اُردُو‎

خطے کی کشیدہ صورتحال کے دوران افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں

جمعہ کے روز افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی تنازعے پر جھڑپوں میں تقریباً 12افراد ہلاک اور 10ہزار دیہاتی افراد کو گھروں سے بے دخل ہونا پڑا ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان کشید ہ اور سنگین صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان دشمنی اُس وقت بڑھ رہی ہے جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان سرحد پر کشیدگی اور لڑائی کی کیفیت ہے دونوں ایک دوسرے کیخلاف فوجی حملوں کی کارروائیوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں جنوبی ایشیاء کے یہ دو متحارب نو کلےئر ملک جنگ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

انڈیا کی فوج اور حکومت بار بار یہ عہد کررہی ہے کہ وہ یکم مئی کے پاکستانی فوج کے کراس بارڈر حملے میں بھارتی فوج کے دو سپاہیوں کی ہلاکت پرپاکستان کو خون آلود سزادے گئی۔

جمعہ کے روز افغانستان اور پاکستان کے درمیان چمن بارڈر پر جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب پاکستان کی مردم شماری کی سرکاری ٹیم کو افغانستان کی سیکورٹی فورسز نے اس وقت روکا جب وہ مردم شماری کی مہم چلا رہی تھی۔ افغانستان کا کہنا یہ تھا کہ جس علاقے میں وہ مردم شماری کررہے تھے وہ افغانستان کا علاقہ ہے قندھار کے گورنر کے نمائندے نے نیویار ک ٹائم کو بتایا کہ مردم شماری کی ٹیم متنازعہ علاقے میں داخل ہو گئی تھی اور وہ ان دو دیہاتوں کو بھی مردم شماری میں شامل کرنا چاہتے تھے جو کہ متنا زعہ علاقے میں شامل ہیں ۔

اسلام آباد نے اس دعویٰ کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے افغان سرکاری حکام کو مرد م شماری کی مہم کے بارے میں پہلے سے آگاہ کردیا تھا اور مردم شماری کی ٹیم پاکستان کے سرحدی علاقے میں ہی موجود تھی جب افغان فورسز نے ان پر فائرنگ شروع کردی ۔پاکستانی فوج نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ24924930اپریل،، سے افغان بارڈرپولیس پاکستان کی سرحد کے اندر کلی لقمان اور کلی جہانگیر جو افغانستان اور پاکستان کے درمیان منقسیم ہیں وہ پاکستانی سرحد کے اندر مردم شماری کی راہ میں مسائل پیدا کررہے تھے۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان شدید لڑائی کئی گھنٹوں تک جاری رہی جو جمعہ کو روکی۔ پہلی اطلاع کے مطابق اس لڑائی میں 12افراد ہلاک ہوئے جس میں سویلین افراد کے علاوہ دونوں ممالک کی افواج بھی شامل ہیں اس کے علاوہ بہت سے لوگ زخمی بھی ہو ئے۔ جبکہ فرنٹےئر کور بلوچستان کے میجر جنرل ندیم انجم نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس جھڑپ میں افغان سیکورٹی فورسز کے50افراد کو ہلاک اور سو سے زائد افراد کو زخمی کیا ہے اور اس کے ساتھ چار سے پانچ افغان بارڈر کے چیک پوسٹوں کو تباہ کیا ہے ۔ ندیم انجم کے مطابق لڑائی اس وقت بند کردی گئی جب افغان فورسز نے جنگ بندی کی پیشکش کی،جبکہ کابل نے ندیم انجم کے دعوے کو249249بے بنیاد،، قرار دیا ۔

بروز ہفتہ افغان اور پاکستانی لوکل کمانڈرز کے درمیان دو مرتبہ فلیگ میٹنگ ہوئی لیکن اس تنازعے کے حل پر کس نتیجے پر نہیں پہنچ سکیں البتہ اتوار کو تیسری فلیگ میٹنگ کے دوران دونوں ممالک کے کمانڈرز اس بات پر راضی ہو ئے کہ جیولو جیکل سروے کے ذریعے نقشہ کشی کرکے دونوں کی سرحدوں کا درست تعین کیا جائیگا۔لیکن ابھی تک کشیدگی کی وجہ سے دونوں جانب فورسز ہائی الرٹ ہیں،پاکستان اور افغانستان کے دو تجارتی راستوں جو کہ نیٹو سپلائی کا بھی ذریعہ ہیں ان میں سے ایک یعنی چمن(باب دوستی) فی الحال ابھی تک بندہے ۔

جمعہ کے روز کی افغان پاکستان بارڈر ز کی جھڑپ گزشتہ سالوں میں بدترین جھڑپ تھی یہ اس وقت ابھر کر سامنے آئی جبکہ امریکی فوج ٹرمپ انتظامیہ کو15سالوں پر محیط جنگ میں تعطل توڑنے کی سفارشات مرتب کررہا ہے پنٹاگون کی سفارشات میں مزید5000امریکی افواج کی افغانستان میں تعیناتی ہے ۔

فی الحال ٹرمپ انتظامیہ کی افغانستان کی پالیسی کی تفصیلات اب تک مکمل نہیں ہوئی ہیں لیکن وہ اس بارے میں پرزور الفاظ میں کہہ چکا ہے کہ افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی انتہائی اہم ہے۔ امریکہ کا میڈیا سیاسی اور فوجی اسٹبلشمنٹ ہمیشہ سے یہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ انکی افغانستان میں مداخلت کی وجہ فریب پر مبنی249249د ہشت گردی کیخلاف،، جنگ ہے لیکن افغانستان میں امریکی مداخلت کی حقیقی وجہ آج بھی اور2001میں بھی سینٹرل ایشیاء کے تیل اور معدنیات کے وسیع ذخائر ہیں جو افغانستان کے سرحدوں کے قریب ہیں اس کے علاوہ واشنگٹن کے نقطہ نظر میں اسکے بڑے اسٹیٹیجک حریف چین ،روس اور ایران بھی افغانستان کے پہلو میں واقع ہیں ۔

اپریل کے وسط میں ٹرمپ کے نیشنل سیکورٹی کے ایڈوائزرلیفٹیننٹ جنرل ایچ آر میک ماسٹر نے کابل اور اسلام آباد کا دورہ امریکی افواج کے افغانستان پر سب سے بڑے بم (ایم او اے بی) کے پھینکنے کے کچھ ہی دنوں بعد کیا تھا ۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے پاکستان پر زوردیا تھا کہ وہ امریکی جنگ کی افغانستان میں اور بھی زیادہ حمایت کریں اور حقانی اور طالبان ملیشیاء کے ٹھکانے جو کہ کہا جاتا ہے کہ فاٹا میں موجود ہیں انکے خلاف فوجی آپریشن کیا جائے ۔اور کابل میں اپنے میزبانوں کو مطمئن کرنے کی غرض سے میک ماسٹر نے کہا تھا کہ پاکستان کے سیکورٹی فورسز کو249249جنگجو گروپوں کیخلاف فوجی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے،، یعنی کے طالبان اور ان کے اتحادیوں کیخلاف،جنہوں نے پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں اور مزید یہ کہا کہ پاکستان کو چاہئے کہ وہ افغانستان میں اپنے مفادات کا تحفظ ڈپلومیسی کے ذریعے کرئے ناکہ پروکسی جنگ کے ذریعے ۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات سالوں سے انتہائی نچلی سطح تک گرتے جارہے ہیں ۔کابل عرصہ دراز سے اسلام آباد پر الزام عائد کرتا چلاآرہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک اور دوسرے طالبان دھڑوں کو اسلام آباد محفوظ راستہ دے رہا ہے تاکہ افغان جنگ کے سیاسی تصفیے میں وہ ایک فیصلہ کن کردار ادا کرسکیں،جبکہ گزشتہ 5برسوں سے بھی زیادہ عرصے سے اسلام آباد افغان انٹیلی جنس ایجنسیوں پر جوابی الزام عائد کرتا چلاآرہا ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کی حمایت کررہے ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں جو متواتر طور پر عیسائیوں اور شیعہ اقلیتوں کو نشانہ بنارہے ہیں

اسکے علاوہ افغانستان بھارتی اور پاکستانی اسٹیٹیجک محاز آرائی کا اہم اور تیزی سے بدلتا ہوا میدان جنگ بھی ہے ۔

جنوبی ایشیاء میں دھائیوں تک پاکستان اور واشنگٹن بنیادی فوجی اتحادی رہے ہیں لیکن گزشتہ ایک دھائی سے امریکہ کے اسلام آباد کے ساتھ تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں اور اس کے برعکس انڈیا کے ساتھ قریبی تعلقات استوار ہوئے ہیں جس کا بنیادی مقصد انڈیا کو اپنے ساتھ ملاتے ہوئے چین کے خلاف فوجی اسٹیٹیجک کارروائی کر سکے ۔واشنگٹن نے ڈیموکریٹک اور رپبلیکن دونوں انتظامیہ کے ادوار میں انڈیا پر عنایت کی اور اسے خصوصی رعایتوں سے نوازا ہے جبکہ پاکستان کو یکسر نظر انداز کیاگیا ہے جو کہ ایک واضع وارننگ ہے کہ خطے کے طاقت کے توازن کو بدلتے ہوئے امریکہ نے انڈیا کے جارحانہ روایہ کو شہ دی ہے۔پچھلے جمعرات کو انڈیا کے فوجی چیف جنرل بی پین راوات نے اپنے جنگجو خطاب میں جس میں انڈیا کے فوجی اخراجات میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسے چین اور پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کیلئے استعمال کرے گا۔

راوات نے افغانستان کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ اس میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ انڈیا کی اسٹیٹیجک امنگ کی مدد کرسکتا ہے جس میں انڈیا کے دو خاص حریفوں کے گرد گھیرا تنگ کرنا شامل ہے ۔ راوات نے مزید کہاکہ وہ نہ صرف ہماری مدد کرسکتا ہے بلکہ(الف) دو طرفہ محاذ کی مشکل صورتحال یعنی ہمارے مغربی ہمسایہ(پاکستان) اور شمالی ہمسایہ(چین) کے بھی مغرب کی سمت ہماری مدد کرسکتا ہے ۔

جنرل راوات کا یہ بیان کے وہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کو مزید تقویت دیگا اسلام آباد کو اکسانا ہے۔ اسلام آباد بار بار انڈیا اور افغانستان پر یہ الزام عائد کرچکا ہے اسکی انٹیلی جنس ایجنسیاں پاکستان کیخلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔

واشنگٹن کی شہ نے نئی دہلی کو پہلے ہی سے اپنے تعلقات کو کابل کے ساتھ بڑھادیا ہے جس میں سیکورٹی تعلق بھی شامل ہے۔

حالیہ چند مہینوں میں انڈیا نے کھلا کر کابل کی حوصلہ افزائی کی ہے تاکہ وہ اسلام آباد کیخلاف زیادہ ہٹ دھرمی کا روایہ قائم کرئے اس پالیسی میں تبدیلی بیک وقت خود انڈیا کی پاکستان کیخلاف بڑھتے ہوئے جارحانہ روپ کا اختیار کرنا ہے۔ پچھلے سال اگست میں انڈیا نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی پالیسی پر جو مہم شروع کی تھی جس میں اس نے پاکستان کو249249 ریاستی دہشت گردی کی سرپرستی،، سے گردانا تھا یا سرپراست اعلیٰ قراردیا تھا۔ پھر اس نے ستمبر کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ اس نے غیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی سرحد کے پار سرجیکل سٹرائیک کی تھیں اور جیسے عوامی سطح پر بڑے فخر سے پیش کیاگیاتھا اور کہا تھا کہ اس نے پاکستان کے حوالے سے249249 اسٹیٹیجک ضبط،، کی پالیسی کو رد کردیا ہے۔

پچھلے سال ستمبر میں افغان صدر اشرف غنی نے انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ افغانستان پر بلائی گئی 249249ہرٹ آف ایشیاء،، کی کانفرنس میں یہ کہہ کر کہ پاکستان دہشتگردی کی پشت پناہی کررہا ہے اسلام آباد کو شدیدتعیش دلایاتھا۔ پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے اشرف غنی نے کہاتھا کہ پاکستان طالبان کو محفوظ پناہ گاہیں دئیے ہوئے ہے اشرف غنی نے مطالبہ کیا 249249 کہ میں اس کانفرنس سے وضاحت چاہتا ہوں کہ اس کی روک تھام کیلئے کیا اقدامات اٹھائے جائیں،،

کابل پاکستان کی بارڈر پر دیوار یا باڑ بنانے کی کوششوں کی مخالفت کرتا رہا ہے بلکہ وہ موجودہ بارڈرز کی بھی مخالفت کررہا ہے یہ برطانوی مسلط کردہ سرحد ہے جیسے ڈیورنڈ لائن کا نام دیاگیا ہے جسے افغان حکومتوں نے کبھی تسلیم نہیں کیا ۔پچھلے سال جون میں جب طورخم کے بارڈر کو سخت کرنے پر یا پھر باڑ لگنے کی پاکستان کی جانب سے کوششیں کی گئی تو اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس میں پاکستان کا ایک فوجی آفیسر جبکہ افغانستان کے دو فوجی ہلاک ہوئے۔

اسلام آباد نے اسکے جواب میں افغان مہاجرین کی افغانستان واپسی کیلئے سخت ظالمانہ کارروائی شروع کی تھی ان میں وہ مہاجرین بھی شامل تھے۔ جو پاکستان میں دھائیوں سے آباد تھے، پچھلے سال فروری میں یکے بعد دیگر حملوں کے بعد اسلام آباد نے طورخم بارڈر افغانستان کے لئے بند کردیا تھا جو تقریباً ایک ماہ تک مکمل بند رہا پاکستان نے اس بارڈر کی بندش کا جواز یہ دیاتھا کہ پاکستانی طالبان افغانستان سے ان پر حملے کررہے ہیں۔

Loading