جرمنی میں انقلابِ نومبر کے سوسال

9 November 2018

ایک سو سال قبل ۔۔۔۹نومبر 1918 کو۔۔۔جرمنی کے مزدور طبقے کی جنگ اور بادشاہت کے خلاف بغاوت اپنے عروج کو پہنچی اور اُس نے سرمایہ دارانہ نظام کو جنجھوڑ کررکھ دیاتھا۔

1918 کے آغاز سے ، کساد بازاری ، ڈریکولائی پابندیوں ، انقلابی رہنماؤں کی قیدوبند ، سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) اور مزدور یونینوں کی جنگ کی حمایت کے باوجود سامراجی حکومت اس جنگ کے خلاف مزدوروں کی مزاحمت کو کنٹرول کرنے سے قاصر تھی ۔ ساڈھے تین سالہ خون آشام قتلِ عام کے تباہ کن ا ثرات اور مغربی محاذ پر فوجی شکست ایک انقلابی بُحران کا سبب بنے ۔

کئی علاقوں میں خوراک کی فراہمی کا عمل مکمل طور پر رُک چکا تھا ۔ اگرچہ 1914 کے بعد سے جنگ کیلئے درکار اشیاء کی پیداوار بہت زیادہ بڑھ چکی تھی ، پھر بھی1917 میں مجموعی صنعتی پیداوار جنگ سے قبل کے زمانے سے 47 فیصد کم تھی ۔زرعی پیداوار60 فیصد کم ہوچکی تھی ۔ ناقابلِ تصور قحط تھا ۔

جنگ کے آخری ہفتوں میں محاذوں میں تو کوئی تبدیلی نہ ہوئی لیکن المناک انسانی قتلِ عام مسلسل جاری رہا ، سپاہیوں کو بڑی بے حسی سے اس قتل عام کیلئے بھیجا جاتا تھا ، جہاں وہ خندقوں میں یا فاقوں سے مر جاتے یا وبائی امراض کا شکار ہو کر تڑپ تڑپ کر جان دے دیتے ۔ اسوقت تک پہلی عالمی جنگ کو چار سال ہوچکے تھے ۔ جنرلڈن ڈورف اور سپریم آرمی کمانڈ معاہدہء امن کے مذاکرات میں تاخیر کرتے رہے اور جب آخر کار نومبر1918 میں جنگ ختم ہوئی ، تودُنیا بھر میں ایک کروڑ لوگ اپنی جانیں گنوا چکے تھے ۔20 کروڑ زخمی سپاہی تھے ۔ ستر لاکھ سویلین متاثرین اسکے علاوہ تھے ۔

روس میں ، بالشویک کی ذِیر قیادت ، مزدور طبقہ اقتدار حاصل کر چکا تھا اور اُس نے اکتوبر1917میں جنگ میں روس کی شمولیت کو ختم کر دیا تھا ۔ اس فتح نے جرمنی میں مزدوروں کو تر غیب دی ۔ عالمی جنگ کے قتل عام کے دوران ، روسی انقلاب نے ثابت کیا کہ سرمایہ داری کے بغیر بھی دُنیا کا نظام چل سکتا تھا جہاں جنگ اور استحصال نہ ہو ۔

’’جنوری1918 میں ہیننگذ ڈ ورف میں مزدوروں نے اپنے اوزار رکھ دیئے ، اُن کے اس مظاہرے میں ہمسایہ برلن میں 400000 لوگ شامل ہوگئے ۔ جنوری کی ہڑتال وِل ہلمائن کے نظام کے خا تمے کا آغاز تھا ، یہ اُن تضادات کے ایک آتش فشاں کا پھٹنا تھا جو کہ رائیخ (جرمن ریاست) میں زوروں پر تھے ، جنہیں اس معاہدے نے نہ صرف چھپا دیا تھا بلکہ بڑھا بھی دیاتھا ‘‘ ۔جو چیم کا پنرنے اپنی کتاب ’’1918‘‘ میں لکھا ہے ۔

اسکے بعد ، کارخانوں میں مزاحمت بڑھ گئی اور محاذوں اور بحری بیڑوں تک پھیل گئی ، 1918کے موسم خزاں میں روز بروز صورتحا ل بد سے بدتر ہوتی جا رہی تھی ۔اس انقلابی لہر پر قابو پانے کیلئے اور جنگ میں شکست کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کیلئے حکومت نے پے در پے پسپائی اختیار کی ۔ ’’ اوپر سے کی گئی ان اصلاحات کا مقصد نیچے سے اُبھرتے انقلاب کو روکنا تھا ۔۔۔ یہ بنیادی خیال تھا’’اب یو ٹرن مکمل ہو چکا ہے ‘‘ وولکراُولرچ اپنے آرٹیکل بعنوان ’’ 1918/19 کا انقلاب ‘‘ میں کہتا ہے ۔

3 اکتوبر کو ، پرنس میکس وان بیڈن کو سوشل ڈیموکریٹس کے ساتھ ملکر ایک اتحادی حکومت بنانے کیلئے رائیخ (جرمنی کی جمہوری حکومت ) کا چانسلر تعینات کیا گیا ، یوں تاریخ میں پہلی مرتبہ سوشل ڈیموکریٹس کو حکومتی ذمہ داری حاصل ہوئی ۔ تین ہفتے بعد ، جنرل لُڈنڈوف ، جو سُپریم آرمی کمانڈ میں سب سے طاقتور آدمی تھا ، کو برطرف کر دیا گیا ۔

لیکن یہ اقدامات بہت دیر سے اُٹھائے گئے ۔ انقلابی بیداری کو اب روکا نہیں جاسکتا تھا ۔ذِ یل میں اُن واقعات کا خاکہ ہے جو بڑی تیزی سے وقوع پزیر ہوئے ۔

30 اکتوبر کو ، گہرے پانیوں والے بحری بیڑے کے جہازرانوں نے بغاوت کردی اور اُس ’’آخری لڑائی ‘‘ میں جانے سے انکار کر دیا ، جس کے معنی اُن کی یقینی موت تھا ۔

کیل کے شہر میں ، جہازراں مزدوروں کے ساتھ ملکر ایک بڑی ہڑتال کرتے ہیں ۔ 4نومبر کو وہ بحری جہازوں اور کیل شہر کے ہال پر قبضہ کر لیتے ہیں ۔ مزدوروں اور سپاہیوں کی اپنی اپنی کونسل بنائی جاتی ہے ۔

5نومبر کو ، لیؤبک شہر میں بھی انقلاب غالب آجاتا ہے ، 6نومبر کو ہیمبرگ میں ، اسکے بعدبریمن ، ہنوور اورا سٹٹگارٹ میں ۔ 7 نومبر کو 80000 مزدور میونخ میں مظاہرہ کرتے ہیں اور مزدوروں اور سپاہیوں کی اپنی اپنی کونسل بناتے ہیں ۔ ایک دن بعد ، کرٹ آئیزنر بواریہ کی آزاد ریاست کا اعلان کر دیتا ہے ۔

واقعات کی رفتار تیز ہو جاتی ہے ۔ رچرڈ مُلر ، جس نے ، بطور مزدوروں اور سپاہیوں کی کونسلوں کی ایگزیکٹو کونسل کے چیئر مین ، 9نومبر کی برلن بغاوت میں رہنما کردار ادا کیا تھا ، اسے یوں بیان کرتا ہے :

’’ ناشتے کے وقفے کے بعد ، چیزوں میں جیسے جان پڑ جاتی ہے ۔ کارخانے ناقابلِ یقین تیزی سے خالی ہو جاتے ہیں ۔ گلیاں لوگوں کے ایک بڑے ہجوم سے بھر جاتی ہیں ۔ نواحی علاقوں میں ، جہاں بڑے بڑے کارخانے واقع ہیں ، بڑے احتجاجی جلوس ترتیب دیئے جاتے ہیں ، جو شہر کے مرکز میں آجاتے ہیں ‘‘۔

مُلر بیان کرتا ہے کہ کس طرح وہ سپاہی جن کو بادشاہت کے تحفظ اور نظم ونسق برقرار رکھنے کی خاطر برلن بھیجا جاتا ہے وہ بغیر کہے مزدوروں کے مظاہروں میں شریک ہو جاتے ہیں ۔ ’’ مرد ، خواتین ، بندوق بردار سپاہی سب لوگوں سے قریبی بیرکوں تک گلیاں بھر جاتی ہیں ‘‘ ، جیسا کہ وہ لکھتا ہے ۔

موآبے کی جیل اورٹیگل کے جیل کیمپ سے قیدیوں کو آزاد کر دیا جاتا ہے ۔ ’’ بڑے بڑے اخبارات ، وولف کا ٹیلی گراف آفس، شُبعہ تار ، پارلیمنٹ کی عمارت پر سہ پہر کے ابتدائی اوقات میں ہی قبضہ کر لیا جاتا ہے ‘‘ ۔

’’ اس بغاوت کی صفاتی خاصیت اسکا آندھی وطوفان کی قوت سے پھٹ پڑنا ، ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لیتاا سکا پھیلاؤ اور وسیع تر برلن کے بڑے علاقے میں منظم ومربوط کاروائی میں ہے ‘‘ ، مُلر ان واقعات کاخلاصہ کرتے لکھتا ہے ۔

بادشاہت کا جنگ سے شکستہ حال اقتدارمزدوروں کے اس بہت بڑے حملے کے سامنے تاش کے پتوں کے گھروندے کی طرح گر جاتا ہے ۔ رائیخ چانسلر میکس وان بیڈن صبح کو قیصر ول ہیلم دوئم کی بادشاہت سے دستبرداری کا اعلان کرتا ہے ۔ دوپہر کو وہ خود اپنا عہدہ سوشل ڈیمو کریٹ فرائیڈرک ایبرٹ کے حوالے کر دیتا ہے ۔ اور سہ پہر کے بلکل شروع میں ، ایس پی ڈی کا رُکن فلپ شائیڈمن برلن سٹی پیلس کی بالکنی سے ایک بڑے ہجوم کے سامنے عوامی جمہوریہ کے قیام کا اعلان کرتا ہے ۔ کارل لیبکنیخت، اسپارٹکس لیگ کا رہنما ، کچھ ہی دیر بعد ہمسایہ لسٹگا رٹن میں سوشلسٹ ریپبلک کے قیام کا اعلان کردیتاہے ۔

اگلے روز ، ایس پی ڈی چیئرمین ایبرٹ ایک نئی حکومت بناتا ہے ، جسے ’’کونسل آف پیپلز ریپریزنٹیٹو ‘‘ کہا جاتا ہے ، جس میں تین اکثریتی سوشل ڈیموکریٹس ( ایبرٹ ، فلپ شائیڈمن اوراُوٹولینڈز برگ ) اور انڈیپنڈنٹ سوشل ڈیموکریٹس کے تین ممبر (ہیوگو ہاس ، ول ہیلم ڈٹمن اور ایمل بارتھ ) شامل ہوتے ہیں ۔ انڈیپنڈٹ سوشل ڈیموکریٹس (یو ایس پی ڈی) کی بنیاد اپریل 1917میں ایس پی ڈی کے اُن اراکین نے رکھی تھی ، جنہوں نے عوام کے دباؤ کی وجہ سے ، جنگ کیلئے مزید قرضہ فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا اور اس وجہ سے ایس پی ڈی سے اُن کو نکال دیا گیا تھا ۔ بارتھ بھی انقلابی نمائندوں کا رُکن ہے جن کا برلن کی دھات کی صنعت میں گہرا اثرورسوخ ہے ۔

کونسل آف پیپلز کمشنرز اس بڑی انقلابی لہر ،جوچند دنوں میں جنگل کی آگ کی طرح سارے ملک میں پھیل گئی ہے ، اور اس سے نہ صرف بادشاہت کو خطرہ ہے بلکہ سرمایہ داروں اور زمینداروں کی جائیدادوں اور عسکری اشرافیہ کو بھی، پر قابو پانے ، اسکا گلہ گھوٹنے اوراسے خونی انداز سے کچلنے کے کام کو اختیار کرتی ہے ۔

1914 کی گرمیوں میں ، ایس پی ڈی کے لیڈروں نے جرمن حکومت کو جنگی قرضہ جات دینے کیلئے ووٹ دیا اور اسطرح اس سامراجی جنگ کے مذبح خانے میں لاکھوں مزدوروں کو جھونک دیا ۔ چار سال بعد ، وہ سرمایہ دارانہ اقتدار کے سب سے اہم محافظ ثابت ہوئے ۔ ایبرٹ جنرل گرونر کے ماتحت سُپریم آرمی کمانڈ کے ساتھ ایک خُفیہ معاہدہ کرتا ہے ۔ انقلابی مزدوروں کے خلاف ردِانقلاب کے جنرل اسٹاف کے روزانہ کے براہِ راست تعاون کے ساتھ حملے ترتیب دیئے جاتے اور منظم کیئے جاتے ہیں ۔

اپنی یاداشتوں میں ، جنرل گرونر نے ایبرٹ کے ساتھ اس اتحاد کی بابت لکھا : ’’ آفیسر کور صرف اُس حکومت کے ساتھ تعاون کر سکتی تھی جو ریڈیکلیزم اور بالشویزم کے خلاف لڑائی لڑتی ۔ ایبرٹ اسکے لیئے تیار تھا ‘‘۔ اُس نے 10 نومبر کو ایبرٹ کو بتا دیا تھا کہ اسکی حکومت کو فوج کی حمایت حاصل تھی مگر یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ بالشویزم کے خلاف لڑاجائے ۔ ’’ ایبرٹ نے اتحاد کیلئے میری تجویز کو قبول کیا۔ اُسکے بعد سے ، ہم ہر شام کو ضروری اقدامات کی بابت آرمی کمانڈاور رائیخ چانسلری کے درمیان ایک خُفیہ فون لائن پر گفتگو کرتے ۔ اِس اتحاد نے اپنی افادیت ثابت کی ہے ۔

اس اتحاد کی بنیاد پر ، ایس پی ڈی کی قیادت مزدوروں کے خلاف ایک کے بعد دوسراحملہ ترتیب دیتی ہے ۔ آرمی اور نیوی کیلئے عوامی رابطہ کار آفیسر گسٹوف نوسکی ، کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس بغاوت کے خلاف فرائیکور( کرائے کی سپاہ) کے بکھرے ہوئے رُجعتی سپاہیوں سے بھرتی کرے ۔ وہ اس کام کا آغاز ان الفاظ سے کرتا ہے : ’’کسی کو تو شکاری کتا بننا ہے ‘‘ ۔ ایس ڈی پی پارٹی کااخبار ’’فُو آ ویتس ‘‘(فاروارڈ) فرائیکور سے تعاون کا مطالبہ کرتا ہے ، فرائیکور نازی کمانڈو ملیشیاء کی پیشرؤ ہے ، یہ مطالبہ اس سُرخی تلے شائع ہوتا ہے ، ’’خود کو اسپارٹکس سے بچاؤ ‘‘ ۔

یہ کشمکش ، جس میں ایک طرف مزدور ہیں جبکہ دوسری طرف فرائیکور ، ردِانقلاب رُجعتی فوجی دستے اورایبرٹ حکومت ہے ، ایک کھلم کھلا خانہ جنگی میں بدل جاتی ہے ۔ لیکن یہ دسمبر 29کے بعد ہی تھا ، جب برلن کی گلیوں میں شدید مسلح لڑائی ہو رہی تھی ، اور یو ایس ڈی پی کے وزراء ایبرٹ حکومت کو چھوڑ رہے تھے ۔ اُنہوں نے محض ستر پوشی کی حد تک صرف نام کے بائیں بازو کا کردار ادا کیا تھا ، جس کا حالات وواقعات پر ہلکا سا اثر بھی نہ ہوا تھا ۔

کارل لیبکنیخت اور روزا لکسمبرگ ، جو کہ جنگ کے آغاز ہی سے ایس پی ڈی کی غداری کے خلاف لڑتے رہے تھے اور پہلے ’’گروپ انٹرنیشنل‘‘ اور بعد ازاں ’’اسپارٹکس بنڈ ‘‘ بنایا تھا ، اُنہوں نے انقلابی جدوجہد کے شعلوں کے درمیان1919-1918 کے سنگم پر کیمونسٹ پارٹی آف جرمنی کی بنیاد رکھی ۔

لکسمبرگ ، جو ایک قلعے میں لمبی قید سے کچھ ہفتے قبل ہی رہا ہوئی تھی ، وہ اس بنیادساز کانگرس کا مرکزی خطبہ دیتی ہے ۔ کارل راڈک بالشویک پارٹی کی جانب سے مندوبین کو خوش آمدید کہتا ہے ۔ دو ہفتوں بعد ، 15جنوری کو ، لکسمبرگ اور لیبکنیخت کو نوسکی کی فرائیکور گرفتاراور قتل کر دیتی ہے ۔

ردِانقلاب جیت جاتا ہے ۔ برلن اور دوسرے صنعتی علاقوں میں انقلابی مزدوروں کے خلاف خوفناک مظالم کاار تقاب کرکے ۔ لاکھو ں قتل کر دیے جاتے ہیں ۔ سوشل ڈیموکریٹک آرمی کے فوجی دستے انقلاب کو خون میں ڈبو دیتے ہیں ۔

آج ، سرکاری تاریخ نویسی نومبر کے انقلاب کو جرمنی میں جمہوری بیداری اور جمہوریت کے آغاز کے طور پر پیش کرتی ہے ۔ ایسا کچھ نہ تھا ۔1918 کا جرمن انقلاب ، جیسا کہ لیؤن ٹراٹسکی نے 1930 میں بجا طور پر کہا ، ’’ کسی بورژوا انقلاب کی جمہوری تکمیل نہیں تھا ‘‘ ، بلکہ ’’ یہ ایک پرولتاری انقلاب تھا جس کا سوشل ڈیموکریسی نے سر قلم کر دیا : زیادہ درُست طور پر ، یہ بورژوا ردِ انقلاب ہے جو پرالتاریہ پر فتح حاصل کرنے کے بعد مصنوعی جمہوری شکلوں کے تحفظ پر مجبور ہے ‘‘ ۔

جرمن بورژوازی تو70سال قبل ہی جمہوری آرزؤں کو الوداع کہہ چکی تھی ۔1848 میں ، اس نے اُس جمہوری انقلاب کی پیٹھ میں چُھرا گھونپ دیا تھا جس نے سارے جرمنی اور یورپ کے بڑے حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا ، اور جاگیردارانہ ردِعمل کی اتحادی بن گئی تھی ۔ ایک بڑی سامراجی قو ت کے طور پر جرمنی کی ترقی اُہن ژولرن حکومت کے دورِاقتدار میں ہوئی ۔ جرمن عسکریت پسندی ، آمرانہ جرمن ریاستی بندوبست اور اُسکی ریڑھ کی ہڈی ، بڑی جاگیر کے مالکان ، نے خواہش مند جرمن بورژ وازی کی مزدور طبقے کو دبانے اوراسکے سامراجی مقاصد کی تکمیل میں مدد کی ۔ یہ معاونت پہلی جنگ کی تباہی کی صورت اپنے عروج کو پہنچی ، کیونکہ اس جنگ کے چھڑنے کا زیادہ الزام جرمن بورژوازی کو جاتا ہے ۔

مزدور اور سپاہی ، جو چار سال کے وحشیانہ قتل عام اور ناقابلِ بیان جنگی جرائم کے بعد ایک ساتھ اُٹھ کھڑے ہوئے تھے ، وہ ایک بورژوا جمہوری انقلاب کے مدِ مقابل نہ تھے ۔بورژوازی تو کافی عرصہ قبل ہی اس سامراجی حکومت کے ذِیر تحفظ حکمران طبقہ بن چکی تھے اور جنگ کے دوران اپنے تاریخی دیوالیہ پن کا ثبوت بھی دے چکی تھے ۔ مزدور طبقے کو تو بورژوازی اور عسکری اشرافیہ کو انکی مادی بنیادوں سے محروم کرنا تھا ، صنعتی ساہوکاروں ، منافع خوروں اور زمین داروں کو بیدخل کرکے اور ایک سوشلسٹ مزدور ریاست قائم کرکے ۔

نومبر کا جرمن انقلاب توایک ترقی پذیر عالمی پرولتاری انقلاب کا ناقابلِ جدا حصہ تھا ۔ ایک سال قبل ، مزدور طبقہ روس میں بالشویک کے ذِ یر قیادت اقتدار پر فتح حاصل کر چکا تھا ۔ انقلابِ اکتوبر کے لیڈر وں ، لینن اور ٹراٹسکی ، نے ایک بین ا لاقوامی تناظر پر اپنی ساری حکمتِ عملی کی نبیاد رکھی تھی ۔ وہ روسی انقلاب کو ایک عالمگیر سوشلسٹ انقلاب کا پیش رو سمجھتے تھے ۔ اُنکا یہ پختہ خیال تھا کہ عالمی سامراجی نظام کے تضادات جو پہلی عالمی جنگ کی صورت میں ظاہر ہو چکے تھے وہ دوسرے ملکوں کے مزدوروں کو بھی انقلاب کی جانب لے جائینگے اور بہت جلد روسی مزدور ریاست کو اسکے ابتدائی اکیلے پن سے آزاد کر دینگے ۔ جرمنی کے واقعات نے اس نقطہ نظر کی تصدیق کر دی۔

جبکہ اکتوبر انقلاب کی کامیابی نے جرمن مزدوروں کی حوصلہ افزائی کی ، اس نے حکمران اشرافیہ کے درمیان خوف اور دہشت بھی پیدا کر دی ۔ ’’ بالشویزم سے بچاؤ‘‘ نہ صرف شدید ردِعمل کا جنگ کا نعرہ بن گیا بلکہ ایس پی ڈی اوریو ایس ڈی پی کے کچھ دھڑوں کا بھی۔

’’جب کارل لیبکنیخت ۔۔۔نے 9نومبر کو انڈیپنڈنٹ کے رائیخ اسٹیگ دھڑے کوروسی نعرہ ’’تمام طاقت سویت کی‘‘ دینے کی کو شش ، تو اس موقع پر موجود ایڈورڈ برنسٹائن کا ردِ عمل کچھ یو ں تھا جیسے اس کے سر پر بجلی گر گئی ہو: ’اب تو ردِ انقلاب آگیا‘‘‘ ہینرک ونکلر نے ’جرمنی:مغرب کا لمبا راستہ ‘ میں لکھا ۔

جرمن انقلاب انقلابی قیادت کے بُحران کی وجہ سے ناکام ہوگیا ۔ آگسٹ بیبل اور ول ہیلم لیبکنیخت کے ذِیر قیادت، ایس پی ڈی نے دنیا کی سب سے بڑی عوامی مارکسسٹ پارٹی بنائی تھی ۔ لیکن اسکی رہنما پرت معاشی بہتری کی لپیٹ میں آگئی ۔1914میں اُنہوں نے اپنے ہی پروگرام سے غداری کی اور پہلی عالمی جنگ کو سپورٹ کیا ۔

مزدور طبقہ بر وقت اس ضرب سے سنبھل نہ سکا ۔ یوایس ڈی پی جنگ کے شروع ہو نے کے پورے تین سال بعد بنائی گئی ۔ یہ اپنی مر ضی سے نہیں ، بلکہ ایس پی ڈی کی وجہ سے بنی ، پارٹی سے نکالے جانے والوں کیلئے اسکے علاوہ کوئی راستہ ہی نہ بچا تھا ۔ اسکی پالیسی ہمیشہ مرکز مائل ہی رہی ، ہر بورژوا پریشر کے مطابق خود کو ڈھالتے ہوئے ، جیسا کہ ایبرٹ حکو مٹ میں اسکی شرکت ۔ حتاکہ اسپارٹکس لیگ میں شامل جرمن مزدور طبقے کے انتہائی انقلابی اور باہمت نمائندوں کیلئے بھی ایس پی ڈی اور یو ایس پی ڈی سے بروقت علیحدگی مشکل تھی ۔

نومبر انقلاب کی شکست کے تباہ کن نتائج سامنے آ ئے ۔ اس شکست نے سویت یونین کو تنہا کر دیا ، اور یہ سٹالنسٹ بیوروکریسی کی افزائش کا بڑا سبب تھی ۔ کیمونسٹ انٹرنیشنل کی پالیسیوں پر جوزف سٹالن کا بڑھتا ہوا اثر ، اپنی جگہ ، بین الاقوامی مزدور طبقے کی شکستوں کا اہم عامل بن گیا ۔ اسطرح ،1923میں ، کے پی ڈی(جرمن کیمونسٹ پارٹی) نے اپنی غلط پالیسیوں کی بدولت ایک غیر معمولی انقلابی موقع گنوادیا ۔ اور1933میں ، کے پی ڈی کی تباہ کن پالیسیاں ، جو سٹالن کی جاری کردہ تھیں اور جو نازیوں کے خلاف متحدہ محاذ کی بھی سخت مخالف تھیں ، کا نتیجہ ہٹلر کے بغیر کوئی گولی چلائے اقتدار میں آنے کی صورت میں نکلا ۔

سب سے بڑھ کر ، نومبر کے انقلاب نے اُن تمام قؤتوں کی طاقت وملکیت کو بلکل صحیح سالم چھوڑ دیا تھا جنہوں نے15 سال بعد ہٹلر کو اقتدار میں لانا تھا : صنعت کار سیٹھ جیسے سٹائنز،کررپ اور تھائیسن وغیرہ ؛ پروشیائی جاگیردار ، جن پر پال وون ہیڈنبرگ اور دوسرے جرنیل انحصار کرتے تھے ؛ اور فرائیکور کی نجی ملیشیاء جہاں سے ہٹلر کے کمانڈو بھرتی کیے گئے تھے ۔ حتاکہ اعلیٰ اشرافیہ کو بھی نہ بیدخل کیا گیا تھا نہ کالعدم ، یہ تو وہ کام تھاجو فرنچ انقلاب نے 120سال قبل مکمل طور پر سر انجام دے دیا تھا ۔

سوسال بعد ، مزدور طبقے کو جرمنی میں اور دُنیا بھر میں اُنہی چیلنجوں کا سامنا ہے جو 1918 میں درپیش تھے ۔ سرمایہ داری کے عالمی بحران کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی۔۔۔حد درجہ سماجی نا انصافی ، تجارتی جنگ اور جنگ۔۔۔بیسویں صدی کے تمام غیر حل شُدہ مسائل پلٹ کر آرہے ہیں ۔ ہر جگہ دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں کو عروج حاصل ہو رہا ہے ، بشمولِ جرمنی ، اسی طرح عسکریت پسندی اور آمریت پسندی بھی عروج پر ہیں ۔ طبقاتی جدوجہد ایک بُحران سے دو چارہو ر ہی ہے ۔ مستقبل قریب میں ایک سوشلسٹ انقلاب کے بغیر، انسانیت کا ایک بار پھر جنگ اور بربریت میں ڈوب جانے کا خطرہ ہے ۔

سوشلسٹ ایکوئیلیٹی پارٹی اور فورتھ انٹر نیشنل کی انٹر نیشنل کمیٹی ہی وہ واحد سیاسی رُجحانات ہیں جو طبقاتی جدوجہد کے تزویراتی تجربات سے سبق حاصل کرتے ہیں اور ایک بین الاقوامی سوشلسٹ نظریے کی خاطر لڑائی لڑتے ہیں ۔ مزدور طبقے کی ایک سیاسی طور پر خودمختار ، انقلابی سوشلسٹ تحریک بنانے کی اشد ضرورت جرمن انقلاب کا بنیادی سبق ہے ، اور آج کے کرنے کا یہ سب سے اہم کام ہے۔

اولرچ ریپرٹ اور پیٹر سکورز