یہ ترجمہ 31 آگست 2022 کو شائع ہونے والے آرٹیکل The death of Mikhail Gorbachev and the legacy of Stalinist counterrevolution
کا ہے۔
کمیونسٹ پارٹی (سی پی) کے سابق جنرل سیکرٹری اور سوویت یونین کے صدر میخائل گورباچوف منگل کو 91 برس کی عمر میں ماسکو کے ایک اسپتال میں انتقال کر گئے۔ اطلاعات کے مطابق وہ کئی سالوں سے گردوں کے مرض میں مبتلا تھے۔
گورباچوف جنہوں نے 1950 میں سی پی میں شمولیت اختیار کی ساڑھے تین دہائیوں تک سوویت بیوروکریسی کے وفادار نوکر رہے۔ وہ ان طفیلیوں کی طرف سے انجام پانے والے دھوکہ دھی اور غداری کے آخری عمل کا ذمہ دار تھا جنہوں نے سوویت کے محنت کش طبقے سے خود کو بالا رکھتے ہوئے ان پر پلتے رہے اور سرمایہ داری کی مکمل بحالی اور سوویت یونین کو ایک درجن سے زیادہ ریاستوں میں تحلیل کر دیا۔ وہ ایک ایسا آدمی تھا انتہا رجعت پسند مارگریٹ تھیچر کے الفاظ میں جس کے ساتھ 'کوئی بھی کاروبار کر سکتا تھا۔'
1980 اور 1990 کی دہائی کے اوائل کے دوران لاگو ہونے والی گورباچوف کی پیرسٹروئیکا (ریسٹرکچرنگ) کی پالیسی نے 1917 کے روسی انقلاب سے ابھرنے والے قومی ملکیت کے نظام کو منظم طریقے سے ختم کرنے کا آغاز کیا۔ بیرونی تجارت پر پابندی ختم کر دی اور چھوٹے کاروباروں کو قانونی تحفظ دیا اور کلیدی صنعتوں کے لیے سبسڈی ختم کر دی، لیبر قوانین کو ختم کر دیا اور سوویت معیشت اور معاشرے کو بدحالی میں ڈال دیا۔
اچانک 'سیلف فنانسنگ' کے نظام پر مجبور ہونے والے کاروباری اداروں نے خود کو ان وسائل کو محفوظ کرنے سے قاصر پایا جو انہیں پیدا کرنے، اجرت ادا کرنے یا سماجی خدمات اور فوائد کے لیے فنڈز فراہم کرنے کے لیے درکار تھے جو محنت کش طبقے کا حق اور ان کے معیار زندگی کی ریڑھ کی ہڈی تھے۔سب سے اچھی پوزیشن والی فیکٹریوں کے مینیجرز، جن کو ریاست نے منافع کے لیے تیار کرنے کی ترغیب دی، معیشت کے ریاستی شعبے سے اشیا کا رخ موڑ دیا اور اشد ضرورت کی اشیائے خوردونوش کی فروخت کی قیمتوں کا تعین مارکیٹ کرنے لگی۔
ریاستی اثاثوں کی ہول سیل لوٹ مار کا عمل اصلاحات سے شروع ہوا۔ اشرافیہ کے بچوں نے کمیونسٹ یوتھ آرگنائزیشن، کومسومول کے ارکان کو دی گئی خصوصی قانونی مراعات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کاروبار کھولنے اور سوویت اثاثوں اور وسائل کو اندرون و بیرون ملک فروخت کرنے کے لیے استعمال کیا۔ ایک مکمل ثانوی بینکنگ انڈسٹری ابھری جب کارپوریٹ مالی کھاتوں تک رسائی رکھنے والوں نے قرض دینے کے آپریشن شروع کیے جو بحران اور سماجی مایوسی سے فائدہ اٹھاتے تھے۔
1989 تک، یو ایس ایس آر میں تقریباً 43 ملین لوگ ماہانہ 75 روبل سے بھی کم پر زندگی گزار رہے تھے، جو تقریباً 200 روبل کی سرکاری خط غربت سے بھی نیچے تھے۔1995 میں لکھتے ہوئے، محقق جان ایلیٹ نے اس دور کی عکاسی کچھ اسطرح سے کی ' تیار اشیا کا گرتا ہوا معیار اور سامان کی عدم دستیابی، خصوصی ڈسٹری بیوشن چینلز کا پھیلاؤ، طویل وقت لمبی قطاریں، توسیع شدہ راشن، زیادہ قیمتیں … صحت اور تعلیم کی فراہمی میں مجازی جمود' کے طور پر بیان کیا۔، اور اشیا کا مبادلہ، علاقائی خود کیفلی، اور مقامی تحفظ پسندی میں اضافہ۔' سرکاری طور پر، 1990 تک تقریباً 4 ملین لوگ بے روزگار تھے، حالانکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بہت کم گنتی تھی، اصل تعداد 20 ملین تک تھی۔ لوگوں کی بڑی تعداد کی امیدوں خوابوں کے خاتمے کے ساتھ، شراب نوشی، منشیات کا استعمال اور ذہنی امراض اور خودکشیاں آنے والے سالوں کے دوران بڑتی اور پھٹتی گئیں۔
ان سب بربادیوں کی وجہ سے سابقہ سوویت یونین میں بڑے پیمانے پر اور بجا طور پر گورباچوف سے نفرت کی جاتی ہے۔
پیرسٹروئیکا کے دوران، انٹرنیشنل کمیٹی آف دی فورتھ انٹرنیشنل (آئی سی آئی ایف)، عالمی ٹراٹسکیسٹ تحریک میں واحد سیاسی رجحان تھا جس نے گورباچوف کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ وہ خوشحالی اور 'سوشلسٹ انصاف' کے ایک نئے دور کا آغاز کر رہا ہے جس میں مستحق افراد کو انعام سے نوازا جائے گا اور بدعنوانوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔ 1987 کے ایک بیان میں یو ایس ایس آر میں کیا ہو رہا ہے؟ گورباچوف اور سٹالنزم کا بحران، آئی سی آئی ایف نے خبردار کیا:
سوویت یونین میں محنت کش طبقے اور عالمی سطح پر محنت کشوں اور مظلوم عوام دونوں کے لیے گورباچوف کی نام نہاد اصلاحاتی پالیسی ایک خوفناک خطرے کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ اکتوبر انقلاب کی تاریخی فتوحات کو خطرے میں ڈالتا ہے اور عالمی سطح پر سامراج کے ساتھ بیوروکریسی کے رد انقلابی تعاون کے گہرے ہونے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
آئی سی آئی ایف نے درجنوں بیانات شائع کیے جس میں گورباچوف اور اس کی پالیسیوں کو بے نقاب کیا گیا کہ وہ کیا تھیں۔ سیاسی تجزیہ کے اس غیر معمولی ریکارڈ تک ڈبلیو آیس ڈبلیو آیس سے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ڈیوڈ نارتھ، جو اس وقت سوشلسٹ ایکویلیٹی پارٹی کے قومی چیئرمین اور ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کے بین الاقوامی ادارتی بورڈ کے چیئرمین ہیں، واقعات میں مداخلت کے لیے 1989 میں یو ایس ایس آر گئے۔ انہوں نے کارکنوں، طلباء اور دانشوروں سے گورباچوف کے جعلی اصلاحاتی ایجنڈے کو لاحق سیاسی خطرات کے بارے میں گفت وشنید کی۔
کسی بھی ایسے تصور کی مخالفت میں کہ سوویت بیوروکریسی 'خود کی اصلاح' کے عمل سے گزر رہی ہے، آئی سی آئی ایف ان تمام لوگوں کے خلاف کھڑا تھا جو سوشلسٹ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جنہوں نے گورباچوف کی حمایت کی اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ ان میں سرفہرست پابلوائٹ پارٹیاں تھیں جنہوں نے 1953 میں ٹراٹسکی ازم سے علیدگی اس بنیاد پر اختیار کی کہ سٹالن ازم کو ختم کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ اس پر دباؤ ڈالتے ہوئے اسے بائیں جانب موڑا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بعد کی نصف صدی کے دوران محنت کش طبقے کے خلاف سٹالنزم کے بہت سے جرائم پر پردہ ڈالا اور انہیں سہولت فراہم کی۔ 1980 کی دہائی کے دوران، پابلوائٹس کو 'گوربی مینیا' نے اپنی گرفت میں لے لیا جس نے سوویت رہنما کو لوگوں اور اس کی بیوی کو ایک عظیم آزادی دہندہ کے طور پر سراہا، جسے یو ایس ایس آر میں اس کی ذاتی دولت کی بے شرمی کی نمائش کے لیے ایک حقیقی 'خاتون اول' کے طور پر نفرت پائی جاتی تھی۔
1989 میں لکھتے ہوئے، پابلوزم کی ایک سرکردہ شخصیت ارنسٹ مینڈل نے اپنی کتاب پیرسٹروئیکا کے پرلی طرف (Beyond Perestroika) میں اعلان کیا، 'سوویت محنت کش عوام اور عالمی پرولتاریہ کے نقطہ نظر سے گورباچوف آج یو آیس آیس آر کے لیے بہترین حل ہوگا۔' صرف اسی سال سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یو آیس آیس آر میں ہڑتال کے باعث 7.3 ملین کام کے دن ضائع ہوئے جس کی بڑی وجہ کانوں میں بڑے پیمانے پر بیچینی تھی۔ اگلے سال کے صرف پہلے نو مہینوں کے دوران، یہ تعداد بڑھ کر 13.7 ملین ہو گئی۔
آئی سی آئی ایف نے اصرار کیا کہ گورباچوف سٹالنزم سے نہیں ٹوٹ رہا ہے، جیسا کہ پابلوائٹس اور بہت سے دوسرے لوگوں نے دعویٰ کیا تھا، بلکہ وہ اسے سٹالنزم کے منطقی انجام تک پہنچا رہا ہے۔ آئی سی ایف آئی نے اپنے تجزیے کی بنیاد ایک تاریخی تناظر پر رکھی، جس کی جڑیں سٹالنزم کے خلاف لیون ٹراٹسکی کی قیادت میں جدوجہد اور پبلو ازم کے خلاف آئی سی ایف آئی کی اس کے نتیجے میں ہونے والی سیاسی اور نظریاتی لڑائی میں ہیں۔
ٹراٹسکی جس نے 1917 کے روسی انقلاب کی قیادت لینن کے ساتھ کی اور بعد میں سٹالن کی مخالفت سوشلسٹ بنیادوں پر کی اس نے سوویت یونین کی پسماندگی اور تنہائی کے تناظر میں ابھرنے والی نوکر شاہی کو پولیس فورس کے مترادف قرار دیا جو اس کو کنٹرول کرتی ہے کہ کون ایک ناکافی کیک سے کتنا حاصل کرے گا لیکن اس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ اپنا حصہ زیادہ اٹھائے۔
انقلاب کے مساوی اصولوں اور محنت کش عوام کے اپنی محنت سے پیدا ہونے والی دولت کے دعووں سے متصادم، بیوروکریسی نے طاقت کے زور پر حکومت کی۔1930 کی عظیم دہشت گردی جس کا اختتام 1940 میں ایک سٹالنسٹ ایجنٹ کے ہاتھوں ٹراٹسکی کے قتل پر ہوا انقلابیوں کی ایک پوری نسل کو ختم کر دیا اور پرولتاریہ کے مطالبات کو پرتشدد طریقے سے دبانے کی کوشش کی۔
تاہم دہشت گردی اور بربریت کے زریعے سوویت بیوروکریسی کے لیے محنت کش طبقے کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔جیسا کہ حکمران اشرافیہ 1917 کے انقلاب سے ابھرنے والی قومی ملکیت پر زندگی بسر کر رہی تھی، یہ جانتی تھی کہ سوویت یونین کے کارکنان اپنے دعووں پر دوبارہ زور دے سکتے ہیں جس پر انہوں نے ایک بار فتح حاصل کی تھی اور ایسا کرتے ہوئے بیوروکریٹس کو اقتدار سے باہر نکال سکتے ہیں۔ جیسا کہ ٹراٹسکی نے انقلاب سے غداری میں لکھا تھا، سوال یہ تھا کہ ’’کیا بیوروکریٹ مزدوروں کی ریاست کو کھا جائے گا، یا محنت کش طبقہ بیوروکریٹ کا صفایا کرے گا؟‘‘ 1956 میں ہنگری میں، 1968 میں چیکوسلواکیہ میں، 1980-1981 میں پولینڈ میں، سٹالنزم کے خلاف محنت کش طبقے کے غصے کے بار بار پھوٹنے نے سی پی کو پریشان اور خوفزدہ کر دیا۔
گورباچوف اس دور میں پارٹی بیوروکریسی کی صفوں میں ابھر رہا تھا۔ وہ پارٹی کے حلقوں میں ان قوتوں کی حمایت سے اونچے سے اونچے درجے پر چلا گیا جو، خروشیف دور کے طور پر سٹالن کے جرائم پر گرم گرم انفرادی تنقید کے باوجود، ڈکٹیٹر کے خونی حکمرانی میں مکمل شریک تھے۔ وہ اپنے خصوصی اعزاز اور طاقت کے مکمل محافظ تھے، اپنے آرام دہ اپارٹمنٹس، چھٹیاں گزارنے والے گھر، ڈرائیور، لگثرری دکانیں جہاں صرف وہ خصوصی سامان خرید سکتے تھے وغیرہ۔
لیونیڈ بریزنیف کی حمایت کے ساتھ، گورباچوف 1970 کی دہائی کے دوران سی پی کی اعلیٰ اشرافیہ میں چلے گئے۔ وہ سیاسی اور ذاتی طور پر سٹالنسٹ خفیہ پولیس کے سربراہ اور پیرسٹریکا اصلاحات کے ابتدائی معمار یوری اینڈروپوف کے قریب تھے۔ یہاں تک کہ دونوں ایک ساتھ چھٹیاں مناتے تھے۔
1984 میں اینڈروپوف کی موت کے بعد، گورباچوف سی پی کے اس ونگ کے سرکردہ نمائندے بن گئے جس کا خیال تھا کہ اپنی مراعات کو محفوظ رکھنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ وہ یو آیس آیس آر میں سرمایہ داری کو بحال کرنے کے لیے جلد از جلد حرکت میں آئے — یعنی جس طرح کہ ٹراٹسکی نے پیشن گوئی کی تھی کہ پرولتاریہ کی حرکت سے پہلے ایک مالک حقیقی طبقے میں تبدیل ہو گیا۔ جب 1980 کی دہائی کے اواخر میں یو ایس ایس آر کے کان کنوں نے ہڑتالیں کی اور صنعت کے دیگر حصوں میں لاکھوں مزدوروں نے پیرسٹریکا کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجاً واک آوٹ کیا تو بیروکریسی نے سرمایہ دارانہ بحالی کے عمل کو تیز کر دیا۔
پیرسٹریکا کے متوازی،گورباچوف نے گلاسنوسٹ (کھلے پن) کی پالیسی متعارف کرائی۔ اس نے کئی دہائیوں میں پہلی بار عوامی بحث بشمول سٹالن کے جرائم کے بارئے میں مزید انکشافات سامنے آئے اور سوویت تاریخ پر بحث کی اجازت دی، گلاسنوسٹ کا مقصدتاہم سوویت معاشرے کو جمہوری بنانا نہیں تھا، محنت کش طبقے کو ان کی اپنی ریاست کے معاملات میں رائے دینے کی اجازت نہیں تھی۔ گورباچوف کا اصل مقصد ابھرتی ہوئی سوویت پیٹی بورژوازی اور ان لوگوں کے درمیان سرمایہ دارانہ بحالی کی بنیاد بنانا تھا جو اس سے تعلق رکھنا چاہتے تھے، انہیں سیاسی معاملات میں رائے دیتے ہوئے اور سوویت تاریخ کی لبرل-جمہوری تعبیر کو فروغ دینا تھا جو کہ دونوں کمیونسٹ مخالف تھیں۔ اور اس کے ساتھ ہی ٹراٹسکی پر سٹالن کے حملے کا دفاع کیا۔ ٹراٹسکی کو نہ صرف لامتناہی تاریخی جھوٹ کا نشانہ بنایا گیا تھا بلکہ اسے 'برابری پھیلانے' کے طور پر بھی بدنام کیا گیا تھا۔
گلاسنوسٹ کے آنے کے ساتھ ہی کمیونسٹ پارٹی نے مساوات کے اصول پر شدید حملے کیے۔ 'مساوات' کو یو ایس ایس آر کے بے شمار مسائل کی خرابی کے جڑ کے طور پر پیش کیا گیا۔ محنت کش طبقہ کو انتقام کا نشانہ بنایا اور آس پر الزام لگایا گیا کہ اس نے بہت زیادہ حاصل کیا اور کام بہت کم کیا، اگرچہ گورباچوف کے دور میں بہت سے سابق انقلابیوں کو سرکاری طور پر بحال کیا گیا تھا، لیکن ٹراٹسکی انکی نفرت اور ریاستی بدعنوانی کا نشانہ بنا رہا۔ 1917 کے انقلاب کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنی تقریر میں گورباچوف نے واضح طور پر ٹراٹسکی کو ایک بدعقید اور 'ایک حد سے زیادہ خود اعتماد سیاست دان قرار دیا جو ہمیشہ ڈھلملاتا اور دھوکہ باز رہا'۔ ٹراٹسکی کو کمیونسٹ پارٹی نے کبھی بحال نہیں کیا۔
1990 میں کمیونسٹ پارٹی کانگریس میں اپنی تقریر میں گورباچوف نے اعلان کیا کہ وہ اپنی اصلاحات کے ساتھ 'تاریخ کے ایک اٹل پُرامن دور اور عالمی انسانی مسائل کے حل کے لیے مادی بنیادیں بنا رہے ہیں'۔ اس میں سے کوئی بھی حقیقت سامنے نہیں آئی بلکہ اسکے برعکس ہوا۔ سوویت یونین کی تحلیل کے نتیجے میں متوقع زندگی میں کمی واقع ہوئی، دوسری عالمی جنگ کے علاوہ اس کی مثال نہیں ملتی۔
روس میں پیوٹن کی حکومت اولیگارشی کے اس دھڑے کی نمائندگی کرتی ہے جس نے ریاستی اثاثوں کو لوٹ کرکے خود کو بہت زیادہ مالا مال کیا ہے۔ روس اور سابق سوویت یونین میں لوگوں کی اکثریت غریب ہے۔ پورا خطہ سامراجی سازشوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد پیدا ہونے والے سمجھوتوں اور معاحدوں میں شاید ہی کوئی باقی رہ گیا ہو۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ آگ کی لپیٹ میں ہیں۔ روس کے خلاف امریکی نیٹو جنگ نے ایک حصے کے طور پر یوکرین کو تباہی اور بربادی دو چار کیا ہے۔ دنیا پہلے سے کہیں زیادہ عدم استحکام اور ایٹمی ہولوکاسٹ کے دہانے پر ہے۔
جیسا کہ آئی سی ایف آئی نے کئی دہائیوں سے وضاحت کی ہے، سوویت بیوروکریسی کے ذریعے سوویت یونین کا خاتمہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی فتح کا نشان نہیں تھا، بلکہ اس کے ایک گہرے بحران کی طرف نزول کی پہلی علامت تھی۔ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں، جنگ کے بعد کا قومی ریاستی نظام عالمگیریت کے دباؤ میں منہدم ہو گیا اور وہ تمام قوتیں جنہوں نے محنت کش طبقے کو قابو میں رکھنے اور اس کی جدوجہد کو قومی فریم ورک تک محدود رکھنے کا کام کیا سٹالنسٹوں سے لے کر سوشل ڈیموکریٹس تک اور یونینوں اس عالمگیرت کے دباو کے آگے ٹوٹ کر بکھر رہے ہیں۔ سامراجی، جنہوں نے طویل عرصے سے اپنے بین الاقوامی نظام کو سیاسی طور پر مستحکم کرنے کے لیے سٹالنسٹوں پر انحصار کیا تھا، وسائل اور منڈیوں کے کنٹرول کے لیے ایک بار پھر ایک دوسرے کے گلے کاٹنے پر تولے ہوئے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سوویت یونین کے کھلنے سے مال غنیمت کے حجم میں کافی اضافہ ہوا۔
25 دسمبر 1991 کو گورباچوف نے سوویت یونین کو تحلیل کرنے کے اعلان پر دستخط کیے۔ اس کے بعد سے 30 سالوں میں مسلسل جنگ چھیڑی گئی ہے۔ منگل کو گورباچوف کی موت کے فوراً بعد مغربی پریس کے صفحات سابق سوویت رہنما کی تعریفوں سے بھر گئے۔ وہی خبر رساں ادارے جنہوں نے سوویت یونین کے آخری ردِ انقلابیوں پر آنسو بہائے تھے، روس کے خلاف امریکی نیٹو جنگ کی تعریف کر رہے ہیں۔ وہ خون کی ہولی کے خاتمے کے لیے نہیں بلکہ اس جنگ کے وسیع ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
گورباچوف کی حقیقی میراث اس کے ان احمقانہ اعلانات میں نہیں ہے کہ سرمایہ داری نیکی ہے اور سامراجیت ایک افسانہ ہے، بلکہ امریکہ-نیٹو کی طرف سے اکسائی گئی برادرانہ جنگ میں یوکرین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا اور اس کا مقصد روس کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا تھا۔
مغرب کے اس وقت کے اعلانات کہ گورباچوف کی اصلاحات اور یو ایس ایس آر کی تحلیل 'تاریخ کے خاتمے' کا اعلان کرتی ہے اور لبرل ورلڈ آرڈر کی فتح بھی بلکل غلط ثابت ہوئی۔ امریکی جمہوریت موت کے قریب ہے۔ انتہائی دائیں بازو کی بغاوت سے امریکی حکومت کو تقریباً گرانے کے 19 ماہ بعد، صدر بائیڈن نے امریکی جمہوریت کے خاتمے کے بارے میں ایک تقریر کی۔ دریں اثنا، وبائی مرض پر حکمران طبقے کے قاتلانہ ردعمل کی وجہ سے امریکہ میں متوقع عمر میں پورے تین سال کی کمی واقع ہوئی ہے۔
لیکن جس طرح سٹالنسٹ بیوروکریٹس اور سامراجی عالمی سرمایہ داری کی فتح کے بارے میں اپنے قیاس آرائیوں میں غلط تھے، اسی طرح وہ طبقاتی جدوجہد اور سوشلزم کے ممکنہ خاتمے کے بارے میں اپنے مفروضوں میں بھی غلط ہیں۔ سماجی عدم مساوات میں بڑے پیمانے پر اضافہ، آج کی سیاست میں غیر معمولی صورتحال اور ان کے روزمرہ کے حالات زندگی کی عدم برداشت دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ان کے لیے سوشلزم سوویت یونین کے ساتھ نہیں مر گیا بلکہ بہت زیادہ آج کے دن کی ضرورت بن گیا ہے۔
