یہ ترجمعہ 31آگست 2022 کو شائع ہونے والے آرٹیکل”Climate-change driven floods ravage Pakistan, killing more than 1,100 and threatening millions with hunger and disease” کا ہے۔
مون سون کی شدید بارشوں اور موسمیاتی تبدیلیوں سے گلیشیئر پگھلنے نے پاکستان کے چار میں سے تین صوبوں میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کو جنم دیا ہے۔
پاکستانی حکام نے 14 جون سے اب تک سیلاب کی وجہ سے 1136 ہلاکتیں کی ہیں جن میں 350 سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔ حقیقی ہلاکتوں کی تعداد بلاشبہ زیادہ ہے کیونکہ امدادی عملہ سیلاب زدہ علاقوں تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ملک کے شمال میں واقع وادی سوات کے ہیلی کاپٹر کے دورے کے بعد اتوار کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا، ’’گاؤں کے گاؤں مٹ چکے ہیں۔‘‘
سیلاب نے فصلیں تباہ کر دی ہیں مویشیوں اور دیگر جانورں کو غرق کر دیا ہے، مکانات کو بہا دیا ہے اور پاکستان کے پہلے سے ہی کمزور خستہ حال انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا ہے۔
33 ملین افراد پاکستان کی 225 ملین کی آبادی کا جو تقریباً 15 فیصد بنتا ہے کہ سیلاب سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ تقریباً دس لاکھ گھروں کے تباہ یا بری طرح سے تباہ ہونے کی اطلاع کے ساتھ، کھلی فضا میں یا خیموں میں سونے والوں کی تعداد سینکڑوں ہزاروں ممکنہ طور پر لاکھوں میں پہنچ چکی ہے۔
پاکستان کے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی (این ڈی ایم اے) نے منگل کو اطلاع دی ہے کہ اچانک سیلاب — جو جون میں شروع ہوا تھا، لیکن پچھلے دو ہفتوں کے دوران بڑی تباہی کے تناسب سے بڑھ گیا ہے — پہلے ہی 157 پلوں کو تباہ کر چکا ہے، 3457 کلومیٹر (تقریباً 2200 میل) سڑکیں تباہ کر چکی ہیں، اور 20 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی زیر آب آ گئی فصلیں تباہ ہو گئیں اور زمین کے اوپر کی مٹی بہہ گئی۔
پاکستان کے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی لاگت کا تخمینہ 10 بلین ڈالر لگایا ہے یا ملک کے کل 47 بلین ڈالر کے سالانہ بجٹ کا پانچواں حصہ ہے۔
ملک کا تقریباً ایک تہائی حصہ اس وقت زیر آب ہے جس میں بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا صوبے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔
100 سے زیادہ اموات اور 1,500 کے زخمی ہونے کی سرکاری تعداد حقائق کے برعکس ہے، حکومتی اعداد و شمار کو بڑے پیمانے پر تباہی کی حقیقی حد کے بارے میں انتہائی کم تخمینہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
29 اگست کو اقوام متحدہ کے ریلیف ویب کی طرف سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں مشاہدہ کیا گیا کہ 'حقیقی (جانی نقصانات) کے اعداد و شمار نمایاں طور پر زیادہ ہونے کی توقع ہے۔' اس نے مزید آنے والی بارشوں کے بارے میں بھی خبردار کیا، اور لکھا ہے، 'آنے والے دنوں میں مزید تباہی متوقع ہے، جو غیر معمولی طور پر شدید ہوسکتی ہے۔'
ساری خبریں سماجی تباہی اور مصائب کی ایک ہولناک تصویر پیش کرتی ہیں۔
ایک 25 سالہ ٹیچر رشیدان سودھر نے الجزیرہ کو بتایا کہ وہ اپنے خاندان کے 19 افراد کے ساتھ اتوار کے روز جنوبی صوبہ سندھ میں بحیرہ عرب کے قریب واقع اپنے گاؤں سے نکل گئے تھے کیونکہ یہ سیلابی پانی میں ڈوب گیا تھا۔ ان کا گھر تباہ ہو گیا اور مویشی بہہ گئے۔ 'ہمارے پاس کچھ نہیں بچا ہم زندہ ہیں لیکن ہم مزید زندہ نہیں رہ سکتے۔“
سودھر کا پورا خاندان اب قریبی قصبے میہڑ میں شدید گرمی میں کھلی فضا میں زندگی گزار رہا ہے۔ رشیدان نے کہا، ’’ہمیں دن میں بمشکل ایک وقت کا کھانا ملتا ہے۔ 'ہمارے بچے سارا دن روتے رہتے ہیں۔ جب ان کے لیے کوئی گھر نہیں ہے تو آپ انہیں رونا بند کرنے کے لیے کیسے کہہ سکتے ہیں؟
محمد فرید نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی بیٹی شمالی صوبہ خیبر پختونخوا میں کنر دریائے جو سندھ کی معاون ندی کے سیلاب سے ہلاک ہو گئی۔ 'اس نے مجھ سے کہا، 'بابا میں اپنی بکری کے لیے پتے لینے جا رہی ہوں۔' وہ دریا کے کنارے گئی اور پانی کا ایک جھونکا اس کے پیچھے آیا اور اسے لے گیا۔
پاکستان نے گزشتہ موسم بہار سے کئی ہفتوں کی شدید بارشوں اور مہینوں کی گرمی کا سامنا کیا ہے۔ مارچ اور اپریل میں، درجہ حرارت باقاعدگی سے 45 ڈگری سیلسیس (113 فارن ہائیٹ) اور کچھ جگہوں پر 50 ڈگری سے تجاوز کر گیا۔ گزشتہ ہفتے تک، این ڈی ایم اے کے مطابق پاکستان میں قومی 30 سالہ اوسط سے 2.87 گنا زیادہ اور بلوچستان اور سندھ میں پانچ گنا سے زیادہ بارشیں ہوئیں۔
شدید گرمی اور موسلا دھار بارش دونوں کا تعلق موسمیاتی تبدیلی سے ہے۔ زیادہ درجہ حرارت کے نتیجے میں ہوا میں زیادہ نمی ہوتی ہے جو بعد میں بارش برساتی ہے۔ درجہ حرارت میں ہر 1 ڈگری سیلسیس کے اضافے کے بعد ہوا میں نمی کے باعث 7 فیصد زیادہ بارش ہوتی ہے۔
لمبی گرمی کی لہر نے ہمالیہ اور ھندو کش میں طویل مدتی گلیشیر پگھلنے میں بھی تیزی لائی ہے۔ اس نے ایک رجحان کو جنم دیا ہے جسے برفانی جھیل کے سیلاب کے نام سے جانا جاتا ہے، کیونکہ ہمالیہ سے نئے غیر منجمد پانی کی جھیلیں ملک کے بڑے حصے کو دلدل بنا دیتی ہیں۔ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخواہ کے علاقوں میں 3,000 سے زیادہ برفانی جھیلیں بن چکی ہیں، جن میں سے درجنوں کی اقوام متحدہ نے شناخت کی ہے کہ برفانی جھیل کے پھٹنے سے سیلاب کا خطرہ لاحق ہے۔
پاکستان کی آبادی کی اکثریت غریب ہے۔ لاکھوں افراد کے بے گھر ہونے اور ان کی روزی روٹی تباہ ہونے کے ساتھ اور ملک کا بیشتر حصہ ممکنہ طور پر آلودہ سیلابی پانی سے ڈوب گیا ہے جس سے بڑے پیمانے پر بھوک اور بیماری کا شدید خطرہ لاحق ہے۔ ملیریا اور تپ دق دونوں ہر سال دسیوں ہزار پاکستانیوں کی جان لے لیتے ہیں۔ اور پوری دنیا کی طرح یہاں بھی بڑے پیمانے پر کویڈ-19 انفیکشن اور اموات کی نئی لہروں کا ہمیشہ سے خطرہ ہے۔
پاکستانی حکمران اشرافیہ کی عوام کی جانب بے حسی کا انداز انکے جھوٹے اور فریبی دعوی سے ظاہر ہوتا ہے جیسا کہ پاکستانی حکومت نے بے وقوفانہ انداز میں کہا ہے کہ وبا کے ڈھائی سال سے زائد عرصے کے دوران کویڈ-19 سے صرف 30,500 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ سائنس پر مبنی اضافی اموات کے تخمینے پر مبنی مطالعات میں موت کی حقیقی تعداد 700,000 اور 900,000 کے درمیان ہے۔
اس ہفتے کے شروع میں اقوام متحدہ نے سیلاب زدگان کو خوراک، صفائی ستھرائی، پینے کے پانی اور ہنگامی تعلیم فراہم کرنے کے لیے 160 ملین ڈالر کے لیے ایک 'فلیش اپیل' جاری کی جسے اس نے 'زبردست بحران' قرار دیا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ”پاکستان مصائب میں ڈوبا ہوا ہے“۔ بارشوں اور سیلاب کی سطح کے مسلسل اثرات' سے 'پاکستانی عوام سٹیرائڈز پر مون سون کا سامنا کر رہے ہیں“ -
اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ اقوام متحدہ اپنا ہدف پورا کر لیتا ہے، جو بڑی طاقتوں کی جانب سے اب تک کئے گے وعدہ کی خطیر اور قابل رحم رقوم کے پیش نظر جو انتہائی مشکوک ہے، 'فلیش فنڈ' سیلاب سے متاثر ہونے والے 33 ملین افراد میں سے ہر ایک کے لیے صرف $4.50 کے برابر فراہم کرے گا۔
اور جبکہ پاکستان کی حکومت نے ہر سیلاب سے متاثرہ خاندان کے لیے معمولی 25,000 روپے ($112) امدادی ادائیگی کا اعلان کیا ہے۔ جیسا کہ پچھلے بحرانوں میں ہوتا آیا ہے کہ بدعنوانی، بدانتظامی اور حکام کی بے جا نظر اندازی کی وجہ سے ان سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ضرورت مندوں میں سے صرف ایک حصہ کو یہ معمولی رقم بھی ملے گی یا نہیں۔
سامراجی طاقتوں کی منافقت جو انسانی حقوق اور جمہوریت کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعلان کرتے ہوئے ایک کے بعد ایک جنگ کا جواز پیش کرتے ہوئے نہیں تھکتی، پاکستان میں اس آفت کے دوران پوری طرح عیاں ہے۔ امریکہ نے آج تک پاکستان کو USAID کے ذریعے 100,000 ڈالر کی امداد فراہم کی ہے۔ یہ لامحدود رقم 3 بلین ڈالر کے اضافی ملٹری ہارڈویئر کا ایک چھوٹا حصہ ہے جو واشنگٹن نے گزشتہ ہفتے یوکرین میں جنگ چھیڑنے کے لیے منظور کیا تھا، اس بات کو چھوڑیں کہ 50 بلین ڈالر امریکی سامراج نے فروری سے یوکرین کو ہتھیار اور امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔
کینیڈا اور برطانیہ نے پاکستان کے سیلاب سے متعلق امداد کے لیے بالترتیب 5 ملین اور 1.5 ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔
پاکستان میں آنے والی آفت دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آب و ہوا کی تباہی کا حصہ ہے۔ یورپ اس موسم گرما میں ریکارڈ شدہ تاریخ کی بدترین خشک سالی کی لپیٹ میں ہے، جس میں فصلیں بڑے پیمانے پر ناکار ہو رہی ہیں اور خوراک اور توانائی کی سپلائی لائنیں ٹوٹ رہی ہیں۔ فروری اور مارچ میں غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے آنے والے سیلاب نے آسٹریلیا کے کوئنز لینڈ اور نیو ساؤتھ ویلز کے ساحل کو تباہ کر دیا جس میں 22 افراد ہلاک اور بنیادی ڈھانچے کو $1 بلین سے زیادہ کا نقصان پہنچا۔ رواں ماہ کے اوائل میں امریکی ریاست کینٹکی میں سیلاب سے درجنوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جب کہ اس موسم گرما میں کیلیفورنیا کے یوسمائٹ نیشنل پارک کے قریب انتہائی شمال میں الاسکا اور اس کے قریب جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی ہے۔
یہ بڑھتے ہوئے مہلک واقعات موسمیاتی تبدیلی کے لیے عالمی ردعمل کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ کویڈ-19 وبائی مرض کے معاملے میں قومی سطح پر مبنی سرمایہ دار اشرافیہ کے حریف گروہوں کے منافع اور جیو اسٹریٹجک مفادات ہیں جو سب سے بڑھ کر ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور سامراجی طاقتوں کے دنیا کے وسائل کے مربوط متحرک ہونے کو روکتے ہیں جو کہ ماحولیاتی تبدیلی کو دوبارہ استوار کرنے کے لئے ضروری ہیں۔
آب و ہوا کی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔
سرمایہ داری کی غیر معقولیت کو واضح کرتے ہوئے جو موسمیاتی تبدیلی تیزی سے شدید بین سرمایہ دارانہ مسابقت کا ایک نیا ذریعہ بن گئی ہے- کیونکہ اب یہ ممالک سمندری راستوں اور آرکٹک اوقیانوس کے وسائل پر دعویٰ اور قبضہ کی دوڑ میں لگ گے ہیں، جو اب قطبی برف کی ٹوپی کے پگھلنے سے اس تک قابل رسائی آسان ہے اور بجلی سے چلنے والی گاڑیوں اور دیگر ٹیکنالوجیز کی تیاری کے لیے ضروری قدرتی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا جو کاربن -نیوٹرل معیشت کی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔
درحقیقت یوکرین پر امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں نے ماسکو کے ساتھ جو جنگ چھیڑ رکھی ہے، اس کا ایک بڑا مقصد روس کو زیر کرنا ہے تاکہ اس کی وسیع توانائی اور معدنی دولت تک بلا روک ٹوک رسائی حاصل کی جا سکے۔
پاکستان کی سیلاب کی تباہی بھی اس کے غاصب سرمایہ دار اشرافیہ کے تمام دھڑوں پر فرد جرم ہے۔
پاکستان کے حکمران طبقے نے 75 سال قبل برصغیر کی خونی فرقہ وارانہ تقسیم کے ذریعے سامراج کے ساتھ مل کر ملک کے وسائل کو لوٹا اور ضائع کیا۔
پاکستان کی جوہری ہتھیاروں سے لیس فوج کی مالی امداد میں جو ہمیشہ واشنگٹن کے ساتھ اس کے رجعتی اتحاد کی بنیاد رہی ہے اور بھارت کے ساتھ اپنے جیوپولیٹکل تنازعے کو آگے بڑھانے میں ان گنت اربوں کا ضیاع کیا گیا ہے۔
پاکستان کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے مقناطیس بنانے کے مقصد سے نافذ کیے گئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے کئی دہائیوں کے 'سٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرامز' نے لاکھوں پاکستانیوں کو ہمیشہ سے گہری غربت میں دھکیل دیا ہے اور ملک کو صحت عامہ کی دیکھ بھال اور تعلیمی نظام کی خستہ حالی میں مبتلا کر دیا ہے۔
مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل-این) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سربراہی میں موجودہ عبوری مخلوط حکومت نے مارچ میں فوج کی حمایت سے آئی ایم ایف کی طرف سے طے شدہ اسٹریٹی کے ایک اور دور کو نافذ کرنے کے واضح مقصد کے لیے اقتدار سنبھالا۔
منگل کے روز مسلم لیگ ن کے ایک اعلیٰ رہنما وزیر منصوبہ بندی اقبال احسن اور پی پی پی کی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے 'بین الاقوامی برادری' سے سیلاب کی امداد کی درخواست کی۔ ایسا کرتے ہوئے اقبال نے یہ دلیل پیش کی کہ صنعتی، یعنی ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک نے موسمیاتی تبدیلی کے لیے ذمہ دار گرین ہاؤس گیسوں کا بڑا حصہ پیدا کیا ہے۔
یقیناً اس میں سے کوئی بھی پاکستان کی حکومت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنا جس نے اسی دن آئی ایم ایف کی منظوری سے حاصل کردہ معطل ہنگامی بیل آؤٹ پیکج کی 1.1 بلین ڈالر کی قسط جاری کی گئی جو کہ حکومت کی جانب سے ملک کے محنت کشوں پر عالمی سرمائے کے کہنے پر بڑے پیمانے پر نئے بوجھ ڈالنے سے مشروط تھی۔ جس میں رجعت پسند ٹیکس میں اضافہ، توانائی کی قیمتوں میں سبسڈی کا خاتمہ، اور ریاستی اثاثوں کی تیز رفتار نجکاری شامل ہے۔
آئی ایم ایف کے اس مطالبے کو فرض شناسی سے نافذ کرتے ہوئے کہ پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں کہ وہ بجٹ سرپلسز ریکارڈ کریں۔ پی پی پی کی زیرقیادت سندھ کی صوبائی حکومت سرکاری ملازمین کو اپنے فنڈ ریلیف پروگرام کی مالی اعانت کرنے پر مجبور کر رہی ہے، نچلے درجے کے ملازمین سے دو دن کی تنخواہ اور اعلی درجے والوں سے پانچ دن کے برابر کٹوتی کر کے مزدوروں کو مجبور کیا گیا مزدوروں نے ریمارکس دیئے کہ وہ بھی تو سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔
اس ہفتے فنانشل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے، شیری رحمٰن نے دعویٰ کیا، 'زندہ یادداشت میں، ہم نے پاکستان میں ایسا بڑا سیلاب نہیں دیکھا۔' اگرچہ یہ سچ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی موسم کے شدید واقعات کی تعدد اور شدت میں اضافہ کر رہی ہے،شیری رحمان بخوبی جانتی ہیں کہ یہ ایک سفید جھوٹ ہے۔ 2010 میں جب پی پی پی نے پاکستان کی حکومت کی قیادت کی اور اسی طرح آئی ایم ایف کی اسٹریٹی کے اقدامات لاگو کر رہی تھی۔ پاکستان کو تباہ کن سیلاب کا سامنا کرنا پڑا جس میں 2,000 افراد ہلاک ہوئے اور پورے ملک کا پانچواں حصہ ڈوب گیا۔ اس وقت، اقوام متحدہ نے سیلاب کو 'اقوام متحدہ کی تاریخ کی بدترین انسانی آفات میں سے ایک' قرار دیا۔
اس کے بعد کے 12 سالوں میں، سیلاب سے نمٹنے یا صحت عامہ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا گیا۔
یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال کے بجٹ میں، پاکستان کی حکومت نے ڈیزاسٹر رسپانس اور ہنگامی حالات کے لیے محض 100 ملین روپے ($455.5 ملین) مختص کیے جس میں جاری کویڈ-19 وبائی بیماری بھی شامل ہے۔
