جولین اسانج کی امریکہ کو حوالگی کے خلاف ایک عالمی مہم:۔

ا سکی رہائی کیلئے ایک گلوبل ڈیفنس کمیٹی کی تشکیل!

سوشلسٹ ورلڈ ویب سائیٹ کے ادارتی بورڈ کابیان
20 June 2019

ورلڈ سوشلسٹ ویب سائیٹ اور فورتھ انٹرنیشنل کی انٹر نیشنل کمیٹی کے ساتھ وابستہ سوشلسٹ ایکوئیلیٹی پارٹیز نے وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی امریکہ کو حوالگی کے خلاف ایک عالمی مہم کا مطالبہ کیا ہے، جسکا مقصد اسکو اور خفیہ حقائق کو طشت ازبام کرنے والے چیلسی میننگ کو رہائی دلانا ہے۔

Julian Assange

صرف بین الاقوامی سطح پر مظاہروں۔۔۔۔جیسا کہ جلسے جلوس، احتجاجی مظاہرے، اور عوامی اجتماعات۔۔۔۔ کے ذریعے ہی رجعتی حکومتوں، انکے خفیہ اداروں اور سیاسی گماشتوں کے عزائم کو ناکام بنانا ممکن ہوگا جنکا مقصد جولین اسانج کو خاموش اور ختم کرنا ہے۔ اس مہم کا مقصد مزدور طبقے کو۔۔۔۔ جو عوام کی ایک بڑی اکثریت پر مشتمل ہے اور دنیا کی سب سے بڑی سماجی قؤت ہے۔۔۔۔کو سیاسی طور پر بیدار کرنا اور حرکت میں لانا ہے جولین اسانج کے تحفظ کیلئے بلکہ اصل میں تمام مزدوروں کے سماجی اور جمہوری حقوق کی خاطر۔

12 جون کو برٹش وزیر داخلہ ساجد جاوید نے ملک بدری کی کاروائی کی توثیق کی، جس نے سیاسی مداخلت والے اس جعلی قانونی عمل کا آغاز کر دیا ہے جو فروری 2020 میں جولین اسانج کی امریکہ کو حوالگی پر ختم ہوگا۔

وزیر داخلہ کے ملک بدری کے عمل پر محض خانہ پوری کی مہر تصدیق ثبت کرنے کے صرف ایک ہفتہ بعد ہی ایک سویڈش جج کے اس بیا ن نے کہ اسانج کو گرفتار کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی، اس جھوٹ کا بھانڈ ہ پھوڑ دیا ہے جسکا مقصد جولین اسانج کی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور اسے تنہا کرنا تھا۔ شروع سے ہی۔۔۔۔ امریکہ، برطانیہ، سویڈن اور آسٹریلیا میں ریاستی اداروں کا مقصد، اس بہادر صحافی کو خاموش کرنا رہا ہے جس نے سامراجی جنگو ں کی حقیقت کو دنیا کے سامنے کھول دیا۔ چیلسی میننگ جو شیر کا دل رکھتی ہے اور جو انسانی شرافت اورراست بازی کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے، وہ بھی اسی طرح ختم کیے جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔

Chelsea Manning

برطانوی حکومت کا اسانج کے ساتھ روا رکھے جانے والا سلوک انصاف کی توہین ہے۔ 13 جون کے بی بی سی ریڈیو 4 کے ایک انٹر ویو میں، برطانوی وزیر داخلہ نے یہ شیخی بگھا ری: ”پہلے تو میں اس بات پر بہت خوش ہوں کہ پولیس نے اسانج کو گرفتار کر لیا ہے، اور اب وہ بجا طور پر سلاخوں کے پیچھے ہے کیونکہ اس نے برطانوی قانون کو توڑاہے“۔ حقیقت یہ ہے کہ اسانج نے کسی قانون کو نہیں توڑا۔ اس نے قانونی طور پر 2012 میں ایکواڈور کی ایمبیسی میں سیاسی پناہ حاصل کی تھی، جب یہ واضح ہو گیا تھا کہ سویڈن میں حکام، جہا ں اسے جنسی ہراسگی کے من گھڑت االزامات کا سامنا تھا، امریکہ کے حوالے کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

ایما آربتھ ناٹ، جو اس کینگرو کورٹ کی صدارت کر رہی ہے، وہ کنزرویٹو پارٹی کے ایک رُ جعتی سیاستدان، جیمز آربتھ ناٹ، کی بیوی ہے۔ ایوان بالا کا رکن بننے سے قبل، بیرن آربتھ ناٹ وزارت دفاع میں ایک اعلیٰ عہدے پر تعینات تھا۔ وہ برطانوی اسٹیبلشمنٹ اور اسلحہ سازی کی صنعت سے گہرے روابط رکھتا ہے۔ پبلک فنڈ کے ذاتی استعمال پر سرکارکی جانب سے اسکی باضابطہ گوشمالی بھی ہو چکی ہے۔ ایما آربتھ ناٹ کو، اپنے ذاتی روابط کی وجہ سے، اس قانونی کاروائی کی صدارت نہیں کرنی چاہیے جو جولین اسانج کی قسمت کا فیصلہ کرے گی۔ لیکن آربتھ ناٹ نے خود کو اس کیس سے علیحدہ کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

ہر کوئی جانتا ہے کہ قانون کے اس ڈھونگ کا جس کی صدارت جج آربتھ ناٹ کر رہی ہے کیا انجام ہوگا۔ اس عمل کی تمام تر تفصیلات بڑی باریک بینی سے لکھی جا چکی ہیں۔ آربتھ ناٹ نے عدالت میں جو الفاظ استعمال کرنے ہیں، جب اس نے اپنا فیصلہ پڑھ کر سنانا ہے، وہ لکھ چکے ہیں اور ذہن نشین بھی کر لیئے گئے ہیں۔ یہ کاروائی فروری میں جولین اسانج کی امریکہ کو حوالگی کے ساتھ اختتام پزیر ہو گی، جہاں اسے ان جنگی مجرموں کے حوالے کر دیا جائیگا جنہیں دنیا کے سامنے لانے کی خاطر اس نے یہ سب کچھ کیا ہے۔

جو الزامات اس پہلے ہی لگا ئے گئے ہیں ان کی بنیاد پر اسانج کو 175 سا ل کی قید کی سزا کا سامنا ہو گا۔ قیدوبند کے جن خوفناک حالات کا خطرہ اسے لا حق ہے یہ امریکی آئین کی ”ظالمانہ اور خلافِ معمول سزا“ پر پابندی کا کھلم کھلا مذاق ہے۔

جولین اسانج کو ضرور آزادی ملنی چاہیے۔ اسکے بچاؤ کیلئے ایک بین الاقوامی مہم چلائی جانی چاہیے۔ ضائع کرنے کیلئے کوئی وقت نہیں بچا۔ اب سے فروری تک جو کچھ بھی کیا جاسکا وہ فیصلہ کُن ہوگا۔ یہ ضروری ہے کہ جولین اسانج کی زندگی بچانے کی خاطر ایک عالمی مہم چلانے کیلئے مزدوروں، طالب علموں، نوجوانوں، فنکاروں، صحافیوں اور دانشوروں کو متحرک کیا جائے۔ لاکھوں کروڑوں مزوروں اور نوجوانوں کی جولین اسانج کے ساتھ جو ایک وسیع البنیاد اورگہری مگر مخفی ہمدردی اور یگانگت ہے اسے ایک شعوری سیاسی جدوجہد میں بدلہ جائے، جو اسے امریکہ کے حوالے کرنے کی سازش کو ناکام بنانے اور رہائی دلانے کی لڑائی لڑے۔

اسانج ایک ہولناک مُجرمانہ سازش کا شکار ہے، جس میں دنیا کی سب سے طاقتور حکو متیں، خفیہ ادارے اور کارپوریٹ میڈیا میں انکے ترجمان سب شامل ہیں۔

ایک ایسا وقت ضرور آئیگا جب اسانج کو ہلاک کرنے کے اس منصوبے کی تمام بدنُما تفصیلات مشتعل عوام کے سامنے ہونگی کہ وکی لیکس کے بانی کو کس طرح جنسی ہراسگی کے جھوٹے الزامات میں الجھانے کی کوشش کی گئی، سویڈن میں کس طرح استغاثہ نے جھوٹے الزامات عائد کیئے، اور کس طر ح خُفیہ اداروں نے سٹاک ہوم، لندن، سڈنی، او ر کوا یٹو میں ملی بھگت سے کا م کیا، اور کس طرح امریکی حکومت نے اپنے رشوتوں اور دھمکیوں کے توشہ خانے کو استعما ل کیاکیونکہ جولین اسانج کے تعقب و ایذارسانی کے پیچھے اصل منصوبہ ساز تو وہی تھی۔

اسانج کے مصائب ومشکلات تو جمہوری حقوق پر ایک بڑے حملے کا آغاز ہے، جس کا مقصد آزادی اظہار کاخاتمہ، تحقیقاتی صحافت کو غیر قانونی قرار دینا، ناقدین کو ڈرانا اور دہشت ذدہ کرنا، حکومت کے جرائم کے ا فشاں ہونے کو روکنا اور جنگ اور سماجی ناانصافی کے خلاف وسیع تر عوامی مزاحمت کو دبانا ہے۔

Rally in Sri Lanka to defend Assange on 16 April 2019

اسانج کے خلاف جاسوسی قوانین کے اطلاق نے پہلے ہی دنیا بھر میں صحافیوں کے خلاف حملوں کے سیلابی دروازوں کو کھول دیاہے، جیساکہ آسٹریلیا میں جنگی جرائم اور جاسوسی کے حقائق افشاں کرنے والی تحریروں پر حملے، فرانس میں ان صحافیوں پر مقدمات چلانے کی کوششیں جنہوں نے یمن کے خلاف نسل کشی پر مبنی جنگ میں حکومتی جرائم کا پردہ چاک کیا۔

امریکہ کے اندر، ٹرمپ انتظامیہ آزادی اظہارپر امریکی تاریخ کے سب سے خطرناک حملے میں فسٹ امینڈمنٹ کے آئینی تحفظات کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جبکہ عالمی سطح پر ہر جگہ وہ ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے جہاں جھوٹے الزامات کی بنیاد پر صحافیوں، ناشران اور سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات چلائے جاسکیں اور اگر امریکی حکومت ان سے ناراض ہو تو انہیں امریکہ کے حوالے بھی کیا جاسکے۔

حکمران اشرافیہ سرمایہ دارانہ نظام کی بڑھتی ہوئی سماجی مخالفت کے جواب میں کھلم کھلا پولیس تشددکے استعمال سے اور جنگی تیاریوں میں اضافہ کرکے فسطائی اور انتہائی دائیں بازو کی تحریکوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ وہ اسانج کو نشانہ بنا رہے ہیں ایک مثال قائم کرنے کیلئے تاکہ مزدوروں، نوجوانوں، فنکاروں اور دانشوروں کو ڈرایا جاسکے اور ایک بڑے سیاسی جبر کی راہ ہموار کی جاسکے۔

لیکن بین الاقوامی مزدور طبقہ تمام حکومتوں، خفیہ اداروں اور کار پوریشنوں کے ملاپ سے بھی ذیادہ طاقتور ہے۔ جس طرح سرمایہ دار طبقہ اسانج کی ایذارسانی کو اپنی آمریت کو مضبوط کرنے کیلئے استعمال کر رہا ہے، بالکل اسی طرح مزدور طبقے کو بھی اسکی حفاظت کو عسکریت پسندی اور جمہوری اور سماجی حقوق کے خلاف ہر قسم کے حملوں کے مقابلے کیلئے اپنا مرکزی نقطہ بنانا چاہیے۔

اس جنگ میں جیتنے کیلئے سیاسی نقطہ ء نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔ جولین اسانج اور چیلسی میننگ کے دفاع کیلئے ایک ایسی عالمی حکمت عملی بروئے کار لائی جائے جو جمہوری حقوق کے تحفظ کی اس جنگ کومزدور طبقے کی سرمایہ دارانہ استحصال اور سیاسی جبر کے خلاف حقیقی اور بڑھتی ہوئی سماجی جدوجہد سے شعوری طور پر جوڑ دے۔ یہ بین الاقوامی طبقاتی جدوجہد کی ایک اُمڈتی ہوئی لہر ہے، جو جولین اسانج کو آزادی دلانے کی طاقتور بنیاد فراہم کرتی ہے۔ جولین اسانج اور چیلسی میننگ۔۔۔۔دنیا بھر میں مصائب سے دوچار اپنے بہن بھائیوں کی طرح۔۔۔۔ آخری تجزیئے میں طبقاتی جنگ کے ہی قیدی ہیں۔

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی ہڑتالی تحریکیں۔۔۔۔ جن میں امریکہ اور پولینڈ میں اساتذہ کی تحریک، اور میکسیکو میں میکوئیلا ڈورا کے مزدوروں کا جنگجوانہ اقدام، انڈیا میں عام ہڑتال، الجیریا، ذمبابوے اور سوڈان میں بڑی عوامی تحریکیں، فرانس میں سرکش پیلی واسکٹ والوں کے احتجاجی مظاہرے اور ابھی حال ہی میں ہانگ کانگ میں لاکھوں مزدوروں، طالب علموں اور نوجوانوں کے مظاہرے۔۔۔۔ یہ سب عام لوگو ں کے اپنے بنیادی شہری اور سماجی حقوق کی خاطر لڑنے کے مصمم ارادے کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس جدجہد نے ہر ملک میں مالیاتی اور کارپوریٹ سربراہوں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔

جولین اسانج کو رہائی دلانے والی تحریک کو نیچے سے اُبھرنا چاہیے۔ اُسے سزا دینے والی حکومتوں سے اخلاقی بنیادوں پر التجائیں کرنا بے سود ہے۔ جولین اسانج کی رہائی کیلئے جنگ حکمران اشرافیہ کے سیاسی گماشتوں سے مکمل طور پر آزاد ہو کر بلکہ انکی مخالفت میں لڑی جانی چاہیے۔ اور اس کیلئے ایک ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے جو سماجی حقیقت کے درُست تجزیئے پر مبنی ہو، تو یہ جنگ جیتی جا سکتی ہے۔

حکمران اشرافیہ کی بے رحمی اگرچہ کم نہیں ہے، لیکن وہ ہر چیز پر قادر بھی نہیں۔ قنوطیت، جو تمام جذبات میں سب سے ذیادہ مفلوج کر دینے والا جذبہ ہے، سے اس جنگ میں کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا سوائے بے ہمتی میں اضافے کے۔ جدوجہد کرنے سے ہی یہ پتہ چلے گا کہ کیا حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اس جدوجہد کو ایک نئے اور اگلے مرحلے تک لیجانے کیلئے، ورلڈسوشلسٹ ویب سائیٹ، جو فورتھ انٹر نیشنل کی انٹرنیشل کمیٹی اور اس سے ملحقہ جماعتوں کی سیاسی آوازہے، ایک گلوبل ڈیفنس کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس کمیٹی کا مقصد جولین اسانج کی سزا کے خاتمے اوراسے رہائی دلانے کیلئے کی جانیوالی بین الاقوامی جدوجہد کومنظم ومربوط کرنا ہے۔ لڑائی کی اس خواہش کو ایک بڑی جدوجہد میں تبدیل کیا جائے۔ اس بیان کا مقصد گلوبل ڈیفنس کمیٹی کی تشکیل کے عمل کو شروع کرنااور ایک عالمگیر جدوجہد کے پروگرام کا آغاز کرنا ہے۔

ہم خوش آمدید کہتے اور اس تاریخی لڑائی میں تمام ترقی پسند، سوشلسٹ اور بائیں بازو کے افراد وتنظیموں کا جمہوری حقوق کے تحفظ کی اصولی حمایت کی بنیاد پرتعان واشتراک چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں اور نہ اسکی توقع رکھتے ہیں کہ جو لوگ اس کمیٹی میں شامل ہوں وہ ورلڈسوشلسٹ ویب سائیٹ اور فورتھ انٹرنیشنل کی انٹرنیشنل کمیٹی کے تمام پروگراموں اور سیاسی نظریات کے تمام پہلوؤں سے مکمل تور پر متفق ہوں۔ جو لوگ تحفظ وبچاؤ کی اس انتہائی اہم مہم میں شریک ہوں ان کے درمیان مختلف سوچ اور خیالات کی گنجائش ہو سکتی ہے دائیں بازوکو چھوڑتے ہوئے۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ جو لوگ اس کمیٹی میں شامل ہوں وہ غیر مشروط طور پر جمہوری حقوق کے تحفظ کے حامی ہوں اور اس حقیقت کا ادراک رکھتے ہوں کی جولین اسانج اور چیلسی میننگ کی رہائی کا انحصار ایک بڑی عوامی تحریک برپا کرنے پر ہے۔

ایساکوئی بھی شخص جو سنجیدگی سے جمہوری حقوق کے تحفظ کا حامی ہوباہر کنارے پر کھڑا نہیں رہ سکتا۔ جولین اسانج کا معاملہ اکیسویں صدی کا ایک انتہائی اہم میدان جنگ ہے آزاد ی اظہاراور سچائی کے تحفظ کی خاطراور استحصال، آمریت اور جنگ کے خلاف، جو دنیا کے سرمایہ دارانہ نظا م کی بنیادی خرابیاں ہیں۔

جولین اسانج کے دفاع کی لڑائی میں شریک ہوں!