سرمایہ دارانہ حکمرانی کا عالمی بحران اور سوشلسٹ انقلاب کی حکمت عملی

17 December 2018

چوتھی انٹرنیشنل کی بنیاد ساز دستاویز میں جس کا عنوان ’’ سرمایہ داری کی درد ناک موت اورچوتھی انٹرنیشنل کی ذمہ داریاں ‘‘ ہے ، جس کو 1938 میں لکھا اور منظور کیا گیا تھا ، لیؤن ٹراٹسکی نے اُس عہد کی اُس خاصیت جسکا اظہار طبقاتی حکمرانی کے سیاسی بُحران کی صورت میں ہوا کا خلاصہ ان الفاظ میں کیا :

بورژوازی کو خود کو باہر نکلنے کی کوئی راہ نظر نہیں آتی ۔ اُن ممالک میں جہاں وہ پہلے ہی اپنا آخری داؤ فسطائیت کے پتے پر لگانے پر مجبور ہو چکی ہے ، اب وہ آنکھیں بند کئے تیزی سے ایک معاشی اور عسکری کھائی میں پھسلتی جارہی ہے ۔ تاریخٰی طور پر مراعات یافتہ ممالک میں جہا ں بورژوازی ابھی کچھ وقت تک جمہوریت کی عیاشی کی متحمل ہے قومی دولت کی قیمت پر ( برطانیہ ،فرانس ،امریکہ وغیرہ) ، سرمایہ داری کی تمام روایتی پارٹیاں پریشانی اوربے چینی کی ایک ایسی حالت سے دوچار ہیں جہاں اُن کو سمجھ نہیں آتا کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں ۔

بغیر کسی زیادہ ترمیم و تبدیلی کے ، یہ سطور2018کے اختتام پر دُنیا کی صورتِ حال کو بخوبی بیان کرتی ہیں ۔

برطانیہ میں ، وزیراعظم تھریسا مے تو اصل میں ایک سیاسی لاشہ ہے ، جو پچھلے ہفتے اپنی ہی کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے تحریکِ عدم اعتماد سے بمُشکل بچ پائی ہے ۔ برطانیہ کاحکمران طبقہ تو بریگزٹ پر اپنے اندرونی اختلافات کی وجہ سے مصیبت میں مبتلا ہے اُس ریفرنڈم کے ڈھائی سال بعد بھی جس میں یورپین یونین سے علیحدگی کے فیصلے کی حمایت کی گئی تھی ۔ مے تو یورپی یونین کے ساتھ کسی ایسے بندوبست کی اُمید کر رہی ہے جو کنزرویٹو پارٹی کے اندر اسکے مخالفین کو منا سکے ، جبکہ لیبر پارٹی جیرمی کوربن کی قیادت میں کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کر رہی ہے جو حکومت کو مزید غیر مستحکم اور عوامی مخالفت کی حوصلہ افزائی کرے ۔

فرانس میں ، بینکار صدرایمانوئیل میکرون شاید سارے ملک میں ایک ایسا شخص ہے جس کو سب سے ذیادہ گالی پڑتی ہے ، جسکی مقبولیت کی شرح ۲۰ فیصد کے آ س پاس منڈلا رہی ہے ، جو پچھلے ایک سال میں ۲۷ فیصد کم ہوئی ہے ۔ ’’پیلی واسکٹ ‘‘ والوں کے مظاہرین کے مطالبات کو بہت ذیادہ عوامی حمایت حاصل ہے ،جس کا جواب ایک مرتبہ پھر اختتام ہفتہ میکرون نے بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور فرانس کے شہروں کی گلیوں میں بلوا پولیس کے لاکھوں اہلکاروں کی تعیناتی سے دیا ۔

جرمنی میں ، چانسلر اینجلا مرکل نے کرسچین ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کی لیڈر کے عہدے سے استعفٰی دے دیا ہے ، جس کی وہ 18 سال تک سربراہ رہی ہے ، اگرچہ ابھی2021تک اس کا چانسلر رہنے کا ارادہ ہے ۔ کرسچین ڈیموکریٹک یونین ؍ کرسچین سوشل یونین (سی ایس یو) اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) کی گرینڈکولیشن حکومت کے تحت ، جرمن حکمران اشرافیہ نے فسطائی الٹرنیٹوفارجرمنی(اے ایف ڈی) کو باضابطہ حزبِ اختلاف اور ملک میں ایک غالب سیاسی قوت بناتے ہوئے ، انتہا پسند دائیں بازوکو پرواان چڑھایا ہے ۔ مرکل کے ذِیرقیادت ، جرمنی یورپ کا سب سے ذیادہ غیر منصفانہ ملک بن گیا ہے ، کیونکہ حکمران اشرافیہ بڑی جارحانہ طاقت کی لڑائی کے عسکری ایجنڈے کا احیاء کر رہی ہے ۔

آسٹریلیا میں ، حکمران لبرل۔نیشنل کی اتحادی حکومت ایک دھاگے سے لٹک رہی ہے ۔ لبرل پارٹی کے اندر ایک خانہ جنگی ہے اس سیاسی بغاوت کے بعد سے جس نے پرائم منسٹرمیلکولم ٹرن بُل کواگست میں بیدخل کیااور اسکی جگہ اسکاٹ مورسن نے لی ، جو صرف ایک عشرے کے دوران ساتواں وزیراعظم ہے ۔

اور پھر اسی طرح سری لنکاہ ہے ، جہاں پچھلے سات ہفتوں کے دوران سیاسی حالات وواقعات نے غیر معمولی صورت اختیار کی ہے ۔ جس میں پرائم منسٹر رانیل وکرمہ سنگھے کی صدر مائی تھری پالا سری سینا کی جانب سے غیر قانونی برطرفی ، اور اسکی جگہ لینے کیلئے سابقہ صدر مہندا راجہ پاکسہ کی تعیناتی ، پارلیمان کی تحلیل ، اس تحلیل کو غیر قانونی قرار دینے کا سپریم کورٹ کا حکمنامہ ، اور ، کل ، سری سینا کی وکرمہ سنگھے کی دوبارہ تعیناتی شامل ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی یہ سمجھ لے کہ حالات کا یہ ردوبدل سیاسی بحران کے خاتمے کو ظاہر کرتا ہے ، سری سینا نے وزیراعظم کو ، جسے پہلے اس نے برطرف کیا تھا حلف برداری کے فوراً بعد ، بدعنوان اور قوم کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے مذمت کی ۔

تاہم سب سے شدید سیاسی بحران امریکہ میں ہے ، جو دنیا کی سامراجیت کا مرکز ہے ۔ پچھلے سارے ہفتے کے دوران برطرف شُدہ جنرل جان کیلی کی جگہ ایک نیا چیف آف اسٹاف تعینات کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ زیادہ سے زیادہ پھنستی جارہی ہے۔ ٹرمپ کو اپنی ذاتی کمپنیوں ، اپنے رفاہی کاموں اور اپنی افتتاحی تقریب کی کمیٹی کے حوالوں سے دیوانی اور فوجداری تحقیقات کے ایک سلسلے کا سامنا ہے ۔ صدر کے سابقہ ذاتی وکیل ، مائیکل کوہن ، کو پچھلے ہفتے تین سا ل قید کی سزا سُنائی گئی ۔ جبکہ ’’نیشنل انکوائرر ‘‘ کی اصل کمپنی اور اس کے چیف ایگزیکٹو نے کوہن کے ان دعوؤں کی تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ2016 کے انتخابات کے دوران انتخابی مہم کے مالیاتی ضابطوں کی خلاف ورزی میں ذاتی طور پر ملوث تھا ۔

ڈیموکریٹک پارٹی ، جو ٹرمپ کے خلاف اپنی محلاتی سازشوں میں زیادہ جارحانہ ہوتی جا رہی ہے ، ایسا کوئی بھی کام کرنے سے بہت ڈرتی ہے جوعوامی غیض و غضب کو ہوا دے ۔ حکمران اشرافیہ کے غالب حصے درپیش مسائل کا ڈرتے ڈرتے ہی سوچتے ہیں ۔۔۔بشمولِ بڑی طاقتوں کے درمیان بڑاتصادم اوربڑھتی ہوئی سماجی بے چینی سے نپٹنا ۔۔۔اور ٹرمپ انتظامیہ میں ان کو ایسی حکومت نظر آتی ہے جو اس مشکل کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ ’’ہم میں سے ہر کوئی اصولوں کے ملبے کے درمیان ہی اپنا راستہ بناتا ہے ‘‘ اتوار کے روز نیویارک ٹائمز کے کالمسٹ فرینک برونی نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ، ’’اور سچائی پر اپنے حملے کی وجہ سے متزلزل ہے ، اورجو کچھ بھی آگے ہونا ہے اسکی تیاری کرتا ہے اور جانتا ہے کہ ٹرمپ کے بجائے اسکے ہمارے اپنے لیئے ذیادہ بڑے اورطویل اثرات ہو سکتے ہیں ‘‘ ۔

تاہم ٹرمپ کا عدم استحکام یا آئینی بحران اس چیز کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے جس سے بہت ڈرا جاتا ہے۔۔۔اور وہ ہے مزدور طبقے کی مداخلت ۔یہی وجہ ہے کہ ڈیموکریٹس ایک طرف مواخذے کی دھمکیوں اورروس کے خلاف زیادہ جارحانہ پالیسی اور دوسری طرف ٹرمپ کی خوشامدانہ منتیں کرنے کہ وہ اپنے رجعت پسندانہ اورعسکریت پسندانہ ایجنڈے کی تکمیل میں ان کے ساتھ ملکر کام کرے کے درمیان جھول رہے ہیں ۔

سیاسی بحران کی ہمہ گیری ۔۔۔اور مذکورہ بالا فہرست میں دیگر کئی ممالک کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔۔۔بذاتِ خود ایک نہایت اہم معروضی اہمیت کا معاملہ ہے ۔ قومی خصوصیات خواہ کچھ بھی ہوں ، ہر ملک میں سیاسی اداروں کے عدم استحکام کی وجہ عالمی سرمایہ داری کا بحران ہے ۔

2008 کے مالیاتی انہدام کے دس سال بعد ، ایک نئے معاشی بحران کی بڑھتی ہوئی وجوہات موجود ہیں ۔چین کی معیشت تیزی سے آہستہ ہو رہی ہے ، یورپ جمود کا شکار ہے ، اور امریکہ کو اگلے برس کساد بازاری کے امکان کا سامنا ہے ۔ حکمران طبقہ معاشی قوم پرستی اورتجارتی جنگ کی پالیسیوں کی طرف رجوع کر رہا ہے ، خاص کر امریکہ کا حکمران طبقہ ۔ ایسے اقدامات نہ صرف معاشی بند گلی سے نکلنے کی کوئی راہ فراہم نہیں کرتے ، بلکہ وہ ایسی جیو پولٹیکل لڑائیوں کو ایندھن مہیا کرتے ہیں جن سے عالمی جنگ کا خطرہ ہو تا ہے ۔

سب سے بڑھ کر ، سماجی نا انصافی ، وسیع پیمانے پر بے چینی اور کھلم کھلا طبقاتی جدوجہد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ حکمران طبقہ ایسے طریقے ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہے جن سے حالات وواقعات کی ناگزیر لہر کو روکا جاسکے۔۔۔چاہے یہ انٹرنیٹ پر سنسرشپ کے ذریعے ہو ، جواب بلکل کھلم کھلا سماجی اختلاف کو نشانہ بنارہی ہے ، یا جبروتشدد کے ذریعے ، جس میں فسطائی اور انتہا پسندانہ وقومی تحریکیں شامل ہیں ۔ دوبارہ اسلح بندی اور بڑی جنگی تیاریوں کی دیوانہ وار کوششیں ذیادہ تر اندرونی سماجی خلفشار کو باہر کی طرف موڑنے کی خواہش کی بدولت ہیں ۔ ایک ایسا سال جس میں دنیا بھر میں مزدور طبقے کے اہم مظاہرے ہوئے ہیں اب ایک ایسے وقت میں اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے جب فرانس میں پیلی واسکٹ والوں کا احتجاج ہو رہا ہے ، سری لنکاہ میں چائے کے باغات میں کام کرنے والے ہزاروں لاکھوں مزدوروں کی ہڑتال ہے ، لاس اینجلس کیلیفورنیا میں ہزاروں اساتذہ ایک بڑا مظاہرہ کر رہے ہیں اور سماجی غُصے و ناراضی کے دیگر کئی مظاہر بھی موجود ہیں ۔

موجودہ سیاسی پارٹیوں اور ٹریڈیونینوں کے بر خلاف مزدوروں کی جدوجہد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ فرانس میں ایسا ہی ہوا ، جہاں پیلی واسکٹ والوں کا احتجاج ٹریڈیونین کے کنٹرول سے باہر سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلا ۔ سری لنکاہ میں ، سیلون ورکرز کانگریس کے ’’ کام پر واپسی ‘‘ کے حکمنامے کے خلاف مزدوروں نے احتجاج کیا اورہڑتال کو جاری رکھا تاوقیکہ جمعہ کے روز اسکا اختتام ہوا ۔

مزدوروں کیلئے ، اہم سوال جدوجہد کیلئے اپنی تنظیم سازی کرنا اور سیاسی قیادت پیداکرنا ہے ۔ اب وہ حکمران طبقے کے کسی دھڑے کے پیچھے خود کو نہیں لگا سکتے ۔ اُنہیں سیاسی طاقت کو اپنے ہاتھ میں لینا ہے ۔

پچھلے ہفتے کئی اہم پیش رفت ہوئیں ، جن میں امریکہ میں آٹو ورکرز کے عہدہ داروں اور کارکنوں کی مختلف کمیٹیوں اور مزدورں کے مختلف گروہوں کی ایک سٹیرنگ کمیٹی کا قیام ،اور سری لنکاہ میں چائے کے باغات میں کام کرنے والے مزدوروں کی جدوجہد کو مربوط و منظم کرنے کیلئے ایک ایکشن کمیٹی کا قیام ہے ۔ دونوں جگہوں پر ، مزدور طبقے کی جدوجہد کی آذاد وخودمختا ر تنظیمیں انٹر نیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل اور اُسکے قومی حصوں جیساکہ سوشلسٹ ایکوئیلیٹی پارٹی کی ذیرِ قیادت بنی ہیں ۔

چوتھی انٹرنیشنل کو قائم کرتے وقت ، ٹراٹسکی نے پچھلے عرصے کے حالات و سیاسی تجربات سے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ’’ بنی نو انسان کو درپیش بحران انجام کار انقلابی قیادت کے بحران میں سمٹ آتا ہے ‘‘ ۔ چنانچہ آج بھی ایسا ہی ہے ۔ سرمایہ دارانہ حکمرانی کے عالمی بحران کے جواب میں ، مزدور طبقے کودنیا کے سو شلسٹ انقلا ب کیلئے اپنی حکمت عملی پیش کر نی ہے ۔ اس عالمی تحریک کی قیادت چوتھی انٹر نیشنل کی انٹرنیشنل کمیٹی ہی ہے ۔

جوزف کشوور