’’پیلی واسکٹ‘‘ والے فرانسیسی احتجاجیوں کیلئے کونسا راستہ آگے کا ہے:؟

10 December 2018

گزشتہ چھوتے ہفتے سے جاری’’پیلی واسکٹ‘‘ والوں کے احتجاج صدر میکرون کیخلاف جاری ہیں جواب واضح طور پر محنت کشوں میں بڑی تحریک کی شکل میں سرمایہ داری نظام کے خلاف ابھر کر سامنے آرہے ہیں میکرون کے ایندھن پر ظالمانہ ٹیکس کی بڑھوتی کے اقدام نے احتجاجوں کیلئے شروع میں چنگاری کا کام کیا اب اسکی منسوخی سے کوئی مسئلہ نہیں ہوسکا۔’’پیلی واسکٹ‘‘ والوں کیلئے سماجی عدم مساوات ، اجرتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ، میکرون کی بے دخلی ، امیروں کے مراعات کا خاتمہ ، جنگوں کا خاتمہ،اور مکمل عام ہڑتال اور انقلاب کے مطالبات انکے سامنے آرہے ہیں۔

یہ دعویٰ کے سٹالینسٹ بیوروکریسی کی جانب سے 1991میں سوویت یونین کی تحلیل کے ساتھ طبقاتی جدوجہد اور تاریخ کا خاتمہ ہوگیا ہے اور جس سے آخری فتح سرمایہ دارانہ جمہوریت کو ہوئی ہے حالیہ احتجاجوں نے تمام دعوؤں کو چکنا چور کردیا ہے جس طرح ’’پیلی واسکٹ‘‘ والوں کے احتجاج فرانس سے بیلیجم، ہالینڈ اور بلغاریہ اور عراق میں پھیل رہے ہیں عراق میں محنت کش بصرہ میں پیلی واسکٹ پہن کرنیٹو کی جدید نوآبادیاتی حکومت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں ۔۔۔۔۔عالمی محنت کش طبقہ بنکوں کے فرمانا کیخلاف جدوجہد میں ابھر کر سامنے آرہا ہے ۔

ہفتے کے روز احتجاجوں کیخلاف بڑے پیمانے پر پردتشدد ریاستی کارروائی بورژوا جمہوریت کا ایک جھلسا دینے کاسبق تھا،جیسے ہی ایک حقیقی اپوزیشن اپنا پاپولر اظہار کرتی ہے بندوقیں باہر آجاتی ہیں۔ پولیس جنہیں فوجیوں کے بکتر بند گاڑیوں کی پشت پناہی حاصل تھی جنہوں نے پانی کی تیز دھاروں سے پرامن احتجاجیوں پر صبح سویرے ہی سے حملے شروع کردئیے تھے جس سے فرانس کے تمام بڑے شہروں میں پرتشدد لڑائیاں ہوتی رہی اور 1385افراد کو حراست میں لیاگیا ۔

’’پیلی واسکٹ‘‘ والوں کے احتجاج اب ایک نازک مرحلے میں داخلے ہوگئے ہیں ،اب تحریک صرف ایک امیروں کے صدر کیخلاف نہیں بلکہ تمام امیروں کی حکومت کیخلاف تصادم میں ہے ۔’’پیلی واسکٹ‘‘ والوں کے زیادہ تر قیادت کرنیوالی شخصیات نے سیاسی اسٹبلشمنٹ کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کردیا ہے میکرون کی ٹوکن رعایتیں ، ٹریڈ یونینز کے ذریعے ثالثی اور یا پھر جین لوک میلنشوں کی اطاعت نہ کرنیوالی پارٹی سے اتحاد کی تجویزیں ۔۔۔ کچھ بھی کام نہیں کررہی ہیں۔ احتجاجی ابھی تک بے حد مقبول ہیں ۔

البتہ خطرہ یہ موجود ہے کہ ایک واضح سیاسی تناظر نہ ہونے کی صورت میں اور ساتھ ہی میکرون کیخلاف بڑی وسیع جدوجہد منظم کرنے سے واقفیت کے فقدان کی وجہ سے تحریک زائل ہو کر بے بنیاد احتجاجوں پر گامزن نہ ہو جائے یا پھر حکمران اشرافیہ کے چالوں کے ماتحت نہ ہو جائے ۔

مرکزی سیاسی سوال سیاسی قیادت کا ہے، یہ اہم ہے کہ کچھ ’’پیلی واسکٹ‘‘ والے گروپ جس طرح کے کومرسی میں پاپولر کمیٹی کے قیام میں لانے کا کہہ رہے ہیں تاکہ ان کمیٹیوں میں اجتماعی فیصلے کرتے ہوئے سرگرمیوں اور تحریک کو منظم کیا جاسکے۔ دوہری طاقت کی ایک انتہائی ایمبریانک شکل ابھررہی ہے ۔جوکہ بنکوں کی حکومت کیخلاف جنہیں انکی فسادات کی پولیس نے محفوظ کررکھا ہے اس کے برعکس مخالف اور علیحدہ اداروں کا بھوت ابھررہا ہے جو کہ محنت کشوں کی جدوجہد اور انہیں منظم کرنے کی قیادت، ابتدائی شروعات کا آغاز ہے ۔

ان حالیہ واقعات کی افادیت لیون ٹراٹسکی کی فرانس کی1936کی اس مکمل عام ہڑتال کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتی ہے جو اس نے ہڑتال سے زرہ پہلے ایکشن کمیٹیوں کی تشکیل کا مطالبہ کیا تھا ۔اس طرح کی باڈی ہڑتالیوں کی جدوجہد اور محنت کشوں کے مختلف دھڑوں ،نوجوانوں کو منظم کریں تاکہ وہ تنہائی کا شکار نہ ہو جائے اور انہیں ٹریڈ یونین بیوروکریسی استعمال نہ کر پائے اور ایک ایسا پوائنٹ مہیا کریں جہاں پر محنت کشوں کی بڑی اپوزیشن کو اجتماعی کارروائی کیلئے منظم اور رہنمائی کی جائے ۔ یہ اقدام محنت کشوں میں پائی جانیوالی اسٹیرٹی کیخلاف گہری مخالفت کو متحرک کرنے کی بنیادیں فراہم کریگا جو میکرون اور یورپی یونین کی طرف سے لاگو کی گئیں ہیں۔

ٹراٹسکی نے تاکید کی ہے کہ محنت کشوں کیلئے اس طرح کی کمیٹیاں پارٹی اداروں اور ٹریڈ یونین میں’’ انقلاب مخالف مزاحمت کو توڑنے کا صرف ذریعہ ہے‘‘ آج یہ انتہائی اہم ہے کیونکہ محنت کش صاف اور سیدھے طور پر یونینز اور درمیانے طبقے کے خوشحال سیاسی پارٹیوں کے اتحادیوں سے دشمنیت کی طرف بڑھتے ہیں ۔تو یہ شیطانی طاقتیں بیتابی کے ساتھ اپنی مراعات کے تحفظ کی خاطر میکرون اور اسکی حکومت کیخلاف محنت کشوں کی آزاد خود مختار جدوجہد کو روکتے ہیں ۔

فرانس میں سوشلسٹ ایکویلیٹی پارٹی (PES)کے بغیر کسی کی رحجان نے ترقی پسند انداز میں فرانس میں’’پیلی واسکٹ‘‘ والوں کی تحریک جنہوں نے معروضی طور پر سرمایہ دارانہ نظام کو چیلنج کرنے کے ایشو کو ابھرا ہے ترقی پسند انداز میں اسکا جواب دیا ہو۔مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا ڈنیل کوہن بینڈیٹ جو کہ مئی1968میں طلباء کا لیڈر تھا جرمنی کے ٹیز(TAZ)اخبار کو بیان دیتے ہوئے بڑی بے شرمی سے الزام لگاتے ہوئے کہاکہ پیلی واسکٹ والوں کی تحریک میں ’’ زیادہ تر نیشنل فرنٹ سے آئے ہیں جو کہ انتہائی دائیں بازو کاذخیرہ ہے‘‘۔

سٹالینسٹ جنرل کنفیڈریشن آف لیبر (CGT)یونین کے لیڈر فلیپ مارٹینز نے بھی اس طرح کا اشارہ اور بالواسطہ طو رپر تجویز دی ہے کہ ہم ’’پیلی واسکٹ‘‘ ’’و الوں سے نہیں مل سکتے ‘‘ اور اب جبکہ انہوں نے ٹرکوں کی ہڑتال کی کال واپس لینے کے بعد (CGT)اب ایک روزہ ریلوے کی علامتی ہڑتال کی14دسمبر کو کال دی ہے ۔

مڈل کلاس کی نئی سرمایہ دار مخالف پارٹی(NPA)کا مقصد یہ ہے کہ’’پیلی واسکٹ‘‘والوں کو کسی چال کے ذریعے ٹریڈ یونینز کے گرفت میں لایا جائے ۔ انہوں نے ’’پیلی واسکٹ‘‘والوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مارٹینز کو کہیں کہ وہ عام ہڑتال میں شامل ہونگے اگر اسے(CGT)کی قیادت کنٹرول کرتی ہو :لڑنے والی یونینز اور پیلی واسکٹ والوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس تناظر کو نیشنل یونین کی لیڈر شپ پر مسلط کرکے عام ہڑتال کی کال دیں ’’پیلی واسکٹ‘‘ والوں کیلئے احتجاج دسمبر14 کیلئے ۔

اس طرح کے چال اور ترکیبوں کے درپردہ حکمران طبقے کو امید ہے کہ وہ احتجاجوں کو ٹریڈ یونینز اور ریاستی مشینری کے ماتحت لانے میں کامیاب ہو جائیں گے اخبار ڈیوڈای مینچی نے لکھا ’’ کے تمام سیاسی نظام لرزش میں ہے‘‘ لیکن ہفتے کے دن پولیس کے جبر نے’’حکومت کو مہلت دے دی ہے کہ وہ تازہ سانس لے سکے‘‘ اس نے وزیراعظم ایڈورڈ فلیپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ہفتے کی رات کی تقریر کے اختتام پر کہا ’’ اور اب مذاکرات !‘‘

’’پیلی واسکٹ‘‘ والے احتجاجیوں کو جو انکو بے مقصد میکرون سے رجعتی ڈیل کیلئے کوشاں ہیں ان پر انکا عدم اعتماد مکمل طور پر درست ہے۔ میکرون کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوسکتے جو ظالم بنکوں کا نمائندہ ہے ۔قومی اسمبلی میں بیٹھے ہوئے سرمایہ دار سیاستدان جو عوام کی خدمت کیلئے مامور کیے گئے ہیں ان سے بھیگ مانگنے کا نتیجہ صرف مایوسی کے سواء کچھ نہیں ہوسکتا ۔

اس وقت جو اہم فریضہ ہے وہ میکرون کی حکومت اور بنکوں کی طاقت کیخلاف سیاسی جدوجہد کا ہے ۔عالمگیر معیشت اور بین الاقوامی مالیاتی ، تجارتی اور سپلائی چینز کے اس عہد میں اس امر کی ضرورت ہے کہ بین الاقوامی جدوجہد کو حقیقی سوشلسٹ پروگرام کے ذریعے لڑا جائے :تاکہ مالیاتی اشرافیہ کی دولت کے انباروں کو ضبط کرکے اور دنیا کے وسائل اور معیشت کو محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں لیا جائے ۔

یہ پروگرام معروضی طبقاتی جدوجہد کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے :تمام یورپ میں خوفناک حد تک بڑھتا ہوا سماجی غصہ اور ہڑتالوں کا تمام ممالک میں پھیلنا جو کہ ایک عام بڑی ہڑتال میں بڑھیں گے ۔عام بڑی ہڑتالوں کو یورپی یونین میکرون اور اس طرح کی دوسری یورپی حکومتوں کیخلاف منظم کرنے کے کام کو ٹریڈ یونینز کیلئے نہیں چھوڑا جاسکتا جو کہ تحریک کے دشمن ہیں اور وہ اسے نہیں چلاسکتے ۔آگے بڑھنے کا راستہ اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ ایکشن کمیٹیوں کی تشکیل کی جائے جو کہ محنت کشوں کو کو تیار کرنے کی وہ بنیادیں فراہم کریں جس سے حقیقی بڑی عام ہڑتال ،فرانس میں اور تمام یورپ میں عمل میں لاسکیں بشمول یونینز کی چال بازیوں اور جعلی بائیں بازوں کی پارٹیوں کیخلاف۔

سوشلسٹ ایکویلیٹی پارٹی فرانس اور انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل کے دوسرے یورپی سیکشنز اس وقت اور اس موقع پر استدلال کریگی کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ طاقت کو محنت کشوں کی ان آزاد، خود مختار تنظیموں کی طرف منتقل کیا جائے جو انہوں نے تخلیق کی ہیں ۔پی ای ایس تلقین کرتی ہے کہ اس تناظر کو جتنے بڑے پیمانے پر فیکٹروں ،کام کی جگہوں ،یونیورسٹیوں ،سکولوں میں فرانس اور تمام یورپ میں زیادہ سے زیادہ زیر بحث لائیں۔

تحریر:ایلکس لینیٹر