طبقاتی جدوجہد اور سوشلزم ہی بریگزٹ کا واحد حل ہیں:۔

1 April 2019

یورپی یونین کے چھوڑنے کے امکان نے برطانوی سامراج بعدازجنگ کی تاریخ میں حکمرانی کے گہرے ترین بحران کو پیداکر دیا ہے۔ لیکن سب سے بڑاخطرہ یہ ہے کہ مزدور طبقے کو اس کے اپنے مفاد میں مداخلت سے نہ صرف روکا جارہا ہے بلکہ اسے اپنے ہی خلاف تقسیم کیا جارہا ہے اور اسے سیاسی طور پر دائیں بازو کے سرمایہ دار نواز دو دھڑوں میں سے کسی ایک کے تا بع بنایا جا رہا ہے۔

وزیراعظم تھریسا مے کو پارلیمنٹ میں بریگزٹ کے بعد یورپی یونین سے تجارتی تعلقات کے معاہدے پر اتفاق ِرائے حاصل کرنے میں تیسری مرتبہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، کنزرویٹو قیادت کے مقابلے کی با تیں تو 7 201 میں ہو نیوالے انتخاب کے بعد ایک اور قبل از وقت عام ا نتخابات کی قیاس آرائیوں کے نتیجے میں پس منظر میں چلی گئی ہیں۔

اگر ازسرِ نو انتخابات ہوئے تو پیش گوئی یہ ہے کہ ٹوریز لیبر سے ہار جائینگے، جنہیں رائے عامہ کے تبصروں میں پانچ پوائنٹس کی سبقت حاصل ہے اور وہ ایک اقلیتی حکومت بنالیں گے۔ بریگزٹ کے حامی اور مخالف ٹوری پارلیمانی اراکین ایسی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کیلئے متحد ہیں، ا نہیں، لیبر لیڈر جیریمی کوربن کے اس برملا اعلان کے باوجود کے وہ ”قومی مفادات“ کا تحفظ کرینگے، خدشہ یہ ہے کہ پھر مزدور طبقے کی جانب سے سماجی اخرات میں کٹوتیوں کے خلاف مطالبات کا نہ ختم ہو نیوالا سلسلہ شروع ہو جائیگا۔

کوربن نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ اس ہفتے تحریک عدم اعتماد پیش کر دی جائیگی اگر مے کی ڈیل دوبارہ مسترد ہوئی تو۔ یہ صورتحال سیاسی نقطہء نظر اور قیادت جیسے اہم مسائل کو مزدور طبقے کے سامنے بلکل واضح طور پر رکھ دیتی ہے۔

حکمران طبقہ اپنے شدید اندرونی اختلافات کو حل کرنے کا جو بھی امکان رکھتا ہے یہ جیریمی کوربن کے دو جماعتی قیادتی انتخاب میں ملنے والے مینڈیٹ کا احترام نہ کرنے کی بدولت ہی ہے، جسکا مقصد تو یہ تھا کہ عشروں سے جاری ملازمتوں اور اجرتوں میں کٹوتیوں، عسکری مہم جوئی اور سامراجی جنگوں کا خاتمہ ہو، اور جس کا آغاز دائیں بازو کے بلیئرائیٹ کو لیبر پارٹی سے نکال باہر کرنے سے ہونا تھا۔

اسکے بجائے ان سب اراکین کو جنہو ں نے اسے منتخب کیا ہے پچھلے تین سال سے پالیسی معاملات میں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔۔۔۔۔بشمولِ نیٹو ممبرشپ کا معاملہ، نیوکلیئر ہتھیاروں کے استعمال کا اختیار اور کوربن کا اصرار کہ ٹوریز نے جوکٹوتیاں کی ہیں لیبر کی مقامی حکومتیں اسکا نفاذ کریں۔۔۔۔اسکے ساتھ ساتھ صیہونی مخالفت کے جھوٹے الزامات کی بنیاد پر ”بائیں بازو“ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنابے میں بھی اسکی رضامندی شامل ہے۔

اس دوران یہ بھی ہوا ہے کی ڈپٹی لیبر لیڈر ٹام واٹسن نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بلیئرائیٹس وہ سب کچھ کرینگے جو برطانوی سرمایہ داری کو درپیش کسی بھی سیاسی چیلنج سے نبٹنے کیلئے ضروری ہوا۔ اس نے پراسپیکٹ نامی تھنک ٹینک کو یہ بھی بتایاکے وہ یورپی یونین کے حامی ٹوریز کے ساتھ ایک ”قومی یکجہتی“ کی کئی جماعتی حکومت میں بھی کام کرنے کو تیار ہے۔ واٹسن ”فیوچر بریٹن“ کہلانے والے 80لیبر ایم پیز کا قائد ہے، جو پارلیمانی لیبر پارٹی کے ایک تہائی پر مشتمل ہے۔

اسی طرح ٹریڈ یونین بھی مزدوروں کیلئے کوئی متبادل پیش نہیں کرتیں، جیسا کہ ٹریڈ یو نین کانگرس کے جنرل سیکر ٹری فرانسس او گریڈی اور کنفیڈریشن آف برٹش انڈسٹری کے ڈائیریکٹر جنرل کیرولن فیئر بائیرن نے مے کو ایک مشترکہ خط میں لکھا ہے کہ ”ہمارے ملک کو قومی ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے“ اور انہوں نے ”پلان بی“ کا مطالبہ کیا ہے۔

اس کی حقیقی اور مستند وجوہات موجود ہیں کہ کیوں مزدور بریگزٹ کے حامی ہیں لیکن ان وجوہات سے اس نسلی عصبیت اور قوم پرستی کا اظہار نہیں ہوتا بریگزٹ کا حامی بورژوا جس کو ہوا دیتا ہے، ان میں یورپی یونین کی سماجی اخراجات میں کمی کرنے کی مخالفت شامل ہے اور یہ امید بھی کہ یورپی یونین کو چھوڑنے سے ٹوری اور لیبر دونو ں کی برپا کردہ سماجی غارت گری کا خاتمہ ہوگا۔ یہ با ت ان کے متعلق بھی اتنی ہی صیح ہے جو یورپی یونین میں رہنے کے حا می ہیں، انکی بریگزٹ کی مخالفت کے معنی یورپی یونین کی غیر مشروط حمایت نہیں ہے، بلکہ انہیں بریگزٹ کے معاشی اثرات کا خوف دامن گیر ہے اور قوم پرستی کی عمداً حوصلہ افزائی اور امیگریشن اور مزدوروں کی آزادانہ نقل وحرکت، جس پر بہت سارے نوجوانوں کا دارومدار ہے، کے خاتمے کے مطالبوں کو وہ ناپسند کرتے ہیں۔

ایک سماجی متبادل کی غیر موجودگی میں، اگر عام انتخابات ہوتے بھی ہیں، تو بھی کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ یہ صرف اور صرف بریگزٹ کی حمایت یا مخالفت کی بنیاد پر لڑے جائینگے، جس کے نتیجے میں مزدور طبقہ منقسم ہوگااور ملازمتوں اور اجرتوں میں کٹوتیوں اور ابتر سماجی حالات کے خلاف مشترکہ جدوجہد میں روکاوٹ پیدا ہو گی۔ جو گروہ بھی جیتا، سیاسی تقسیم جاری رہے گی، حکمران طبقات بڑھتی ہوئی عوامی لاتعلقی کو ایک طاقتور ریاست اور آمرانہ حکومت کی تائیدوحمایت کیلئے استعمال کرینگے۔

تاریخ کا انتباہ:۔ واٹسن کی ایک قومی حکومت کی حمایت اس وقت کے لیبر لیڈر رمزے میکڈونلڈ کے 1931 میں ٹوریز کے ساتھ ایک نیشنل گورنمنٹ میں شریک ہونے کی یاد دلاتی ہے۔ لاکھوں مزدوروں نے جس کی قیمت ادا کی جنہیں بے روزگار کر دیا گیا تھااور ہنگری تھر ٹیز کے عشرے میں جس بیدردی سے سماجی اخرجا ت میں کٹوتیاں کی گئیں، اور اس کے ساتھ اوسولڈ موسلے کی قیادت میں برٹش یونین آف فاشسٹ کا ظہور، جو جرمنی اور اٹلی میں قائم فسطائی حکومتوں کی ایک بازگشت تھی۔

لیبر کے دائیں اور بائیں دھڑوں کی مشترکہ غداری کی بدولت آج بھی مزدوروں کو ایسی ہی بھاری قیمت چکانی پڑیگی۔

عالمی مسابقت کی دوڑ جو بھی صورت اختیار کر تی ہے، یورپی یونین کے اندر یا باہر، اسکا مطلب مزدوروں کی روزی روٹی پر زیادہ وحشیانہ حملہ ہی ہو گا۔ اسی وجہ سے ”بغیر کسی سمجھوتے“ کے بریگزٹ کی صورت میں برطانیہ بھر میں 50,000 فوجیوں کو بروئے کار لانے کا منصوبہ ہے جو کہ یورپی یونین کے اندر فرانس کے صدر میکراں کے ہنگامی حالت کے اعلان اور ”پیلی واسکٹ والے“ کے مظاہرین کے خلاف فوج کی تعیناتی کے سے بالکل ہم آہنگ ہے۔ سوشلسٹ ایکوئیلیٹی پارٹی نے 016 2 کے بریگزٹ کے ریفرنڈم کے موقع پر ایک نقطہء نظر پیش کیا تھا جس میں نہ صرف بر طانیہ میں مزدوروں اور نوجوانوں کے مفادات کو مد نظر رکھا گیا تھا، بلکہ سارے یورپ اور دنیا بھر کے، اور جو آج بھی ”بریگزٹ کے حامی یا مخالف“ کی صورت کے اس سیاسی شکنجے سے آذادی کا راستہ فراہم کرتا ہے۔

اس ریفرنڈم کے مؤثر بائیکاٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے، ایس ای پی نے قومی معاشی ترقی کی رجعتی سوچ کو مسترد کر دیا تھاجو بریگزٹ کے سارے مطالبے کی بنیاد تھی اسی طرح یورپی یونین کی بھی کسی قسم کی حمایت سے انکار کیا تھا۔ ہم نے اس بات کی وضاحت کی تھی کے یورپی یونین میں رہنے اور اسکو چھوڑنے والے دونو ں ہی اپنی مزدور دشمنی میں دائیں بازوکی سرمایہ دار قؤتوں کی نمائندگی کرتے ہیں، جن میں اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ یورپی تجارتی بلاک کے اندر رہتے ہوئے برطانوی سامراج کے تزویراتی مفادات کو حاصل کیا جائے یا اسے چھوڑ کر۔ ایس ای پی نے لکھا تھا:

بائیکاٹ سے برطانوی مزدور طبقے کی ان قوتوں کے خلاف آزاد وخود مختار سیاسی جدوجہد کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ ایسی تحریک کو سارے براعظم میں مزدور طبقے کی ایک مزاحمتی تحریک کے طور پر ابھرنا چاہیے، جو ریفرنڈ م کی اس حقیقت کو آشکارہ کر دے کہ یہ تو محض یورپی اور برطانوی بورژوازی کے وجود کو لاحق گہرے ہوتے بحران کا ایک حصہ ہے۔

بریگزٹ تو سامراج کی اندرونی تضادات کے اظہار کا ایک شاخسانہ ہے، جو امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے اور اسکی ”امریکہ فسٹ“ کی فسطائی دُہائی کی صورت میں بہت کھل کر سامنے آیا ہے۔ یہ یورپی یونین کی شکست وریخت کا سب سے جدید اظہار ہے، جو تجارتی جنگ اور جنگی جنون کی صورت اختیار کرنے جارہا ہے اور بے تحاشہ امیر افراداور مزدوروں کے درمیان جو سماجی عدم مساوات ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی نے طبقاتی تضادات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

سارے یورپ میں، حکومتوں کی جانب سے گہرے ہوتے عالمی سرمایہ داری کے بحران کا جواب سماجی اخراجات میں مزید کمی، قوم پرستی اور مہاجرین مخالف نفرت میں اضافہ اور فسطائی دائیں بازو کی پرداخت ہے۔ لیکن مزدور سارے یورپ، الجیریااور سوڈان میں، میکسیکو،امریکہ اور چائنہ میں اور عالمی سطح پر، ہڑتالوں کی ابھرتی ہوئی لہر اور سماجی مظاہروں سے جوابی لڑائی کا آغاذ کر رہے ہیں۔ یہ یورپی اور عالمی ابھرتی ہوئی مزدور تحریک ہی ہے جس کی جانب برطانوی مزدور طبقے کو فی الفور مراجعت کرنی چاہیے۔

بریگزٹ بحران کا جواب یورپی یونین سے اتحاد نہیں ہے، بلکہ ان لاکھوں کروڑوں مزدوروں کے ساتھ طبقاتی یکجہتی ہے جو یورپ بھر میں حکومتوں کے خلاف جدجہد اختیار کر رہے ہیں۔ مزدوروں کو اب عام لوگو ں کی طبقاتی جدوجہد کی تنظیمیں بنانی چاہیے، جو لیبر اور ٹریڈ یونین بیوروکریسی سے آذاد ہوں، ٹوریز حکومت کو گرانے اور ایک مزدور حکومت کے قیام کیلئے جو سارے براعظم یورپ میں یونائیٹڈ سوشلسٹ اسٹیٹس آف یورپ کے قیام کیلئے ہو نیوالی جدوجہد کا حصہ ہو۔

کریس مارس ڈین