11نومبر 1918کی جنگ بندی اور آج کیلئے سبق

12 November 2018

کل اس معاہدے کی ایک سویں سالگرہ منائی گئی جس نے آخرکار پہلی عالمی جنگ کا خاتمہ کیا تھا۔ایسی لڑائی اس سے قبل انسانی تاریخ میں نہیں دیکھی گئی ۔۔۔۔ایک خونی آگ جس میں ایک کروڑ سے ذائد فوجی اور ساٹھ لاکھ سے ذائد سویلین لقمہء اجل بن گئے اور مزید کئی لاکھ لوگ ہمیشہ کیلئے معذور ، محتاج اور مجروح ہوگئے۔

لیکن بندوقوں کا یہ خاموش ہوجانہ ، جسے بعد اذاں غلط طور پر ’’ جنگوں کا خاتمہ کرنے والی جنگ ‘‘ کا نام دیا گیا ، قتل عام اور خون ریزی کا خاتمہ نہیں تھا۔۔۔۔یہ صرف اُس پہلے مرحلے کا اختتام تھا جس نے بعد میں بڑی سرمایہ دار قو توں ا مریکہ ،برطانیہ ، فرانس،جرمنی، جاپان اور اُنکے اتحادیوں کے درمیان دُنیا پر تسلط اور قبضے کی تیس سالہ بین الاقوامی جنگ میں بدل جانا تھا ۔۔۔۔اور جس کا خاتمہ ۱۹۴۵ء میں جاپان پر امریکہ کی جانب سے دو بموں کے گرائے جانے کے بعد ہی ہوا ۔

جنگ میں جیسا کہ اکژ کہا گیا ہے ، پہلی ہلاکت سچائی کی ہوتی ہے ، تو معاملہ یہاں بھی یہی ہے ۔ ۱۹۱۴ء سے ۱۹۱۸ء تک کی یہ جنگ اس لئے نہیں لڑی گئی تھی جیسا کے برطانوی سامراج نے۔۔۔۔ جودُنیا کی سب سے بڑی سلطنت پر حکمرانی کرتے ہوئے۔۔۔۔دعویٰ کیا تھا کہ جرمنی کی تباہ کاریوں کیخلاف اور چھوٹی قومو ں کے حقو ق کے تحفظ کیلئے ۔اور نہ ہی زار روس کی بر بریت کو روکنے کیلئے جیسا کہ جرمن سامراج نے دعویٰ کیاتھا ۔اور نہ ہی اسے لڑا گیا جمہوری اُمنگوں کے تحفظ کیلئے جرمن مطلق العنانی کے خلاف جیسا کہ فرانس نے دعویٰ کیاتھا۔ جو زار روس کا اتحادی تھا ، ۔ اور دُنیا کو جمہوریت کیلئے محفوظ بنانے کیلئے تو بلکل بھی نہیں جیساکہ سر وڈروولسن نے پُرفریب دعویٰ کیا جب اپریل ۱۹۱۷ء میں امریکہ اس جنگ میں شامل ہوا جسکا مقصد امریکی سامراج کے مفادات کی بڑھوتری کو مال غنیمت کی تقسیم میں یقینی بنانا تھا ۔

یہ جنگ مارکیٹوں ، منافعوں ، وسائل اور حلقہ اثر کیلئے لڑی گئی ۔ لیکن یہ لڑائی بذات خود صرف مختلف سامراجی سیاستدانوں کے سیاسی نقطۂ نظر کا نتیجہ نہیں تھی ۔ اِسکی جڑیں سرمایہ دارانہ معیشت کے عین ارتقا میں گہری اُتری ہوئی تھیں ۔ جیسا کہ لیون ٹراٹسکی نے وضاحت کی تھی ، اُن الفاظ میں جو آج کی عالمگیر پیداوار کے دور میں اور بھی برمحل لگتے ہیں ، اس جنگ کی بنیادیں اس حقیقی تضاد میں مضمر تھیں جودُنیا کی معیشت کی ترقی اور دُنیا کی باہم متحارب قومی ریاستوں اوربڑی سرمایہ دار قو توں کے درمیان تقسیم میں پایا جاتا ہے ۔

ہر سامراجی قو ت نے اس تضاد کو اُس خونی جدوجہد سے حل کرنے کی کوشش کی جس کا مقصد یہ طے کرنا تھا کہ کون دنیا کی غالب قوت ہوگا ۔ اس لڑائی کا حتمی نتیجہ ۔۔۔۔ تین دہایوں کی بربریت ، جس میں معاشی تباہی ، فاشزم ،یورپ کے یہودیوں کاقتلِ عام ، اور دوسری عالمی جنگ کا قتل عام شامل تھے ۔۔۔۔امریکہ کے سامراجی غلبے کی صورت میں نکلا ۔

لیکن عالمی سرمایہ داری کے تضادات پر قابونہیں پایا گیاتھا ۔یہ صرف عارضی طور پر امریکی غلبے تلے دب گئے تھے ۔ وہ بیماری جس نے عالمی سرمایہ داری نظام کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا اُس کا علاج نہیں کیا گیا ، صرف کچھ عرصے کیلئے ہی اُس کی تکلیف میں کمی آئی تھی ۔ وہ عرصہ اب ختم ہو چکا ہے ۔

۱۹۴۵ء کے بعد سے عالمی سرمایہ داری کی ترقی نے ہی امریکہ کو کہیں مکمل تو کہیں نامکمل زوال سے دوچار کر دیا ہے ۔ یورپ اور ایشیا میں اپنے پُرانے حریفوں کے دوبارہ اُبھرنے اور چائنہ کی صورت میں ایک اور حریف کے نمودار ہونے جیسے مسائل سے دوچار امریکہ اب عالمی جنگ کیلئے تیاری کر رہا ہے ۔ اور دیگر سامراجی قوتیں بھی اسی راستے پر گامزن ہیں ۔

جرمنی ، ایک بار پھر دو عالمی جنگوں کے اپنے حریف امریکہ سے لڑنے کے راستے پر جا تے ہوئے ، اپنی قیادت تلے ’’ یو رپ کو منظم ‘‘ کرنے کی کوشش ضرور کریگا ۔ بطور ایک بڑی طاقت خود کو عسکری طور پر دوبارہ مسلح کرنے کی جستجو میں ، جرمنی کی حکمران اشرافیہ جرمن سامراج کے گناہوں کو دھونے کی کوشش کر رہی ہے ، بشمولِ نازی حکومت کے گناہوں کو ۔ سارے براعظم میں ، حکمران طبقات دائیں بازو کی انتہا پسندانہ اور فاشسٹ تحریکوں کو اپنی عسکریت پسندی اور اُجرتوں میں کٹوتی کی پالیسیو ں ( اسٹیرٹی)کو سماجی بنیادفراہم کرنے کیلئے بڑھاوا دے رہے ہیں ۔

امریکہ میں ، ٹرمپ انتظامیہ نے نیوکلیئر لحاظ سے دو مسلح طاقتوں کو یعنی روس اور چین کو’’ اسٹریٹجک حریفوں ‘‘ کا نام دیا ہے ، یہ اعلان کرتے ہوئے کہ ’’ طاقت کا بڑا مقابلہ ‘‘ امریکہ کی قومی سلامتی کی توجہ کا بنیادی مرکز ہے نہ کہ دہشت گردی ۔ اُس نے روس اور چین سے لڑائی کی تیاری کی خاطر انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز معاہدے کو بھی ختم کر دیا ہے جبکہ فرانس میں صدر میکرون نے یورپین آرمی بنانے کا مطالبہ کیا ہے نہ صرف روس اورچائنہ سے مقابلے کیلئے بلکہ اگر ضروری ہوا توامریکہ سے بھی ۔

یہ اور خطرے کی دیگر کئی علامات۔۔۔۔مشرقِ وسطیٰ ، مشرقی یورپ ، چائنہ کے جنوبی سمندر سے مشرقی ایشیاء کے شمال مشرق تک کئی دھماکہ خیز صورتحال پیدا کر دی گئی ہیں جوکسی بھی طرح کم خطرناک نہیں ۔۔۔۔یہ سب تیسری عالمی جنگِ کے پھٹ پڑنے کے خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہیں ، جو اپنے آغاز سے ہی نیوکلیئر رُخ اختیار کرلیگی ۔

اس واضح اور موجود خطرے کی جڑیں انسانیت کو درپیش اس بنیادی مسئلے میں ہیں: کہ کس طرح انسان کی محنت نے جن بڑی پیدواری قو توں کو پیدا کیا ہے اُنہیں ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت پر مبنی سرمایہ دارانہ سماجی رشتوں اور دُنیا کو حریف قومی ریاستوں اور بڑی سامراجی طاقتوں میں تقسیم سے آزاد کرایا جائے ۔

لیکن جیسا کہ ایک مرتبہ مارکس نے وضاحت کی تھی ، کہ کبھی کوئی بڑا تاریخی مسئلہ اس وقت تک پیدا نہیں ہوتا جب تک اُس کے ساتھ ہی اُسکے حل کیلئے درکارمادی حالات پیدا نہیں ہوتے ہیں ۔ اور جب پہلی عالمی جنگ کی تباہ کاریاں برپاکر دی گئیں ، تو یہ حل ۱۹۱۷ء کے روسی انقلاب کی صورت برآمد ہوا ، جب پہلی مرتبہ مزدور طبقے نے اقتدار پر کامیاب قبضہ کیا ۔ جس تناظر نے لینن اور ٹراٹسکی ، اس انقلاب کے رہنماؤں ، میں توانائی بخشی تھی وہ یہ تھی کہ روس میں زار شاہی کا خاتمہ دُنیا بھر میں سوشلسٹ انقلاب کا نقطۂ آغاز تھا ۔

یہ جنگ ، اُنہوں نے یہ اصرارکیا ، سرمایہ دارانہ نظام کے زوال اور ٹوٹ جانے سے پیدا ہونے والی ، بنی نوع انسان کے تاریخی ارتقا میں ایک نئے عہد کے آغاز کو ظاہر کرتی تھی :کہ یہ عہد جنگوں اور انقلابات کا ۔ ’’ ایک مستقل انقلاب بمقابلہ ایک مستقل قتل عام : یہ ہے وہ جدوجہد جس میں انسان کا مستقبل داؤ پر ہے ‘‘ ، ٹراٹسکی نے لکھا تھا ۔

بالشویک کا نقطۂ نظر ، کہ دُنیا میں سوشلسٹ انقلاب کا مسئلہ آج کی ضروریات میں ایک فوری ضرورت ہے ، اگر چہ تاریخ دانوں ، بشمولِ روسی انقلاب سے ہمدردی رکھنے والے ’’بایاں ‘‘ نقطۂ نظر والے بھی ، نے اسے غیر حقیقی اور معروضی حالات سے غیر متعلق قرار دیتے ہوئے رد بھی کیا ہے ۔

حقیقت میں ، یہ بلکل حقیقی تھا ، جسکی بنیاد یورپ کے تمام بڑے ملکوں کی صورتحال کے جائزے پر رکھی گئی تھی جب ان ملکوں میں جنگ کی تباہ کاریوں اور قتلِ عام کی مخالفت نے انقلابی رُخ اختیار کر لیا تھا ، سب سے بڑھ کر اُس ملک جرمنی کی صورتحال کے جائزے پرجہاں مزدور طبقہ تعدادمیں سب سے ذیادہ اورسیاسی طور پربہت فیصلہ کن تھا ۔

جرمن کے حکمران طبقے تو اقتدار سے نکال باہر کیئے جانے کے خوف کی وجہ سے امن چاہتے تھے ، یہ خوف اُنہیں ولسن کے پیش کردہ ۱۴ نکات کے تحت امن معاہدے کی طرف لے گیا۔۔۔۔اِس چودہ نکاتی دستاویز کو صرف دو ماہ قبل جنوری ۱۹۱۸ء میں روسی انقلاب کے جواب میں اور سوویت حکومت کے یورپ کے مزدور طبقے سے اس مطالبے کے جواب میں کہ وہ جنگ کو سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ختم کر دیں تیار کیا گیا تھا ۔

زارشاہی حکومت کی محفوظ دستاویزات سے خفیہ معاہدوں کو شائع کرکے ، بالشویک حکومت نے اُس جھوٹ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جس پر یہ جنگ مبنی تھی ، اِس بات کو ثابت کر تے ہوئے کہ یہ لڑائی صرف منافعوں اورسامراجی لوٹ مار کیلئے لڑی گئی تھی ۔ یورپ کی بڑی طاقتوں کے حکمران اس براعظم کا خون بہا بہا کر اُسے ختم کر دینے پر تیار تھے اور اُ نہوں نے کبھی بھی اس معاہدے پر اتفاق نہ کیا ہوتا اگر روسی انقلاب کے اثرات نہ ہوتے ۔

جیسا کہ پیرس میں نام نہاد امن کانفرنس ، جسے اس معاہدے کی بنیاد پر بلایاگیا تھا ، جب شروع ہوئی توبرٹش لیبر پارٹی فیبیئن کی لیڈر بیٹرائس ویب نے یورپی طاقتوں کے رہنماؤں کو درپیش صورتحال کا خلاصہ ان الفاط میں کیا ۔ ’’ کیا ہم نے آسٹریا میں ایک اور روس کا سامنا کرنا ہے ، حتاکہ جرمنی میں بھی ۔۔۔۔یہ تو سارے براعظم میں انقلاب ہی انقلاب ہے ‘‘، اُ نہوں نے لکھا ۔

امریکی جرنلسٹ رے اسٹینرڈبیکر ، جسکا ولسن کے وفد سے قریبی تعلق تھا ، نے لکھا کہ ۱۸۱۵ ء کی ویانا کانفرنس ، جس نے نپولیئن کی جنگوں کا خاتمہ کیا ، کے شرکاء کے تو پیچھے انقلاب تھا (یعنی فرانس کا ۱۷۸۹ کا انقلاب) جبکہ ’’ پیرس میں تو یہ اُن کے بلکل ساتھ تھا ‘‘ (یعنی اکتوبر ۱۹۱۷ کا روسی انقلاب جسے صرف دوماہ ہوئے تھے ) ۔

امر واقعہ یہ ہوا ،کہ انقلاب کے خطرے کو پیچھے دھکیل دیا گیااور بورژوازی ہی اقتدار پر قابض رہی سب سے بڑ ھ کر اس وجہ سے کہ مزدور طبقے کی پارٹیوں کے لیڈروں نے انقلاب کے اُبھار سے غداری کی ۔ جرمنی میں ،سوشل ڈیموکریسی نے فوجی قیادت اور بڑے صنعت کاروں کے ساتھ ایک ردِانقلاب اتحاد قائم کر لیا ۹نومبر ۱۹۱۸ء کے انقلاب کا سر قلم کرنے کیلئے ۔

سرمایہ دار حکمران اشرافیہ ہی اقتدار پر قابض رہی ۔ لیکن جیسا کہ بالشویک نے متنبہ کیا تھا وہ امن اور جمہوریت نہیں لائے ۔اسکے بجائے مزدور طبقے کے خلاف ایک ردِانقلاب کا آغاذکر دیا گیا ۔اٹلی میں مسولینی کی فاشسٹ تحریک اور جرمنی میں نازی تحریک دونوں کا آغاذ یہیں سے ہوتا ہے ۔ جنگ کی بدولت جو وسیع پیمانے پر لوگ در بہ در ہوئے جون ۱۹۱۹ء کے غیر جمہوری ورسائیلز امن معاہدے نے انکی حالت کو اور بھی خراب کر دیا ، یہ صورتحال اُ س معاشی ذوال میں اضافے کا ایک اہم سبب تھی جس نے ۱۹۲۹ ء کے گریٹ ڈپریشن کی شروعات کیں ، اقتصادی بدحالی کے ایک عشرہ آیا جس کے نتیجے میں ۱۹۳۹ ء میں دوسری عالمی جنگ شروع ہو گئی ۔

موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال کے اپنے تجزیئے میں ، انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل نے ’’نامکمل بیسویں صدی ‘‘ کا تصور پیش کیا ہے ۔ جس جدوجہد سے بیسویں صدی کا آغاذ ہوا تھا وہ آج بھی جاری ہے، بلکہ اُسکی نوعیت ذیادہ شدید ہو گئی ہے ۔ آج کا عہد جنگ اور انقلاب کا عہد ہے ۔

بورژوالیڈر ، اپنے لکھاریوں اور استادوں کے ساتھ ، پلٹ کر جب پہلی عالمی جنگ کو دیکھتے ہیں تو کچھ سبق سیکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ لیکن ایک معروضی جائزے کے وہ سرے سے نامیاتی طور پر ہی اہل نہیں ہیں کیو نکہ انکا تاریخ کا تجزیہ ناقابلِ اصلاح طور پر انکے آج کے مادی مفادات اور اندیشوں سے اُلجھا ہوا ہے ۔

لہٰذا فرنچ صدر میکرون ، ٹرمپ انتظامیہ کے ’’ امریکہ فسٹ ‘‘ کے ایجنڈے سے مقابلے میں بُری طرح اُلجھا ہو ا ، ایک سانس میں ٹرمپ کی ’’ نیشنلزم ‘‘ پر تنقید کرتا ہے ، اور دوسرے سانس میں مارشل پیٹائن کی تعریف کرتا ہے جو فرانس میں جنگ کے زمانے میں نازی حمایت یافتہ وی شی حکومت کاسربراہ تھا ۔

فائنینشئل ٹائیمز ، جو برطانوی مالیاتی سرمائے کی آواز ہے ، اور اب جرمنی سے برطانیہ کے یورپی یونین سے خروج کی شرائط پر اُلجھا ہوا ہے ، اس پُرانے جھوٹ کو دوہراتا ہے کی پہلی عالمی جنگ جرمنی کے براعظم یورپ پر تسلط سے متعلق تھی ، جیسا کہ برطانوی سامراج کا اپنی وسیع سلطنت کو قائم رکھنے کی کوشش کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو ۔

بین الاقوامی مزدور طبقے کیلئے ، سیکھنے کا سبق وہ ہے جو انقلابی سوشلسٹ تحریک نے ایک صدی قبل اخذ کیا تھا اور جس کی بنیاد پر انٹر نیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل قائم ہے ، جو کہ سوشلسٹ انقلاب کی عالمی پارٹی ہے ۔ یہ نتائج یہ ہیں کہ قومی پروگراموں کازمانہ اب ختم ہو چکا ہے اور جنگ کے جس تباہ کن طوفان میں انسانیت کو ڈبونے سے سرمایہ داری ڈرا رہی ہے اُس سے بچنے کا واحد راستہ عالمی سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی ہے ۔ اس پروگرام کو پوری تندہی سے آگے بڑھایا جائے ، ترقی دی جائے اور سر گرمی سے اسکے لیئے لڑا جائے ، اسے دورکا کوئی مقصد سمجھ کر نہیں بلکہ آج کے دن کا واحد حقیقی اور قابلِ عمل پروگرام سمجھ کر ۔

تحریر :نک بینز