چینی انقلاب کے ستر سال ماؤ ازم کے دیوالیہ پن کے نتائج سے سیاسی اسباق:۔

1 October 2019

ماؤ ازم کے دیوالیہ پن کے نتائج سے سیاسی اسباق:۔ چینی کیمونسٹ پارٹی (سی سی پی) کے اقتدار پر قبضہ کرتے ہوئے آج ستر سال ہوگئے جب اسکے لیڈر ماؤزئے تنگ نے تیان من اسکوائیر میں عوامی جمہوریہ چائینہ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

سی سی پی کی موجودہ حکومت جسکے صدر شی جنگ پنگ ہیں اس سالگرہ کو بیجنگ میں آج ایک بڑی ملٹری نمائش کرکے منائے گی اور شام کو جشن بھی منایا جائیگا جس میں ناچ گانا بھی ہوگا اور آتش بازی کا مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔ شی تیان من میں تقریر بھی کرینگے جس میں چینی قوم پرستی کا اعادہ کیا جائیگا اور انکے چائینہ کو دوبارہ عظیم بنانے اور قومی احیاء کے ”خواب“ کا تذکرہ بھی ہوگا۔

چینی انقلاب ایک بڑی سماجی تبدیلی تھاجس نے چائینہ کی سامراجی محکومی کا خاتمہ کیا، ملک کو یکجا کیا‘ عوام کی حالت کو بہتر بنایااور سماجی اور ثقافتی پسماندگی کا کافی حدتک خاتمہ کیا۔ تاہم، ماؤزئے تنگ کے وارث یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ کیوں مزدور طبقے کی ایک سوشلسٹ مستقبل کے متعلق خواب وخواہشات جن کی خاطر ستر سال قبل ہزاروں لوگوں نے قربانیاں دی تھیں سرمایہ داری کی بند گلی میں آکر رُک گئی ہیں۔

ماؤ نے 1949 میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

چائینہ کی پچھلی تین دہائیوں کی حیرت انگیز معاشی ترقی کا نتیجہ ارب پتی حکمرانوں کی چھوٹی پرت جنکی نمائندگی سی سی پی کرتی ہے ان کے مزدوروں اور کسانوں کے درمیان گہری اور وسیع ہوتی خلیج کی صورت میں نکلا ہے جو منافع خوری اور مارکیٹ کی اجارہ داری کے سماجی نظام میں اپنے بقا کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

عالمی مزدور طبقے، اور بالخصوص چائینہ کے مزدوروں کیلئے، یہ ضروری ہے کہ ماؤ اور سی سی پی کے دیوالیہ پن سے سبق سیکھا جائے۔ سوشلزم کی کسی بھی جدوجہد کیلئے آج اس سوال کا جواب دینا ضروری ہے کہ کیوں بیسویں صدی کے انقلابات کا نتیجہ سرمایہ داری کی بحالی نکلا، خاص کر روس اور چین میں۔

دونوں جگہ جواب، سٹالنسٹ بیوروکریسی کا سویت یونین میں وجود میں آنا ہے، جس نے مزدوروں سے اقتدار چھین لیا۔ جس نے رُجعتی قوم پرستی پر مبنی ”ایک ملک میں سوشلزم“ کے نظریئے کو اپنی مراعات کا جواز بنایا، جو سوشلسٹ انٹرنیشنلزم کے سراسر خلاف تھاجو اس روسی انقلاب کا رہنما اصول تھا جس کی قیادت لینن اور ٹراٹسکی نے اکتوبر 1917 میں کی۔

چائینہ میں، سٹالن نے نئی قائم شدہ چینی کیمونسٹ پارٹی کو قوم پرست کا من تانگ(کے ایم ٹی) کے تابع کر دیا جس کے تبا ہ کن نتائج برآمد ہوئے۔ 1925 سے 1927 کے دوران ہو نیوالی انقلابی تبدیلیو ں کے دوران، چیانگ کائی شیک اور کے ایم ٹی نے اپریل 1927 میں سی سی پی پر دھاوا بول دیا، اور ان ہزاروں مزدوروں اور کیمونسٹوں کو قتل کر دیا جنہوں نے شینگھائی پر قبضہ کیا ہوا تھا۔ ایک ماہ بعد، نام نہاد ”بایاں بازو“ کے ایم ٹی، جس کے متعلق سٹالن کا اصرار تھا کہ وہ چینی بورژوازی کے ترقی پسنددھڑے کا نمائندہ تھا، نے قتل عام کااپنا ایک اور سلسلہ شروع کردیا۔ جب یہ انقلابی لہر کمزور ہوئی، سٹالن نے شکستہ سی سی پی کومہم جوئی کے راستے پر ڈال دیا، یہ ساری کی ساری مہم جوئی ناکام ہوئی جس کے مزدوروں اور کسانوں کیلئے بھیانک نتایج نکلے۔

لیؤن ٹراٹسکی نے سی سی پی کو کومن تانگ کے تابع کرنے کے بارے متنبہ کیا تھا اور اسکے سٹالن کی پالیسیوں کے تجزیئے کی سی سی پی کے کئی اراکین اور لیڈروں نے حمایت کی تھی جنہیں پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ اسکے مستقل انقلاب کے نظریئے نے، جس نے روسی انقلاب کی رہبری ورہنمائی کی تھی، اس بات کی وضاحت کردی تھی کہ ایسے ممالک جن میں سرمایہ دارانہ ترقی کاعمل تاخیر کا شکار ہو جیسا کہ چائینہ وہاں بورژوازی عوام کی جمہوری اور سماجی اُمنگوں کو پورا کرنے کی اہل نہیں ہوتی۔ یہ کام تو صرف مزدور طبقہ ہی سر انجام دیگا، جو اس پر مجبور ہوگاکہ وہ کسانوں کی حمایت سے اقتدار پر قبضہ کرے اور سوشلسٹ اقدامات اُٹھائے۔

سی سی پی نے دیہی علاقوں کا رُخ کیااور مزدور طبقے کو بنیاد بنانے کے بجائے کسانوں کے گوریلا دستوں میں نفوظ کیا۔ اس کا تناظرمسترد کردہ ”ٹو اسٹیج تھیوری“ (مراحلہ وار انقلاب) پر مبنی تھا۔۔۔ کہ پہلے بورژوازی کے زیرنگرانی ایک قومی جمہوری انقلاب اور پھر مسقبل بعید میں سوشلسٹ انقلاب۔ اس قوم پرست تناظر نے 22 سال بعد آنیوالے انقلاب کو نقصان پہنچایا اور اسے مسخ کردیا۔

1949 کا چینی انقلاب دوسر عالمی جنگ کے بعد دنیا بھر میں مزدور طبقے اور نو آبادیاتی محکوم عوام میں آنیوالی بیداری کی لہر کا حصہ تھا۔ جاپان کی شکست کے دو سال بعد تک، ماؤ چیانگ کائی شیک کے ساتھ اتحادی حکومت بنانے کی کوشش کرتا رہا۔۔۔جس نے شنگھائی میں قتل عام کیا تھا۔۔۔۔سٹالن کی اُن ہدایات کے اتباع میں جو اسنے ساری کیمونسٹ پارٹیوں کو دی تھیں۔ چنانچہ بورژوازی اورجاگیرداروں کی ناراضی سے بچنے کیلئے، سی سی پی نے عمداٌ مزدوروں کی اُبھرتی ہوئی جدوجہد کا راستہ روکا اور زرعی اصلاحات کو بھی محدود کیا۔ چیانگ کائی شیک نے اس موقع کو شہروں پر اپنی گرفت مظبوط کرنے پر صرف کیا اور امریکی سامراج سے حاصل کردہ امداداور اسلحے کے بل بوتے پر سی سی پی کے خلاف فوجی کاروائی شروع کر دی۔

اکتوبر 1947 میں کہیں جاکر سی سی پی نے آخر کار کے ایم ٹی کی بدعنوان اور نفرت کاشکار آمریت کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ جس تیز رفتاری سے چیانگ اور اسکی حکومت کا خاتمہ ہوا اس سے تو یہ ظاہر ہو ا کہ اسکو تو اور بھی جلدی اقتدار سے نکالا جا سکتا تھااگر سی سی پی شروع ہی سے مزدوروں کو متحرک کرتی بجائے اُنہیں یہ ہدایات دینے کی کہ وہ بیٹھ کر انتظار کریں اس وقت جب پارٹی کے گوریلا کسان دستے آکر اُنہیں ”آزادی“ دلائینگے۔سی سی پی کی مزدوروں کی آزادانہ جدوجہد سے عداوت ہی اسکے پچھلے 70 سال کے اقتدار کا خاصہ رہی ہے۔

1949 میں ماؤ نے جس عوامی جمہوریہ چین کا اعلان کیا تھا اسکی بنیاد سوشلسٹ پروگرام پر نہیں بلکہ اسکی اپنی ”نیو ڈیموکریسی“ پر تھی۔۔۔۔جسکا مقصد پہلے بورژوا جمہوری مرحلے کی تکمیل تھا۔ سی سی پی نے صرف ان ”بیورو کریٹ سرمایہ داروں“ کے کاروباروں کو قومی ملکیت میں لیا جوچیانگ کے ساتھ تائیوان بھاگ گئے تھے،جبکہ اس نے سرمایہ داروں کی اکثریت کی جائیدادوں اور منافعوں کی حفاظت کی تھی۔ اسکی حکومت بورژوا جماعتوں کی اتحادی تھی، جن میں کچھ کے پاس اہم قلمدان تھے۔

ماؤ کی خود کفیل چائینہ کی سوچ جلد ہی ایک بند گلی میں آکر رُک گئی۔ امریکی سامراج، جسکا چائینہ کے استحصال کا منصوبہ اچانک 1949 میں ختم ہوگیا تھانے1953-1950کی کوریا کی جنگ کوسی سی پی کی حکومت کو کمزور کرنے اور بالآخر ختم کرنے میں استعمال کیا امریکی اقتصادی پابندیوں اور جنگ کی دھمکیوں کے نتائج میں ماؤ کو مجبور کر دیاکہ وہ قومی اور بیرونی ان تمام کمپنیوں کو قومی ملکیت میں لے جو جنگ کی کاروائیوں میں رخنہ ڈال رہی تھیں اور سویت یونین کی طرز پربیوروکریسی کے ذریعے اقتصادی منصوبہ بندی کی راہ اپنائے۔

1955میں، امریکن سوشلسٹ ورکرز پارٹی، جو اسوقت امریکہ میں ایک ٹراٹسکسٹ پارٹی تھی، فورتھ انٹرنیشنل میں مشرقی یورپ میں بفر اسٹیٹس کے موضوع پر ہونیوالے مذاکرے میں اس نتیجے پر پہنچی کہ چین ایک مسخ شدہ مزدور ریاست بن چکاہے۔ یہ ایک عارضی اور عبوری حکومت ہے۔ جائیداد کو قومیا لیا گیا تھا اور اقتصادی منصوبہ بندی شروع ہو گئی تھی، لیکن یہ نئی ریاست اپنی پیدائش سے ہی مسخ شدہ تھی، جس میں مزدور طبقے کے نہ کوئی جمہوری حقوق تھے نہ کوئی سیاسی آواز۔ چین یا تو ایک حقیقی سوشلزم کی طرف جائیگا، جس کیلئے ایک سیاسی انقلاب کے دوران مزدور طبقے کے ہاتھوں ماؤسٹ بیوروکریسی کا خاتمہ درکار ہوگا۔۔۔۔جسکی حمایت ٹراٹسکسٹ تحریک نے کی تھی۔۔۔۔یا یہ دوبارہ سرمایہ داری کی گود میں گر جائیگا۔

اپنے قوم پرستی پروگرام کے نتیجے میں، جو ایک ملک میں سوشلزم کے مارکس مخالف نظرئیے پر مبنی ہے، ماؤسٹ حکومت ایک بحران سے دوسرے بحران کی طرف جھولتی رہی۔۔۔۔ 1950 کی پُر آشوب گریٹ لیپ فارورڈ سے روس اور چین کی علیحدگی تک اور 1960کی دہائی کے تباہ کن ثقافتی انقلاب تک۔ ایک جامد معیشت اور روس کے ساتھ جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے سامنے، 1949 کے انقلاب کے صرف 22 سال بعدماؤ نے امریکی سامراج کی جانب رُخ اختیار کیا۔ چائینہ میں سرمایہ داری کی بحالی اور منڈی نواز پالیسیوں کے مصنف کے طور پر ہمیشہ ڈنگ ژیاؤپنگ کا حوالہ دیا جاتا ہے، اس نے تو صرف 1972 ماؤ کے امریکی صدر نکسن کے ساتھ تجدید تعلقات کے عمل کو منطقی انداز سے جاری رکھا۔

ڈینگ کی 1978 سے ”اصلاح اور کھلا پن “ کی پالیسی عالمی پیداوار کی تیز تر ترقی سے ہم آہنگ تھی، جس کی قیادت امریکہ اور دیگر سرمایہ دار قؤتوں کے پاس تھی۔ 1989کے تیانمن سکوائر کے قتل عام کے نتیجے میں، جسکا سب سے بڑا مقصد باغی مزدور طبقے کو دبانا تھا، انقلاب کے بعد بنائے گئے بنیادی ڈھانچے اور صنعت وحرفت اور سستی مگر تعلیم یافتہ اور منظم افرادی قؤت سے فائدہ اُٹھانے کیلئے بیرونی سرمایہ کاری کا ملک میں سیلاب آگیا۔

آج اپنی تقریر میں، شی چائینہ کے کارناموں پر فخر کا اظہار کریگا، ماؤسٹ انقلابیوں کو خراج تحسین پیش کریگا اور چائینہ کی عظمت کی بحالی کے اپنے خوا ب کا تزکرہ کریگا۔۔۔۔وہ خواب جو چین کے لالچی سرمایہ داروں کی خواہشات کو ظاہر کرتا ہے۔ چین کی اقتصادی ترقی نے اسے سامراجی ورلڈآرڈر کے بالمقابل لا کھڑا کیا ہے جس پر امریکہ کا تسلط ہے، جو چائینہ کو اسکی عالمی حیثیت کو چیلنج کرنے سے روکنے کیلئے بشمول عسکری ہر حربہ استعمال کرنے پر کمر بستہ ہے۔

شی اور سی سی پی کی بیوروکریسی کے پاس امریکی جنگی مہم جوئی کا کوئی جواب نہیں ہے۔۔۔ماسوائے مصالحت کی کوشش کے اور اس کے ساتھ ہی اسلحے کی دوڑ کو بھی جاری رکھتے ہوئے جس سے جنگ کا خطرہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح، مزدور طبقے میں بڑھتی ہوئی بے چینی کا ماؤسٹ طریقہ کار میں واحد جواب۔۔۔۔جسکا اظہار بالخصوص ہانگ کانگ کے مظاہروں میں ہواہے۔۔۔۔مزدوروں کو تقسیم کرنے کیلئے قوم پرستی کو ہوادینا ہے۔ اس میں پولیس ریاست کا بڑھتا ہوا جبر بھی شامل ہوجاتا ہے۔

اگرچہ بیجنگ کی بیوروکریسی کوامریکی جارحیت میں تجارتی جنگ اور ایشیاء میں جنگی تیاریوں کی صورتحال کا سامنا ہے، لیکن اسے زیادہ بڑا خطرہ مزدور طبقے سے ہے۔ وہ اندرونی سیکورٹی پرزیادہ خرچ کرتی ہے بہ نسبت ملٹری کے۔

فورتھ انٹرنیشنل کی انٹرنیشنل کمیٹی(آئی سی ایف آئی) بین الاقوامی مزدور طبقے سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ضروری سیاسی نتائج اخذ کرے۔ ماؤازم کی فریب کاریوں سے ایک بعد دوسرے بحران نے جنم لیا ہے، نہ صرف چائینہ میں بلکہ اس کے مُضر اثرات ایشیاء اور ساری دنیا پر پڑے ہیں۔ ساری دنیا میں سرمایہ داری کے گہرے ہوتے بحران کے درمیان، جنگ کے خطرات، حکمرانی کی فسطائی صورتوں اور مسلسل معیار زندگی کا گرنا، ان سب کا واحد جواب سوشلسٹ انٹرنیشنلزم کا پروگرام ہے جو اکتوبر 1917 کے انقلاب کا روح رواں تھا اور جس کی خاطر صرف ٹراٹسکسٹ موومنٹ تن تنہا لڑتی رہی ہے۔

چائینہ اورساری دنیا میں مزدوروں کو متحد کرنے کیلئے کہ وہ ایک سوشلسٹ مستقبل کیلئے لڑائی لڑیں یہ ضروری ہے کہ آئی سی ایف آئی کومستقبل کی طبقاتی لڑائیوں کی انقلابی قیادت کے طور پر تیار کیا جائے۔ چائینہ میں، اسکے معنی یہ ہوئے کہ آئی سی ایف آئی کا ایک ایسا حصہ بنایا جائے جو سٹالنزم اوراسکی تمام صورتوں کے خلاف جدوجہد کے تمام نظریاتی اور سیاسی اسباق پر مبنی ہو، بشمول ماؤ ازم۔

پیٹر سیمونٹز