سوشلزم اور طبقاتی جدوجہد کی نئی سرگرمی

3 January 2018

’’ہم دنیا سے نہیں کئیں گے:کہ وہ اپنی جدوجہد بند کریں وہ بے وقوف ہیں:ہم تمہیں جدوجہد کا حقیقی نعرہ دیں گے۔ ہم دنیا کو دکھائیں گے کہ وہ حقیقی طور پر کس لئے لڑرہے ہیں اور شعور ایسی چیز ہے جس سے حاصل کیا جائے تب بھی اگر وہ نہیں چاہتا )کارل مارکس کا ارنولڈروگے کو مراسلہ ستمبر1843)‘‘

’’تنقید کے ہتھیار کو ہتھیار کی تنقید سے بے شک تبدیل نہیں کیا جاسکتا‘‘مادی طاقت کو یقیناًمادی طاقت کے ذریعے ہی شکست دی جاسکتی ہے۔ لیکن تھیوری بھی اس وقت جلدمادی طاقت بن جاتی ہے جب وہ عوام کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے‘‘(ہیگل کی فلسفی آف لا پر تنقید نقطہ نظر پر کنٹری بیوشن1844)

’’جرمن کی نجات انسانیت کی نجات ہے۔ اس نجات کا سر براہ فلسفہ ہے اور اسکا دل پر ولتاریہ ہے۔فلسفہ اس وقت تک حقیقت میں تبدیل نہیں ہوسکتا جب تک وہ پرولتاریہ کو ختم نہ کردیں اورپرولتاریہ اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتا جب تک فلسفہ حقیقت میں تبدیل نہیں ہوتا‘‘(ہیگل کی فلسفی آف لا پر تنقیدی نقطہ نظر پر کنٹری بیوشن1844) ’’یہ سوال نہیں ہے کہ یہ یا وہ پرولتاریہ کیا ہے یا پھر یہاں تک کہ بحیثیت مجموعی پرولتاریہ اپنے مقصد کے حوالے سے اس وقت کہاں ہے سوال یہ ہے کہ پرولتاریہ کیا ہے اور کیا اسکے تاریخی وجود کے مطابق اسے اس بات پر مجبور کرے کہ وہ اقدام اٹھائے ‘‘(مقدس خاندان1844)

’’تاریخی عمل کی ایک ساتھ تکمیل کا عمل اپنے حجم کے ساتھ اسکو اور بڑھے گا‘‘(مقدس خاندان1844) ’’آج تک تمام سماجوں کی تاریخ طبقاتی جدوجہد کی تاریخ ہے‘‘ (کمیونسٹ پارٹی کا مینی فیسٹو1847) ’’حکمران طبقے کمیونسٹ انقلاب کے خوف سے کانپ رہے ہوں تو کاپنیں پرولتاریہ کو اپنی زنجیروں کو کھونے کے سوا اور کیا ہے اور پانے کیلئے پورا جہاں ہے ۔ تمام ممالک کے مزدوروں کا اتحاد‘‘( کمیونسٹ پارٹی کا مینی فیسٹو1847)

***

1۔یہ سال اس لئے نمایاں ہے کہ اس سال کارل مارکس کی دو صد سالہ سالگرہ ہے جو تاریخی مادیت کے اور داس کیپیٹل کے نظریہ کا خالق اور فریڈرک انیگلس کے ساتھ جدید انقلابی سوشلسٹ تحریک کا بانی تھا۔ کارل مارکس 5مئی1818کو پروشیا کے شہر ٹرےئر میں پیدا ہوا لینن کے قول میں مارکس غیر معمولی تخلیقی صلاحیت کا حامل تھا۔اس نے19ویں صدی کے عہد کے مرکزی نظریات کی تکمیل کو جاری رکھا۔اس نے اُن سوالات کے جواب فراہم کیے جو انسانیت کے ممتاز ترین دماغوں نے تین ترقی یافتہ ممالک میں اٹھائے تھے۔ یعنی جرمن فلسفے،کلاسیکل انگریزی سیاسی معاشیات اور فرانسیسی سوشلزم کے ساتھ عمومی فرانسیسی انقلابی عقائد کی صورت ہیں(1)

2۔مارکس 14مارچ1883میں64سال کی عمر میں لندن میں وفات پا گئے۔اس وقت تک مارکس اور اینگلس نے یوٹوپیائی سوشلسٹ امنگوں کو سینٹیفک بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے عالمی محنت کش طبقے کی انقلابی سیاسی تحریک کی بنیاد رکھی۔ مارکس نے1843سے1847کے درمیان علمی سوچ میں انقلاب برپا کرتے ہوئے اور خاص کر اس وقت کی غالب میکینکل مادیت اور ہیگل کی جدلیاتی منطق کے معمے کی محددودیت کو دور کرتے ہوئے اس پر فتح یاب ہوا۔

3۔مادیت کے فلسفے کو تاریخ اور سماجی رشتوں تک بڑھاتے ہوئے مارکس نے ثابت کیا کہ سوشلزم کا پیدا ہونا فطری طور پر سرمایہ دارانہ نظام کے داخلی تضادات کا جائز نتائج ہے اس نے یہ دعویٰ کبھی نہیں کیا کہ طبقاتی جدوجہد جو تاریخ کا تعین اور اس کی طاقت ہے اس نے دریافت کی ہے ۔اس کے دنیا کے تبدیلی کے کنٹری پیوشن اور تاریخ سے آگہی جسکی مارکس نے1852میں خود اسکی وضاحت اس طرح کی-I-کہ طبقات کا وجود پیداوار کے ارتقا میں صرف مخصوص تاریخی منزلوں سے مربوط ہے ۔2۔ کہ طبقاتی جدوجہد لازمی طور پر پرولتاریہ کی ڈکٹیٹرشپ کی جانب بڑھتی ہے۔3۔کہ یہ ڈکٹیٹر شپ خود صرف تمام طبقات کے خاتمے اور غیر طبقاتی سماج کے عبوری دور پر مشتمل ہوتی ہے۔(2)

4۔اگر مارکس کمیونسٹ مینی فیسٹو کے لکھنے کے بعد اپنا قلم بند کرلیتا تو پھر بھی اس کی جگہ تاریخ میں یقینی طور پر اب تک ہوتی لیکن اس کو تاریخ کی معراج پر پہنچانے میں اسکی تحریر داس کیپیٹل ہے جس میں تاریخ کے مادی تصور کی سچائی کو ثابت کیاہے۔

داس کیپیٹل کی پہلی جلد کی اشاعت1867میں ہوئی جسے150برس ہو چکے ہیں۔بورژدا معاشیات دانوں کی کئی نسلوں نے اپنی پروفیشنل زندگی کا زیادہ تر حصہ مارکس کے تخلیقی ورکس کو رد کرنے میں وقف کیا۔ لیکن سب کا سب فضول اور انکی تمام کوششیں بیکار ثابت ہوئیں۔مارکس کے جدلیات کے طریقہ کار کے اصولوں کی طاقت اور اسکی تاریخی بصیرت کے علاوہ ازیں سرمایہ داری کے بحران کی حقیقت کے سامنے تاہم جتنا بھی پروفیسر حضرات احتجاج کریں جیسا کہ مارکس نے وضاحت کی کہ سرمایہ داری دنیا’’جنبش‘‘میں ہے داس کیپیٹل پر ہر حملہ ناگزیر طور پر سرمایہ دارانہ نظام کے ناقابل حل معاشی اور سماجی تضادات کا نیا عملی مظاہرہ کرتا ہے۔

5۔اس سلسلے کا جاری آخری سبق2008میں عالمی کریش سے شروع ہوا تھا۔ مارکسزم کی بنیادی سیاسی معاشیات کے قوانین اور تصورات جیسا کہ قوت محنت ،مستقل اور غیر مستقل سرمایہ، قدار زائد، شرح منافع میں کمی،استحصال،جناس کی پرستش،صنعتی مزدوروں کی بے روزگار فوج اورپرولتاریہ کا اضافی اور مستقل مفلس پن وغیرہ،سرمایہ داری کو سینٹیفک طریقے سے سمجھنے کیلئے ان قوانین کے ذریعے ہی ہوسکتی ہے بلکہ روز مرہ کی سیاست معیشت اور سماجی حالات کو بنیادی طور پر سمجھنے کیلئے یہ قوانین ضروری ہیں۔

6۔یہ بات یقین کے ساتھ کی جاسکتی ہے کہ مارکس کی200سالہ سالگرہ کی تقریبات بہت جگہوں پر بڑے بڑے اکیڈمک سیمینارز سے منعقد کی جائیں گی جس میں پروفیسر حضرات بے مقصد طور پر مارکس کی تھیوری پر بحث کرینگے ان میں سے بہت سے یہ دعویٰ کرینگے کہ مارکس کی تھیوری میں فلاں غلط ہے اور فلاں کو نظرا نداز کیاگیا ہے۔صرف چھوٹی اقلیت مارکس کے کام کی تعریف کریگی۔لیکن مارکس کی زندگی کی حقیقی تعریف معروضی طور پر کلاس رومز کے باہر ہو گی۔

7۔2018کا یہ نیا سال جومارکس کی200صد سالگرہ کا ہے اسکی بنیادی خصوصیات سب سے بڑھ کر سماجی تناؤ میں بڑھتی ہوئی شدت اور بین الاقوامی پیمانے پر طبقاتی لڑائی میں اضافہ اور وسعت پر محیط ہو گئی۔ کئی دہائیوں سے اور خاص کر سویت یونین کے1991میں انہدام کے بعد محنت کش طبقے کی مزاحمت کو سرمایہ دارانہ استحصال کے خلاف دبایاگیا۔ سرمایہ دارانہ نظام کا بنیادی تضاد ایک جانب عالمگیر معیشت کا باہم وابستہ ہونا اور وقیانوسی بورژوا قومی ریاست کے درمیان ہے اور دوسری جانب سماجی پیداوار کا عالمی سطح پر نیٹ ورک جس میں اربوں انسانی زندگیاں شامل ہیں اور ذرائع پیدوار پر نجی ملکیت کے درمیان ہے۔ سوسائٹی کی بنیادی سماجی ضروریات اور خود غرض طریقے سے انفرادی طور پر پیسوں کا کمانا تیزی کے ساتھ اس نقطہ نہج تک جا پہنچے ہیں جہاں پر محنت کش طبقے کی سرمایہ داری کیخلاف مزاحمت کو مزید دبانا ناممکن ہے ۔

8۔آبادی کی ایک باریک تہہ کے پاس جو دولت کا ارتقاز ہے تاریخی طور پر اپنی انتہائی حدود کو چھورہی ہے ۔یہ ایک بین الاقوامی پروسس ہے۔دنیا کے ایک فیصد امیر ترین افراد دنیا کی آدھی دولت کے مالک ہیں(3) دسمبر2017تک500امیر ترین افراد کے پاس مجموعی دولت5.3ٹریلین ڈالر بڑھی جو کہ2016کے مقابلے میں ایک ٹریلین ڈالر تھی(4)امریکہ میں تین افراد چیف بیذوز، بل گیٹ اور وارن بیوفیٹ کے پاس آدھی آبادی سے زیادہ دولت ہے۔ چین میں38ارب پتیوں کی انفرادی دولت میں177بلین ڈالر کا اضافہ بڑھا ہے۔روس میں27ارب پتیوں کی دولت میں29بلین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے اس کے باوجود ان پر امریکہ اور یورپ کی جانب سے معاشی پابندیاں عائد تھیں۔میکسیکو کے امیر ترین آدمی کارلوس سلم کی دولت میں62.8بلین ڈالر کا اضافہ ہو جو کہ گزشتہ سال12.9بلین ڈالر تھا۔

9۔اس بے انتہا دولت کی نمایاں خصوصیت کا دارومدار حصص کی منڈی کے منافوں میں گزشتہ35برسوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے خاص کر2018کے وال سٹریٹ کریش کے بعد ‘یو ایس ریزور کی کوانٹیٹیو ایزنگ(Quantitive easing)(سینٹرل بنک گورنمنٹ کے حصص کو خریدکر پیسوں کی سپلائی کو بڑھادیتا ہے )کی پالیسی اور گلوبل سینٹرل بنک کی کم شرح سود کی پالیسیوں کی وجہ سے ڈاو جان اینڈ یکس ایوریج میں گزشتہ دھائی میں4گنا اضافہ ہوا ہے۔2017میں حصص کی ویلیو میں جو تیز رفتار اضافہ دیکھا گیا جس کی وجہ اس تو قعات سے منسلک تھیں جیسے وہ عرصہ دراز سے آگاہ تھے کہ امیروں پر بڑے پیمانے پر ٹیکس کم ہوگا۔

10۔سرمایہ دار مالیاتی اشرافیہ جو اس دولت سے مستفید ہوتے ہوئے اوپر کی چوٹی پر پہنچے اس عمل کے پہلو بہ پہلو دنیا کی بڑی آبادی میں غربت میں بھی تیزی سے اضافہ بڑھ ہے۔ کریڈیٹ سیوسی(Credit Suisse)کی ایک رپورٹ کے مطابق ’’ اس انتہاء کے دوسری جانب‘‘ دنیا کے3.5بلین غریب ترین نوجوان انکے پاس10,000ڈالر(7600پونڈ)سے بھی کم مالیت کی رقم موجود ہے مجموعی طور پر70فیصد آبادی پر مشتمل دنیا میں کام کرنیوالے عمر کے لوگوں کے پاس2.7فیصد گلوبل دولت ہے۔(5)

11۔دولت کا اتنا بڑا فرق نہ صرف یہ کہ تباہ کن ہے بلکہ موجودہ سرمایہ داری پر ایک قابل تلافی دھبہ ہے۔یہ سنگین عدم مساوات موجود سماجی نظام کے دیوالیہ پن کی تکمیل کا اظہار ہے۔موجودہ حالات میں جدید دور کے سماج کی فوری سماجی ضروریات،تعلیم‘مکان،عمر رسید کے تحفظ، جدید طرز پر یونیورسل میڈیکل تحفظ، ٹرانسپورٹ کے نظام کی جدید سہولیات،ماحولیاتی نظام کا تحفظ جو کہ شدید خطرے سے دوچار ہے وغیرہ ان پر خرچ کرنے کی بجائے ان بڑے وسائل کو احمقوں اور متلون مزاج امیر ترین افراد کے وارثوں پر ضائع کرکے برباد کیا جارہا ہے۔ان وسائل کو سکولوں،مکانوں کی تعمیر،پینے کے صاف پانی کے پلانٹس،ہسپتالوں،میوزیم اور دوسرے بنیادی کلچرل اداروں پر خرچ کرنے کی بجائے انہیں بڑے محلوں،جیولری اور اس طرح بے شمار بے بہبودہ اشیاء پر لگا کر فضول خرچیاں کی جارہی ہیں۔

12۔جدید سرمایہ داری کی حکمران اشرافیہ بذات خود انسانی سماج کی جدید ترقی کی راہ میں مکمل رکاوٹ ہے۔انکی دولت نے ایک ناسور جیسی خصوصیت اختیار کرلی ہے ۔ اور اس کیخلاف جو پاپولر تحریکیں ابھررہی ہیں جن میں بے پناہ طعیش اور غصہ پایا جاتا ہے وہ خبردار کرتی ہیں کہ اس نظام کا خاتمہ ناگزیر ہے موجودہ صورتحال غیر منطقی ہے ٹھیک اس طرح جس طرح اینگلس نے فرانس کی بادشاہت کے بارے میں بیان کیا تھا جب انقلاب نے امرا کو اقتدار سے باہر پھینکا۔ 1879میں فرانس کی بادشاہت بالکل غیر حقیقی بن چکی تھی اس نے ضروریات کی اشیاء کو لوٹ لیا تھا اور بالکل غیر منطقی ہوگئی تھی جیسے عظیم انقلاب نے تباہ کردیا جسے ہیگل نے اس بارے میں بڑے جوش و جذبے سے کہا تھا کہ اس کیس میں امرا غیر حقیقی اور انقلاب حقیقی ہو چکا تھا اور اس طرح ترقی کے اس سفر میں جو پہلے حقیقی تھے وہ اب غیر حقیقی ہو گئے ہیں اور اپنی ضرورت کھو بیٹھے ہیں اور اپنے منطق کو وجود کے مطابق کھودیا ہے۔اور قریب المرگ حقیقت کے مدمقابل نئی قابل عمل حقیقت سامنے آتی ہے پرامن طور پر اگر پرانی(حقیقت) کے پاس اگر ذرا بھی سوچ ہوتو وہ اپنی موت کو قبول کرے بغیر کسی مزاحمت کے ورنہ طاقت کے ذریعے اگر وہ اسکی مزاحمت کرتا ہے(6)

13۔کارپوریٹ اور مالیاتی اشرافیہ اپنی دولت کے دفاع کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں اس پیشن گوئی کیلئے اتنی زیادہ سیاسی بصیرت کی ضرورت نہیں ہے حسب دستور وہ اپنی منشا کو سوسائٹی پر مسلط کرتے ہیں اور اگر انہیں شدیدپاپولر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اسے پر تشدد طریقے سے دبادیا جاتا ہے جبکہ موجودہ بڑے بڑے سیاسی اور سماجی ایشوز جس میں بڑی سطح پر بے روزگاری،غربت ،سماجی نا برابری، بنیادی جمہوری حقوق پر بڑھتے ہوئے حملے، ماحولیاتی تباہی نہ روکنے والی سامراجی فوجی جارحیت اور نیو کلےئر جنگ کا خطرہ ان میں سے کوئی بھی مسئلہ سرمایہ داری کے اس ڈھانچے میں حل نہیں ہوسکتا۔بے شک کوئی بھی سنجیدہ سماجی اصلاحات کے لئے ضروری ہے کہ کم ازکم بڑی بڑی نجی دولت کو ضبط کیا جائے اور اس دولت کو دوبارہ تقسیم کیا جائے جس کے دو رس نتیجے ہونگے۔ لیکن جب تک سرمایہ دار طبقے کے پاس ریاستی طاقت موجود ہے اس وقت تک یہ اصلاحات ناممکن ہے۔ اس لئے جب محنت کش طبقہ اپنے مفادات کا دفاع کرتا ہے تو وہ سماجی انقلاب کی جانب بڑھتا ہے جیسا کہ مارکس نے پیشن گوئی کی تھی ۔

14۔روس کے محنت کش طبقے نے اکتوبر1917میں جب ریاستی طاقت پر قبضہ کرتے ہوئے مارکس اور اینگلس نے جو تاریخی مادی نظریہ اور سیاسی تناظر کی وضاحت کمیونسٹ مینی فیسٹو میں کی تھی اس کی تصدیق کی لیکن اکتوبر انقلاب صرف معروضی تاریخی عمل کا خود رو سادہ نتیجہ نہیں تھا۔محنت کش طبقے کی کامیابی کا دارومدار مارکسسٹ سیاسی پارٹی کی قیادت پر تھا جس کی بنیاد عالمی انقلابی حکمت عملی پر تھی۔ اس قیادت کے بغیر سوشلسٹ انقلاب کو حاصل نہیں کیا جاسکتا تھا اگرچہ کہ سرمایہ داری کا بحران خواہ کتنا بھی گہرا کیوں نہ ہوتا۔ کمیونسٹ انٹرنیشنل کی دوسری کانگرس جو کہ1920میں منعقد ہوئی تھی لینن نے پارٹی ڈ یلیگیٹس کو انتباہ کیا تھا کہ حکمران طبقے کیلئے کوئی بھی مکمل ناامیدی کے حالات نہیں ہوتے۔ شروع ہی سے’’ مکمل‘‘ نہ امیدی کو ثابت کرنے کی کوششیں خالی علمی تفاخر یا لفظوں کی بازی گری ہے۔ صرف تجربہ حقیقی ثبوت اس اور دوسر ے سوالوں کے جواب کو فراہم کرتا ہے،بورژوازی کا نظم و تربیت پوری دنیا میں غیر معمولی طو رپر ایک انقلابی بحران سے گزاررہا ہے انقلابی پارٹیوں کو اب لازمی طور پر’’ ثابت‘‘ کرنا ہوگا کہ وہ بڑی حد تک شعوری ہیں اور ان کے پاس وہ کافی تنظیمیں ہیں جو کہ استحصال زدہ عوام میں جڑیں رکھتی ہوں اور ان میں یہ عزم اور سمجھ بوجھ ہے کہ وہ اس بحران کو استعمال کرتے ہوئے ایک شاندار اور کامیاب انقلاب کرلیں(7)

15۔لینن کی وارننگ المناک انداز میں درست ثابت ہوئی اکتوبر انقلاب کے بعدکے سالوں اور دہائیوں میں انقلابی حالات کی کمی نہیں تھی جس سے یہ امکان پید اہوا تھا کہ محنت کش طبقہ اقتدار حاصل کرے۔دو تباکن عالمی جنگیں دنیا کے ہر کونے میں پاپولر سرکشیاں اور شدید معاشی عدم استحکام اور یہاں تک کے معاشی نظام کا مکمل ٹوٹ جانا شامل تھا ۔اگر ہم آخری تجزئے میں20وی صدی میں سرمایہ داری کی بقا کو محنت کش طبقے میں انقلابی قیادت کے فقدان سے منسوب کریں تو درست ہوگا۔

16۔پہلی عالمی جنگ کے آغاز ہی سے دوسری انٹرنیشنل کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹیاں نے سامراجی کیمپ کا حصہ بنتے ہوئے اور ’’قومی دفاع‘‘ کے پروگرام کو اپناتے ہوئے بعدازجنگ کے محنت کشوں کی انقلابی سرکشیوں سے غداری کی۔سویت یونین میں بیوروکریسی کی نشوونما نے تیزی سے تیسری انٹرنیشنل کا انہدام کردیا۔سویت یونین کے اندر سٹالنسٹ کا’’ ایک ہی ملک میں سوشلزم‘‘ کا پروگرام1924میں پہلی مرتبہ منظر عام پر آیا۔ جس نے تیسری انٹرنیشنل کو سویت ریاست کے قومی مفادات جسکا تعین حکمران بیورو کریسی کررہی تھی کے ماتحت کردیا۔

17۔سوشل ڈیموکریٹک اور سٹالنسٹ پارٹیوں کی سامراج کی سیاسی ایجنسیوں میں تبدیلی کے عمل نے1920اور1930میں بین الاقوامی سطح پر محنت کشوں کو تباہ کن شکستوں سے دو چار کیا۔ان شکستوں میں سب سے زیادہ تباہ کن شکستیں1927میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کی تباہی،1933میں مادی کی کامیابی اور ساتھ ہی جرمنی میں سوشلسٹ تحریک کا مکمل کچلا جانا اور سپین کے انقلاب سے غداری اور ساتھ ہی فرینکو کی فاشسٹ حکومت کا(1936-1939)میں اقتدار میں آنا تھا۔

18۔1938میں لیون ٹراٹسکی نے چوتھی انٹرنیشنل کی بنیاد رکھی یہ دو ر ٹراٹسکی کی سیاسی جدوجہد کا حد کمال تھا یہ عرصہ ٹراٹسکی کے سٹالنسٹ رجیم کے قومی سوشلزم (سوشلزم بگڑی ہوئی شکل) مزدور جمہوریت کے خاتمے اور عالمی سوشلسٹ انقلاب کے پروگرام سے روگردانی کرنے کیخلاف جدوجہد پر محیط تھاجوکہ1923سے شروع ہوا ۔نئی انٹرنیشنل کے بنیادی ڈاکومینٹ میں ٹراٹسکی نے نشاندہی کی کہ سرمایہ داری سے سوشلزم تک عبوری کی جانب کا مرکزی مسئلہ ’’ قیادت کا بحران‘‘ ہے۔

19۔80سالوں کے بعد پوری دنیا میں آج پھر سرمایہ داری نظام کا بحران تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے اور محنت کش طبقے کی تحریکوں کی شدت میں اضافہ بڑھتا جارہا ہے تو اس سوال کو اٹھانا ضروری ہے ۔کہ انقلابی بحران کے حل کی کیا توقع کی جاسکتی ہے؟۔ کیا چوتھی انٹرنیشنل کے پاس یہ امکان ہے کہ وہ محنت کش طبقے کے شعوری دستوں، شعوری نوجوانوں، ترقی پسند دانشوروں میں زیادہ تعداد میں اپنی حمایت کو جیتتے ہوئے اور محنت کشوں کی بڑی بڑی جدوجہد کی قیادت کرتے ہوئے عالمی سوشلسٹ انقلاب کو فتح سے ہمکنار کرسکے۔

20۔اس سوال کے جواب کو وسیع تاریخی سیاق و سباق میں قیادت کے مسئلے کے حوالے سے سمجھنے کیلئے تاریخ کو گہری نظر سے دیکھنا ہوگا۔

21۔اس سال اور بھی ایک برسی منائی جائیگی :مئی ،جون1968کے واقعات کی اس مکمل عام ہڑتا ل کی جس سے فرانس کی سرمایہ دارانہ حکومت سوشلسٹ انقلاب کے دھانے تک جا پہنچی تھی ۔ 1968کے واقعات اب تک سوچوں اور خیالوں میں پاپولر انداز میں گونج رہے ہیں:بڑے بڑے احتجاجوں اور مکمل عام ہڑتالوں کے علاوہ یہ سال ویت نام میں تیز رفتارحملوں(Tet offensive) کے نام سے جانا جاتا ہے اور امریکہ میں شدید عدم استحکام کا سال تھا( جس کا اظہار امریکہ کے بڑے بڑے شہروں میں ہنگاموں اور دو سیاسی رہنماؤں کے قتل کی صورت میں واضح ہے) اور جیکوسلوکیہ کے پرگ میں سٹالن مخالف تحریک جسے یو ایس ایس آر اور وارسا پیکٹ نے اگست میں فوجی مداخلت کرکے دبادیا تھا۔

22۔1968کے واقعات نے عالمی محنت کشوں میں طبقاتی ریڈیکلائزیشن کے پروسس کو محترک کیا۔ بعدازدوسری عالمی جنگ کے اور1968سے لیکر1975کا عرصہ بہت بڑی عالمی انقلابی تحریکوں سے منسوب ہے ۔جس میں اٹلی، جرمنی،برطانیہ اور امریکہ میں ہڑتالوں کا سلسلہ بھی شامل ہے جرمنی میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے ہٹلر نیازی کی فتح کے بعد پہلی مرتبہ اپنی حکومت بنائی۔چلی میں ستمبر1970میں آلیندا کی حکومت اقتدار میں آئی۔ برطانیہ میں موسم سرما میں کوئلے کے کارکنوں کی(1973-74)ہڑتالوں نے ٹوری کی دائیں بازو کی حکومت کو ان ہڑتالوں اور دباؤ کی وجہ سے مستعفی ہونا پڑا،یونان کی فوجی جنتا کو جولائی1974میں گرادیاگیا۔ راچڑنکسن نے تعزیری کارروائی کے پیش نظر اگست1974میں استعفیٰ دے دیا،پرتگال کی فاشسٹ حکومت جو1926سے اقتدار پر قائم تھی اپریل1975میں ڈھیر ہو گئی۔ نومبر1975میں فرینکو کی موت نے ڈکٹیٹر شپ کو فاش فاش کردیا بلکہ سپین میں سرمایہ داری کی حکمرانی کے لاغرپن کو بھی بے نقاب کیا۔ قومی آزادی کی طاقتور سامراج مخالف تحریکوں نے مشرق وسط اور افریقہ کو جنجوڑ کررکھ دیا۔

23۔اتنی بڑی بڑی بین الاقوامی سرکشیوں کے باوجو د پھر بھی سرمایہ دارانہ نظام نہ صرف برقرار رہا بلکہ اس نے ان سرکشیوں کو شکست سے بھی دوچار کیا (جیسا کہ آیلندا کی حکومت کا چلی میں1973میں خاتمہ کیاگیا) اور محنت کش طبقے کیلئے وہ بنیادیں تشکیل دی گئیں کہ ان پر حملہ کیا جاسکے ۔ یہ عمل 1970کے آخر میں اس وقت شروع ہوا جب رونلڈ ریگن کے الیکشن کے قلیل عرصے کے بعد مارگریٹ تھچر اقتدار میں آئی۔

24۔1968سے لیکر1975کے درمیان بین الاقوامی سرکشیوں کے باوجود سرمایہ داری کا قائم رہنے کی ذمہ داری سب سے پہلے سٹالنسٹوں ، سوشل ڈیموکریٹس پارٹیوں اور ٹریڈ یونینوں پر عائد ہوتی ہے جو اس وقت محنت کشوں کی بڑی تحریکوں میں ایک نمایاں طاقت رکھتی تھیں ۔جنکے ممبرز کی تعداد لاکھوں میں تھی انہوں نے اپنی بیوروکریٹک طاقت کو بروئے کار لاتے ہوئے ان تحریکوں اور سرکشیوں کو دبایا اور روکا اور ان تحریکوں کا رخ موڑا اور اس طرح محنت کشوں کی ان جدوجہد کی حقیقی شکستوں کے لئے ضروری طریقہ کارکو عملی جامعہ پہنایا۔ سویت یونین میں سٹالنسٹ اورچین میں ماوسٹ رجمیز نے منظم طور پر بناوٹی طرز پر مارکسزم کو استعمال کرتے ہوئے اور ان تمام وسائل جو ان کے زیردست تھے تصروف میں لاتے ہوئے ان انقلابی تحریکوں سے جنہیں انکو خطرہ لاحق تھا جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور اس طرح ان انقلابی تحریکوں کو زائل کرنے کے ساتھ ساتھ سامراجی ممالک سے اپنے رشتوں کو استوار کرنے کیلئے استعمال کیا ۔کم ترقی یافتہ ممالک میں سٹالنسٹ اور ماوسٹ رجیمز نے مختلف قومی بورژواری کے تحریکوں کے حصوں کو محنت کش طبقے پر مسلط کرتے ہوئے سرمایہ داری اور سامراج دشمن جدوجہد اور تحریکوں کو زائل کیا۔

25۔اس نازک دور میں انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل نے سٹالن ازم، سوشل ڈیموکریسی اور بورژوا قوم پرستی کے سیاسی اثر کیخلاف لڑائی لڑی لیکن ان حالات میں جبکہ انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل انتہائی سیاسی تنہائی کا شکار تھی جو ان پر نہ صرف سوشل ڈیموکریٹس اور سٹالنسٹوں کی بڑی بیوروکریٹک تنظیموں کی جانب سے مسلط کی گئی تھیں بلکہ مکار اور موقع پرست ٹراٹسکیٹ مخالف تنظیموں نے بھی تباکن کردار ادا کیا جو کہ1950اور1960میں ٹراٹسکیزم سے ٹوٹی تھیں۔

26۔انکا بنیادی ترمیم پسند تھیوری ٹیشن جو کہ پیبلویٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس نے اورانکی تنظیموں نے محنت کشوں کی خود مختاری انقلابی پارٹیوں جن کا پروگرام چوتھی انٹرنیشنل کی بنیاد پر ہو کی ضرورت کو یکسر مسترد کردیا۔ مائیکل پیبلو اور اس کے قریبی ساتھی ارنسیٹ منڈیل نے ٹراٹسکی کی سٹالنسٹ بیوروکریسی کے ردانقلابی کردار اور خصوصیت کو یکسر رد کرتے ہوئے یہ دلید ل دی تھی کہ سویت بیوروکریسی محنت کشوں کی معروضی خود رو تحریکوں کے دباو میں انقلابی پالیسیوں کو لاگو کرنے پر مجبور ہو گئی اور اسی طرح کے معروضی حالات میں سوشل ڈیموکریٹس اور بورژوا قوم پرست بھی اس دباؤ کے تحت انقلابی کردار ادا کرنے پر مجبور ہونگے۔

27۔ٹراٹسکیزم کے اس ترمیم پسندوں کے دو رس نتائج کا لب لباب یہ تھا کہ چوتھی انٹرنیشنل کی تعمیر کی کوئی بھی ضرورت نہیں ہے پبیلو یٹس نے ٹرا ٹسکیزم کے متبادل بے شمار دوسرے پیٹی بورژوا رحجانات کی ستائش کی جیسا کہ کیوبا میں کاسترو اور الجیریا میں بین بیلا، پیبلویٹ نے انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل پر یہ الزام عائد کیا وہ الٹرالیفٹ فرقہ پرست ہیں کیونکہ انہوں نے فورتھ انٹرنیشنل کی سیاسی تحلیل کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے قبول نہیں کیا۔

28۔50سال پہلے سوشل ڈیموکریٹس اسٹالنسٹ اور ماوسٹ اور دوسری کئی قسموں کے بورژوا قوم پرستوں نے محنت کش طبقے اور سامراج مخالف تحریکوں پر بڑے اثرات مرتب کیے تھے لیکن اب ان تنظیموں کا کیا بنا؟۔

29۔سویت یونین اب موجود نہیں ہے اور سٹالنسٹ پارٹیوں کا بین الاقوامی افق سے نیٹ ورک غائب ہو چکا ہے۔ چین میں کمیونسٹ پارٹی سیاسی اور ریاستی طور پر برسراقتدار سرمایہ داراشرافیہ کی نمائندہ ہے ۔سوشل ڈیموکریٹک پارٹیاں اور دائیں بازو کی بورژوا پارٹیوں کے درمیان حقیقتاً فرق ختم ہو چکا ہے محنت کش کہاں پر انکو اپنے مفادات کا محافظ سمجھتے ہیں سوشل ڈیموکریٹس معمولی سی حد تک اپنی ساکھ کو بچانے کیلئے مصنوعی طور پر اپنے کو بائیں بازو کا ظاہر کرتے ہیں(جیسا کہ برطانیہ میں کورئی بن) لیکن جب وہ اقتدار میں آتے ہیں تو انکی جعلی مشق جلد ہی کھل کر سامنے آجاتی ہے جیسا کہ ہم نے یونان میں دیکھا تھا۔

30۔اسی طرح بورژوا قوم پرست تحریکوں میں سامراج اور سرمایہ دار مخالفت کا بھی دعویٰ باقی نہیں رہا ہے جنوبی افریقہ میں جب افریکلن نیشنل کانگریس اقتدار کی پارٹی بنی اس نے بڑے بے رحمانہ طور پر امیروں کے مفادات کو آگے بڑھایا اور ہڑتالی مزدوروں پر گولیاں چلائیں جو کہ بورژوا قوم پرستی کے طبقاتی کردار کی تاریخی طور پر زوال پذیری کے اظہار کا لب لباب ہے۔

31۔آخر میں پیبلویٹ تنظیمیں اور ان کے ساتھ مختلف نوح کی جعلی بائیں بازو کی تحریکوں نے اپنے کو بورژوا سیاسی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ خود کو ضم کردیا ہے جس کا اظہار یونان میں سریزا کے اقتدار میں آنے بعد واضح طور پر نظر آتا ہے (کولیشن آف ریڈیکل لیفٹ) جس نے یورپی بنک کی ایماء پر اسٹریٹی اور تاریکن وطن مخالف پالیسیوں کو عوام پر مسلط کیا۔

32۔ان تنظیموں کا دیوالیہ پن اور سیاسی زوال پذیری کی بنیادی وجہ انکے صوبہ جاتی اصلاح پسند پروگرام پر مبنی ہے جبکہ سرمایہ داری بین الاقوامی سطح پر ایک مربوط معاشی نظام ہے کہ درمیان ایک گہرہ تضاد ہے۔

33۔سٹالنسٹ ،ماوسٹ، سوشل ڈیموکریٹس ، بورژوا قوم پرست اور موقع پرست پیبلویٹس تنطیموں کے درمیان جو چیز سیاسی طور پر مشترک ہے وہ انکا اصلاح پسندی کا پروگرام ہے جو سمجھتے ہیں کہ اسے قومی ریاست کے معاشی ڈھانچے میں حاصل کرسکتے ہیں لیکن جیسے ہی معاشی گلوبلائزیشن کا عمل1980میں تیزی کے ساتھ آگے بڑھاتو قومی بنیادوں پر قائم ان تنظیموں کا تناظر اور پروگرام زمین بوسہ ہو گیا۔

34۔محنت کش طبقے کی قیادت کے بحران کے حل کو کامیاب بنانے کیلئے انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل کے پروگرام کے ساتھ منسلک ہونے ہی میں موجود ہے۔ اور اس کے ساتھ عالمی معیشت کے معروضی عمل سے جوعالمی طبقاتی جدوجہد ابھرتی یا بنپتی ہے یہ ہی ایک طاقتور حل ہے ۔ یہ ایک حقیقی بنیاد ہے کہ1968سے ان طاقتوں کے رشتوں کے درمیان وسیع پیمانے پر تبدیلیاں رونما ء ہوئی ہیں جس کی نمائندگی ایک جانب انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل کرتی ہے اور دوسری جانب مارکسزم کے مخالف اور دوسری جعلی بائیں بازو کے سیاسی نمائندے ہیں۔

35۔30سال پہلے جب چوتھی انٹرنیشنل سے پیبلویٹ موقع پرستوں کے آخری بقایاجاتی حصے کو نکلاگیا تو انٹرنیشنل کمیٹی نے عالمی سیاسی صورت حال کی تفصیلی جانچ کرتے ہوئے اس کو آگے بڑھایا اور اسی بنیاد پر اسے دھائیوں تک رہنمائی ملی۔ اس سیاسی تناظر کی اشاعت1988میں کی گئی کہ محنت کش طبقے کوانٹرنیشنل پروگرام اور سرمایہ داری کے معروضی رحجانات کی تکمیل کے مطابقت کی بنیاد پر ہی آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ اس تناظر میں وضاحت کی گئی ’’بڑے پیمانے پر ٹرانس نیشنل کارپوریشنز جسکے نتیجے میں سرمایہ دارانہ پیداوار اورانٹرنیشنل سطح پر انکے انضمام کے عمل نے بے مثال طور پر محنت کشوں کیلئے یکساں حالات پیدا کردئیے ہیں جس کا انکو سامنا ہے‘‘(8)

36۔انٹرنیشنل کمیٹی نے اس تجزئیے سے مندرجہ ذیل سٹیٹیجک نتیجہ اخذ کئے:مارکسزم کا بنیادی قائدہ ہے کہ طبقاتی جدوجہد صرف اپنی ہیت میں قومی ہوتی ہے لیکن وہ اپنے مغزمیں ایک انٹرنیشنل جدوجہد ہوتی ہے ۔تاہم موجود سرمایہ داری کی نشوونما میں اس کی نئی اور جدید خصوصیت میں طبقاتی جدوجہد کی ہیت بھی انٹرنیشنل کی شکل اختیار کرچکی ہے۔یہاں تک کے محنت کشوں کی ابتدائی جدوجہد کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ اس جدوجہد کے عمل کو انٹرنیشنل سطح پر مربوط کریں۔

37۔ورکرز لیگ (امریکہ میں سوشلسٹ ایکولیٹی پارٹی کی پیشرو) کی اگست1988میں13ویں نیشنل کانگرس میں اس کی اس طرح وضاحت کی تھی: عالمی بحران کا حل قومی بنیادوں پر تلاش کا نتیجہ ناگزیر طور پر قومی سطح پر مزدور تحریک کو بورژوازی کی تجارتی جنگوں کے ماتحت کردے گا اس تعطل سے نکلنے کا اور کوئی راستہ نہیں ہے ماسوائے اس کے کہ انقلابی بین الاقوامیت پسندی کو اپنا یاجائے جو صرف لفظیت پر مبنی نہیں ہے۔ ٹراٹسکایٹ تحریک کو سب سے بڑے فریضہ کا جو سامنا ہے وہ محنت کش طبقے کا عالمی سطح پر اتحاد ہے (9) جس کے حوالے سے ٹراٹسکی نے کہا تھا’’ ایک واحد انٹرنیشنل پر ولتاری تنظیم جسکے انقلابی عمل کا ایک مرکز اور ایک ہی عالمی سیاسی نقطہ نظر ہو‘‘ ہم ایسے کسی یوٹوپیائی مشن کے حوالے سے نہیں سوچ رہے اس عہد کے موجودہ عالمی بحران کا اور اس کے کردار کا ہمارا سینٹفیک تجزیہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ محنت کشوں کا یہ اتحاد ممکن ہے ۔صرف وہ ہی پارٹی جسکی روز مرہ کی بنیاد اس سٹیٹیجک نقطہ نظر پرقائم ہو محنت کشوں میں جڑیں پیدا کرسکتی ہے۔ ہم پیش مبنی کرتے ہیں کہ آنیوالی پرولتاریہ جدوجہد ناگزیر طور پر معروضی معاشی رحجانات اور مارکسسٹوں کے موضوعی اثرات کے دباؤ کے نیچے عالمی سطح کے افق پر ابھریں گی ۔پرولتاریہ اپنے عمل میں اورواضح شکل میں ایک بین الاقوامی طبقے کے طور پر اپنا اظہار کریگا اور مارکسسٹ انٹرنیشنل جنکی پالیسیاں اس نامیاتی رحجان کا اظہار ہیں اس پروسس کوبوتے ہوئے اسے ایک شعوری شکل دے گئی (10)

38۔اس تجزئے کی بنیاد پر انٹرنیشنل کمیٹی نے اپنے تنظیمی اور سیاسی کام میں معنی خیز تبدلیاں عمل میں لائیں۔ 1995تک انٹرنیشنل کمیٹی کے سیکشن کا وجود لیگز کے طور پر موجود تھا۔ اسی سال جون میں متحدہ امریکہ میں ورکرز لیگ نے سوشلسٹ ایکولیٹی پارٹی بنائی، تنظیم کی شکل میں تبدیلی کا اظہار اس وقت کیاگیا جب پرانی بڑی بیوروکریٹ تنظیمیں ٹوٹ پھوٹ کے بحران سے دوچار تھیں۔ محنت کش طبقے اور انقلابی مارکسسٹ رحجان کے درمیان یہ نیا تعلق ابھر کے سامنے آیا۔نئی پارٹی کے نام کا انتخاب اس بات کی شناخت تھا کہ مساوات کیلئے جدوجہد سوشلزم کا بڑا مقصد ہے اور اس بات کی نشاندہی کی کہ سرمایہ داری کی عدم مساوات کے خلاف شدید غصہ پاپولر انداز میں ابھر کر سامنے آئیگا۔ آنیوالے مہینوں میں دوسرے انٹرنیشنل کمیٹی کے تمام سیکشنز نے یہ ہی سیاسی اور تنظیمی طریقہ اپنایا۔ پرانی لیگ کی پارٹیوں میں تبدیلی کے بعد انٹرنیشنل کمیٹی نے سیاسی کام کیلئے نئے طریقہ کار اختیار کیے ۔کمیونیکشن ٹیکنالوجی جو انٹرنیٹ کی آمد کے ساتھ جڑی ہوئی تھی کو بروئے کار لیتے ہوئے سیاسی کام کو وسعت دی۔ ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کو فروری1998میں 20سال پہلے شروع کیاگیا جو کہ ایک حقیقی سیاسی اقدام تھا جس طرح انٹرنیشنل کمیٹی نے اسکی وضاحت کی:ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس ایک بے مثال سیاسی تعلیم اور محنت کشوں کو بین الاقوامی سطح پر یکجا کرنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہو گی اس سے مختلف ممالک کے محنت کشوں کو یہ مدد ملے گی کہ وہ سرمائے کیخلاف جدوجہد کو ایک دوسرے سے کوارڈی نیٹ کرتے ہوئے( اسی طرح جیسا کہ ٹرانس نیشنل کارپوریشنز اپنی جنگ کو قومی حدود کے باہر منظم کرتے ہیں) تمام ممالک کے محنت کشوں کے درمیان بحث و مباحثوں میں مدد فراہم کرینگے کہ ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے ایک ہم آہنگ سٹیٹجی کو اپنائیں گے ۔انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل توقع رکھتی ہے کہ انٹرنیٹ کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کے سامعین کادنیا میں اضافہ ہوگا ۔یہ ایک تیز رفتار بین الاقوامی کمیونیکشن کی شکل ہے اور انٹرنیٹ کے غیر معمولی جمہوری اور انقلابی اثرات اور تیزی سے مرتب ہونگے اس نے بڑی تعداد میں سامعین کو انٹیلکچول وسائل یعنی لائبیری سے لیکر میوزیم اور آرچیوز تک رسائی کے قابل بنادیا ہے(11)

39۔گزشتہ20سال کے عرصے میں ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کی روزانہ کی اشاعت کی معروضی پیمائش کو جانچ جائے تو یہ ایک غیر معمولی سیاسی کامیابی ہے ۔انٹرنیشنل کمیٹی کے کیڈر میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ انہوں نے اتنے بڑے عرصے تک ناغہ کئے بغیر شیڈول کی اشاعت کو برقرار رکھا جو کہ ایک واضح سیاسی اور تھیوری ٹیکل اور نمایاں تنظیمی یکسوئی اور طاقت کا ثبوت ہے۔دنیا میں دوسری کوئی بھی ایسی ویب سائٹ نہیں ہے جو ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کے برابر دو ر سے بھی کوئی مشابہت رکھتی ہو ۔یہ واحد سوشلسٹ اشاعت صرف تجزیوں اور روزمرہ کے خاص واقعات کا ریکارڈ نہیں ہے بلکہ یہ محنت کشوں کی جدوجہد کا سٹیٹیجک جلسہ گاہ بھی ہے۔

40۔پچھلے سال گوگل نے ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کو سنسر کرنے کی غرض سے ناپسندیدہ افراد کی فہرست میں ڈالنے کی کوشس کی یا کوششیں ناکام ہورہی ہے ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس کے پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ بڑھتا جارہا ہے۔یہ اپنی طاقت ابھرتے ہوئے محنت کشوں اور نوجوانوں کی تحریکوں سے لے رہی ہے۔

41۔ماضی آغاز ہے۔انٹرنیشنل کمیٹی کا تمام تھیوری ٹیکل سیاسی اور عملی کام عالمی محنت کش طبقے کی جدوجہد کی نئی سرگرمی کی تیاری کیلئے ہے۔جس کااہم ترین فریضہ مسلسل شعوری،جنگجونہ اور منظم انقلابی قیادت کی تعمیر ہے۔یہ وہ ہی فریضہ ہے جس پر انحصار کرتے ہوئے اس سوال کا جسے انسانیت کو سامنا ہے’’سوشلزم یا بربریت ‘‘کا ترقی پسند حل موجود ہے ۔انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل کے سامنے 2018کا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے کام کو پھیلائے اور اس کے تمام سیکشنز کی رسائی ان تمام ورکرز تک ہو جو جدوجہد میں داخل ہورہے ہیں اور نئی جدوجہد میں داخل ہونیوالی قوتوں کو عالمی سوشلسٹ انقلاب کے پروگرام پر جیتے ہوئے انہیں تاریخ اور دنیا کے بارے میں سینٹیفک مارکسزم کے نقطہ نظر پر آگہی دیں۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل کارل مارکس کی200سالگرہ کو اس کے مشہور قول سے مناتی ہے۔ ’’فلسفسیوں نے اپنے اپنے طریقوں سے دنیا کی تشریح کی ہے لیکن جو کام کرنا وہ دنیا کو بدلنے کا ہے‘‘۔

ڈیوڈ نارتھ

***

تشریحی نوٹ

1۔ کارل مارکس مجموعہ تصانیف جلد20(ماسکو1964)صفحہ50

2۔کارل مارکس کا جوزف ویڈ یمےئر کے نام خط5مارچ1852مارکس اینگلس مجموعہ تصانیف : (نیویارک1983)جلد39صفحات64-65

3۔ امیر ترین ایک فیصد کے پاس جو دنیا کی آدھی دولت کے مالک ہیں حوالے کیلئے دیکھیں http://www.theguardian.com/inequality/2017/nov/14/worlds.richest.wealth-credit-suisse

4۔ دنیا کے امیر ترین کا ایک ٹریلین ڈالر کا2017میں اضافہ رپورٹ بلوم برگ https://www.bloomberg.com/news/articles/2017-12-27/world-s-wealthiest-gain-1-trilli on-in-17-on-market-exuberance

5۔http://www.theguardian.com/inequality/2017/nov/14/worlds.richest.wealth-credit-suisse

6۔لوڈویگ فائر باخ اور کلاسیکی جرمن فلسفے کا خاتمہ:مارکس اینگلس مجموعہ تصانیف جلد26(ماسکو1990) صفحات358-5آ7۔کمیونسٹ انٹرنیشنل کی دوسری کانگریس جلد1(لندن: 1977) صفحہ24

8۔عالمی سرمایہ داری کا بحران اور چوتھی انٹرنیشنل کا فریضہ فورتھ انٹرنیشنل جلد15شمارہ نمبر 3-5جولائی۔ دسمبر1988صفحہ4

9۔ ایضا

10۔ڈیوڈ نارتھ ،ورکرز لیگ کو13ویں نیشنل کانگریس میں رپورٹ فورتھ انٹرنیشنل جلد15شمارہ نمبر3-4جولائی دسمبر1988صفحہ نمبر38-39

11۔https://www.wsws.org/en/special/about.html