1-جیسے ہی نیا سال شروع ہوا ہے،کوویڈ19 -وبائی بیماری اپنے انتہائی خطرناک اور مہلک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اومیکرون کی قسم،جس کی پہلی بار نومبر 2021کے آخر میں شناخت ہوئی،اب عالمیسطح پر غالب سٹین بن چکاہے۔ یہ پورے یورپ اور ریاستہائے متحدہ میں غیر معمولی رفتار کے ساتھ پھیل رہا ہے، روزانہ نئے کیسز کو ریکارڈ کی بلند ترین سطح پر لے جا رہا ہے۔2021کے آخری ہفتے میں، ریاست ہائے متحدہ میں اوسطاً یومیہ انفیکشن 500000کے قریب پہنچ رہے تھے۔
2۔ عالمی وبائی بیماری سے وسیع تباہی ایک تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ ایک بڑا جرم ہے، کیونکہ وبائی مرض کا تباہ کن اثر سرمایہ دارانہ حکومتوں کے فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ سب سے پہلے امریکہ اور مغربی یورپ میں جان بوجھ کر منافع کو زندگیوں پر ترجیح دینے، صحت عامہ کے اقدامات کے نفاذ کو مسترد کرنے کے لئے سارس کوو 2-کو ختم کرنی بجائے ایسی پالیسیاں اپنائی گئیں کہ جس سے وائرس کو پوری دنیا کی آبادی میں بڑے پیمانے پر پھیلنے دیا گیا۔
3۔ پورے 2020کے دوران اور 2021تک، حکومتوں اور میڈیا نے یہ دعویٰ برقرار رکھا کہ وبائی امراض کے خلاف جنگ کو کامیابی سے کاروبار دوست بنیادوں پر تخفیف کے محدود اقدامات کے ساتھ ویکسینیشن کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ نقطہ نظر اسکولوں کو محفوظ طریقے سے دوبارہ کھولنے اور کارکنوں کو اپنی ملازمتوں پر رہنے کی اجازت دے گا۔ یہ دعوے شروع سے ہی سائنس کے دانستہ طور پر متضاد اور مخالفت پر مبنی تھے، جس نے ثابت کیاکہ سارس کوو2- بنیادی طور پر ایروسول، یعنی ہوا میں چھوٹے ذرات کے ذریعے منتقل ہوتا ہے جو گھنٹوں ہوا میں موجود رہتے ہیں۔ کام کرنے کی اندرونی جگہیں مناسب فلٹر اور وینٹیلیشن سے محروم ہیں، بشمول اسکولوں کی اکثریت، اس طرح وائرل ٹرانسمیشن کے بنیادی مراکز رہے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ بنیادی جھوٹ یہ تھا کہ وبائی مرض کو قومی اقدامات کی بنیاد پر دبایا جاسکتا ہے، اس طرح عالمی حکمت عملی اور تمام ممالک کے لئے ویکسین کو آزادنہ طور پر دستیاب کرانے کے لئے موثر پروگراموں کی عدم موجودگی کو جائز بنایا گیا۔ لیکن یہ جھوٹ اور غلط حکمت عملی اومیکرن قسم کے ابھرنے سے پوری طرح سے اشکار ہوچکی ہے۔
4- اومیکرون کا ردعمل اس دکھاوے کا مکمل خاتمہ ہے کہ حکومتیں وبائی مرض کو ختم کرنے پر مرکوز ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ اور مغربی یورپ کی سربراہی میں، پوری دنیا میں زیادہ تر حکومتوں کی طرف سے کھلے عام جس حکمت عملی پر عمل کیا جا رہا ہے وہ ہے ”اجتماعی مدافعت یعنی ہرڈایمونٹی“۔ اس مجرمانہ پالیسی کا بنیادی تصور یہ ہے کہ دنیا کے انسانوں کی کسیر تعداد اس وائرس سے متاثر ہونے کے بعد کسی نقطے پر جو نہ معلوم ہے کہ وائرس آسانی سے قابل رسائی متاثرین کے دستیاب ذخیرے کو ختم کرکے تھک جائے گا۔ جیسا کہ فنانشل ٹائمز نے 3جنوری کو اداریہ لکھا”یہ نتیجہ اخذ کرنا مقول ہے کہ وائرس اور انسانی مدافعتی نظام کے درمیان تعامل کا مطلب یہ ہے کہ جتنے زیادہ لوگ ویکسینیشن یا انفکشن کے ذریعے کوویڈ کی شدد علامات کے خلاف کچھ تحفظ حاصل کریں گے، نقطہ نظر اتنا ہی بہتر ہوگا“۔
5۔ یہ خاص طور پر غور کرنے کی بات ہے کہ فنانشل ٹائمز بیماری کو ختم کرنے کے امکان پر بھی غور نہیں کرتا ہے۔ کوویڈ19-کو ختم کرنے کے لیے 2020کے آغاز میں جو بھی کم موقع ہمارے پاس تھا، وہ بہت پہلے سے گزر چکا ہے۔ اس نے زور دے کر کہا ”عالمی صحت کی ہنگامی صورتحال کے تناظر میں ابھی تک وبائی مرض پر قابو پانے کی کوششوں کو جائز قرار دیا گیا ہے لیکن وہ غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہ سکتے۔ ذہنی صحت اور تندرستی، سماجی ہم آہنگی اور عالمی معیشت کو ملحقہ ہونے والے نقصان بہت ہی زیادہ ہوگا۔“
6۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے، سارس کوو2-برسوں یہاں تک کہ دہائیوں تک ایک مقامی بیماری کے طور پر برقرار رہے گا۔ مصائب اور انسانی زندگیوں میں کیا نتیجہ نکلے گا؟ کارپوریٹ مالیاتی اشرفیا اور وہ حکومتیں جن پر وہ کنٹرول کرتے ہیں اس کی پرواہ نہیں کرتے ہیں۔ ایک گھناؤنی سماج دشمن ذہنیت سرمایہ دار طبقے کے اندر گہرائی تک پیوست ہے۔ا س کی توجہ مرنے والوں کی تعداد پر نہیں بلکہ حصص کی مارکیٹ کی تشخیص پر ہے۔
7۔ چارلس ڈکنز نے فرانسیسی انقلاب سے پہلے کے سالوں کو ”بہترین وقت“ اور ”بدترین وقت“ کے طور پر بیان کیا۔ یہ الفاظ موجودہ حقیقت پر کس حد تک لاگو ہوتے ہیں۔سرمایہ دار طبقے کے لیے وبا کے سال کسی نعمت سے کم نہیں رہے۔ ایپل کی مارکیٹ ویلیوایشن 125فیصد بڑھ کر 3.0ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہوگئی۔ مائیکروسوفٹ کی قیمت 110فیصد بڑھ کر 2.5ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ الفابیٹ کی مارکیٹ ویلیوایشن 108فیصد بڑھ کر 1.9ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ ٹیسلا کے حصص کی قیمت جس پر سوشیوپیتھ ایلون مسک کا کنٹرول ہے، 1311فیصد بڑھ کر 1.1ٹریلین ڈالر ہوگیا۔ 5فیصد امیر ترین اور متوسط طبقے کے امیر ترین طبقوں کی اجتماعی دولت میں اضافہ ہوا ہے۔
8۔ لیکن معاشرے کا بہت بڑا طبقہ ”بدترین دور“ میں جی رہا ہے۔ وبائی مرض کے شروع ہونے کے دوسالوں میں سرکاری اعداد شمار کے مطابق 5.5ملین افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس میں صرف امریکہ میں 840000سے زیادہ شامل ہیں۔ تاہم حقیقی ہلاکتوں کی تعداد ”زیادہ اموات“ سے ناپا جاتا ہے جس کی وبائی بیماری کے بغیر توقع کی جاسکتی تھی، اس کا تخمینہ 18ملین سے زیادہ ہے۔ اس طرح جنوری2020کے بعد سے صرف دو سالوں میں وبائی امراض سے ہونے والی کل اموات پہلی عالمی جنگ (1914-1918) کے چار سالوں کے دوران تقریباً 20 ملین فوجی اور سویلین اموات کا مقابلہ کرتی ہیں۔
9-ہلاکتوں کی تعداد جتنی بھیانک ہے، وبائی امراض کے تباہ کن اثرات کا ایک ناکافی پیمانہ ہے۔ سارس کوو2-سے متاثر ہونیو الے لوگوں کی ایک بڑی تعداد طویل عرصے تک علامات کے ساتھ جکڑلیتی ہے جسے لانگ کووڈ کہا جاتا ہے، جو متعدد اعضاء کے نظاموں کو متاثر کرتی ہے اور وسیع پیمانے پر کمزوری، جسمانی طور پر تکلیف دہ اور جذبانی طور پر داغ دار اثرات پیدا کرتی ہے۔ جولائی 2021میں ای کلینیکل میڈیسن کی آن لائن پوسٹ کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق اس کے مطالعے کے جواب دہندگان کی اکثریت کو لانگ کووڈ سے صحت یاب ہونے کے لئے 35 ہفتوں تقریباً نو ماہ سے زیادہ کا وقت درکار تھا۔
10۔ یہ نتیجہ ناگزیر نہیں تھا۔ 1.4بلین افراد کی آبادی والے ملک چین میں تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ ”زیرو کووڈ“ پالیسی قابل عمل اور انتہائی موثر ہے۔ اس پالیسی پر عمل درآمد کرتے ہوئے چین نے مئی 2020سے اب تک صرف دو اموات کے ساتھ اموات کو 5000سے کم تک محدود کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
11۔ وائرس کو ختم کرنے کے آپشن کو مسترد کرنے کے بعد ریاست ہاے متحدہ امریکا اور یورپ میں میڈیا چین کی پالیسی کو اس بیماری کے لئے ایک ظالمانہ اور یہاں تک کہ عجیب و غریب ردعمل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ چین کی حکومت یقینی طور پر ”آمرانہ“ ہے۔ لیکن اس طرح کا بیان کا اطلاق ایک درست ردعمل کو بدنام کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، جسے وبائی مرض کے لیے وسیع البنیاد عوامی حمایت حاصل ہے۔ درحقیقت چین اب تک صحت عامہ کی بنیادی اقدامات کو بروکار لاکر وائرس پر قابو پانے میں کامیاب رہا ہے، جس میں ٹارگٹڈ لاک ڈاؤن، بڑے پیمانے پر جانچ اور رابطے کا پتہ لگانا اور متاثرہ افراد کو الگ تھلگ کرنا شامل ہے۔
12۔ انفیکشن کو روکنے کے لیے قرنطینہ کا استعمال مثال کے طور پر بیماری سے بچاؤ کا ایک طریقہ ہے جو 14ویں صدی کے وینس میں بلیک ڈیتھ کے دور سے تعلق رکھتا ہے، بلاشبہ بیماریوں کو قرنطینہ کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے جدید ذرائع 800سال پہلے کے ابتدائی حالات میں ممکن ہونے سے کہیں زیادہ نفیس ہیں۔ لیکن قرون وسطیٰ کے یورپ میں بھی موت کو ایک بیماری کا بدترین نتیجہ سمجھا جاتا تھا، اگر ممکن ہو تو اسے روکا جائے۔ ایسا کیوں ہے کہ 21ویں صدی میں جن ممالک کے پاس سب سے زیادہ ٹیکنالوجی موجود ہے، وہ پالیسی کے معاملے میں جانی نقصان کو پیسے کے نقصان پر ترجیح دینے کا فیصلہ کرتے ہیں؟ موجودہ سرمایہ دارانہ حکومتوں کی طرف سے اپنایا جانے والا دوٹوک قوت ”ہرڈایمونٹی“ کا ردعمل جان بوجھ کر ایسے اقدامات کو مسترد کرنا جو سارس کوو2-کی منتقلی کو روک سکتے ہیں اور وباہی مرض کو ختم کرسکتے ہیں۔ ایک خوفناک سماجی اور اخلاقی رجعت کی نمائندگی کرتا ہے۔
13۔ ٹراٹسکی نے ایک بار مشاہدہ کیا کہ تاریخ میں ضرورت کا احساس ”حادثات کے قدرتی انتخاب سے ہوتا ہے“۔ ”ووہان کے گیلے بازار میں ایک خاص چمگادڑ کے وائرس نے انسانوں کو متاثر کیا ایک حادثہ تھا۔ لیکن سماجی، اقتصادی اور ماحولیاتی حالات کے پیچیدہ تعامل میں جڑے ہوئے اس طرح کے واقعے کے امکان کا اندازہ لگایا جا چکا تھا۔ تاریخی معنوں میں وائرس کی زونوٹک منتقلی“ ایک حادثہ ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔ اسی طرح بڑے سرمایہ دار ممالک کی جانب سے ایسے واقعے کے لیے سنجیدہ تیاری کی عدم موجودگی اور اس کے بعد ہونے والے فیصلوں کے تباہ کن سلسلے کا تعین عالمی سرمایہ داری کے تاریخی طور پر فرسودہ ڈھانچے اور اس کے حکمران طبقے کے رجعتی سماجی اور معاشی مفادات نے کیا۔
تاریخ میں صحت عامہ اور سماجی ترقی:
14- صحت عامہ کی حالت سماجی ترقی اور معاشرے کی مجموعی حالت کے سب سے اہم اشاریوں میں سے ایک ہے۔ جیسا کہ آنجہانی شاندار اسکالر جارج روزن نے 1958میں شائع ہونے ولی عوامی صحت کی تاریخ میں لکھا تھا، ”اپنے شہریوں کی صحت اور بہبود کا تحفظ اور فروغ جدید ریاست کے اہم ترین کاموں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے“، عوامی حفظان صحت میں بیشرفت، انسانی جسم کے اعواض کی سمجھ، بیماریوں، بیماریوں اور ان کا علاج، انفیکشن سے نمٹنے کے لیے جراثیم کش ماحول کی اہمیت کو تسلیم کرنا، ویکسین اور اینٹی بائیوٹکس کی ترقی بچوں کی اموات میں کمی اور متوقع عمر میں اضافہ۔ ایسی کامیابیوں کو انسانی تہذیب کی تاریخ میں سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔
15۔ 18 ویں صدی میں روشن خیالی کی فکر کا ایک اہم عنصر یہ یقین تھا کہ کسی ملک کی آبادی کی جسمانی صحت اور اس کی سماجی اور سیاسی تنظیم کے معیار کے درمیان گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اس عقیدے کو شمالی امریکہ میں روشن خیالی کے پیروکاروں نے برقرار رکھا اور برطانیہ کے خلاف نوآبادیات کی انقلابی جدوجہد کی حمایت میں آواز بلند کی۔ بینجمن رش، تھامس جیفرسن کے قریبی دوست اور امریکن روشن خیالی کے سب سے زیادہ بااثر نقادوں میں سے تھے، 1774میں امریکن فلاسفیکل سوسائٹی میں پہلے پڑھے گئے ایک مقالے میں یہ مشاہدہ کیا گیا تھا اور جیسا کہ جارج روزن نے نوٹ کیا تھا ”کہ بیماری، سیاسی ادارے اور معاشی تنظیمیں اتنی باہم مربوط ہیں کہ ہمیشہ بڑی سماجی تبدیلی نے صحت کے شعبے میں بڑی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ [2]
16۔ روشن خیالی کی اس بصیرت کو صحت عامہ کے شعبے میں بعد میں ہونے والی پیشرفت سے ثابت کیا گیا جو 19ویں صدی میں ابھرنے والی انقلابی جمہوری اور سوشلسٹ تحریکوں میں محنت کش طبقے کی جدوجہد کے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا تھا اور اس سے بھی زیادہ طاقتور اقدامات 20ویں صدی میں اٹھے گے صنعتی محنت کش طبقے کی تیزی سے طاقتور سماجی، سیاسی اور ممکنہ طور پر انقلابی قوت کے طور پر ترقی اور جدید معاشرے میں صحت عامہ کے ایک مرکزی مسئلے کے طور پر ابھرنے کے درمیان تعلق ایک ناقابل تردید تاریخی حقیقت ہے۔ محنت کش طبقے کی طرف سے کی گئی پیش رفت صحت عامہ میں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔ ان پیش رفتوں میں سب سے اہم 1917کا اکتوبر انقلاب تھا۔
اکتوبر انقلاب کی عالمی تاریخی اہمیت:
17۔ روس میں 1917کا اکتوبر انقلاب، بالشویک پارٹی کی قیادت میں اور پہلی سامراجی عالمی جنگ کے قتل عام سے پیدا ہوا، عالمی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا۔ 150ملین آبادی والے ملک میں پہلی مزدور ریاست کے قیام نے عملی طور پر سرمایہ داری کے تاریخی عبوری کردار اور بور ژوازی کی حکمرانی کا مظاہرہ کیا۔اکتوبر انقلاب کے سماجی اثرات اور تاریخی اثرات عالمی نوعیت کے تھے۔ روس میں مزدوروں کی طاقت کا قیام اور ذرائع پیداوار پر سرمایہ دارانہ ملکیت کا خاتمہ شروع ہوا۔ لیکن جیسا کہ ٹراٹسکی نے کہا تھا:
سوشلسٹ انقلاب قومی اکھاڑئے سے شروع ہوتا ہے، یہ بین الاقوامی میدان پر آشکار ہوتا ہے اور عالمی کرہ ارض میں مکمل ہوتا۔ اس طرح، سوشلسٹ انقلاب لفظ کے نئے اور وسیع تر معنوں میں ایک مستقل انقلاب بن جاتا ہے۔ اس کی تکمیل صرف ہمارے پورے سیارے پر نئے معاشرے کی حتمی فتح میں ہوتی ہے۔ [3]
18- اکتوبر انقلاب نے نہ صرف سوویت یونین کی سرحدوں کے اندر ایک بے پناہ ترقی پسند سماجی، اقتصادی اور ثقافتی تبدیلیاں کیں۔ اس کا سب سے بڑا اثر وہ تحریک تھی جو اس نے پوری دنیا میں محنت کش طبقے اور مظلوم عوام کی جدوجہد کو دی۔ کمیونسٹ انٹرنیشنل کی بنیاد اور 1919 اور1922کے درمیان منعقد ہونے والی اس کی پہلی چار کانگرسیس نے سوشلسٹ انقلاب کی تیاری اور رہنمائی کے مسئلے کو بین الاقوامی محنت کش طبقے کے سیاسی ایجنڈے پر رکھا۔
19۔ حکمران طبقات نے شروع سے ہی اکتوبر انقلاب سے لاحق بے پناہ خطرے کو تسلیم کرلیا۔ جیسے ہی روس میں اس کی شکست کی شدت واضح ہوتی گئی، یورپ میں سرمایہ دار طبقے نے سوشلسٹ انقلاب کے خطرے کو دبانے کے لیے وحشیانہ تشدد کا سہارا لیا۔ اکتوبر انقلاب کے بعد فاشزم سب سے پہلے ایک اہم تحریک کے طور پر ابھرا۔
20۔ اپنی تمام تر دولت اور طاقت کے لئے، امریکی حکمران طبقہ سوشلسٹ انقلاب کے خوف سے کسی سے پیچھے نہیں تھا۔ یہ خوف کسی غیر معقول ہنگامہ خیزی کا اظہار نہیں تھا۔ امریکی سرمایہ داری کے بڑے پیمانے پر، جیسا کہ اس نے خانہ جنگی کے بعد تیزی سے ترقی کی، ایک بہت بڑا محنت کش طبقہ پیدا کیا جو کثیر النسل اور کثیرلثقافتی ہے، جس کی طاقت اگر طبقاتی شعور سے لیس ہو اور سیاسی طور پر منظم حرکت کرے، تو موجودہ سماجی نظام کے لیے ایک نہ رکنے والا چیلنج بن سکتا ہے۔ 1871کے اوائل میں، امریکی حکمران طبقے نے پیرس کمیون کے ظہور کا جواب کمیونسٹ مخالف جنون کے پھٹنے کے ساتھ دیا۔ جیسا کہ ریاست ہائے متحدہ میں 1870کی دہائی سے طبقاتی جدوجہد کی نشو و نما ہوئی، حکومت اور کارپوریشنوں کی طرف سے مزدوروں کو دبانے کے لیے استعمال کیے جانے والے بے رحمانہ تشدد کو کمیونزم مخالف نظریاتی سوچ کے طور پر استعمال کیا۔ جیسا کہ مورخ نک فشر نے لکھا:
ظلم اور جبر کے ساتھ ان کی کارکردگی کے باوجود جو عام طور ان پر لاگو ہوتی ہے، کمیونزم کے مخالفین نے اکثر اس خوف کا اظہار کیا کہ ”کمیونزم“ کی قوتیں کامیاب ہوسکتی ہیں جہاں پچھلے تمام عقائد اور عوامی تحریکیں ناکام ہوچکی تھیں۔ ”کمیونسٹ“ شاید امریکہ کے وسیع کچلے ہوئے محنت کش طبقے کے مختلف عناصر کو ایک متحدہ قوت میں ضم کردیں جو انقلاب میں ابھرے جیسا کہ 1905میں پیرس اور بعد میں روس میں ہوا تھا۔ جہاں پروگرسیوازم، پاپولزم، فری سیلور، ہومسٹیڈی، فری سویل، معاوضہ، تعمیرنو اور نجات کچھ حل نہ کر سکی تو پھر ”کمیونزم“ جیت سکتا ہے۔ اس کے جھنڈے تلے، شہری اور دیہی پرولتاریہ اپنے اختلافات کو ختم کرسکتے ہیں۔ سفید اور سیاہ مزدور، کاشتکار اور مقامی پیدا ہونے والے اور تارکین وطن کام کرنے والے، کیتھولک اور پروٹسٹنٹ، عیسائی اور یہودی سب ایک ہوسکتے ہیں۔ یہاں ڈراؤنا خواب تھا۔ [4]
روسی انقلاب پر امریکی سامراج کا ردعمل:
21۔ اکتوبر انقلاب کو امریکی حکمران طبقے نے نہ صرف ملکی استحکام کے لیے خطرہ کے طور پر دیکھا۔ یہ تاریخی ستم ظریفیوں میں سے ایک ہے کہ تاریخ کے دو اہم واقعات۔ ایک ردانقلابی اور دوسرا انقلابی۔ ایک ہی سال کے ایک ہی مہینے میں، ایک دوسرے کے چند ہفتوں کے اندر رونما ہوئے۔ 3 اپریل 1917کو، صدر ووڈرو ولسن، ایک ڈیموکریٹ نے امریکی کانگریس سے جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کرنے کا مطالبہ کیا، یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس نے ریاست ہائے متحدہ کو عالمی سامراجی طاقت کے طور پر ابھرنے کا مرکزی نقطہ فراہم کیا۔ دو ہفتے بعد 16اپریل 1917کو، لینن جلاوطنی سے پیٹرو گراڈ پہنچے اور بالشویک پارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ روسی سرمایہ دارانہ عارضی حکومت کا تختہ الٹنے اور سوویت مزدوروں کونسلوں کی بنیاد پر مزدوروں کے اقتدار کے قیام کی تیاری کرے۔
22- تاریخی عمل کے اس قابل ذکر چوراہے کی اہمیت یہ ہے کہ امریکی سامراج کا عروج سماجی انقلاب کے لازوال خطرے کے ساتھ ساتھ پروان چڑھا۔ 20ویں صدی کے دوران، مرکزی تزویراتی مسئلہ جس نے امریکی حکمران طبقے کا سامنا کیا وہ یہ تھا کہ ملکی اور عالمی مشترکہ خطرے کا جواب کیسے دیا جائے۔
23۔ ابتدائی ردعمل تشدد کا استعمال تھا۔ ووڈروولسن کی انتطامیہ نے سوویت یونین میں فوج بھیجی جو بالشویک حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے ایک تباہ کن فوجی مہم ثابت ہوئی۔ ریاست ہائے متحدہ کے اندر ”ترقی پسند“ ولسن انتظامیہ نے جنگجو ورکروں کی لہر پر اچانک حملے اور جبر کے ساتھ ردعمل کا اظہارکیا۔ 1919اور 1920کے سالوں میں بدنام زمانہ ”سرخ خوف“ اور پامر چھاپے (سوشلسٹوں اور اطالوی تارکین پر تشدد وغیرہ)، ساکو اور وانزیٹی کی گرفتاری، اور ملک گیر اسٹیل ہڑتال کو وحشیانہ طریقے سے کچلانے کا مشاہدہ کیا گیا۔ 1920کی دہائی کے دوران، سیاسی ردعمل ”معمول کی طرف واپسی“ کے نعرے کے تحت غالب رہا۔ کوکلوکس کلاں (امریکہ میں نسل پرست فاشٹ ایک خفیہ تنظیم) تیزی سے بڑھتی گئی۔ ہنری فورڈ جو محنت کش اور یہود مخالف تھے، ہٹلر کی جرمنی میں پیشرفت پر جوش و خروش کے ساتھ عمل کیا اور نازیوں کو مالی مدد فراہم کی۔ ساکو اور وانزیٹی کے حق میں دنیا بھر میں ہونے والے مظاہروں کے باوجود آخرکار اگست 1927میں ریاست میساچوسٹس میں الیکٹرک چیئر پر قتل کردیا گیا۔
24۔ 1929کا وال اسٹریٹ کریش اور ڈپریشن کے آغاز نے امریکی حکمران طبقے کو داخلی پالیسی میں تبدیلی پر مجبور کردیا۔ سنگین سماجی حالات نے محنت کش طبقے کو ریڈ کللایز کردیا تھا اس حقیقت کے باوجود کہ یو ایس ایس آر میں سٹالنسٹ حکومت عالمی سوشلسٹ انقلاب کے نقطہ نظر کو پہلے سے زیادہ واضح طور پر مسترد کر رہی تھی، فرینکن ڈیلا نو روز ویلٹ کی انتظامیہ جو 1933میں برسر اقتدار آئی تھی، تو ان کے شعور پر اکتوبر انقلاب کے اثرات خوفزدہ طور پر پائے جاتے تھے۔ محنت کش طبقہ سے روزویلٹ کا امریکی عوام کے لیے ایک ’نئی ڈیل“ کا وعدہ، جس کے بعد ”سماجی تحفظ“ کو متعارف کرانے جیسی اصلاحات فانذ کی گئیں، ان اقدامات کے پیچھے خوف چھپا ہوا تھا تاکہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں طبقاتی جدوجہد کی بڑھتی ہوئی لہر کو ٹھنڈا کیا جاسکے۔ کانگریس آف انڈسٹریل آرگنائزیشنز (CEO) کی تشکیل ریاست ہائے متحدہ میں ہوئی ہوئی تھی جس کی قیادت وہ کر رہی تھی اور ان ہڑتالوں کی ایک بے مثال لہر جس میں سوشلسٹ بائیں بازونے ایک اہم کردار ادا کیا۔ ان کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں جب دھرنوں اور ہڑتالوں میں فیکٹریوں پر قبضے شامل کرنے کا اشارہ کیا گیا جو ایک واضح انقلابی کردار تھا۔
25۔ دوسری عالمی جنگ کے پھوٹنے کے اثرات نے بین الاقوامی سطح پر محنت کش طبقے اور مظلوم عوام کو وسیع پیمانے پر ریٹسیکلیزشین کی جانب طویل مدت تک دھکیل دیا۔ اگرچہ 1930کی دہائی میں سٹالن کی طرف سے جاری کردہ پالیسیوں، بشمول قاتلانہ اخراج اور ہٹلر کے ساتھ 1939کے عدم جارحیت کے معاہدے پر دستخط، نے سوویت یونین کو تباہی کے بالکل دہانے پر پہنچادیا تھا، لیکن جون 1941کے جرمن حملے کے بعد ہونے والی ابتدائی شکستوں سے بحالی سوویت یونین کی اقتصادی اور سماجی کامیابیوں کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ دسمبر1041میں امریکہ کے عالمی جنگ میں داخل ہونے کے بعد، سوویت یونین کے بغیر جرمنی اور جاپان پر فتح ممکن نہیں تھی۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد سماجی اصلاحات:
26۔ نازی جرمنی کی شکست میں سوویت یونین نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ اگرچہ سٹالنسٹ حکومت نے ریاست ہائے متحدہ کے ساتھ خود کو ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ جنگ کے بعد پوری دنیا میں پھیلنے والی عوامی جدوجہد کی لہر کو مکمل طور پر کنٹرول نہیں کرسکی۔ اس نے مل کر امریکہ اور اس کے سامراجی اتحادیوں کے ساتھ سفاکانہ فوجی کاروائیوں، سیاسی جبر اور اصلاحی سمجھوتے کے ہنر مندانہ امتزاج سے انقلابی خطرے کو روکنے کی کوشش کی۔ بین الاقوامی اور ملکی سطح پر ان عناصر کا تعامل سرد جنگ کی واضح خصوصیت تھیں۔
27۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد کے 25سالوں کے دوران، سماجی سمجھوتہ کی گھریلو پالیسی غالب رہی۔ سمجھوتہ کی مادی بنیادی عالمی معیشت کی عمومی توسیع تھی جس نے سماجی اصلاحات کو ممکن بنایا۔ بین الاقوامی محاذ پر امریکہ نے دوسری عالمی جنگ کے بعد کی نوآبادیاتی مخالف تحریکوں کے خلاف عالمی مزاحمت کی قیادت کی۔ اس نے ان تمام حکومتوں کا تختہ الٹنے کا منصوبہ بنایا، جیسا کہ ایران اور گوئٹے مالا۔ جنہیں امریکی سامراج کے عالمی مفادات کو نقصان پہنچانے کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ کوریا اور ویتنام میں، امریکہ نے حیران کن سطح پر فوجی تشدد کا سہارا لیا۔ لیکن اس کی اپنی فوجی طاقت کے پورے وزن کو تعنیات کرنے کی صلاحیت۔ خاص طور پر جوہری ہتھیاروں کا استعمال جس کا سہارہ امریکہ نے 1945میں جاپان کے خلاف کیا تھا (نہ کرنا کافی حد تک سوویت یونین کا وجود تھا)۔ سوویت یونین اور امریکہ اس امکان کی تردید نہیں کرسکتے کہ سوویت اتحادی کے خلاف لامحدود فوجی کاروائی کریملن کی طرف سے ممکنہ طور پر تباہ کن عالمی نتائج کے ساتھ فوجی ردعمل کو متحرک کرسکتی ہے۔ یہ یقینی طور پر فیصلہ کن عنصر تھا جس کی وجہ سے صدر ٹرومین نے 1950میں چین کے خلاف جوہری جنگ چھیڑنے کا فیصلہ کو رد کیا۔ صدر کینیڈی کا 1962میں کیوبا پر حملہ نہ کرنے، اور صدر جانسن اور نکسن کا شمالی ویتنام پر ایٹمی بم گرانے کی جرات نہ کرنے کی اہم وجہ مدمقابل سوویت یونین تھیں۔
28۔ ریاست ہائے متحدہ اور مغربی یورپ کے اندر بڑے اصلاحاتی اقدامات اکتوبر انقلاب کے بقا یا سیاسی اور سماجی نتائج سے گہرے طور پر متاثر رہی ہے۔ جرمنی میں سوشل مارکیٹ اکانومی کا قیام اور برطانیہ میں نیشنل ہیلتھ سروس کے ساتھ ساتھ سماجی بہبود کی ریاستوں کی بہت سی دوسری شکلیں جو دوسری عالمی جنگ کے نتیجے میں ابھریں، وہ تمام اکتوبر انقلاب کی آفٹرشاکس کی پیداوار تھیں۔ امریکہ کے اندر 1960کی دہائی کی عظیم سوسائٹی کی شکل میں نئی ڈیل کی توسیع اسی عمل کا مظہر تھی۔ عظیم سوسائٹی کی طرف سے کئے گئے تمام اقدامات میں، میڈیکیئر اور بعد میں میڈیکیڈ کا تعارف سب سے اہم تھا۔ آنے والے سالوں میں دونوں سیاسی ردعمل کے طور پر سرمایہ دار جماعتون کے مسلسل حملے کا نشانہ ہونگی۔
29- جنگ کے بعد کے بین الاقوامی اور ملکی سیاسی انتظامات کا ٹوٹنا سرمایہ داری کے بحران اور کمزوری کا نتیجہ تھا، نہ کہ اس کی طاقت، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی عالمی اقتصادی پوزیشن میں طویل مدتی گراوٹ، جو اس کے تجارتی اور ادائیگیوں کے توازن میں مسلسل بگاڑ سے ظاہر ہوتی ہے۔ 1960کی دہائی کے آخر میں بحران کے ایک موڑ پر پہنچ گئی۔ بڑھتی ہوئی افراط زر اور قومی بجٹ پر دباؤ کو انتباہ کے طور پر دیکھا گیا کہ امریکہ بیک وقت بیرون ملک جنگوں اور اندرون ملک سماجی اصلاحات کے لیے مالی اعانت نہیں کرسکتا۔ محنت کش طبقے کی بڑھتی ہوئی ریڈیکلیزیشن اور ایک بین الاقوامی عمل نے اصلاح پسند جماعتوں اور ٹریڈ یونینوں کے کنٹرول سے فرار ہونے کا خطرہ پیدا کردیا۔ ریاست ہائے متحدہ کے 1971کے بریٹن ووڈس نظام کو ختم کرنے کے فیصلے نے جو 1944میں قائم کیا گیا تھا اور ڈالر سونے کی تبدیلی پر مبنی تھا، نے قومی اصلاحی پالیسیوں کی موت کی گھنٹی بجائی اور سرمایہ دارانہ سماجی ردعمل کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔
30۔ سوویت یونین اور اس کی مشرقی یورپی ”بفر ریاستیں“ قومی سطح پر مبنی اصلاح پسندی کے بڑھتے ہوئے بحران سے مستثنیٰ نہیں تھیں۔ سوویت معیشت کی ترقی اور بڑھتی ہوئی پیچیدگی نے اس کے قومی منصوبہ بندی کے نظام کو تیزی سے ناقابل عمل بنادیا۔ اس کے لیے عالمی معیشت کے وسائل تک رسائی کی ضرورت تھی، لیکن یہ صرف دو صورتوں میں سے ایک طریقے سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یا تو سرمایہ داری کے خاتمے اور سوشلسٹ بنیادوں پر عالمی معیشت کی تنظیم نو کے ذریعے۔ یا عالمی سرمایہ داری کے ڈھانچے میں سوویت معیشت کے انضمام کے ذریعے۔ دوسری صورت میں قومی صنعت کو ختم کرنے، غیر ملکی تجارت پر ریاستی اجارہ داری کو ترک کرنے، لیبر مارکیٹ کی تخلیق اور نجی املاک کی ملکیت اور ذاتی دولت کو جمع کرنے پر پابندیوں کو ہٹانے کی ضرورت پر مبنی تھی۔
31۔ پہلی صورت سوویت بیورو کریسی کے مفادات سے بالکل مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ اس کی مادی مراعات کا دفاع سامراج کے ساتھ”پرامن بقائے باہمی“ کی پالیسی پر منحصر تھا، جو کہ ایک ملک میں سوشلزم کے پرانے سٹالنسٹ پروگرام کا دوبارہ تجدید عہد پر تھا۔ اس طرح سٹالنسٹ حکومت کا انتخاب اکتوبر انقلاب کے پورے ترقی پسند معاشی اور سماجی ورثے کی حتمی تردید تھا۔ اس بھیانک غداری کا نتیجہ نہ صرف سوویت عوام کے لیے المناک تھا۔ اس نے 20 ویں صدی کے دوران محنت کش طبقے کی طرف سے کی گئی تمام ترقی پسند پیش رفتوں پر عالمی حملے کے لیے سیلاب کے دروازے کھول دیے۔ وبائی مرض پر حکمران طبقے کے وحشیانہ ردعمل کو اس تاریخی تناظر میں ہی سمجھا جاسکتا ہے۔
سوویت یونین کی تحلیل کے 30سال اور سرمایہ دارانہ عمل کے سماجی اثرات:
32۔ دسمبر1991میں سوویت یونین کی تحلیل کو اب 30سال ہوچکے ہیں۔ میخائل گورباچوف کی سربراہی میں سٹالنسٹ حکومت کی طرف سے ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت کو بحال کرنے کے فیصلے کو حکمران طبقے نے فیصلہ کن اور ناقابل واپسی تاریخی فتح کے طور پر سراہا تھا۔ سرمایہ داری کے بعض نے تو ”تاریخ کا خاتمہ“ بھی قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سوویت یونین کے خاتمے نے ثابت کردیا کہ سرمایہ داری اور قومی ریاستی نظام پر مبنی بورژوا جمہوریت انسانی ترقی کے عروج کی نمائندگی کرتی ہے۔ سوشلزم کی طرف سے سرمایہ داری کو درپیش چیلنج ہمیشہ کے لیے شکست کھا چکا تھا۔
33- تاریخ کی یہ فریبی تشریح دو بنیادی غلط فہمیوں پر مبنی تھی: پہلا یہ تھا کہ کیا سوویت اسٹالنزم کا سوشلزم اور مارکسزم سے کوئی تعلق تھا۔دوسرا یہ تھا کہ سٹالنسٹ حکومت کا خاتمہ اشارہ کرتا ہے۔ سرمایہ داری کے تاریخی بحران سے مارو اور پرعزم طور پر اس کے حل کی علامت تھا۔
34۔ مئی 1990میں جیسا کہ مشرقی یورپ میں سٹالنسٹ ریاستیں قومی ملکیت کے تعلقات کو ختم کرنے کا عمل شروع کر رہی تھیں اور جیسا کہ گورباچوف نے ایسی پالیسیوں پر عمل کیا جو سوویت یونین کی تحلیل پر منتج ہوا، انٹرنیشنل کمپنی آف فورتھ انٹرنیشنل نے اس کے مضمرات پر بحث کی۔ سوشلسٹ انقلاب کے تناظر میں یہ پیش رفتہ (ICFI) کے 10ویں پلینیم کی ایک رپورٹ میں وضاحت کی:
مشرقی یورپ کے واقعات کی دو ممکنہ تشریحات کی جاسکتی ہیں۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ سوشلزم پر سرماریہ داری کی تاریخ فتح کی نمائندگی کرتا ہے۔ محنت کش طبقے کو تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سوشلزم کا نقطہ نظر بنیادی طور پر تباہ ہوچکا ہے اور ہم سرمایہ دارانہ ترقی کے بالکل نئے دور کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔ یا پھر اور یقینا یہ بین الاقوامی کمیٹی کا موقف ہے جو ہمیں دیگر تمام رجحانات سے ممتاز کرتا ہے کہ سامراجی جنگ کے بعد کے نظام کے ٹوٹنے سے گہرے عدم توزان کے دور کا آغاز ہوتا ہے جو بین الاقوامی سطح پر حل ہونے جا رہا ہے۔ بڑے پیمانے پر سیاسی اور سماجی جدوجہد؛ کہ آج جو چیز غالب ہے عدم استحکام کی وہ سطح ہے جو 1930کے بعد سے کسی بھی طورغیر مساوی ہے۔ [5]
35۔ تین دہائیوں بعد، اس میں کوئی شک نہیں کہ سوویت یونین کی تحلیل کی ممکنہ تشریحات میں سے کون سی درست ثابت ہوئی ہے۔ سرمایہ دارنہ نظام اپنے تضادات پر قابو پانے اور ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے سے کہیں دور رہا۔ پچھلی تین دہائیوں کی عمومی خصوصیات میں سماجی عدم مساوات کی انتہائی بڑھوتری، جارحیت کی لامتناہی اور پھیلتی ہوئی سامراجی جنگوں کا ایک مربوط سلسلہ اور جمہوری طرز حکمرانی کے بڑھتے ہوئے ٹوٹ پھوٹ کی خصوصیت ہیں۔ وبائی امراض کے دو سالوں میں ان تمام رجحانات میں تیزی آئی ہے۔
سماجی عدم مساوات کی بڑے پیمانے پر وسعت:
36۔ مالیاتی اشرافیہ نے وبائی مرض کو چوری کے لیے استعمال کیا ہے جیسا کہ اس نے پہلے کبھی چوری نہیں کی۔ CARESایکٹ (کورونا وائرس ایڈ، ریلیف اور اکنامک سیکیورٹی ایکٹ) کی طرف سے منظور شدہ، جوکہ مارچ 2020میں بھاری اکثریت سے دو طرفہ (یعنی ڈیموکریٹک اور ری پبلکن) بنیادوں پر منظور ہوا، یو ایس فیڈرل ریزرو نے وال اسٹریٹ کو کھربوں ڈالر کی نقدی سے بھردیا۔ فوربس میگزین کے مطابق نئے سال کے دن 2020کے موقع پر امریکی ارب پتیوں کے پاس 3.4ٹریلین ڈالر کی اجتماعی دولت تھی جو پہلے ہی ایک حیران کن رقم ہے۔ دو سال بعد ان کی دولت تقریباً 5.3ٹریلین ڈالر ہے جو کہ وبائی امراض کے دوران 1.8ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے۔
37- تمام بڑے سرمایہ دار ممالک میں ایک ہی پالیسی نافذ کی گئی ہے۔ 28دسمبر کو فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق کمپنیوں نے عالمی سرمائے کی منڈیوں کے لیے بلاک باسٹر سال میں 12ٹریلین ڈالرسے زیادہ اضافہ کیا۔ عالمی کارپوریشنز میں
اسٹاک بیچ کر، قرض جاری کرکے اور نئے قرضوں پر دستخط کرکے ریکارڈ 12.1 ٹریلین ڈالر اکھٹا کیا، مرکزی بینک کے محرک کے طور پر اوروبائی امراض سے تیزی سے بحالی نے بہت سی عالمی منڈیوں کو بلند سطح پر چھولیا۔فنانشل ٹائمز کے حسابات کے مطابق جوریفینٹیسو ڈیٹا لیا ہے کہ سال میں ابھی کچھ دن باقی ہیں، 2020کے مقابلے میں نقد رقم پہلے ہی تقریباً 17 فیصد بڑھ چکی ہے، جو بذات خود ایک تاریخی سال تھا، اور 2019 میں کورونا وائرس کے بحران سے تقریباً ایک چوتھائی زیادہ ہے۔ فنڈریزنگ کی زبردست رفتار اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دنیا کے بہت سے حصوں میں مالی حالات کتنے آسان ہیں، خاص طور پر امریکہ جہاں 5 ٹریلین ڈالرسے زیادہ جمع کیے گئے تھے۔
38۔ مالیاتی منڈیوں کے بیل آؤٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ منافع پیدا کرنے والے مزدور ملازمت پر رہیں اور یہ کہ ان کے بچے وائرس سے متاثر ہوں اور وائرس پھیلانے کے لیے واپس اسکول بھیجا جائے۔ یہی طبقاتی منطق ہے جس نے حکمران طبقے کی پالیسی کو وبائی مرض کی طرف لے گئے، چاہے وہ بڑے پیمانے پر انفیکشن کی کھلی تشہیر کی صورت میں ہو یا بائیڈن انتطامیہ کی جانب سے ”صرف ویکسین“ کی حکمت عملی کو فروغ دیا جائے گی شکل میں ہو۔
امریکی سامراج کا عالمی پھیلاؤ:
39۔ حکمران طبقے کے استحصالی مفادات کے علاوہ، عالمی سطح پر مسابقتی قومی ریاستوں میں تقسیم ہونے سے اس وبائی مرض کے خلاف عقلی، سائنسی ردعمل کو روک دیا گیا ہے۔ وبائی بیماری اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک عالمی مسئلہ ہے جسے صرف بین الاقوامی تعاون کی بنیاد پر حل کیا جاسکتا ہے۔ بڑی سرمایہ دارانہ طاقتوں کے درمیان قومی اور جغرافیائی سیاسی تنازعات نے اسے ناممکن بنادیا ہے۔
40۔ تین دہائیاں قبل سوویت یونین کی تحلیل کے بعد مشرق وسطیٰ ایشیا میں امریکی سامراج کی قیادت میں جنگوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ پچھلی دہائی کے دوران امریکہ نے اپنی جنگی منصوبہ بندی کے اہداف کو پہلے سے زیادہ براہ راست جسے وہ اپنے اہم جیوپولیٹیکل حریف تصور کرتا ہے سب سے بڑھ کر، روس اور چین کی طرف منتقل کردیا ہے۔
41۔ وبائی مرض کے دو سالوں میں عسکریت پسندی کے خطرات میں شدت واقع ہوئی ہے۔ نئے سال کا آغاز بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے یوکرین میں نیٹو کی حمایت یافتہ فوجیوں کی لاپرواہی اور جذباتی قیادت کرنے کے ساتھ ہوتا ہے، جس نے دائیں بازو کی یوکرین کی حکومت کو روس کے ساتھ اپنی سرحد پر 125000فوجیوں کو تعینات کرنے کی ترغیب دی اور روسی صدر ولادیمیرپوتن کو متنبہ کیا کہ امریکہ کسی کے سرخ لائن کو نہیں مانتا۔ یوکرین کی حکومت کو روکنے کے بجائے، بائیڈن انتظامیہ فوجی تصادم کی حوصلہ افزائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔دسمبر میں ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے دھمکی دی تھی کہ ”اگر روس مزید آگے بڑھنے کا انتخاب کرتا ہے تو یوکرین اس کے لیے اگلا افغانستان بن سکتا ہے“۔
42- لیکن روس کے خلاف اشتعال انگیزیاں، جتنی خطرناک ہیں، بہت حد تک امریکہ کے اس عزم کو روکنے کے لیے کار فرما ہیں کہ اسے چین کی جانب سے عالمی بالادستی کی پوزیشن کو لاحق خطرے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ چین کے ساتھ جنگ کا امکان، حتیٰ کہ ناگزیریت، امریکی خارجہ پالیسی اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا میں ایک غالب موضوع ہے۔ امریکہ انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور ایغوروں کے خلاف ”نسل کشی“ کے الزام میں چین کی مذمت میں اضافہ کر رہا ہے۔ بحیرہ جنوبی چین بھڑتی ہوئی فوجی مشقیں منظم عسکری کار اور چین کے گھیراؤ میں اضافہ جاری و ساری ہے۔
43۔ وبائی مرض نے جنگ کے خطرے کو تیز کردیا ہے۔ عالمی صورتحال میں ایک بڑا اور بڑھتا ہوا عنصر امریکہ اور یورپ اور ایشیا پیسفک میں اس کے سامراجی اتحادیوں کی شدید خواہش ہے کہ وہ جنگ کو اپنی ملکی پالیسیوں کے تباہ کن نتائج سے توجہ ہٹانے اور عوام کو بیرونی پالیسیوں پر مرکوز کرنے کا ایک ذریعہ کے طور پر دیکھیں۔”ووہان لیب جھوٹ“ کے سازش کے پیچھے جو محرک قوتیں کار فرما تھیں آن کا مقصد چین کو دشمن کے طور پر دیکھا جائے اور وہ تمام شاندار دستاویزی شواہد کو مسترد کردیا گیا اور یہ دعویٰ کہ وبائی بیماری یا تو لیک ہونے یا کسی مہلک پیتھوجین کی مجرمانہ تیاری کی وجہ سے ہوئی تھی۔
جمہوریت کا خاتمہ:
44۔ آخرکار، وبائی مرض نے حکمرانی کی جمہوری شکلوں کے ٹوٹنے میں بہت تیزی اور شدت لائی ہے، کیونکہ مالیاتی اشرفیا نے ایک ایسی پالیسی نافذ کی ہے جس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کی موت واقع ہوئی ہے۔ وبائی مرض کے پہلے سال کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے متحرک فاشسٹ تنظیموں کو لاک ڈاؤن کے خلاف مہم اور وائرس پر قابو پانے کے لیے ضروری صحت عامہ کے تمام اقدامات پر عمل درآمد نہ کرنے کے طور پر استعمال کیا۔ 2020کے انتخابات کے دوران جیسے ہی لاشوں کے ڈھیر لگ گئے، ٹرمپ ووٹ کے نتائج کو تسلیم نہ کرنے اور آئین کو الٹنے کی ایک منظم سازش میں مصروف رہے۔
45۔ ٹرمپ کی سازشوں کا اختتام 6جنوری 2021کی فاشسٹ بغاوت کی کوشش پر ہوا جو ریاست ہائے متحدہ کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے۔ عالمی انتخابات میں بائیڈن کی جیت کو نہ تسلیم کرنے کا جھوٹا دعویٰ کے بعد، ٹرمپ اور فاشسٹ حکمت عملی ساز اسٹیفن بینن نے کانگریس کے ری پبلکن ارکان کا ایک نیٹ ورک منظم کیا اور انتخابی کالج کے انتخابی سرٹیفکیشن میں خلل ڈالنے کے مقصد سے فاشسٹ نیم فوجی دستوں کو متحرک کیا۔ 7 جنوری کے تناظر میں، WSWSنے اس بارے میں لکھا:
امریکی جمہوریت کی دیرینہ ناقابل تسخیریت اور لازوال تعریفوں کو مکمل طور پر بے نقاب اور اس کے کھوکھلے پن اور سیاسی افسانے کو آشکارا کیا ہے۔ امریکی فاشزم کے عروج کے بارے میں سنکلیئرلیوس کے منصافہ مشہور افسانوی اکاؤنٹ کے عنوان سے لیا گیا مشہور جملہ ”یہ یہاں نہیں ہوسکتا“ کو واقعات نے فیصلہ کن طور پر پیچھے چھوڑدیا۔ یہاں نہ صرف فاشسٹ بغاوت ہوسکتی ہے، بلکہ یہ یہاں 6جنوری 2021کی سہ پہر کو ہوئی۔
46- یہاں تک کہ جب ری پبلکن پارٹی خود کو زیادہ سے زیادہ ایک کھلم کھلا فاشسٹ پارٹی میں تبدیل کر رہی ہے، جو بائیڈن سے لے کر الیگزینڈریا اوکاسیو تک کے ڈیموکریٹس کا رویہ ان کی جانب ”ہماری ساتھی“ کے طور پر آتا رہا ہے، بائیڈن نے 8 جنوری 2021کو اعلان کیا، ”ہمیں ایک ایسی ری پبلکن پارٹی کی ضرورت ہے۔ وہ پارٹی جو اصولی اور مضبوط ہو“ ٹرمپ کو فلوریڈا کے محل سے اپنی اگلی چالوں کی منصوبہ بندی کرنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے، ان کے کانگریسی اتحادی اب بھی اپنے عہدوں پر برجمان ہیں۔ کئی ریاستوں میں مستقبل کے انتخابات میں لاکھوں ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کی تیاریوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔
47۔ مزید برآں، ٹرمپ ایک بین الاقوامی عمل کا حصہ ہے، جیسے جرمنی میں فاشسٹ متبادل فرڈوئش، اسپین میں ووکس، ہندوستان میں مودی اور برازیل میں بولسونارو اور دنیا کے تمام ممالک میں جہاں انتہائی دائیں بازو کا بڑھتا ہوا ابھار شامل ہے۔
وبائی بیماری اور عالمی طبقاتی جدوجہد:
48۔ پچھلے دو سالوں کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وبائی مرض کا خاتمہ محض طبی اقدامات سے نہیں ہوگا۔ بنیادی طور پر ایک سماجی بحران سے نکلنے کا راستہ مختلف معاشی اور سماجی بنیادوں پر دنیا کی تنظیم نو کے لیے سیاسی جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاستوں سے پالیسی کی تبدیلی کی تمام اپیلیں ناکام ہوجائیں گی۔ وبائی مرض کے خلاف سائنسی طور پر رہنمائی اور ترقی پسند ردعمل کا نفاذ صرف اس حد تک ممکن ہے کہ یہ پالیسیاں عالمی سطح پر محنت کش طبقے کی ماس تحریک میں ضروری سماجی بنیاد تلاش کریں۔
49۔ لیکن ایسی ماس تحریک کی ترقی کے کیا امکانات ہیں؟ اصل میں یہ پہلے سے ہی جاری ہے 2019میں وبائی مرض شروع ہونے سے ایک سال پہلے، پوری دنیا میں طبقاتی جدوجہد اور سماجی احتجاج پھوٹ پڑا۔ اس سال میکسیکو، پورٹوریکو، ایکواڈور، کولمبیا، چلی، فرانس، اسپین، الجزائر، برطانیہ، لبنان، عراق، ایران، سوڈان، کینیا، جنوبی افریقہ اور ہندوستان میں بڑے پیمانے پر مظاہرے اور ہڑتالیں ہوئیں۔ ریاست ہائے متحدہ میں، جنرل موٹرز کے کارکنوں نے 40سے زائد سالوں میں آٹو ورکرز کی پہلی ملکی ہڑتال شروع کی۔
50۔ عالمی وبائی بیماری نے طبقاتی جدوجہد کے ’‘عام“ راستے کو متاثر کیا۔ اس کے ابتدائی مراحل کے دوران اٹلی، امریکہ اور دیگر ممالک میں واک آؤٹ اور ٹریڈ یونین کی لیڈرشپ کے اثر سے باہر مزدوروں کی بڑی ہڑتالیں ہوئیں اور فیکٹریوں کو عارضی طور پر بند کرنے پر مجبور کیا۔ یونینوں کی اہم مدد سے تا ہم کارکنوں کو کام پر واپس بھیج دیا گیا اور اسکول دوبارہ کھول دیے گئے جس سے کیسز اور اموات میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا۔
51- محنت کش طبقے کی مخالفت کو عارضی طور پر دبانے سے تاہم پھر طبقاتی جدوجہد کی ایک طاقتور بحالی کا راستہ فراہم ہوا ہے۔ پچھلے سال ہم نے بڑی طبقاتی لڑائیوں کا ایک سلسلہ دیکھا ہے، جس میں خود وبائی مرض اور حکمران طبقے کے ردعمل کے معاشی اور سماجی نتائج دونوں کے خلاف غصے اور مخالفت کا اظہار کیا گیا ہے، بشمول سال کے اختتام پر بڑھتی ہوئی مہنگائی، افراط زر بنیادی اشیاء صارفین کی قیمتوں میں بڑھتا ہوا اضافہ شامل ہے۔
52۔ الاباما میں کان کنوں کی طرف سے امریکہ میں بڑی ہڑتالیں ہوئیں۔ نیویارک، میساچوسٹس اور مینیسوٹا میں نرسیں، ورجینیا میں وولووٹرک ورکرز، مڈ ویسٹ میں جان ڈیر ورکرز اور کیلوگ کے سیریل ورکرز اور کولمبیا یونیورسٹی اور دیگر کیمپس میں گریجویٹ طلباء کارکنان، اساتذہ اور فارمیسی کارکنوں کے بیماری کے خلاف احتجاج اور وایلڈکیٹ (وہ احتجاج یا ہڑتالیں جو ٹریڈ یونین کی لیڈر شپ کی مرضی کے بغیر لڑی گئیں) اور دیگر احتجاج شامل ہیں۔
53۔ عالمی سطح پر گذشتہ سال جنوبی افریقہ میں 170000دھاتی مزدوروں کی طرف سے ہڑتالیں اور مظاہرے ہوئے ہیں۔ ہندوستان میں دسیوں ہزار ٹرانسپورت اور آٹو ورکرز، سری لنکا میں 50000 ہیلتھ کیئر ورکرز اور دسیوں ہزار پبلک سیکٹر ورکرز، ترکی میں توانائی کے ہزاروں کارکنوں کی وایلڈکیٹ کی ہڑتال، چلی میں صحت عامہ کی دیکھ بھال کرنے والے ہزاروں کارکنوں اور کان کنوں کی ہڑتالیں اور ہستپالوں میں خوفناک حالات کے خلاف فرانس میں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر احتجاج اکتوبر میں یوکے والدین لیزا ڈیاز نے غیر محفوظ حالات کے خلااف School Stricke احتجاج شروع کیا جس نے وسیع بین الاقوامی حمایت حاصل کی۔
54۔ جیسے ہی 2022شروع ہوا ہے اور اومیکرون کنٹرول سے باہر ہوتا جارہا ہے، اساتذہ کی تحریک بڑھ رہی ہے اور ان کا مطالبہ ہے اسکولوں کو بند کیا جائے (طلبا کی ذاتی موجودگی کے طور پر سیکھنے کے لیے) کام کی جگہوں اور غیر ضروری پیداوار کی فیکٹریوں کی بندش کا مطالبہ، کیونکہ یہ بیماری اور وائرس کے پھیلاؤ کے مراکز ہیں۔ یو ایس سینٹرز فارڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن) سی ڈی سی کی طرف سے قرنطینہ کی مدت کو 10دن سے کم کرکے پانچ کرنے کے اقدام۔ ایک ایسی پالیسی جو بڑی کارپوریشنوں کی طرف سے وضع کی گئی تھی نے سماجی غصے اور مخالفت کی زبردست لہر پیدا کردی ہے۔
بین الاقوامی ورکرز الائنس رینک اینڈ فائل کمیٹیز (IWA-RFC)
55۔ طبقاتی جدوجہد معروضی ہے، جو سرمایہ دارانہ سماج کے کردار اور وبائی مرض کی جانب حکمران طبقے کی سرد مہری کے ردعمل سے پیدا ہوتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اربوں مزدوروں کی اس حقیقت کو غیر فعال طور پر قبول نہیں کر رہے ہیں کہ لاکھون افراد مکمل طور پر قابل روک تھام وبا کی وجہ سے موت کا شکار ہوئے۔
56- اس معروضی عمل کو ایک تنظیمی شکل دی جانی چاہیے، اور اسے سیاسی طور پر شعور دینا چاہیے۔ پچھلے ایک سال کے دوران انٹرنیشنل کمپنی آف فورتھ انٹرنیشنل نے وبائی مرض کے جواب میں دو اہم اقدامات شروع کیے ہیں: بین الاقوامی ورکرز الائنس آف رینک اینڈ فائل کمیٹیز (IWA-RFC) اور کوویڈ19-وبا پر مزدوروں کی عالمی تشویش۔
57۔ IWA-RFCاپریل 2021میں شروع کیا گیا تھا، جب عالمی سطح پر اس وبائی مرض سے مرنے والوں کی تعداد تین ملین سے زیادہ تھی۔ IWA-RFC کی ضرورت اس حقیقت سے پیدا ہوتی ہے کہ مزدورون کی کوئی ایسی تنظیمیں نہیں ہیں جو ان کے مفادات کی نمائندگی کرتی ہوں۔ چاہے واضح طور پر دائیں بازو کی ہو یا برائے نام ”بائیں بازو کی“ ہر بڑے سرمایہ دار ملک میں تمام سیاسی جماعتوں اور تنظیموں نے بڑے پیمانے پر انفکشن اور موت کی پالیسی کو نافذ کیا ہے اور سائنسدانوں اور صحت عامہ کے حکام کی طرف سے وبائی امراض کو روکنے کے لئے مانگے گئے اقدامات کو یکسر مسترد کردیا ہے۔
58۔ جہاں تک ٹریڈ یونینوں کا تعلق ہے، انہوں نے امریکہ اور ہر ملک میں کئی دہائیوں تک طبقاتی جدوجہد کو دبانے اور کارپوریشنوں کے مطالبات کو مسلط کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ وبائی امراض کے دوران انہوں نے حکمران طبقے کی قتل عام کی پالیسی کو نافذ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، مزدوروں کو غیر محفوظ حالات میں کام کرنے پر مجبور کیا ہے۔
59۔ IWA-RFC شروع کرتے ہوئے ICFI نے وضاحت کی:
IWA-RFC بین الاقوامی سطح پر فیکٹریوں، اسکولون اور کام کی جگہوں پر مزدوروں کی آزاد، جمہوری اور ملیٹنٹ تنظیموں کی نئی شکلوں کے لیے فریم ورک تیار کرنے کے لیے کام کرے گی۔ محنت کش طبقہ لڑنے کے لیے تیار ہے۔ لیکن اسے رجعت پسند بیورو کریٹک تنظیموں نے باندھ دیا ہے جو مزاحمت کے ہر اظہار کو دبادیتی ہیں۔ اور یہ ایک ایسا ذریعہ ہوگا جس کے ذریعے دنیا بھر کے مزدور معلومات کا تبادلہ کرسکتے ہیں اور کارکنوں کے تحفظ، غیر محفوظ سہولیات اور غیر ضروری پیداوار کی بندش اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری دیگر ہنگامی اقدامات کے مطالبے کے لیے متحدہ جدوجہد کرسکتے ہیں۔
60۔ IWA-RFC قومی، نسلی اور نسلی شاونزم اور شناختی سیاست کی لاتعداد شکلوں کے ذریعے محنت کش طبقے کو تقسیم کرنے کی تمام کوششوں کے خلاف لڑائی پر مبنی ہے۔ وبائی بیماری ایک عالمی بحران ہے، جس سے تمام مزدور متاثر ہوتے ہیں۔ ان کی سیاست کا محور نسل اور جنس کو بنیادی سماجی زمروں کے طور پر اجاگر کرتے ہوئے محنت کشوں کو ان کے مشترکہ طبقاتی مفادات کی بنیاد پر متحد کرنے کی جدوجہد کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔ IWA-RFC ان جعلی بائیں بازوں کی طرف سے فروغ پانے والی تمام رجعت پسندانہ کوششوں کو بے نقاب کرتا ہے۔
عالمی مزدوروں کی کوویڈ19-وبائی بیماری اور سارس کوو2-پر تشویش اس کے خاتمے کے لیے جدوجہد:
61۔ 21 نومبر کو، ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ نے کویڈ19-وبائی مرض کے بارے میں عالمی مزدوروں کی تشویش کا آغاز کیا۔ یہ تحقیقات اس لئے ضروری ہیں تاکہ جھوٹی معلومات اور غلط معلومات کو بے نقاب کیا جائے اس وبا کو روکا جاسکتا ہے۔ وبائی امراض سے لاکھوں لوگوں کی اموات کے ذمہ دار پالیسی سازوں جو ان پالیسیوں کو درست ثابت کرنے کے لیے جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں اور اسے جاری رکھنے کے لیے جواز فراہم کر رہے ہیں انہیں بے نقاب کیا جائے۔
62۔ تحقیقات کا مطالبہ عالمی سوشلسٹ ویب سائٹ اور سرکرہ سائنسدانوں اور وبائی امراض کے ماہرین کے درمیان سارس کوو2-کے عالمی خاتمے کے لیے لڑنے کے لیے تعاون سے پیدا ہوا۔ اس میں 22اگست اور 24 اکتوبر کو دو بین الاقوامی سیمینارز شامل تھے جو عالمی سطح پر خاتمے کی حکمت عملی کی ضرورت اور عملداری کو ثابت کرنے والی تفصیلی سائنسی معلومات فراہم کرتے ہیں۔24 اکتوبر کو ہونے والے سیمینار میں وبا کے خاتمے کی جدوجہد کی بنیاد پر مندرجہ ذیل تجاویز دی گئیں:
1۔ کوویڈ19-کا سبب بننے والے سارس کو و2-وائرس کا ہدف افراد نہیں بلکہ پورا سماج ہے۔ وائرس کا منتقلی کا طریقہ ایسا ہے کہ یہ بڑے پیمانے پر متاثر کرتا ہے۔ حیاتیاتی طور پر سارس کوو2- اربوں انسانوں پر حملہ آور ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے یہ لاکھون افراد کو ہلاک کرسکتاہے۔
2۔ لہٰذا ہر براعظم، خطے اور ملک میں اس وائرس کو ختم کرنے کے لیے عالمی سطح پر مربوط مہم ہی موثر حکمت عملی کی بنیاد ہوسکتی ہے۔ ملکی سطح پر وبا کا موثر تدارک نہیں کیا جاسکتا۔ تمام نسلوں، گروہوں اور قوموں پر مشتمل بنی نوع انسانیت کو وسیع اجتماعی اور حقیقتاً بے غرض عالمی کوشش سے اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہے اور اس پر قابو پانا ہے۔
3۔ وبا پھوٹنے کے بعد تمام تر حکومتوں کی اختیار کردہ پالیسیوں کو رد کرنا ہے۔ یہی بلاشبہ پالیسی کی ترجیح ہونی چاہیے، یعنی انسانی زندگی کا تحفظ اور کارپوریٹ منافع اور نجی دولت کے ارتکاز کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
4۔ عالمی خاتمے کی جانب فیصلہ کن موڑ کی حکمت عملی کی ابتدا سماجی طور پر باشعور لاکھوں افراد کی تحریک سے ہو۔
5۔ یہ عالمی تحریک سائنسی تحقیق سے استفادہ کرے۔سائنس دانوں کے خلاف کاروائی۔۔۔ جن میں سے بہت سے روزگار اور زندگی چھننے کے ڈر تلے کام کرتے ہیں۔۔۔ ختم ہو۔ وائرس کے عالمی خاتمے کے لیے سماج کی اکثریت پر مشتمل محنت کش طبقے اور سائنسدان برادری کے مابین عملی اتحاد کی ضرورت ہے۔
63۔ تفتیش شروع کرنے کے اپنے بیان میں ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس نے وضاحٹ کی کہ ”صرف ویکسین“ کی حکمت عملی جو کہ بڑے سرمایہ دار ممالک میں حکمران طبقے کی پالیسی کا مرکزی نقطہ ہے، پچھلے سال کے دوران ناکام ہوگئی تھی۔ نہ صرف دنیا کی اکثریت ابھی تک مکمل طور پر ویکسین سے محروم ہے، ڈبلیو ایس ڈبلیو نے لکھا، ”سائنسدانوں نے بار بار انتباہ کیا کہ وسیع پیمانے کے ماس انفکشن کے ہوتے ہوئے اور سست رفتار سے ویکسین لگنے کے عمل کی وجہ سے ویکسین کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے کے خطرے میں اضافہ ہوجاتاہے“ صرف چار دن بعد میکرون قسم کی شناخت کے اعلان کے ساتھ ان انتباہات کی تصدیق ہوگئی۔
64۔ اس تفتیش کے شروع ہونے کے پانچ ہفتوں بعد سائنسدانوں اور مزدوروں سے تحقیقات کرتے ہوئے ثبوت اور گواہی اکٹھا کرنا شروع کی کہ اس تباہی کے اسباب اور نتائج ان پر کیا مرتب ہوئے۔ محنت کش طبقے کو اس بات کی تفہیم کے ساتھ مسلح کرنے کی ضرورت ہے کہ انہیں اس بات کا ادراک ہو۔ ان کے اردگرد کیا ہو رہا ہے اور کیا کیا جائے کہ وبائی مرض کو ایک بار اور ہمیشہ کے لیے ختم کیا سکے۔ اس کے لیے تفتیش بہت ضروری ہے۔
فورتھ انٹرنیشنل کی بین الاقوامی کمیٹی کا فریضہ:
65۔ جیسے ہی ہم وبائی امراض کے تیسرے سال میں داخل ہو رہے ہیں، یہ واضح ہے کہ حکمران طبقہ وبائی مرض کو ”انیڈیمائز“ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے،یعنی وائرس کو سماج میں ایک مستقل بنیادو ں کے طور پر برقرار رہنے کی اجازت دیتا ہے۔ حکمران طبقہ اپنی دولت کے تحفظ اور منافع کے نظام کو برقرار رکھنے کی غرض کے لیے مرنے والوں کی تعداد کی لامتناہی حد تک جاسکتا ہے۔ لیکن مزدوروں کی بڑی تعداد اس حقیقت کو غیرفعال طور پر قبول نہیں کر رہی ہے کہ لاکھوں لوگ قابل گریز وبائی بیماری سے مر چکے ہیں اور لاکھوں لوگ ہر سال مرتے رہیں گے۔
66- وبائی بیماری سے پہلے بھی سوشلسٹ انقلاب کے لیے معروضی حالات پہلے ہی ایک غیر معمولی حد تک تیار ہوچکے تھے۔ 2020کے آغاز میں، ایک بیان میں گہرے ہوتے معاشی، سیاسی، جیوپولیٹیکل اور سماجی بحران کا جائزہ لیتے ہوئے جو پچھلی دہائی کے دوران پیدا ہوا تھا، ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ نے لکھا تھا کہ ”نئے سال کی آمد ایک دہائی کی طبقاتی جدوجہد کی شدت اور عالمی سوشلسٹ انقلاب کا آغاز ہے۔“
مستقبل میں، جب باشعور مورخین 21ویں صدی کے انقلابات کے بارے میں لکھیں گے، تو وہ ان تمام واضح علامات کو شمار کریں گے جو 2020کی دہائی کے آغاز کے ساتھ ہی موجود تھے، اس انقلابی طوفانی کی جو جلد ہی پوری دنیا میں پھیلنے والا تھا۔ اسکالرز حقائق دستاویزات، چارٹس، ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پوسٹنگز اور ان کے اختیار میں قیمتی ڈیجیٹلائزد معلومات کی دیگر اقسام کے ساتھ2020کی دہائی میں عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو ایک ایسے دور کے طور پر بیان کریں گے جس کی خصوصیت ایک پیچیدہ معاشی، سماجی اور سیاسی بحران پر مبنی تھی۔
67۔ یعنی کہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا بنیادی تضادات عالمی معیشت اور قومی ریاست کے نظام کے درمیان اور سماجی پیداوار اور ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت کے درمیان تضاد نے بڑے پیمانے پر انقلابی جدوجہد کے لیے حالات پیدا کیے ہیں۔
68۔ انقلابی صورتحال کی نشو ونما میں تاہم دو عناصر شامل ہوتے ہیں: پرانے معاشرے کے معروضی تضادات اور موضوعی عنصر یعنی عوام کا شعور اور سیاسی تنظیم۔ لیکن معروضی اور موضوعی عوامل کا تعامل پیچیدہ ہے۔ ٹراٹسکی نے روسی انقلاب کی اپنی یادگار تاریخ وضاحت کی ”معاشرہ اپنے اداروں کو ضرورت کے مطابق تبدیل نہیں کرتا، جس طرح سے ایک مکینک اپنے آلات کو تبدیل کرتا ہے“۔
مکمل طور پر غیرمعمولی حالات، افراد اور جماعتوں کی مرضی سے آزاد، قدامت پسندی کی بیڑیوں کو عدم اطمینان سے اکھاڑ پھینکنے اور عوام کو بغاوت کی طرف لانے کے لیے ضروری ہیں۔ اس طرح انقلاب کے دور میں بڑے پیمانے پر خیالات اور مزاح کی تیز تبدیلیاں انسان کے ذہن کی لچک اور حرکت سے نہیں اس کے برعکس اس کی گہری قدامت پسندی سے حاصل ہوتی ہیں۔ نئے معروضی حالات کے پیچھے نظریات اور تعلقات کا دائمی وقفہ، اس لمحے تک جب کوئی حادثہ لوگوں پر تباہی کی صورت میں ٹکرا جاتا ہے، وہی چیز ہے جو انقلاب کے دور میں خیالات اور جذبات کی اچھلتی ہوئی حرکت کو جنم دیتی ہے اور پولیس کو یہ لگتا ہے کہ یہ صرف سیاسی مشتعل کی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے۔ [6]
69۔ وبائی بیماری جس نے عالمی سرمایہ دارانہ نظام، اس کے سیاسی اداروں اور طبقاتی ڈھانچے کے فرسودہ اور ناقابل تلافی رجعتی کردار کو بے نقاب کیا ہے۔وہ تباہی ہے جو نہ صرف ہڑتالوں اور سماجی احتجاج کی دوسری شکلوں کو بھڑکا رہی ہے بلکہ محنت کش طبقہ اور نوجوان کے شعور کو بھی گہرے طور پر تبدیل کر رہی ہے۔حکمران طبقہ منافقانہ طور پر اسکولوں کی بندش پر افسوس کا اظہار کرتا ہے، جو کئی دہائیوں سے کم فنڈز، کم اسٹاف اور کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں۔ انہیں رسمی تعلیم کی عدم موجودگی کا خوف نہیں ہے۔ بلکہ سرمایہ دارانہ حکومتیں جانتی ہیں کہ جب تک وہ اسکولوں سے باہر رہیں گے نوجوان سوچنا نہیں چھوڑدیں گے۔ وبائی مرض انہیں اپنی تعلیم فراہم کر رہا ہے، جس نے سرمایہ دارانہ معاشرے کی نوعیت کو ننگا کردیا ہے۔
70- لیکن جیسے جیسے شعور میں گہری تبدیلی آتی ہے، انقلابی قیادت کا سوال باقی رہتا ہے۔ سوشلسٹ شعور یعنی سرمایہ دارانہ سماج کی سائنسی تفہیم اور سماج کی تبدیلی کے لیے درکار سیاسی پروگرام یہ بے ساختہ یا خود بخود پیدا نہیں ہوتا۔ معروضی بحران کو سوشلزم کے لیے ایک شعوری سیاسی تحریک میں تبدیل کرنا ہمارے دور کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
71۔ جب انسانیت کو بڑے سماجی مسائل کا سامنا درپیش ہو تو سب سے زیادہ فضول اور بیکار چیز یہ ہوتی ہے جو غیرفعال قیاس آرائیوں پر مبنی ہوتی ہیں۔ کہ اس سے کیا حاصل کیا جاسکتا ہے یا نہیں کیا جاسکتا۔ کبھی بحران کا دور ایسا نہیں آیا جب ترقی کی راہ پر گلابوں کے پھول بکھرے ہوں۔ ایسے تاریخی لمحات میں میں جیسا کہ لنکن نے ایک بار مشاہدہ کیا تھا، ”موقع مشکلات سے بھرپور ہے“ اسی صورتحال میں محض شکایت کرنا اور سنجیدہ فریضہ سے راہ فرار اختیار کرنا اس کے برعکس کے سرگرام جدوجہد کا راستہ اپنائے یہ ٹریڈ یونینوں اور پرانی سابقہ اصلاح پسند اور سابق لبرل سرمایہ دار پارٹیوں کی نامردی اور بار بار غداریاں ان کا تاریخی شیوہ رہا ہے۔ یہ تنظیمیں ان کے نمائندے اور ساتھی مکمل طور پر گل سڑ چکے ہیں۔
72۔ موجودہ تباہی سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے، فاشزم، جنگ، اور کرہ ارض کو ناقابل تلفی ماحولیاتی نقصانات ان سے راہ نجات سوائے پر عزم اور ثابت قدم جدوجہد سے ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔
73۔ تاریخی مادیت پر مبنی مارکسزم زیر راوں عمل کے پروسس کے قانون کو اچھی طرح سمجھتا ہے جو حقیقی عوامی انقلابی تحریکوں کو جنم دیتے ہیں۔ لیکن معروضی عمل کی یہ سمجھ اور عوام کی طرف سے عمل کی ضرورت کبھی بھی انفرادی بے حسی کا بہانہ نہیں رہی۔ افراد فیصلے کرتے ہیں، بشمول عد م مساوات، ناانصافی اور جبر کی مخالفت کا فیصلہ۔ ایک عظیم عوامی انقلابی تحریک کبھی نہیں تھی اور نہ ہی کبھی ہوسکتی ہے کسی فرد کے لڑنے کا شعوری فیصلہ کیے بغیر۔
74۔ لہٰذا جیسے ہی ہم نئے سال میں داخل ہو رہے ہیں، ہم مزدوروں اور نوجوانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ گذشتہ دو سالوں کے بحران اور درحقیقت تاریخ کے ضروری اور ناگزیر سیاسی سبق کو ضرور حاصل کریں۔ سرمایہ داری نے اپنی خود مذمت کی ہے۔ بنی نوع انسان کا مستقبل سوشلزم کی فتح پر منحصر ہے۔ اس لڑائی میں شامل ہوں۔رینک اور فائل کمیٹیوں کا بین الاقوامی ورکرز لائنس بنائیں! کوویڈ19-وبائی مرض کے بارے میں عالمی کارکنوں کی تحقیقات میں حصہ لیں! ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کی گردش کو وسعت دیں! سب سے بڑھ کر، سوشلسٹ ایکویلیٹی پارٹی میں شامل ہونے کا فیصلہ کریں اور چوتھی انٹرنیشنل کی بین الاقوامی کمیٹی کو سوشلسٹ انقلاب کی عالمی پارٹی کے طور پر بنائیں!
فوٹ نوٹس:
1۔ عوامی صحت کی تاریخ، جارج روزن کی طرف سے بالٹیمور: جانز ہاپکنز یونیورسٹی پریس (1958، صفحہ 1xxix)
2۔ (ملبینک میموریل فنڈ سہ ماہی، جنوری 1959، والیم 37، نمبر1،)صفحہ 9
3۔ مستقل انقلاب (سیاٹل: ریڈلیٹر پریس2010) صفحہ313
4۔ سپیڈ رویپ: امریکی اینٹی کمیونزم کی پیدائش، نک فشر کی طرف سے (اربنہ: یونیورسٹی آف الینوائے پریس2016)، صفحہ 8
5۔ ورکرز لیگ انٹرنل بلیٹن ICFI کا 10واں پلینم، مئی 1990، ریمارکس از ڈیوڈ نارتھ، صفحہ 13
6۔ روسی انقلاب کی تاریخ لندن: پلوٹوپریس1977،صفحہ 18
