کیونکہ وہ انکی بہادری سے ڈرتے ہیں ۔ ایک ایسی مہم جو ماروتی سوزوکی کے13 کارکنوں کی رہائی کو کام کرنے کی جگہ اور روزگار کی تشویشناک صورتحال کے خلاف ایک بڑی جدوجہد سے جوڑ دے وہ طبقاتی لڑائی کے ان قیدیوں کیلئے مزدور طبقے میں موجود وسیع تر حمایت کو اور بھی پھیلا دے گی اور طبقاتی جدوجہد کیلئے ایک مقام اتصال کا کام کریگی ۔

انڈیا کے مزدوروں اور جوانوں کو ایک پُختہ سوشلسٹ پروگرام کی بنیاد پر سامراجی جنگ کے خلاف ایک بین الاقوامی تحریک بنانے کیلئے جنوبی ایشیا اوردنیا بھر کے مزدوروں کے ساتھ جڑنا چاہیے ۔ واشنگٹن کا ہمنوا بن کر ، انڈین بورژوازی نے بڑی لاپرواہی سے چائنہ کے خلاف امریکی سامراجیت کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کی ہے ۔ مزید برآں ، انڈیا کی حکمران اشرافیہ پاکستان اور چائنہ کے ساتھ اپنی رُجعتی فوجی اور سٹیٹیجک لڑائیوں کو باقائدہ طور پر استعمال کرتی ہے فرقہ واریت اور سستی حُب الوطنی کو فروغ دینے کیلئے ، جس کا مقصد مزدور طبقے کو ڈرانا دھمکانہ اور اُسے تقسیم کرنا ہوتا ہے ۔

سب سے پہلے تو ، انڈیا کے مزدوروں کو ضرورت ہے ایک انقلابی پارٹی کی ، جو ایک بین الاقوامی سوشلسٹ پروگرام اور حکمتِ عملی پر مبنی ہو اوردنیا بھر کے مزدور طبقے کی جدوجہد کے اہم ترین تجربات کی عملی شکل ہو ، جو مزدوروں کو اقتدار میں لانے کی جدوجہد کو اپنے منطقی انجام تک جاری رکھ سکے ۔ یہ پارٹی انٹرنیشنل کمیٹی آف فور تھ انٹرنیشنل(آئی سی ایف آئی) ہے اور اسکے قومی دھڑے ہیں ، جیساکہ سوشلسٹ ایکوئیلیٹی پارٹی(سری لنکا) ۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف فور تھ انٹرنیشنل جس کی بنیا د1938 میں ٹراٹسکی نے رکھی ، نے نظریہ مسلسل انقلاب کا تحفظ کیا ہے اور اُسے فروغ دیا ہے، یہ وہ ہی پروگرام ہے جس نے1917 کے روسی انقلاب کو برپاء کرتے ہوئے اور پھر سٹالنسٹ بیوروکریٹک زوال پذیری کے خلاف مسلسل لڑائی لڑی ۔ اسکی بنیادی تعلیمات میں یہ شامل ہے، کہ ایسے ممالک جہاں سرمایہ دارانہ نظام کا ارتقا تاخیر کا شکار ہے ، وہاں جمہوری اور سوشلسٹ انقلاب لانے کا کام باہم جڑا ہوا ہے ۔ مظلوم عوام کی کوئی بھی خواہش۔۔۔زات پات اور جاگیرداری کے خاتمے سے لیکر مزدور طبقے کے سماجی حقوق اور حقیقی سماجی مساوات تک۔۔۔ مزدور طبقے کا اپنی سیاسی آزادی حاصل کیے بغیر اور سرمایہ داری کے خلاف اور مزدور اقتدار کے قیام کی جدوجہد میں دیہی عوام کو اپنے ساتھ ملائے بغیر ممکن نہیں ہے ۔

ہم انڈیا کے مزدوروں اور نوجوانوں کو پرزور انداز میں کہتے ہیں کہ وہ سماجی عدم مساوات،سرمایہ داری کے ردعمل اور جنگ کیخلاف لڑائی میں ہر اول کا کردار ادا کرتے ہوئے انڈیا میں انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل کے سیکشن کی تعمیر کریں۔

کیتھ جان