اُردُو‎

پاکستان کے حکمران انڈیا کے حملے کے بعد ’’سٹریٹیجک تنہائی‘‘ کے خوف سے ہڑبڑا اُٹھے

پاکستان کے حکمرانوں نے انڈیا کے 28-29 ستمبر کے آزاد یا پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے اندر فوجی حملوں سے ’’سٹریٹیجک تنہائی‘‘ کے خوف سے گھبراہٹ کا شکار ہے۔ 

یہ حملے پاکستان کی خود مختاری پر ایک کاری ضربیں ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں ان دو نیوکلیئر متحرک ریاستوں کے درمیان سٹریٹیجک مقابلہ بازی کی بڑھتے ہوئے اقدامات نے خطرناک حد تک ان کو نیوکلیئر جنگ کی جانب دھکیل دیا ہے جو ان ممالک کے درمیان پہلی ممکنہ نیوکلیئرجنگ ہوگی۔

خاص کر انڈیا کی سپرمسٹ بھارتیہ جنتا پارٹی کی شدت پسند دائیں بازو کی جماعت کی حکومت کے اُس اشتعال انگیز فیصلے نے جس نے عوامی سطح پر اس حملے کو ایک فتح کے طور پر اور انڈیا کی فوجی اعلیٰ مہارت کو بڑھ چڑھ کر پیش کیا گیا۔

انڈیا نے چار دہائیوں سے زیادہ عرصے میں یہ بات تسلیم نہیں کی تھی کہ اس نے پاکستان کے اندر کوئی فوجی کاروائی کی ہے۔ اس خوف کی بنیاد پر کہ کہیں حملوں کے اور جوابی حملوں کے حرکیات بڑھ کر مکمل جنگ کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔ لیکن بی جے پی کی حکومت جسے انڈیا کی فوج اور کارپوریٹ میڈیا کی حمایت حاصل ہے اس نے ارادہ کیا ہے کہ اب جنگ کے اصولوں کی بازی میں تبدیلی کی جائے۔

پاکستانی ایلیٹس (اشرافیہ) کواس بات پر شدید صدمہ ہے کہ اس نے انڈیا کی جارحیت کے خلاف عالمی سطح پر اس کی مزاحمت کی اپیل کی تھی۔ اسے کسی نے بھی نہ سُنا۔

انڈیا جو لہجہ استعمال کر رہا ہے وہ دراصل واشنگٹن کا ہی ہے۔ واشنگٹن نے انڈیا کی ’’سٹریٹیجک طرفداری‘‘ کو ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک واضح طور پر پیش کیا ہے تاکہ نئی دہلی کو کنٹرول کرکے چین کے خلاف محاظ آرائی اور چین کے گرد سٹریٹیجکلی گھیرا تنگ کرتے ہوئے اسے جنگ کے لئے تیار کر کے استعمال کرے۔ امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے حملوں کے سوال پر رسمی طور پر نئی دہلی اور اسلام آباد کو بات چیت کے ذریعے مسئلے کے حل کے لئے کہا ہے۔ اُن مطالبات پرجو نئی دہلی نے اٹھائے ہیں کہ پاکستان کو فوری طور پر اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے خلاف استعمال کرنے سے روکے جس سے ’’دہشت گرد‘‘ حملے ہوتے ہیں۔

واشنگٹن کے رویے کا اور بھی صاف اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے بہت سے سابقہ عہدیداروں جو کہ پینٹاگون کی ان ضابطوں کے پابند نہیں ہے جس میں افغانستان میں امریکہ کی لڑی جانے والی جنگ میں لوجسٹک حمایت کے حوالے سے پاکستان پر انحصار کو مدنظر رکھے انہوں نے انڈیا کے پاکستان کے اندر حملوں کی فی الفور تائید کی۔ انڈیا کی پاکستان کے اندر حملوں کی حمایت پر دراصل جو موقف اور اسے جانچنے کا پیمانہ رکھا گیا ہے وہ امریکہ کی خود باربار کی کاروائیوں کے مشاہدوں کی بنیاد پر استوار ہے جسے قانونی طور پر درست قرار دیا جارہاہے۔

انڈیا کے پاکستان کے خلاف جارحیت کو یورپ کی سب سے بڑی طاقت جرمنی نے ابامہ کے مقاملے میں کھل کر اور دو ٹوک الفاظ میں حمایت کی ہے۔ انڈیا میں جرمنی کے سفیر مارٹین نیے نے ان حملوں کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کے سوال کے جواب میں بدھ کے روز انڈیا کے حیدرآباد کی میٹنگ میں کہا کہ جرمنی ان حملوں کی حمایت کرتا ہے۔ مارٹین نے کہا کہ ’’یہ واضح اور صاف بین الاقوامی معیار ہے کہ ہر ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عالمی دہشت گردی کے خلاف اپنی سرزمین کا دفاع کرے‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ انڈیا کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوکر دہشت گردی کے خلاف صرف خالی خولی الفاظ میں نہیں بلکہ ٹھوس بنیادوں پر ان کی حمایت کی جائے گی۔‘‘

اس ہفتے کے اوائل میں انڈیا میں روسی سفیر الیگزینڈر کاڈکن نے انڈیا کے پاکستان پر حملوں کے بارے میں روس کے پرانے موقف کو مزید بڑھاتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف اس طرح کا رد عمل ضروری تھا۔ اس نے انڈیا کے ٹیلی وژن میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم سرجیکل سٹرائیک کو خوش آمدید کہتے ہیں‘‘ اور’’ تمام ممالک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنا دفاع کرسکے ۔‘‘

سرد جنگ کے زمانے میں روس کی انڈیا کے ساتھ ایک لمبے عرصے تک فوجی سٹریٹیجک پارٹنرشپ رہی تھی۔ تاہم اس میں اب وہ گرم جوشی باقی نہیں رہی ہے۔ جب سے نریندر مودی کی حکومت امریکہ کی چین مخالف ’’ایشیاء کے گردگھیرا تنگ‘‘ کرنے کی پالیسی کا حصہ بنی ہے۔ جس نے اپنے فوجی بیسز کو امریکی جنگی جہازوں اور لڑاکا بحری جہازوں کے لئے معمول کے لئے کھول دیا ہے اور امریکہ کے ایشیئن پیسفک اتحادیوں جاپان اور آسٹریلیا سے دو طرفہ اور تین طرفہ معاہدے کئے۔

روس کی انڈیا کے پاکستان پر حملوں پر حمایت اس لئے اہمیت رکھتی ہے کہ حال ہی میں ماسکو نے اسلام آباد کے ساتھ تعلقات بحال کئے ہیں اور ساتھ ہی پہلی مرتبہ پاکستان کو اسلحہ فروخت کیا ہے اور پچھلے ماہ دونوں ممالک نے پاکستان میں مشترکہ فوجی مشقیں کی ہیں۔

جنوبی ایشیاء میں انڈیا بھی اس قابل ہوا ہے کہ اس نے خطے میں بڑی حمایت حاصل کی ہے ۔ حالیہ مہینوں میں پاکستانی بارڈر پر انڈین افواج کے ساتھ جھڑپوں میں بنگلہ دیش اور افغانستان دونوں نے انڈیا کی تائید کی ہے۔ اس سے پہلے انڈیا نے بنگلہ دیش، بھوٹان ، افغانستان اور سری لنکا کو اعتماد میں لیتے ہوئے پاکستان میں سارک سربراہی کانفرنس کا بائیکاٹ کیا اور پاکستان کو مجبوراً کانفرنس منسوخ کرنا پڑی۔

پاکستان کے انگلش اخبار ڈان جو کہ ایک بااثر اور سیاسی لحاظ سے باخبر اخبار ہے اس کے پچھلے سوموار کے ایک بیان کے مطابق پاکستان کی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں اور فوجی افسروں کی ایک میٹنگ وزیراعظم نوازشریف کی سربراہی میں منعقد ہوئی جس میں کہا گیا کہ پاکستان کو اس وقت ’’سفارتی تنہائی‘‘ کا سامنا ہے۔

ان تفصیلات کا اگر مختصراً طوربیان کیا جائے تو یہ ہے کہ پاکستان نے جو انڈیا کی جارحیت کے خلاف بین الاقوامی سطح پر اپنی حمایت میں جو کوششیں کیں چوہدری عزیز نے کہا کہ انہیں بڑے ترقی یافتہ ممالک میں کوئی حمایت نہیں مل سکی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق خارجہ سیکرٹری عزیز چوہدری نے کہاہے کہ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں مزید خرابی آئی ہے۔ لیکن چوہدری کی رپورٹ نے اس وقت تمام کمرے میں بیٹھے ہوئے افراد کو حیران کردیا جب اس نے کہا کہ چین بھی اسلام آباد پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ ’’اپنی پالیسی کو تبدیل کرے‘‘ ۔

بیجنگ جو پاکستان کا ’’ہر موسم‘‘کا لمبے عرصے کا اتحادی ہے اس نے انڈیا اور امریکہ کے گلوبل سٹریٹیجک پارٹنر شپ کی بڑھتی ہوئی قربت کے پیش نظر اسلام آباد کے ساتھ اور بھی قریبی تعلقات کو استوار کیا ہے۔ جس کی ایک مثال 46 بلین ڈالرز کا چین پاکستانی راہداری کا منصوبہ ہے۔ لیکن چین نے انڈیا کے حملوں کے حوالے سے اپنی رائے بڑے محتاط انداز میں دی ہے ۔اس نے پاکستان کی رائے کی طرح کہ یہ حملے جعلی اور من گھڑت ہیں اور بیجنگ نے اپنی رائے کو محدود رکھتے ہوئے دونوں اطراف سے کہا ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کرے۔

نئی دہلی کو پریشانی لاحق ہے کہ چین نے پچھلے ہفتے انڈیا کے جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کے عالمی دہشت گردی کی ’’بلیک لسٹ‘‘ کی فہرست میں شامل کرنے کی کوشش کو چین نے ٹیکنیکل طریقے سے روکے رکھا۔‘‘ جیش محمد ایک اسلامک باغی گروپ ہے جو کہ انڈین کشمیر میں متحرک ہے۔ چین نے پاکستان کی درخواست پر ایسا کیا۔ لیکن عزیز چوہدری نے میٹنگ میں بتایا کہ چین نے سوال کیا تھا کہ مسعود اظہر کو بچانے کا کیا ’’منطق‘‘ ہے۔

ایسے حالات میں جب واشنگٹن چین کے خلاف چین کے جنوبی سمندر میں کشیدگی کو بڑھا رہا ہے جس سے انڈیا چین کے خلاف اس دوڑمیں ایک فرنٹ لائن سٹیٹ میں تبدیل ہورہا ہے۔ بیجنگ بظاہر پاکستان کی اسلامک دہشت گرد گروپوں کی مسلسل حمایت پر پردہ ڈال رہا ہے۔ یا (پھر احتیاط سے کام لے رہا ہے۔) جسے پاکستان اپنے ری ایکشنری سٹریٹیجک حکمت عملی کے حصول کے لئے انڈیا کے خلاف استعمال کررہاہے۔ ایک ایسی جنگی حکمت عملی جو دشمن کو فریب دینے کے لئے جو اسلام آباد نے سی آئی اے سے افغانستان میں سیکھی تھی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چوہدری عزیز کی رپورٹ کے بعد شدید بحث و مباحثے کا آغاز ہوا۔ ایک موقع پر پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف جو کہ وزیراعظم کا بھائی ہے نے آئی ایس آئی کی ایجنسی کے سربراہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی کا فریضہ یہ ہے کہ وہ اکثر اسلامی دہشت گردوں کو چھڑالیتی ہے جسے حکومت نے گرفتار کیا ہوتاہے۔ ڈان اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ میٹنگ کے اختتام میں جو فیصلے ہوئے ان میں اسلامک دہشت گردوں کو لگام دینا اور ان کے خلاف کاروائی شامل ہے جو کہ جنوری میں پٹھان کوٹ کے حملے میں ملوث تھے اور 2008ء کے بمبئی کے دہشت گردی کے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر اتفاق کیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ بڑی تفصیل سے بیان کی گئی ہے جو ممکنہ طور پر بہت ساری سورسز پر مبنی ہے جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے میٹنگ میں شرکت کی تھی۔ تاہم گورنمنٹ نے اسے پرزور اندازمیں حتمی طور پر مسترد کردیا ہے۔ بہرحال جو بھی ہے اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ پاکستان کے ایلیٹس شدید بحران کا شکار ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن )کی حکومت کو انڈیا کے فوجی حملوں کے بعد پارلیمنٹ میں اس حوالے سے اپوزیشن کی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ عمران خان کی(پی ٹی آئی) پاکستان تحریک انصاف کی پارٹی جو ملک کی تیسری بڑی جماعت ہے جس کا فوج کے ساتھ روابط ہیں۔اس نے نواز شریف پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ’’ بزدل‘‘ہے اور اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انڈیا کے خلاف جوابی کاروائی کرنے میں ناکام رہا ہے تاہم وہ یہ نہیں بتا سکا کہ یہ کیسے ہوگا یا پھر کیا کیا جائے۔

پاکستان پیپلزپارٹی نے نوازشریف حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کردیا ۔ پارلیمنٹ کے ہنگامی اجلاس کے بحث ومباحثے میں پی پی پی کے نمائندوں نے حکومت کو مشکل صورت حال سے منسوب کرتے ہوئے کہا کہ گورنمنٹ نے (غیرریاستی عناصر) کو کھلی آزادی اور چھوٹ دی ہوئی ہے اور انڈیا کی جارحیت اور بلوچستان کی علیحدگی پسندوں کی حمایت کے ذریعے پاکستان کو توڑنے کی دھمکیوں کے علاوہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر وہ عالمی طور پر انڈیا کو ایکسپوز کرنے میں ناکام رہی ہے۔

واشنگٹن میں پاکستان کی سابقہ سفیر شیری رحمٰن نے شکایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ پہلے ہی سے (انڈیا )کا اتحادی ہے۔ ’’انہوں نے وہاں پر پہلے ہی سے اپنی بیسز بنارکھی ہیں۔ افغانستان پہلے ہی سے ہم پر الزام لگا رہا ہے اور تمہارے کوئی بھی مشترکہ مفادات بڑی طاقتوں کے ساتھ نہیں ہیں۔‘‘

دہائیوں سے پاکستان جیو پولیٹیکلی واشنگٹن اور بیجنگ کے دو ستونوں پر انحصار کرتا چلا آیا تھا۔ لیکن امریکہ نے اپنی سٹریٹیجک مفادات کے پیش نظر انڈیا کے ساتھ پارٹنر شپ کو بڑھاتے ہوئے جو حجم، بڑی فوج اور بحیرۂ ہند میں بالادست قوت کے اعتبار سے پاکستان سے بڑا ہے، نے اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو ڈرامائی طور پر تنزلی کی طرف گامزن کردیا ہے۔ امریکہ کے جنگ کے ماہرین انڈیا کو سیاسی طور پر چین کے خلاف ایک اہم مدمقابل سمجھتے ہیں۔

واشنگٹن کا انڈیا کو سٹریٹیجک طرفداری کی اقدامات نے نئی دہلی کو انتہائی ایڈوانس ہتھیاروں تک رسائی دلائی ہے، نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوجی سٹریٹیجک گیپ کو بڑھا دیا ہے۔ جو پہلے ہی سے زیادہ تھا۔

جس کے جواب میں پاکستان نے جو اقدامات اٹھائے ہیں اس نے چین کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دی ہے اور طالبان کے ساتھ تعلقات کو قائم رکھا تاکہ افغانستان میں امن کے سمجھوتے میں اسے فوقیت حاصل رہے۔ جس سے اس کے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں مزید تناؤ بڑھ گیا ہے۔

انڈیا نے ناپ تول کر اور حساب کتاب کرکے اپنے کو امریکی سامراج کے ساتھ ہم آہنگ کیا ہے تاکہ جنوبی ایشیاء میں ایک بالادست طاقت کے طور پر اپنی خواہش کی تکمیل اس کے مدمقابل (پاکستان اور چین) سے کرسکے۔ جن کے خطے میں اہم معاشی بندھن کو ایک بیلٹ، ایک روڈ کے زریعے تکمیل کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کی کرپٹ بورژوازی کے سٹریٹیجک بحران نے ایک تباہ کن جنگ کے لئے سنگین خطرات پیدا کردیے ہیں جس کی پہلی وجہ انڈیا کے غارت گر وحشی حکمران طبقوں کی بھوکی اشتہا ہے۔ دوسری وجہ پاکستان کا حکمران طبقہ اور اس کی سیاسی طورپر طاقتور فوج کا خطرناک اور مایوس کن حالت میں کوئی اقدام کا ہونا ہے۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی گیپ کے خوف سے پاکستان نے حال ہی میں میدان جنگ کے لئے ٹیکنیکل نیوکلیئر ہتھیاروں کو تیار کیا ہے۔ انہوں نے حالیہ ہفتوں میں باربار عزم کیا ہے کہ وہ انڈیا کی کسی بڑے حملے کے پیش نظر ان ہتھیاروں کو جنگ میں استعمال کریں گے۔

Loading