یہ اردو ترجمعہ 2023:The global capitalist crisis and the growing offensive of the international working class اس ارٹیکل کا ہے۔
1- نئے سال کے آغاز کی تقریبات مختصر ہوں گی۔ پرانا سال بظاہر تاریخ میں گزر گیا لیکن اس کے بحران برقرار ہیں اور مزید شدت اختیار کریں گے۔ جیسے ہی 2003 شروع ہو رہا ہے، کویڈ- 19 وبائی مرض اپنے چوتھے سال میں داخل ہو رہا ہے جس کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آتا۔ روس کے خلاف امریکہ اور نیٹو کی جنگ بدستور بڑھ رہی ہے۔ عالمی سرمایہ دارانہ معیشت بیک وقت تباہ کن مہنگائی اور کساد بازاری سے دوچار ہے۔ ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں بورژوا جمہوریت کے ادارے اور سب سے بڑھ کر امریکہ میں ٹوٹ رہے ہیں۔ امریکی سیاسی نظام 6 جنوری 2021 کی بغاوت کے آفٹر شاکس کے ساتھ بہت کم کامیابی کے ساتھ جوڑ رہا ہے۔ پوری دنیا میں دائیں بازو کی اور نیو فاشسٹ تحریکیں مسلسل زور پکڑ رہی ہیں۔ جیسے جیسے محنت کش عوام کا معیار زندگی عالمی سطح پر گر رہا ہے طبقاتی جدوجہد تیز ہوتی جا رہی ہے اور سرکاری ٹریڈ یونینوں کے کنٹرول سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔
2- 2022 میں عالمی سرمایہ دارانہ بحران کے ایک دوسرے کو ملانے والے عناصر کے جمع ہونے والے دباؤ کریٹیکل ماس((جوہری سلسلہ کے رد عمل کو برقرار رکھنے کے لیے درکار فاسائل مواد کی کم از کم مقدار)
کی سطح کے برابر پہنچ چکا ہے: یعنی وہ اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں بحران کا متحرک نظام سماجی تباہی کی طرف تحریک کو کنٹرول کرنے کی حکومتوں کی صلاحیت سے باہر ہو گیا ہے۔ حکمران طبقات بحران پر قابو پانے سے قاصر ہیں۔ ان کی معاشی، سیاسی اور سماجی پالیسیاں تیزی سے لاپرواہی اور حتیٰ کہ غیر معقول نوعیت کی ہیں۔ وبائی مرض کے جائز ردعمل کے طور پر ”اجتماعی مدافعت یعنی ہرڈایمونٹی' کو فروغ دینے اور روس کے ساتھ تصادم میں جوہری جنگ کے خطرے پر آمادگی میں سامراجی طاقتیں دنیا کی بڑی آبادی کی زندگیوں کی توہین آمیزئی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ بین الاقوامی سوشلسٹ پروگرام سے لیس محنت کش طبقے کی مداخلت ہی انسانیت کو سرمایہ داری کی پیدا کردہ تباہی سے نکلنے کا راستہ فراہم کر سکتی ہے۔
کویڈ- 19 وبائی مرض
3- نومبر 2021 میں اومیکرن کے مختلف قسم کے ظہور کا خیرمقدم سرمایہ دارانہ حکومتوں نے کیا، جس کی سربراہی بائیڈن انتظامیہ کے تحت ریاست ہائے متحدہ امریکہ کر رہی تھی، اس لیے کہ وہ تخفیف کے اقدامات کو ترک کر دیں جو کویڈ- 19 کے پھیلاؤ کو کم کرتے ہیں۔ حکومت کا 'نظریہ' جس کی کوئی قابل اعتبار سائنسی بنیاد نہیں تھی - یہ تھا کہ اومیکرن ایک 'زندہ وائرس ویکسینیشن' ہوگی، جس کے پھیلاؤ سے کسی حد تک قوت مدافعت پیدا ہوگی اور اس کی بنیاد پر کورونا وائرس ختم ہوجائے گا۔
4- حکمران طبقے نے مطالبہ کیا کہ امریکی 'وائرس کے ساتھ جینا سیکھیں'، اس جھوٹے وعدے کے ساتھ کہ یہ ایک مخصوص 'علاقے' تک محدود ہو جائے گا اور موسمی فلو سے زیادہ خطرناک نہیں ہوگا۔ میڈیا کی مہم نے ماسکنگ، ٹیسٹنگ، کانٹیکٹ ٹریسنگ، متاثرہ مریضوں کو الگ تھلگ کرنے اور کیسز اور اموات کی منظم رپورٹنگ کو ختم کر دیا۔ بائیڈن نے اعلان کیا کہ 'وبائی مرض ختم ہو گیا ہے' اور زندگی معمول پر آسکتی ہے، آبادی کو کویڈ-19 کے جاری خطرات سے لاعلم رکھتے ہوئے غیر مسلح کر دیا گیا۔
5- یہ بیانیہ جھوٹ اور پروپیگنڈے پر مبنی تھا۔ اس نے سائنسی سچائی کو نظر انداز کر دیا کہ کویڈ- 19 کے دوبارہ انفیکشن جو عام ہو چکے ہیں متاثرہ افراد کے ہسپتال میں داخل ہونے اور موت کے خطرے کو بڑھا دیتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ ذرائع ابلاغ نے عملی طور پر لانگ کویڈ پر کوئی توجہ نہیں دی اور وائرس کا شکار ہونے والوں کی بڑی تعداد پر اس کے مستقل اثرات کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔انہوں نے اس خطرے کے بارے میں صاف جھوٹ بولا جو ماہرِ وائرولوجسٹ نے قائم کیا تھا کہ نئی اقسام کا مسلسل اور تیزی سے ارتقاء پچھلے انفیکشنز سے حاصل کردہ ویکسین اور قوت مدافعت کی تاثیر کو کمزور کرتا ہے۔ سال کا اختتام اس انکشاف کے ساتھ ہوا کہ تین مہینوں میں دوسری بار یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) نے ایک خطرناک نئے اومیکرن کی ذیلی قسم کے پھیلاؤ کو چھپائے رکھا۔ XBB.1.5 قسم تیزی سے پورے امریکہ میں غالب ہوتی گی ہے پہلے اور بعد میں پورے شمال مشرقی خطے میں انفیکشن سے متاثرین ہسپتالوں میں داخل ہونے کا سبب بنتے رہے۔
6- 'وائرس کے ساتھ زندگی گزارنے' کا مطلب ہے کہ انفیکشن اور دوبارہ انفیکشن کی نہ ختم ہونے والی لہروں کے درمیان موت اور کمزوری کی حیران کن سطح کو قبول کرنا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار عالمی متوقع زندگی میں کمی آئی ہے۔ دنیا بھر میں 10 ملین سے زیادہ بچے کویڈ-19 سے والدین یا بنیادی دیکھ بھال کرنے والے کو کھو چکے ہیں۔ لاکھوں لوگ لانگ کویڈ میں مبتلا ہیں جو جسم کے تقریباً ہر عضو کو متاثر کر سکتا ہے۔
7- زیادہ اموات کے تخمینے کے مطابق، تین سالوں میں 21 ملین سے زیادہ لوگ براہ راست یا بالواسطہ طور پر کویڈ- 19 سے مر چکے ہیں جو کہ پہلی عالمی جنگ کے چار سالوں کے دوران ہونے والی کل فوجی اور سویلین ہلاکتوں کے برابر ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے اضافی اموات کے بارے میں ایک حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ 2020 میں عالمی سطح پر موت کی تیسری بڑی وجہ کویڈ-19 تھی اور 2021 میں موت کی دنیا کی سب سے بڑی وجہ تھی۔ 2022 میں دنیا بھر میں تقریباً 5۰1 ملین اضافی اموات ہوئیں۔ جس سے 'ہلکا' اومیکرون قسم موت کی تیسری اہم وجہ ہے۔ حکومتوں نے ایک نئے وائرس کو عالمی سطح پر پھیلنے اور دنیا کے بدترین قاتلوں میں سے ایک بننے دیا۔
8- صرف امریکہ میں 2022 میں 270،000 تصدیق شدہ کویڈ- 19 سے اموات اور 350،000 سے زیادہ اموات ہوئیں۔ یہ اموات بڑی عمر کے افراد پر مبنی ہیں۔ 2022 میں کویڈ-19 سے ہونے والی اموات میں سے تین چوتھائی، یا 186،000 افراد کی عمریں 65 سال سے زیادہ تھیں جس کی شرح سال بھر میں بڑھ رہی ہے۔ ایک نئے مالتسینزم نے حکمران طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جو بوڑھوں کی موت کو حیران کن بے حسی کے ساتھ دیکھتا ہے۔ چارلس ڈکنز کے کلاسک میں اسکروج کے الفاظ اب مالیاتی اولیگارکی کا منتر ہیں: 'اگر وہ مرنا چاہتے تو بہتر ہوتا کہ وہ ایسا کرتے تاکہ فاضل آبادی کو کم کرتے۔'
9- نومبر 2022 تک چین نے 'زیرو کویڈ' کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری صحت عامہ کے معروف اقدامات پر عمل درآمد کیا۔ وبائی مرض کے پہلے تین سالوں میں اس پالیسی نے چین میں کویڈ-19 سے ہونے والی اموات کو صرف 5،000 تک محدود کر دیا جو کہ 1۔4 بلین کی آبادی میں سے، یا اس وقت کے دوران امریکی شرح اموات کا 1۔0 فیصد تھا۔ مارچ اور جون 2022 میں زیرو-کویڈ حکمت عملی نے شنگھائی میں اومیکران BA.2 ذیلی قسم کے پھیلنے کو کامیابی کے ساتھ روک دیا اور یہ ثابت کیا کہ یہ اس انتہائی متعدی قسم کا مقابلہ کرنے میں بھی موثر ہے۔
10- چین کے اقدامات خواہ وہ اپنے اندر درست کیوں نہ ہوں ایک بنیادی اور مہلک خامی کا شکار ہوئے: عالمی وبائی مرض کو قومی حکمت عملی کی بنیاد پر نہیں روکا جا سکتا۔ ریاستی سرحدوں کو ناقابل تسخیر نہیں بنایا جا سکتا۔ چین میں وائرس کی دراندازی کو روکنا ایک سیسیفین (محنت مگر بے حاصل) کام تھا۔ مزید برآں بڑے سرمایہ دار ممالک میں حکومتوں اور میڈیا نے ایک جارحانہ مہم چلائی جس کا مطالبہ تھا کہ چین اپنی زیرو کووِ یڈ حکمت عملی کو ترک کر دے، کیونکہ اس بنیاد پر اٹھائے گئے اقدامات عالمی تجارت اور سپلائی چین کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ بین الاقوامی کارپوریشنوں کے منافع کے مفادات کے پیش نظر ایپل، نائکی اور دیگر بڑے کارپوریشنز نے اپنی پیداواری سہولیات کو چین سے دوسرے ممالک میں منتقل کرنے کی دھمکی دی۔
11- ان معاشی اور جغرافیائی سیاسی دباؤ کے جواب میں، نومبر میں شروع ہونے والی حکمران چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) نے زیرو کووِیڈ کو ترک کر دیا۔ ایک ماہ کے عرصے میں اس نے تمام لاک ڈاؤن، بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ، کانٹیکٹ ٹریسنگ، قرنطینہ اور آئسولیشن پروٹوکول اور سفری پابندیاں ختم کر دیں۔
12- دسمبر کے صرف پہلے تین ہفتوں میں ایک اندازے کے مطابق چین میں 248 ملین لوگ کوویڈ- 19 سے متاثر ہوئے، جو کہ وبائی امراض کے پہلے تین سالوں میں متاثر ہونے والی تعداد سے 100 گنا زیادہ ہے۔ چین کے 1۔4 بلین لوگوں کی اکثریت مارچ 2023 تک متاثر ہونے کی توقع ہے۔ مرنے والوں کی تعداد کا تخمینہ 1ملین سے 2 ملین کے درمیان ہے۔ چین بھر کے شہروں کے ہسپتال مریضوں سے بھر رہے ہیں، اور لاشوں کے انبار کے جواب میں مردہ خانے تدفین کی خدمات معطل کر رہے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ملک بھر میں روزانہ ہزاروں لوگ مر رہے ہیں۔
13- چین میں زیرو کوویڈ کا خاتمہ اور 'ہمیشہ کے لیے کوویڈ ' کی پالیسی اپنانا وبائی مرض میں ایک نئے اور ممکنہ طور پر اس سے بھی زیادہ خطرناک مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ سائنس دانوں نے متنبہ کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر انفیکشن اس امکان کو بڑھاتا ہے کہ نئی قسمیں مزید تیار ہوں گی۔ دنیا کے سرمایہ دار حکمران اشرافیہ معاشرے کے ساتھ روسی رولیٹی(جوئے کا کھیل) کھیل رہے ہیں جس سے یہ خطرہ بڑھ رہا ہے کہ زیادہ متعدی، مدافعتی مزاحمتی اور مہلک قسم انفیکشن کی ایک اور بھی مہلک عالمی لہر کو جنم دے سکتی ہے۔
14- جدید تاریخ میں ایسی حکومتوں کی کوئی نظیر نہیں ملتی جو کھلے عام فاشسٹ پالیسیوں پر عمل درآمد نہ کرتی ہوں جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر بیماری اور موت واقع ہوتی ہے۔ لیکن یہ بالکل وہی ہے جو تمام سرمایہ دارانہ ریاستوں نے وبائی امراض کے دوران کیا ہے۔
15- جیسا کہ وبائی مرض کا ردعمل واضع کرتا ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سرمایہ دارانہ حکومتیں موسمیاتی تبدیلی سے لاحق اس سے بھی بڑے خطرے پر کوئی مختلف ردعمل ظاہر نہیں کریں گی۔ بڑے پیمانے پر ناپید ہونے کا خطرہ بھی حکمران اشرافیہ کو کارپوریٹ منافع اور ذاتی دولت کے تباہ کن تعاقب سے باز نہیں رکھے گا۔ گزشتہ سال موسمیاتی بحران کی ایک بڑی شدت دیکھی گئی جس میں پاکستان اور افریقہ کے بیشتر حصوں میں خوفناک سیلاب، یورپ، چین اور مشرقی افریقہ میں تباہ کن خشک سالی، سمندری طوفان ایان اور ریاستہائے متحدہ میں موسم سرما میں آنے والا بم سائیکلون اور دیگر انتہائی شدید موسم شامل ہیں۔ دنیا بھر میں رونما ہونے والے یہ واقعات سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی عالمی خوراک کے بحران کو مزید بڑھاتی رہے گی لاکھوں لوگوں کی جان لے لے گی، کروڑوں مزید بے گھر ہو جائیں گے اور مستقبل میں وبائی امراض کے امکانات میں اضافہ ہو گا۔
روس کے خلاف امریکہ اور نیٹو کی جنگ
16- روس کے خلاف امریکہ اور نیٹو کی جنگ تیسری عالمی جنگ کی طرف پیش رفت میں ایک سنگ میل ہے۔ جنگ کی بنیادی وجہ اور نوعیت کا تعین اس بات سے نہیں ہوتا کہ 'پہلی گولی کس ملک نے چلائی' بلکہ تنازعات میں مصروف ممالک کو کنٹرول کرنے والے طبقات کے سماجی و اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی مفادات سے طے ہوتا ہے۔ یوکرین کو اس کے کرپٹ سرمایہ دار طبقے نے پراکسی جنگ میں امریکی اور یورپی سامراج کے اختیار میں رکھا ہوا ہے۔ اس کا مقصد روس کی شکست ہے جس کے مقصد کے لیے 1) اس وسیع ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور اس کے اہم قدرتی وسائل کی بے پناہ فراہمی پر کنٹرول حاصل کرنا، 2) یوریشیائی خطے کی امریکہ سامراجی تسلط کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو ہٹانا اور 3) اقتصادی اور فوجی اقدامات کے امتزاج کے ذریعے امریکی سامراج کے لیے چین کے گھیراؤ اور اس کی ماتحتی کو مکمل کرنا۔
17- 24 فروری 2022 کو روس کی طرف سے یوکرین پر 'بلا اشتعال حملے' کے دعوے کے گرد بنایا گیا سرمایہ دارانہ میڈیا کا پروپیگنڈا جھوٹ، آدھے سچ اور اہم معلومات کو دبانے پر مبنی ہے۔ یہ تنازعہ کو اس کی پوری سابقہ تاریخ اور گزشتہ 30 سال کی امریکی قیادت میں ہونے والی جنگوں اور حملوں سے الگ کرتا ہے۔
18- امریکہ نے 1991 میں سوویت یونین کی تحلیل کو اپنی فوجی طاقت کو پوری دنیا پر بے مثال تسلط قائم کرنے کے لیے استعمال کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھا۔ سامراج کے پروپیگنڈا کرنے والوں نے اسے وال سٹریٹ کے مفادات میں 'نیو ورلڈ آرڈر' کا حکم دینے کے لئے امریکہ کے لئے 'یک قطبی لمحے' کے طور پر اسکی تعریف کی اور اسے آگے بڑھایا۔ پینٹاگون کی 1992 کی حکمت عملی کی دستاویز میں اعلان کیا گیا کہ امریکی حکمت عملی 'مستقبل کے کسی بھی ممکنہ عالمی حریف کے ظہور کو روکنے پر مبنی ہونی چاہیے۔'
19- وہی حکومت جو اب یوکرین میں 'نسل کشی' کے لیے روس کی مذمت کرتی ہے، اس نے عالمی فتح کے اپنے منصوبے میں پورے معاشرے کو تباہ کر دیا اور لاکھوں افراد کو ہلاک کر دیا۔ 1990- 91 میں عراق کے خلاف پہلی جنگ سوویت یونین کے آخری سال میں شروع ہوئی، اس کے بعد 1990 کی دہائی میں یوگوسلاویہ کو ختم کر دیا گیا، جس کا اختتام 1999 میں سربیا کے خلاف جنگ پر ہوا۔ وہی سامراجی طاقتیں جو اب علاقائی سالمیت پر اصرار کرتی ہیں۔ یوکرین اور کریمیا کی واپسی کا مطالبہ کر رہی ہیں لیکن سربیا سے کوسوو کو چھیننے میں کوئی پروا نہیں کی گی تھی۔
20- 11 ستمبر 2001 کے حملوں کو 'دہشت گردی کے خلاف جنگ' کا اعلان کرنے کے لیے ایک بہانے کے طور پر استعمال کیا گیا اور جسے صدر جارج ڈبلیو بش نے ' 21 ویں صدی کی جنگیں' قرار دیا۔ امریکہ نے 2001 میں افغانستان پر حملہ کیا اور 2003 میں عراق کے خلاف دوسری جنگ کی قیادت کی۔ پھر اوباما انتظامیہ کے تحت اس نے لیبیا کے خلاف جنگ چھیڑی اور 2011 میں شام میں خانہ جنگی کا آغاز کیا۔ اس بنیاد پر کہ امریکہ ایک یا دوسرے شیطان کے خلاف 'جمہوریت' اور 'آزادی' کے لیے لڑ رہا ہے اور ان شیطانوں کو انکے منصب سے معزول ہونا پڑا۔
21- تاہم امریکی سامراج کی طرف سے منظم اور زیر قیادت خون کی ہولی اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہی: کیونکہ امریکہ مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور یوریشین لینڈ ماس پر غیر منقسم کنٹرول حاصل نہیں کر سکا۔ تیزی سے، امریکی جیو پولیٹیکل حکمت عملی کے ماہرین نے چین کے ساتھ تنازعہ کے پیش نظر روس کے ساتھ براہ راست تنازعہ کی ضرورت پر بحث شروع کی۔ اگست 2021 میں جب بائیڈن نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا اعلان کیا تو اس نے دعویٰ کیا کہ وہ 'ہمیشہ کے لیے جنگ' ختم کر رہے ہیں۔ اب یہ واضح ہے کہ یہ روس کے خلاف جنگ کی تیاری میں تھا — جسے اس نے 'جتنا وقت بھی لگے' جاری رکھنے کا عہد کیا ہے۔
22- امریکہ اور یورپی طاقتوں نے اس جنگ کو مشرق میں روس کی سرحدوں تک نیٹو کی توسیع کے کئی عشروں کے ذریعے اکسایا۔ حملے سے پہلے کے سالوں میں، خاص طور پر یوکرین میں 2014 کی امریکی پشت پناہی کی بغاوت جس نے روس نواز حکومت کو ختم کر دیا تھا، امریکہ اور نیٹو نے یوکرین میں دسیوں ارب ڈالر کے ہتھیار بھیجے اور یوکرین نیٹو کے علامتی ممبر کے نام کے بغیر ایک رکن میں تبدیل ہو گیا ہے۔
23- سابق جرمن چانسلر انجیلا مرکل سے سچائی پھسل کر نکل گی جب انہوں نے گزشتہ ماہ Die Zeit اخبار کو بتایا، '2014 کا منسک معاہدہ [یوکرین میں بغاوت کے بعد] یوکرین کو وقت دینے کی کوشش تھی۔ اس نے اس وقت کو مضبوط بننے کے لیے بھی استعمال کیا، جیسا کہ آپ آج دیکھ سکتے ہیں۔“
24- روس کے خلاف جنگ کے منصوبے کو 2022 میں عملی جامہ پہنایا گیا۔ جنگ شروع ہونے سے سات ہفتے پہلے ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس نے انتبا کیا:
نئے سال کا آغاز بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے یوکرین میں نیٹو کے حمایت یافتہ فوجیوں کی بے دھڑک حمایت اور قیادت کرنے کے ساتھ ہوتا ہے، جس نے دائیں بازو کی یوکرین کی حکومت کو روس کے ساتھ اپنی سرحد پر 125،000 فوجیوں کو تعینات کرنے کی ترغیب دی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کو متنبہ کیا کہ امریکہ کسی کے سرخ لائنیوں کو قبول نہیں کرے گا۔ یوکرین کی حکومت کو روکنے کے برعکس بائیڈن انتظامیہ فوجی تصادم کی حوصلہ افزائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ دسمبر میں، ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے دھمکی دی تھی کہ 'اگر یوکرین مزید آگے بڑھنے کا انتخاب کرتا ہے تو روس کے لیے اگلا افغانستان بن سکتا ہے۔'
25- جیسا کہ امریکہ اور اس کے نیٹو ساتھیوں کی طرف سے چھیڑی جانے والی ہر جنگ میں یہ دعوے لامتناہی ہیں کہ روس کے ساتھ تنازع جمہوریت کے دفاع کی جدوجہد ہے۔ لیکن سامراجی طاقتوں کے اقدامات پر مبنی معاشی مفادات کا کوئی حوالہ میڈیا میں نہیں ملتا۔ لیکن اس مسئلے کا تفصیلی جائزہ ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ نے 22 مئی 2022 کو شائع ہونے والے ایک تفصیلی مضمون میں کیا تھا جس کا عنوان تھا، 'اہم وسائل، سامراج اور روس کے خلاف جنگ'۔ اس نے وضاحت کی:
روس دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ اگرچہ اس کی معیشت سامراجی طاقتوں کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے، اس کا زمینی رقبہ دو براعظموں میں پھیلا ہوا ہے، جس کا کل سائز 17ملین مربع کلو میٹر ہے۔ سائز کے لحاظ کے حوالے سے کینیڈا(9۔8 کلو میٹر)، چین (9۔6 کلو میٹر) اور امریکہ (9۔3 کلو میٹر) جو کہ سائز کے لحاظ سے نمایاں طور پر پیچھے ہیں۔ پوری دنیا کے رقبے کا 11 فیصد صرف روس پر مشتمل ہے۔
اس وسیع زمینی علاقے میں اہم معدنیات اور وسائل موجود ہیں۔
روس یورپی یونین کی قدرتی گیس کا تقریباً 40 فیصد اور دنیا کا تقریباً 12 فیصد تیل پیدا کرتا ہے۔ روس دنیا میں کوئلے کے ذخائر کا دوسرا سب سے بڑا ہولڈر ہے جو کہ 175 بلین ٹن ہے۔ یہ وسائل جاری تنازعہ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ سخت عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی کے پس منظر میں، یہ وسائل عالمی سطح پر امریکی سامراج کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہیں لیکن خاص طور پر چین کے عروج کا مقابلہ کرنے کی اس کی کوششوں میں…
ہائیڈرو کاربن کے علاوہ روس میں بنیادی دھاتوں کی بڑی مقدار موجود ہے۔ روس 25 بلین ٹن کے ساتھ لوہے کا تیسرا بڑا ذخیرہ رکھنے والا ملک ہے۔ اس کے پاس سونے کا دوسرا سب سے بڑا ذخیرہ (6،800 ٹن) بھی ہے اور یہ چاندی میں پانچویں نمبر کے قریب ہے۔ یہ ملک ہیروں کا سب سے بڑا پروڈیوسر بھی ہے جو حالیہ برسوں میں اوسطاً دنیا کے تقریباً ایک تہائی ہیروں کی پیداوار کرتا ہے۔
اگرچہ ان وسائل میں سے ہر ایک ریاستہائے متحدہ اور اس کے اتحادیوں کے جیوسٹریٹیجک عزائم کو سمجھنے میں توجہ کا مستحق ہے، یہ مضمون عالمی وسائل کی سیاست کے ایک کم معروف پہلو کو دیکھتا ہے: اہم معدنیات۔ اہم معدنیات سے مراد ایسی دھاتوں اور معدنیات کی ایک بڑی تعداد ہے جو عالمی پیداوار کے لیے تیزی سے اہم ہیں جن کی اگلی دو دہائیوں میں مانگ میں بے پناہ اضافے کی توقع ہے۔ روس اہم معدنیات کی متنوع صفوں کے کافی ذرائع پر بیٹھا ہے جس کے بارے میں امریکہ کا خیال ہے کہ 21 ویں صدی میں عالمی اقتصادی اور سیاسی طاقت کے لیے اہم ثابت ہوں گے
26- روس کے سٹریٹیجک وسائل کا بغور جائزہ لینے کی بنیاد پر مضمون یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے:
روس کا ٹوٹنا اور امریکی سرمائے کے ذریعے اس کا تسلط امریکی حکمران طبقے کی چین اور یوریشیا کی ماتحتی کے ذریعے اپنے مقاصد کے لیے وسیع پیمانے پر 'نئی امریکی صدی' مسلط کرنے کی کوششوں میں ایک اسٹریٹجک قدم ہوگا۔ اس میں وسائل اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ تیل اور قدرتی گیس کی مستقل ضرورت کے ساتھ ساتھ اہم معدنیات کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ضرورت کے درمیان، روس کو ایک اہم زمینی علاقے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس میں بہت ساری دولت ہے۔
27- تاہم نیٹو کی طرف سے لڑی جانے والی جنگ کا سامراجی کردار یوکرین پر روسی حملے کا جواز پیش نہیں کرتا، اسے کسی بھی ترقی پسند کردار سے نوازا نہیں جاسکتا۔ 10 دسمبر 2022 کو انٹرنیشنل یوتھ اینڈ اسٹوڈنٹس فار سوشل ایکویلیٹی کی جنگ کے خلاف آن لائن ریلی میں، چوتھی انٹرنیشنل کی بین الاقوامی کمیٹی نے پیوٹن حکومت کے اقدامات کی واضح طور پر مذمت کی:
جنگ کے بھڑکانے میں امریکی نیٹو اتحاد کی مرکزی ذمہ داری کے باوجود، 24 فروری 2022 کو یوکرین پر روسی حملہ پیوٹن حکومت کی طرف سے کی گئی ایک رجعتی اور مایوس کن کارروائی تھی، جو حکمران سرمایہ دار اشرافیہ کی جانب سے عمل میں آئی جو دسمبر 1991 میں سوویت یونین کی تحلیل کے بعد اقتدار پر قابض ہوئے۔
زار ازم اور نیو سٹالنسٹ قومی شاونزم کے رجعتی ورثے کو دعوت دے کر جنگ کا جواز پیش کرنے کی پیوٹن حکومت کی کوششیں ایک قابل نفرت تاریخی رجعت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ نیٹو کی اشتعال انگیزیاں کامیاب نہ ہوتی اگر یہ حقیقت نہ ہوتی کہ پیوٹن کی حکومت ان دور اندیش جمہوری اصولوں کی مکمل تردید کا نتیجہ ہے۔ اکتوبر انقلاب کے 5 سال بعد جن کی بنیاد پر 1922 میں سوویت سوشلسٹ جمہوریہ کی یونین کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ بالشویک حکومت جس کی قیادت لینن اور ٹراٹسکی کر رہے تھے نے یو ایس ایس آر کی ایک رضاکارانہ یونین کے طور پر بنیاد رکھی، اور جو آئینی طور پر تمام قومی اور نسلی گروہوں کی جمہوری مساوات کے لیے پرعزم تھی۔ روس میں قومی شاونزم کی جان بوجھ کر حوصلہ افزائی کی گی جس طرح جو یوکرین میں اس کا کھلے عام فاشسٹ ہم منصب ہیں نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان برادر کش تصادم کے نظریاتی شرائط کو جنم دیا اور ستم کا شکار ہوئے۔
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو یوکرین میں امریکہ، نیٹو کی جنگ ایک بار پھر سرمایہ داری اور قومی ریاستی نظام کے خاتمے کی ضرورت کو ثابت کرتی ہے جس میں یہ سرایت کر رہا ہے۔ جنگ درحقیقت پیداوار کے ذرائع پر سرمایہ دارانہ نجی ملکیت کی مہلک عدم مطابقت اور دنیا کو دشمن ریاستوں میں تقسیم کرنے کا صرف ایک مظہر ہے جو بنی نوع انسان کی ترقی پسند ترقی اور حتیٰ کہ بقا بھی شدید خطرئے میں ہے۔
28- یہ جنگ سوویت یونین کی تحلیل کا ایک اور المناک نتیجہ ہے۔ گورباچوف، یلسن اور ان کے حامیوں کی طرف سے مراعات یافتہ متوسط طبقے کے نومینکلاتورا کے اندر سرمایہ داری کی بحالی سے حاصل ہونے والے شاندار فوائد کے بارے میں کیے گئے تمام دعووں کی گزشتہ 30 سالوں کے واقعات نے تردید کر دی ہے۔ امن، خوشحالی اور جمہوریت کے بجائے، اکتوبر انقلاب کی تمام وراثت اور یادگار سماجی اور ثقافتی کامیابیوں کی تردید نے برادر کشی کی جنگوں اور بڑے پیمانے پر غربت اور آمرانہ حکومتوں کو جنم دیا ہے۔
29- کیف اور ماسکو حکومتیں دونوں سوویت یونین کی تحلیل کی پیداوار ہیں، اپنی نظریاتی تحریک سیاسی رد عمل کے ڈھیروں سے حاصل کرتی ہیں۔ فاشسٹ سٹیپن بنڈیرا، آرگنائزیشن آف یوکرائنی نیشنلسٹ کے رہنما جس نے دوسری عالمی جنگ کے دوران یہودیوں اور قطبین کے اجتماعی قتل میں نازیوں کے ساتھ تعاون کیا، اب یوکرین کے بانی باپ کے طور پر اعزاز سے نوازا جاتا ہے۔ اپنی طرف سے پیوٹن نے اس سیاسی اور سماجی قسم کو مجسم کیا ہے جسے لینن نے اسٹالن کو مد نظر میں رکھتے ہوئے، 1922 میں بیان کیا تھا کہ 'وہ حقیقی روسی آدمی، عظیم روسی شاونسٹ، ماہیت میں ایک بدمعاش اور ظالم، جیسا کہ عام روسی بیوروکریٹ ہے۔ ' [لینن ورکس، جلد. 36]
30- پراکسی جنگ کے سب سے زیادہ رجعتی نتائج میں سے جوہری ہتھیاروں کو جیوپولیٹکل تنازعے کے ایک جائز آلہ کے طور پر معمول پر لانا ہے۔ بار بار اس دعوے کا کہ نیٹو طاقتیں جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال سے 'منتشر نہیں ہوں گی' کا مطلب صرف یہ ہو سکتا ہے کہ وہ روس پر مکمل فتح حاصل کرنے کے لیے اپنی جنگ جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں اور اس طرح وقت آنے پر چین پر بھی چاہے اس کا مطلب ہی کیوں نہ ہو کہ اربوں لوگوں کی زندگیوں کو تباہی سے دوچار ہونا پڑے۔
31- جیسے ہی جنگ اپنے دوسرے سال میں داخل ہو رہی ہے غیر حقیقی اہداف اور تباہ کن غلط حسابات کی بنیاد پر ایک فیصلہ کن پیش رفت حاصل کرنے کی ضرورت کی وجہ سے فوجی اضافے کی منطق غیر یقینی طور پر آگے بڑھ رہی ہے۔ جنگ کی خطرناک رفتار اور شدت کو یوکرین کے نئے سال کے دن ڈونیٹسک میں روسی فوجیوں کی رہائش گاہ پر کیے گئے حملے میں دکھایا گیا ہے، جس میں متعدد افراد ہلاک ہوئے اور ممکنہ طور پرسینکڑوں نئے بھرتی کیے گے فوجی ہلاک ہوئے۔ یہ بڑا حملہ یوکرین کے صدر زیلنسکی کے دورہ امریکہ کے صرف ایک ہفتے بعد ہوا، جس کا کھلے عام بیان کردہ مقصد اضافی ہتھیار اور فوجی مدد حاصل کرنا تھا۔
32- یکم جنوری کا حملہ امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ جدید ترین HIMARS آرٹلری کے ذریعے فائر کیے گئے میزائلوں سے کیا گیا۔ جنگ کی سمت میں امریکہ کے کمانڈنگ کردار اور اس راکٹ سسٹم کی نفاست کو دیکھتے ہوئے یہ شک نہیں کہ اس حملے کی اجازت بائیڈن انتظامیہ نے دی تھی اور روسی فوجیوں کو نشانہ بنانے میں امریکی فوجی ٹیکنیشن میزائلوں کی لانچنگ میں براہ راست ملوث تھے۔
33- یہ واضح نہیں ہے کہ کیا بائیڈن انتظامیہ سخت روسی ردعمل کو بھڑکانے کی کوشش کر رہی ہے یا اسے یقین ہے کہ پیوٹن حکومت نیٹو کے ساتھ جنگ میں اضافے سے گریز کرے گی۔ لیکن چاہے جان بوجھ کر اشتعال انگیزی ہو یا روسی پالیسی کی غلط تشخیص ہی کے ذریعے وائٹ ہاؤس ایسے خطرات کو مول رہی ہے جو عالمی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔ امریکہ اور نیٹو کی دیگر بڑی طاقتیں، یوکرائنیوں کو اپنے جنگی حصول کے لئے چارے کے طور پر استعمال کر کے فوجی فتح حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور وہ روس کو سر تسلیم خم کرنے سے کم نہیں چاہتے۔ جیسا کہ فنانشل ٹائمز، برطانوی مالیاتی دارالحکومت کے پرنسپل اخبار نے 2 جنوری کو شائع ہونے والے ایک اداریے میں کہا: 'یوکرین کی میدان جنگ میں کامیابیوں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کے اتحادی حمایت میں آسانی پیدا کر سکتے ہیں… اور نہ ہی یہ وقت جنگ بندی یا مذاکرات کے خیال کو قبول کرنے کا ہے۔ '
34- دوسری بڑی سامراجی طاقتیں بھی عالمی جنگ کی تیاری کر رہی ہیں۔ پچھلے سال جرمنی اور جاپان نے جو بڑے پیمانے پر فوجی بجٹ پاس کیے ہیں وہ جنگی بجٹ ہیں۔ اور جب کہ بڑی طاقتیں اس وقت روس اور چین کے ساتھ تنازعہ میں متحد ہیں، جیسا کہ آئی وائے ایس ایس ای(IYSSE) کی آن لائن ریلی میں کہا گیا تھا: 'نیٹو اتحاد اور ذیلی فوجی معاہدے جن میں ایشیا اور ایشیا پیسیفک کے ممالک شامل ہیں بھائیوں یا دوستوں پر مشتمل نہیں ہیں بلکہ سامراجی چوروں، لیٹروں اور قاتلوں کا اڈہ ہیں۔ عالمی سامراجی دشمنیوں کی منطق بہت دور نہیں ہے عنقریب مستقبل میں آج کے عارضی اتحادیوں کے درمیان یہ انہیں تلخ تنازعات کی طرف لے جائے گی۔ ماضی کی دشمنیاں جیسا کہ مثال کے طور پر امریکہ اور جرمنی کے درمیان لامحالہ دوبارہ ابھریں گی۔
6 جنوری کا کودیتا اور امریکی جمہوریت کا بحران
35- امریکی جارحانہ خارجہ پالیسی اور اسکی لاپرواہی کو صرف امریکی سامراج کے جغرافیائی سیاسی مفادات کے حوالے سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایک مرکزی عنصر خود امریکہ کے اندر انتہائی سگین بحران ہے۔ عالمی فتح کے اپنے تمام خوابوں کے ساتھ امریکی حکمران طبقہ تیزی سے غیر فعال سیاسی نظام کی صدارت کر رہا ہے۔ جہاں تک 1998-99 کے کلنٹن کے مواخذے کے بحران اور 2000 میں ووٹوں کی گنتی کو دبانے اور جارج ڈبلیو بش کو صدارت دینے کے لیے سپریم کورٹ کی مداخلت کا تعلق ہے انٹرنیشنل کمیٹی نے خبردار کیا تھا کہ امریکی حکمران طبقہ حکمرانی کے آمرانہ شکلوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔
36- جمہوریت مخالف انحطاط کا یہ طویل عمل 6 جنوری 2021 کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اقتدار کی منتقلی کو روکنے اور صدارتی آمریت قائم کرنے کے لیے ایک فاشسٹ بغاوت کرنے کی کوشش پر اختتام پذیر ہوا۔ اس بغاوت کو ریپبلکن پارٹی کی اکثریت اور حکمران طبقے اور فوجی ریاستی اداروں کے اندر اہم عناصر کی حمایت حاصل تھی۔
37- پچھلے ایک سال کے دوران 6 جنوری کو تحقیقات کرنے والی ہاؤس کمیٹی نے کئی سماعتیں کیں، جن میں یہ ثابت ہوا: 1) کہ ٹرمپ نے بغاوت کی قیادت اور ہدایت کرنے کی سازش کی؛ اور 2) بغاوت کامیاب ہونے کے بہت قریب آ گئی تھی۔ سماعتوں کا اختتام دسمبر میں محکمہ انصاف کے حوالہ جات کے ساتھ ہوا جس میں کہا گیا کہ ٹرمپ کو گرفتار کیا جائے اور ان پر 'بغاوت کو بھڑکانے، مدد کرنے یا مدد کرنے کی سازش' کا الزام لگایا جائے۔
38- انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز (IISS) نے اپنے سالانہ اسٹریٹجک سروے برائے 2022 میں امریکی سیاست کی نزاکت کی طرف اشارہ اس طرح کیا:
اگرچہ ٹرمپ کی سازش ناکام ہو گئی، لیکن اس کوشش کی جرأت نے شعور اور توقعات میں ایک انقلاب کی نشاندہی کی کہ آیا مستقبل میں انتخابی نتائج کو مسترد اور تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کا نتیجہ صرف اس لئے قابل فہم ہے کہ سیاسی پولرائزیشن کی غیر معمولی سطح نے 2021- 22 میں واشنگٹن میں اور امریکہ بھر کے ریاستی دارالحکومتوں میں سیاسی اشرافیہ کے اس طرز عمل کو آگے بڑھایا۔ بلکہ اس لیے بھی کہ امریکی خود سماجی اور سیاسی طور پر ایک دوسرے سے زیادہ مختلف ہو گئے ہیں حالیہ وقت میں پہلے ایسا دیکھنے کو نہیں ملا تھا...
اس بارے میں ایک علمی بحث جاری ہے کہ آیا آنے والی دہائی میں امریکہ کو خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جواب تعریفوں پر منحصر ہو سکتا ہے۔ تشدد امریکی سیاست کی ایک نمایاں خصوصیت کے طور پر دوبارہ ابھرا ہے۔
39- ٹرمپ کسی بھی طرح سے امریکی سیاست میں واحد فاشسٹ آمریت کے خطرے کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ریپبلکن پارٹی بڑی حد تک روایتی جمہوری اصولوں کو مسترد کرتی رھی ہے اور ایک آمرانہ ریاست بنانے کی کوشش کر رھی ہے جو سیاسی مخالفت کو بے رحمی سے دبائے گی جانب گامزن ہے جیسا کہ فلوریڈا میں گورنر رون ڈی سینٹیس جیسی شخصیات کے ابھرنے سے ظاہر ہوتا ہے۔”رو بمقابلہ ویڈ“ کو کالعدم کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے نے اسقاط حمل کو جرم قرار دینے والے ریاستی قوانین کے خلاف جمہوریت مخالف لہر کو جنم دیا ہے۔ مقامی پولیس ہر سال 1000 سے زیادہ لوگوں کو قتل کر دیتی ہے۔ اور جمہوریت کے انحطاط کے ان تمام مظاہر کی بنیاد پر گھریلو جبر کی مشینری کی مسلسل نشونما ہو رہی ہے: این ایس اے اور ایف بی آئی جیسی نگرانی اور جبر کی بڑی ایجنسیاں تمام ریاستوں اور بڑے شہروں میں ان کے ہم منصف اس جبر اور تشدت میں مصروف عمل ہیں۔
40- جمہوریت کا ٹوٹنا اور انتہائی دائیں بازو اور فاشسٹ تحریکوں کا بڑھتا ہوا سیاسی اثر ایک عالمی رجحان ہے۔ اٹلی میں برادرز آف اٹلی (FDI)، فاشسٹ اطالوی سماجی تحریک کے جانشین اور فاشسٹ ڈکٹیٹر بینیٹو مسولینی کے وارث جارجیا میلونی کی سربراہی میں اکتوبر میں وزیر اعظم کے طور پر اقتدار میں آئی۔ فرانس میں نیو فاشسٹ امیدوار میرین لی پین نے مارچ میں ایمانوئل میکرون کے خلاف دوسرے مرحلے کے انتخابات میں 45 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ جرمنی میں جہاں نازی آمریت 20 ویں صدی کے بدترین جرائم کی ذمہ دار تھی، فوجی طاقت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنے کی فاشسٹ دہشت گردانہ سازش کو دسمبر میں ایک چھاپے کے دوران اسکا پردہ فاش کیا۔ رائس برگا 'Richsbürger' تحریک کے انتہائی دائیں بازو کی پارٹی متبادل برائے جرمنی (AFD) سے قریبی تعلقات ہیں اور نیو نازی تحریک کے انٹیلی جنس اور فوجی اداروں کے اندر گہرے روابط ہیں۔
41- پورے یورپ میں فاشسٹ پارٹیوں کو سیاسی طور پر قانونی حیثیت دی گئی ہے، جو عسکریت پسندی کے فروغ، صحت عامہ کے اقدامات کو ترک کرنے، تارکین وطن اور پناہ گزینوں پر حملے، اور سب سے بڑھ کر محنت کش طبقے کے ساتھ تصادم کی تیاریوں کے لیے اہم سیاسی حمایت فراہم کر رہے ہیں۔
42- سوشلسٹ انقلاب کے خطرے کے خلاف حکمران طبقات کے ردعمل کے طور پر فاشزم کی اہمیت تاریخی تجربے سے قائم ہوئی ہے۔ 1922 میں مسولینی اور اس کے فاشسٹ دستوں کو اطالوی بورژوازی نے محنت کش طبقے کی تحریک کو پرتشدد طریقے سے دبانے کے لیے اقتدار سنوپا۔ جرمنی میں اسی مقصد کے لیے ہٹلر اور اس کے نازیوں کو اس سے بھی بڑی بے دردی کے ساتھ استعمال کیا گیا۔ فاشسٹ تحریکوں نے جو شکلیں اختیار کی ہیں وہ ملک سے دوسرے ملک میں مختلف ہیں۔ بعض صورتوں میں، جیسا کہ جرمنی اور اٹلی میں، انہوں نے سرمایہ دارانہ ریاست کا عملی طور پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ دوسرے ملکوں میں — اور درحقیقت، زیادہ کثرت سے — فاشسٹ تنظیموں نے ریاستی جبر کے معاون نیم فوجی اداروں کے طور پر کام کیا ہے، (جیسا کہ انہوں نے، مثال کے طور پر، اسپین، ارجنٹائن، چلی، انڈونیشیا میں) ریاست کی طرف سے خونی ردِ انقلاب میں فوج اور پولیس کے کام میں مدد کی ہے۔
43- موجودہ حالات میں معروضی بحران کا دباؤ حکمران اشرافیہ کو جمہوری طرز حکمرانی کو ترک کرنے اور محنت کش طبقے کی ابھرتی ہوئی تحریک کے خلاف پہلے سے ضرب لگانے پر مجبور کرتا ہے۔
امریکی اور عالمی سرمایہ داری کا معاشی بحران
44- انتہائی سیاسی عدم استحکام آخری تجزیے میں تیزی سے غیر مستحکم معاشی اور مالیاتی صورتحال کی وجہ سے ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران حکمران طبقے کی پالیسی کا مرکزی عنصر بازاروں میں زیادہ سے زیادہ رقم کی لیکویڈیٹی کا انجیکشن رہا ہے۔ یہ 1979 کے 'وولکر شاک' کے نتیجے میں شروع ہوا — وہ دور جب پال وولکر کے ماتحت امریکی فیڈرل ریزرو نے کساد بازاری پیدا کرنے اور بے روزگاری کو بڑھانے کے لیے شرح سود میں تیزی سے اضافہ کیا۔ اس کے بعد کم شرح سود کی ایک مستقل مدت، جو 1990 کی دہائی میں شروع ہوئی اور 20 ویں صدی کی پہلی دو دہائیوں تک پھیلی، مالیاتی منڈیوں میں پیسہ پہنچا اور بڑھتے ہوئے حصص کی قدروں میں اضافے کو ہوا دی گی۔
45- امریکی حکمران طبقے نے 2008 کے معاشی اور مالیاتی بحران کا جواب وال سٹریٹ کے بیل آؤٹ سے دیا۔ فیڈرل ریزرو کے ذریعے سینکڑوں بلین ڈالر کے قیاس آرائی پر مبنی اثاثوں کی خریداری کی مالی اعانت کے لیے قومی قرض کو راتوں رات تقریباً دوگنا کر دیا گیا۔ 2022 میں کوویڈ- 19 وبائی امراض کے ابتدائی مہینوں کے دوران اس کو اور بھی بڑے پیمانے پر دہرایا گیا جس نے بڑے پیمانے پر موت اور سماجی بدحالی کے ہوتے ہوئے سٹاک مارکیٹ میں شیئر کی قدروں کو ریکارڈ سطح تک پہنچا دیا۔
46- امریکہ کی قیادت میں حکمران طبقے کی پالیسی رقم کی چھپائی کے ذریعے مالیاتی اثاثوں کو بڑھانا تھی، جبکہ طبقاتی جدوجہد کو دبا کر اجرتوں کو کم رکھنا تھا۔ دولت — کارپوریٹ اور مالی اشرافیہ کی بلکہ اعلیٰ متوسط طبقے کے اہم طبقوں کی — پیداوار کے اصل عمل سے تیزی سے الگ ہوتی گی۔
47- اس قیاس آرائی پر مبنی جنون کی انتہائی شکل کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ میں واقع ہوئی جو کہ فرضی سرمائے کے لیے ایک فرضی کرنسی ہے، جو 2008 کے بحران کے بعد کی دہائی میں قدر میں پھٹ گئی۔ بٹ کوائن کی قیمت، جو 2009 میں بنائی گئی تھی 2021 میں اپنے عروج پر 64000 ڈالر سے زیادہ ہوگئی۔ نومبر 2021 میں کل کرپٹو مارکیٹ—بشمول بٹ کوائن اور دیگر—3 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی سطح پر پہنچ گئی جسکی پشت پناہی عالمی مالیاتی منڈی میں بڑے پیمانے پر کیش کے انجیکشن کے ذریعے برقرار رہی۔
48- گزشتہ ایک سال کے دوران یہ پالیسی خاتمے کو پہنچا گی۔ عالمی معیشت چار دہائیوں میں زری افراط زر کی بلند ترین سطح سے متاثر ہوئی، مرکزی بینکوں کے کرنسی پرنٹنگ آپریشنز کی پیداوار، وبائی امراض، روس کے خلاف امریکہ-نیٹو کی جنگ اور عالمی سپلائی چینز پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے بحران مزید بڑھتا گیا۔
49- امریکی فیڈرل ریزرو کی قیادت میں، مرکزی بینکوں نے 1980 کی دہائی کے اوائل سے لے کر اب تک سب سے زیادہ شرح سود میں اضافے کا قدم اٹھایا ہے۔ مہنگائی کے جواب میں اٹھائے گئے اقدامات تاہم معاشی بحران کو مزید بڑھا رہے ہیں جبکہ سماجی تناؤ کو مزید تیز کر رہے ہیں جو طبقاتی جدوجہد کو جنم دے رہے ہیں۔
50- شرحوں میں اضافے کا پہلے ہی مالیاتی منڈیوں پر نمایاں اثر پڑا ہے۔ نسڈیک اسٹاک ایکسچینج میں سال کے دوران تقریباً 35 فیصد کمی ہوئی ہے، جبکہ ایس اینڈ پی 500 میں 6۔20 فیصد اور ڈاؤ جونز میں 9۔5 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ٹیسلا، گوگل، ایمیزون، مائیکروسافٹ اور بہت سی دوسری کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو جو قیاس آرائیوں پر پروان چڑھتی تھی گر گئی ہے۔ کریپٹو کرنسی مارکیٹ کی کل قیمت 60 فیصد سے زیادہ گر گئی، 2۔3 ٹریلین ڈالر سے صرف 800 بلین ڈالر تک تباہ ہو گی ہے۔ کرپٹو کرنسی ایکسچینج ف ٹی ایکس کے بانی سام بنکمین فریڈ کی دسمبر میں گرفتاری فنانس کیپیٹل کے قیاس آرائی پر مبنی جنون کی تنزلی کا سب سے ننگا اظہار ہے۔
51- ایسے بڑھتے ہوئے اشارے مل رہے ہیں کہ عالمی معیشت 2023 میں کساد بازاری میں داخل ہو گی۔ اکتوبر میں، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پیش گوئی کی تھی کہ اس سال عالمی شرح نمو 2۔7 فیصد تک گر جائے گی، جو 2001 کے بعد سب سے کم شرح نمو ہے، سوائے 2008-9 کے بحران اور ابتدائی وبائی مرض کا سال۔ تاہم یہ تشخیص حد سے زیادہ پر امید دکھائی دیتی ہے۔ نومبر میں اکانومسٹ نے لکھا 2023 میں عالمی کساد بازاری 'ناگزیر' ہے، جس میں جغرافیائی سیاسی تنازعات، اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، اور شرح سود میں اضافے کی وجہ سے 'میکرو اکنامک استحکام کے نقصان' کے اثرات کا حوالہ دیا گیا ہے۔
52- حکمران طبقے کے نقطہ نظر سے سٹاک مارکیٹ پر شرح سود میں اضافے کے اثرات کو زیادہ اہم سٹریٹجک مقصد کے حصول کے لیے ایک ضروری برائی کے طور پر دیکھا جاتا ہے: ماضی میں اس کے معیار زندگی میں زبردست گراوٹ کے خلاف محنت کش طبقے میں مزاحمت کو روکنا۔ گزشتہ سال اگست میں جب فیڈ کے چیئرمین جیروم پاول نے اعلان کیا کہ شرح سود میں کوئی کمی نہیں آئے گی، تو انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 'نرم لیبر مارکیٹ کے حالات' پیدا کرنا ضروری ہے یعنی بڑے پیمانے پر بے روزگاری پیدا کرنا - جس سے“گھرانوں اور کاروباروں کو کچھ تکلیف ہو گی۔“
53- بڑھتی ہوئی مہنگائی نے پوری دنیا میں محنت کشوں کے حالات زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے مطابق 2022 میں حقیقی اجرتوں میں تقریباً 1 فیصد کی کمی واقع ہوئی جو کئی دہائیوں میں پہلی عالمی سطح پر کمی ہے۔ یورپی یونین میں جہاں اکتوبر 2022 میں سال بہ سال مہنگائی 11۔5 فیصد تک پہنچ گئی، وہاں حقیقی اجرتیں گزشتہ سال کے مقابلے 2022 کی پہلی ششماہی میں 2۔4 فیصد تک گر گئیں۔
54- جیسا کہ حقیقی اجرت میں کمی آئی ہے مزدور کی پیداواری صلاحیت مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محنت کش طبقے کا استحصال بے مثال سطح پر پہنچ رہا ہے۔ نتیجے کے طور پر کارپوریٹ تجزیہ کار خوفزدہ ہیں کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ممالک میں 2023 میں ہڑتالیں اور سماجی مظاہروں کا غلبہ ہو جائے گا۔ امریکی صنعتی تعلقات کے بارے میں بلومبرگ قانون کا تجزیہ نوٹ کرتا ہے کہ 'کم از کم 150 بڑے یونین معاہدے اگلے سال ختم ہونے والے ہیں، ممکنہ طور پر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بڑھتے ہوئے کارپوریٹ منافع کے درمیان مزدوروں میں مزید بدامنی کا باعث ہونگے۔ میعاد ختم ہونے والے معاہدے کم از کم 1۔6 ملین مزدوروں پر مشتمل ہیں جو فلاڈیلفیا کی آبادی سے زیادہ ہیں۔
محنت کش طبقے کی ابھرتی ہوئی عالمی پیش قدمی
55- قیمتوں میں اضافے نے اس بنیادی عمل کو تیز کر دیا ہے جو پوری دنیا میں طبقاتی جدوجہد کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ ٹریڈ یونین اپریٹس کے ذریعے نافذ جمود کا طویل عرصے کے طریقہ کار کو بڑے پیمانے پر مخالفت کا سامنا ہے۔ یکے بعد دیگر ممالک میں محنت کش طبقے کی میلیٹنسی کی تجدید ہو رہی ہے۔ 'تاریخ کے قوانین،' جیسا کہ ٹراٹسکی نے ایک بار لکھا تھا، 'بیوروکریٹک اپریٹس سے زیادہ طاقتور ہیں۔'
56- سماجی بدامنی کے بڑھنے کا ایک بڑا عنصر بنیادی ضروریات زندگی کی بڑھتی ہوئی قیمتں ہیں۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق، اپریل 2020 اور دسمبر 2021 کے درمیان گندم کی قیمت میں 80 فیصد اضافہ ہوا کیونکہ عالمی کوویڈ-19 وبائی مرض نے زور پکڑ لیا تھا جس سے خوراک کی قیمتیں 1970 کی دہائی کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ 2022 میں اب تک گندم کی قیمتوں میں 37 فیصد اور مکئی کی قیمتوں میں 21 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گندم آنے والے چھ ماہ پہلے کے مقابلے میں قیمت 80 فیصد زیادہ ہو گی اور مکئی کی 58 فیصد زیادہ ہوں گی۔
57- سری لنکا میں حکومت کے خلاف مظاہرے مارچ کے آخر میں شروع ہوئے اور اپریل اور مئی تک جاری رہے، جس کا اختتام تین بڑے پیمانے پر عام ہڑتالوں پر ہوا جس کے نتیجے میں ملک سے فرار ہونے والے صدر گوٹابھایا راجا پاکسے کو استعفیٰ دینا پڑا۔ خوراک اور ایندھن کی قیمتوں پر مرکوز بڑے مظاہرے ایکواڈور، پیرو، لبنان، پاکستان اور دیگر ممالک میں بھی ہوئے۔
58- ترکی میں دسمبر اور جنوری میں ویلڈ کیٹ(ٹریڈ یونین کے آپریٹس سے باہر) کی ہڑتالوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اسٹیل ورکرز، پیپر ورکرز، بوٹ ورکرز، آئرن ورکرز اور تعمیراتی مزدور شامل ہیں۔
59- ایران میں حکومت مخالف مظاہرے ستمبر میں مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہوئے، جنہیں اخلاقی پولیس نے مبینہ طور پر حجاب کے لازمی قانون کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ ابتدائی مظاہروں میں بنیادی طور پر متوسط طبقے کی پرتیں شامل تھیں جو آیت اللہ خامنہ ای کی بورژوا اسلامی علما کی حکومت کے تشدد سے متاثر تھیں۔ امریکی سامراج بھی مشرق وسطیٰ میں اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے ایران کے اندرونی معاشی بحران سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
60- دسمبر میں ایرانی محنت کش طبقے کی پرتوں بشمول پیٹرو کیمیکل ورکرز، اسٹیل اور سیمنٹ کے مزدوروں اور بس ڈرائیوروں نے، مظاہروں کے حق میں تین روزہ 'قومی ہڑتال' میں شرکت کی۔ امریکی سامراج کی حکومت کی تبدیلی کی کارروائیوں کی حمایت کیے بغیر ایران میں بورژوا حکومت کی مخالفت اور مظاہروں کو ترقی پسند سمت کی جانب راغب کرنے کا انحصار محنت کش طبقے میں ٹراٹسکی قیادت کی تعمیر پر ہے۔
61- افراط زر کا افریقہ میں طبقاتی جدوجہد کی بڑھوتی پر بہت زیادہ اثر پڑ رہا ہے۔ افریقہ کے 54 ممالک میں سے 23 ممالک اپنی اہم اشیا کی نصف سے زیادہ درآمدات کے لیے روس اور یوکرین پر انحصار کرتے ہیں۔ قیمتوں میں اضافہ ایسے حالات میں بھوک کو بڑھا رہا ہے جہاں زیادہ تر افریقی ممالک سماجی تحفظ کا نیٹ ورک فراہم نہیں کرتے ہیں۔ اثر خاص طور پر ان ممالک میں بہت زیادہ ہے جو اپنا زیادہ تر خوراک درآمد کرتے ہیں اور جو کوویڈ-19 کے معاشی اثرات سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، بشمول نائجیریا، کینیا، گھانا، روانڈا اور مصر کے۔ افریقہ میں بھوک کا سامنا کرنے والے لوگوں کی تعداد براعظم کے 1۔2 بلین لوگوں میں سے 500 ملین سے زیادہ لوگوں میں ہونے کی توقع ہے۔
62- پورے افریقہ میں مزدور ٹریڈ یونین آپریٹس کے چنگل کے باوجود جدوجہد میں داخل ہو گئے ہیں۔ کینیا کے ہیلتھ ورکرز نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی اور 9 دسمبر کو ہڑتال کی۔ نائیجیریا میں یونیورسٹی کے لیکچررز، بس ڈرائیوروں اور سرکاری ملازمین کی ہڑتالیں بھی دیکھنے میں آئیں۔ لاگوس، نائیجیریا میں رینک اور فائل بس ڈرائیوروں کی ہڑتال خاص طور پر اہمیت کی حامل تھی، جس نے آفیشل یونین، نیشنل یونین آف روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز میں یونین کی بیوروکریسیوں کی مخالفت کی۔
63- جنوبی افریقہ نے میکرو مزدوروں کے علاوہ بھی ہڑتالیں دیکھیں جنہوں نے ایسکوم میں برطرف جنوبی افریقی بجلی سپلائی مزدوروں نے تنخواہ پر ہڑتال کی اور برطرف مزدوروں کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ جنوبی افریقہ میں رینک اینڈ فائل ورکرز جنہوں نے کانگریس آف ساؤتھ افریقن ٹریڈ یونینز کی بیوروکریسی کا مقابلہ کیا جو بورژوا افریقی نیشنل کانگریس اور سٹالنسٹ جنوبی افریقی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ سہ فریقی اتحاد میں ہے۔ جنوبی افریقہ کے ہزاروں سرکاری ملازمین نے نومبر میں ملک گیر مظاہروں میں حصہ لیا اور اپنی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا۔ اس کی وجہ سے ایک روزہ عوامی سطح پر عام ہڑتال ہوئی۔
64- لاطینی امریکہ جو تین سال قبل سماجی عدم مساوات اور خطے کی بوسیدہ سیاسی حکومتوں کے خلاف بڑے پیمانے پر بغاوت کا منظر تھا نے 2022 میں طبقاتی جدوجہد کی ایک نئی لہر دیکھی۔ اور اسکے علاوہ ارجنٹینا نے 2022 میں 9000 سے زیادہ سڑکوں پر احتجاج درج کرئے جس سے یہ سال ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ 'پکیٹ لائنوں' کا سال بنا۔ اور برازیل میں سال کی پہلی ششماہی میں اجرت کی جدوجہد کی لہر کے نتیجے میں 75 فیصد زیادہ ہڑتالیں ہوئیں اور ایک سال پہلے کی اسی مدت کے مقابلے میں دو گنا زیادہ کام کے اوقات بند ہوئے۔
65- زندگی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے لاطینی امریکہ کے متعدد ممالک میں پھٹ پڑے، خاص طور پر یوکرین میں امریکی-نیٹو کی طرف سے اکسائی گئی جنگ کی وجہ سے اقتصادی جھٹکوں کی وجہ سے جو کہ 6،000 میل سے زیادہ دور واقع ہے۔ واضع طور پر دائیں بازو کی حکومتوں نے، جیسے ہیٹی میں ایریل ہنری اور ایکواڈور میں گیلرمو لاسو اور جعلی بائیں بازو کی حمایت یافتہ 'گلابی جوار' جیسے پیرو میں پیڈرو کاسٹیلو اور چلی میں گیبریل بورک نے ان مظاہروں کا جواب وحشیانہ ریاستی جبر سے دیا۔
66- یورپ میں، صدر ایمانوئل میکرون کی فرانسیسی حکومت آئل ریفائنری کے مزدوروں کی ایک سلسلہ وار ہڑتالوں سے لرز اٹھی۔ سٹرائیکرز کو زبردستی نوکری پر واپس بھیجنے کی دھمکی دینے کے بعد میکرون نے بالآخر سی جی ٹی(CGT) یونینوں کی خدمات حاصل کر لی تاکہ اس جارحانہ اقدام کا گلا گھونٹ دیا جائے۔ جرمنی میں ہونے والی پیش رفت کو محنت کش طبقے کی ریڈیکلیزشین نے کیا جس کا اظہار ہڑتالوں کے ایک سلسلے میں ملتا ہے۔ موسم خزاں میں میٹل ورکرز یونین آئی جی میٹل کو لاکھوں مزدوروں کو انتباہی ہڑتال پر کال کرنے پر مجبور کیا گیا تاکہ مہنگائی کے اثرات اور جرمن حکومت کی جنگی پالیسیوں پر مزدوروں کے بڑھتے ہوئے غصے پر قابو پایا جا سکے۔ دیگر اہم ہڑتالیں نرسنگ اور ہوا بازی کے شعبوں میں سال بھر اور موسم گرما میں ڈاک ورکرز کی ہوئیں۔
67- برطانیہ میں، ریل ورکرز، ڈاک ورکرز، ٹیلی کمیونیکیشن ورکرز، میل ڈیلیوری ورکرز اور محنت کش طبقے کے دیگر طبقات نے جدوجہد کے ایک سلسلیمیں حصہ لیا جس نے برطانوی حکومت کو غیر مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا 1924 کے بعد پہلی بار ایک سال کے عرصے میں تین وزرائے اعظم کو بدلتے دیکھا۔ اس سال کا اختتام یونینوں کی طرف سے عام ہڑتال کے بڑھتے ہوئے مطالبات کو محدود کرنے کے ساتھ ہوتا ہے جسے میڈیا نے برطانیہ میں نئے 'بے اطمینانی کا موسم' قرار دیا ہے۔
68- آسٹریلیا میں، صنعتی کارروائی اس سطح پر پہنچ گئی ہے جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے نہیں دیکھی گئی تھی، یونین کے آپریٹس کی طرف سے ہڑتالوں کو محدود کرنے اور تقسیم کرنے کی کوششوں کے باوجود مئی 2022 میں انتھونی البانی کی لیبر حکومت کے انتخاب کے بعد نرسوں، اساتذہ، ریل، سمندری اور ٹرانسپورٹ ورکرز اور دیگر کی ہڑتال کے اقدامات میں اضافہ ہوا اور مہنگائی کی وجہ سے کم ہوتی اجرتوں کے خلاف ناقابل برداشت کام کے بوجھ اور گرتی ہوئی اجرت کے خلاف غصہ بڑتا جا رہا ہے۔ البانی حکومت اور ریاستی حکومتوں دونوں کا ردعمل ہڑتال مخالف قوانین اور اقدامات کو تیز کرنا ہے جو چار دہائیوں سے زائد عرصے سے محنت کش طبقے کی جدوجہد کو دبانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
69- نیوزی لینڈ میں افراط زر کی شرح 7۔2 فیصد تک پہنچنے کے ساتھ محنت کشوں کے وسیع طبقے نے زندگی کے اخراجات اور کوویڈ بحران سے پیدا ہونے والے دباؤ کے خلاف جدوجہد کی۔ ماہرین تعلیم، مینوفیکچرنگ اور مہمان نوازی کے کارکنوں کے ساتھ مل کر 20 سالوں میں پہلی بار ملک بھر میں فائر فائٹرز نے ہڑتال میں حصہ لیا، جب کہ سرکاری ہسپتال کی نرسوں نے آرڈرن لیبر حکومت کی جانب سے عارضی 'موسم سرما کے بونس' کی ادائیگیوں کے خاتمے کی مخالفت میں اوور ٹائم شفٹوں میں کام کرنے سے انکار کر دیا۔
70- کینیڈا کے اونٹاریو میں 55،000 ایجوکیشن سپورٹ ورکرز نے ہڑتال مخالف قانون کی خلاف ورزی کی جس نے ڈگ فورڈ کی انتہائی دائیں بازو کی صوبائی حکومت کے خلاف عام ہڑتال کے لیے محنت کش طبقے میں وسیع حمایت پیدا کر دی جسے یونینز کی حمایت سے صرف ہڑتال کے شٹ ڈاؤن کے ذریعے روک دیا گیا تھا۔
71- آخر میں عالمی سرمایہ داری کے مرکز ریاستہائے متحدہ میں کچھ انتہائی دھماکہ خیز طبقاتی لڑائیاں ہو رہی ہیں، جہاں کارنیل یونیورسٹی کے زیر انتظام ڈیٹا بیس کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے 2022 میں ہڑتالوں کی تعداد میں 40 فیصد نمایاں اضافہ ہوا، اس میں تیل کے کارکنوں، نرسوں اور دیگر صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں، مینوفیکچرنگ ورکرز اور اساتذہ اور دیگر تعلیمی کارکنوں کی ہڑتالیں شامل تھیں۔ یونائیٹڈ آٹو ورکرز کی طرف سے قبول کردہ رعایتی معاہدوں کی بنیاد پر کیلیفورنیا یونیورسٹی میں 48،000 تعلیمی کارکنوں کی ایک طاقتور ہڑتال کے ساتھ سال کا اختتام ہوا۔
72- تاہم ہڑتالوں کی تعداد محنت کش طبقے میں اپوزیشن کی حالت کا مکمل اظہار اور عکاسی نہیں کرتی۔ بیوروکریٹک اپریٹس نے ایک وسیع تر جدوجہد کو روکا اور دبا دیا ہے، جس نے کارپوریشنوں اور حکومت کے ساتھ مل کر سماجی غصے پر قابو پانے کی ایک مایوس کن کوشش میں کام کیا ہے۔ اس نے 1000،000 ریل روڈ ورکرز کی جدوجہد کو دبانے کی شکل اختیار کر لی جہاں بار بار کنٹریکٹ مسترد کیے جانے اور ہڑتال کی اجازت کے ووٹوں کے باوجود یونینوں نے ہڑتالوں کو روک دیا۔ اس کا نتیجہ دسمبر میں ہونے والی ہڑتال کو غیر قانونی بنانے کے لیے حکومت کی براہ راست مداخلت پر منتج ہوا، جو کہ بنیادی طور پر فاشسٹ کردار کا ایک اقدام ہے جسکی ٹریڈ یونین نے مخالفت نہیں کی بلکہ درحقیقت ٹریڈ یونین اپریٹس کی طرف سے اسکی حمایت کی گئی۔
آئی سی آئی ایف سوشلسٹ انقلاب کی دہائی میں
73۔ عالمی طبقاتی جدوجہد کی ترقی ایک اہم تاریخی موڑ کی نمائندگی کرتی ہے۔ طبقاتی جدوجہد کی گرافک ٹائم لائن میں نیچے کی طرف ڈھلوان جو 1970 کی دہائی کے اواخر سے شروع ہوئی ہے واضح طور پر سمت بدل چکی ہے اور اوپر کی طرف مڑ رہی ہے۔
74- اس نئی معروضی صورتحال کے اندر انقلابی پارٹی کا کردار اور عمل فیصلہ کن ہے۔ 2019 میں اپنے سمر اسکول میں، سوشلسٹ ایکویلیٹی پارٹی (یو ایس) نے سرمایہ داری کے معروضی بحران اور چوتھی انٹرنیشنل کی تاریخ کے تجزیے پر مبنی سیاسی صورتحال میں معیار کی تبدیلی کی واضع نشاندہی کی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ دور بین الاقوامی کمیٹی کی سیاسی سرگرمی کے ساتھ بین الاقوامی محنت کش طبقے کے ایک نئے انقلابی جوش کے ساتھ اُبھرنے کے مترادف ہوگا۔
فورتھ انٹرنیشنل کی بین الاقوامی کمیٹی نے ٹراٹسکی تحریک کی تاریخ کا پانچواں مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جو سوشلسٹ انقلاب کی عالمی پارٹی کے طور پر آئی سی آئی ایف کی وسیع ترقی کو دیکھے گا۔ اقتصادی عالمگیریت کے معروضی عمل جسکی نشاندہی بین الاقوامی کمیٹی نے 30 سال سے زیادہ عرصہ پہلے کی تھی میں مزید زبردست ترقی ہوئی ہے۔ مواصلات میں انقلاب برپا کرنے والی نئی ٹیکنالوجیز کے ظہور کے ساتھ مل کر ان عملوں نے طبقاتی جدوجہد کو اس حد تک بین الاقوامی کر دیا ہے جس کا 25 سال پہلے تصور کرنا بھی مشکل تھا۔محنت کش طبقے کی انقلابی جدوجہد ایک باہم مربوط اور متحد عالمی تحریک کے طور پر پروان چڑھے گی۔ چوتھی انٹرنیشنل کی بین الاقوامی کمیٹی اس معروضی سماجی و اقتصادی عمل کی باشعور سیاسی قیادت کے طور پر بنائی جائے گی۔ یہ سامراجی جنگ کی سرمایہ دارانہ سیاست کو عالمی سوشلسٹ انقلاب کی طبقاتی حکمت عملی کا مقابلہ کرے گا۔ یہ چوتھی انٹرنیشنل کی تاریخ میں نئے مرحلے کا لازمی تاریخی کام ہے۔
75- اس تجزیے کی بنیاد پر ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس نے 3 جنوری 2020 کو شائع ہونے والے اپنے نئے سال کے بیان میں لکھا کہ آنے والی دہائی 'سوشلسٹ انقلاب کی دہائی' ہوگی۔ ہم نے لکھا، ''محنت کش طبقے کی ترقی اور بین الاقوامی سطح پر طبقاتی جدوجہد کا ظہور انقلاب کی معروضی بنیاد ہے۔ تاہم، محنت کشوں کی بے ساختہ جدوجہد اور سوشلزم کے لیے ان کی فطری جدوجہد بذات خود ناکافی ہے۔ طبقاتی جدوجہد کو سوشلزم کی شعوری تحریک میں تبدیل کرنا سیاسی قیادت کا سوال ہے۔
76- سیاسی قیادت کا چیلنج سرمایہ دارانہ بحران کی معروضی منطق کا تجزیہ کرنا ہے اور اس کی بنیاد پر ایسے اقدامات کو فروغ دینا ہے جو محنت کش طبقے کے شعور کو بیدار کریں، اس کے خود اعتمادی میں اضافہ کریں اور سرمایہ دار جماعتوں کے سیاسی اثر و رسوخ کو کم کریں۔
77- نومبر 2021 میں جیسا کہ اومیکرن ویریئنٹ ابھی اپنے عالمی پھیلاؤ کا آغاز کر رہی تھی آئی سی آئی ایف نے کوویڈ-19 وبائی مرض میں عالمی مزدوروں کی انکوائری کا آغاز کیا۔ اپنے پہلے سال میں سرویے نے درجنوں سائنسدانوں اور کارکنوں کے بیانات اکٹھے کیے ہیں جو حکمران طبقے کے مجرمانہ ردعمل کی دستاویز کرتے ہیں اور یہ مطالبہ اس وبا کو ایک بار اور سائنسی اور سب سے بڑھ کر، وبائی امراض کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے سیاسی حکمت عملی تیار کرنا ممکن بناتا ہے۔
78- 10 دسمبر 2022 کو انٹرنیشنل یوتھ اینڈ اسٹوڈنٹس فار سوشل ایکویلیٹی، آئی سی ایف آئی کی طلبہ اور نوجوانوں کی تحریک نے جنگ کے خلاف نوجوانوں کی عالمی تحریک شروع کرنے کے لیے ایک عالمی آن لائن ریلی کا انعقاد کیا۔ نومبر میں آئی سی آئی ایف کے جرمنی کے سیکشن ایس جی پی (SGP) نے برلن کے انتخابات میں ایک جارحانہ مہم شروع کی، جو کہ جنوری اور فروری 2023 میں منعقد ہوں گے۔ ایس جی پی واحد سیاسی جماعت ہے جو محنت کشوں کو روس کے خلاف امریکہ نیٹو کی جنگ کے خلاف متحرک کر رہی ہے۔
79- سری لنکا میں سوشلسٹ ایکویلیٹی پارٹی نے جولائی میں ایک پہل شروع کی جس میں محنت کشوں اور دیہی عوام کی ڈیموکریٹک اور سوشلسٹ کانگریس کا مطالبہ کیا گیا اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ کے اندر کی جانے والی سازشوں کے خلاف نفرت انگیز راجا پاکسے حکومت کی جگہ ایک نئی حکومت بنائی جانے کی مخالفت کرے جو آئی ایم ایف کے مطالبات اسٹیرٹی کے نفاذ کے لیے یکساں طور پر پرعزم ہے۔
80- ہر ملک میں کاروبار کی حامی ٹریڈ یونینز محنت کش طبقے کی جدوجہد میں ایک بنیادی رکاوٹ ہیں، جنہوں نے کئی دہائیوں سے بڑھتی ہوئی سماجی عدم مساوات کو نافذ کرنے حکمران طبقے کی جنگی پالیسی کی حمایت، اور وبائی امراض کے دوران کام پر واپس جانے کی مہم کو نافذ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آئی سی آئی ایف کی بین الاقوامی ورکرز الائنس آف رینک اینڈ فائل کمیٹیوں کے لیے مطالبہ وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے پوری دنیا میں محنت کشوں کی جدوجہد کو متحد کیا جا سکتا ہے۔ ان تمام لوگوں کی مخالفت میں جو موجودہ کاروباری حامی ٹریڈ یونین اپریٹس کے ناقابل تسخیر ہونے پر اصرار کرتے ہیں، آئی سی ان تنظیموں کی تعمیر کی وکالت کرتا ہے جو خود کارکنوں پر مشتمل اور ان کے زیر کنٹرول ہوں۔
81- گزشتہ ایک سال کے دوران امریکہ میں مزدوروں کو یونین بیوروکریسی سے آزاد کرنے کی لڑائی کا بھرپور اظہار یونائیٹڈ آٹو ورکرز کے صدر کے لیے ول لیمن کی مہم میں ہوا جو جون میں شروع ہوئی تھی۔ اس مہم کو رینک اور فائل ورکرز کی طرف سے وسیع حمایت حاصل ہوئی، جنہوں نے ٹریڈ یونین اپریٹس کو مکمل طور پر ختم کرنے اور شاپ فلور (کام کرنے کی جگہوں میں مزدوروں) کو اقتدار کی منتقلی کا مطالبہ کیا۔
82- اس مہم نے اس وسیع سماجی خلیج کو بے نقاب کیا جو رینک اور فائل ورکرز اور یو اے ڈبلیو اپریٹس کے درمیان موجود ہے، جس میں ہزاروں افراد کام کرتے ہیں جن کی آمدنی انہیں سماج میں سب سے اوپر 5 فیصد اور یہاں تک کہ 1فیصد آبادی میں شمار ہوتی ہے۔ بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے اسکینڈل کی وجہ سے براہ راست انتخابات کرانے پر مجبور کیا گیا جس نے یو اے ڈبلیو کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اس اپریٹس نے ووٹرز کو دبانے کی جان بوجھ کر مہم چالا کر اپنا اظہار کیا۔
83- صرف 9 فیصد کا انتہائی کم ٹرن آؤٹ اس کارپٹ مہم کا نتیجہ تھا تاکہ مزدوروں کو دور رکھا جا سکے۔ نسبتاً کم تعداد میں بیلٹ ڈالے جانے کے باوجود، لیہمن کے لیے ڈالے گئے 5،000 ووٹ سوشلسٹ پالیسیوں کے لیے محنت کش طبقے میں ایک بہت بڑے حلقے کے وجود کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس مہم نے پورے ملک میں آٹو پلانٹس اور دیگر کام کی جگہوں پر کمیٹیوں کے نیٹ ورک کی ترقی کی بنیاد رکھی ہے۔
84- طبقاتی جدوجہد کو بڑھنے کے لیے ہر شعبے اور ہر ملک میں رینک اور فائل ورکرز کمیٹیوں کی تعمیر ضروری ہے جو کہ نہ صرف استحصال اور عدم مساوات کے خلاف جدوجہد کے لئے ایک اہم بنیاد ہیں بلکہ جنگ کے خلاف،حکمران طبقے کی وبائی پالیسی، اور فاشزم اور آمریت کے خلاف بھی تحریک کی ضروری بنیاد ہے۔
ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ اور ٹراٹسکی ازم کی صدی
85- فورتھ انٹرنیشنل کے بانی پروگرام میں، ٹراٹسکی نے لکھا کہ اس پارٹی سے باہر 'اس کرہ ارض پر ایک بھی انقلابی کرنٹ موجود نہیں ہے جو واقعی اس نام کے لائق ہو۔' عالمی طبقاتی جدوجہد میں چوتھی انٹرنیشنل کی بین الاقوامی کمیٹی کے کردار اور عالمی سوشلسٹ انقلاب کے لیے محنت کش طبقے کی تیاری کا بھی یہی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ فورتھ انٹرنیشنل کی بین الاقوامی کمیٹی اُن بہت سے 'دھڑوں' میں سے ایک نہیں ہے جو ٹراٹسکیسٹ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ آئی سی آئی ایف واحد سیاسی جماعت ہے جو مارکسی روایت میں کام کرتی ہے اور سوشلسٹ انقلاب کی عالمی پارٹی کے طور پر چوتھی انٹرنیشنل کے تاریخی تسلسل کو برقرار رکھتی ہے۔ یہ کوئی بیکار فخر نہیں ہے۔ یہ آئی سی آئی ایف کے نظریہ، پروگرام اور مسلسل عمل میں ثابت ہے۔
86- 14 فروری 2023 کو ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ 1998 میں اپنے قیام کی 25 ویں سالگرہ منائے گی۔ انٹرنیٹ کی نئی مواصلاتی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے، آئی سی آئی ایف نے ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس کو بین الاقوامی سوشلسٹ تحریک کی پہلی حقیقی عالمی اشاعت کے طور پر تشکیل دیا۔ انقلابی ٹکنالوجی نے اس طرح کی اشاعت کی ترقی کے امکانات اور ذرائع فراہم کیے۔ لیکن ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس کی بنیادی بنیاد — جس نے 25 سال کے عرصے میں اس کی روزانہ اشاعت کو ممکن بنایا — چوتھی بین الاقوامی کے پورے نظریاتی اور سیاسی ورثے میں اس کی بنیاد تھی۔ عالمی سوشلسٹ ویب سائٹ کے سیاسی، سماجی، ثقافتی اور فکری واقعات اور عمل کی کوریج کے دائرہ کار نے مارکسی طریقہ تجزیہ کی طاقت اور ٹراٹسکی ازم کے تاریخی تناظر کی گواہی دی ہے۔
87- 20 ویں صدی کے مرکزی انقلابی اور رد انقلابی تجربات کے اسباق پر روشنی ڈالتے ہوئے، ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس نے۔ 21 ویں صدی کے تمام مرکزی سیاسی واقعات کی رپورٹ اور تجزیہ کیا ہے۔ سرمایہ دارانہ میڈیا کے ذہن کو بے حس کرنے اور فریب دینے والے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرتے ہوئے، اس نے محنت کشوں، طلباء اور نوجوانوں کی پوری نسل کو فکری طور پر آزادی اور انقلابی رجحان فراہم کیا ہے۔ واقعات کا سیاسی طور پر جدید ترین تجزیہ فراہم کرتے ہوئے ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس نے ثقافتی پسماندگی اور فکری دھوکہ دہی کے ماحول کا مسلسل مقابلہ کیا ہے۔
88- ابھی ایک اور سالگرہ آنی ہے جس کا جشن اس سال کے خزاں میں شروع ہوگا۔ اکتوبر 2023 لیون ٹراٹسکی کی قیادت میں بائیں بازو کی حزب اختلاف کی بانی کی صد سالہ تقریب کو منائے گی۔ جس نے سٹالنسٹ بیوروکریسی اور اس حکومت کے خلاف ٹراٹسکی مخالفت کا آغاز کیا جس کے اکتوبر انقلاب کے اصولوں سے غداری کے نتیجے میں بین الاقوامی محنت کش طبقے کی تاریخی شکست ہوئی اور بالآخر سوویت یونین کی تباہی اور سرمایہ داری کی بحالی ہوئی۔
89- بائیں بازو کی اپوزیشن کے قیام کے ایک سو سال بعد ٹراٹسکی تحریک کے نقطہ نظر اور پروگرام کی تاریخ نے تصدیق کی ہے۔ سوشلسٹ تحریک اور محنت کش طبقے کے خلاف ان کے ان گنت جرائم میں سٹالن اور سٹالنزم کا کردار ’’انقلاب کی قبر کھودنے والے‘‘ کے طور پر درج ہے۔
90- فورتھ انٹرنیشنل کی انٹرنیشنل کمیٹی، عالمی ٹراٹسکیسٹ تحریک، اکیسویں صدی میں انقلابی مارکسزم کی واحد نمائندہ ہے۔ تمام مختلف اقسام کے پابلوائٹ، ریاستی سرمایہ دار نقط نظر(سٹیٹ کیپٹلسٹ) اور دیگر جعلی بائیں بازو کی تنظیمیں سامراج کے ایجنٹ، ٹریڈ یونین آپریٹس کے محافظ اور محنت کش طبقے کے مخالفین کے طور پر بے نقاب ہو چکی ہیں۔
91- مارکسزم معروضی قوانین اور عمل کی تاریخی مادیت پر مبنی تفہیم پر مبنی ہے جو بڑے پیمانے پر انقلابی تحریکوں کو جنم دیتے ہیں۔ مستقل انقلاب کا نظریہ، جو ٹراٹسکی نے پیش کیا تھا، عالمی سوشلسٹ انقلاب کی بنیادی اسٹریٹجک بنیاد ہے۔ آئی سی آئی ایف کا نقطہ نظر سرمایہ داری کے خاتمے کے لیے محنت کش طبقے کی انقلابی صلاحیت کے سائنسی بنیادوں پر مبنی تفہیم پر مبنی ہے۔ لیکن یہ امید ایک غیر فعال مبصر کی نہیں ہے جو اس خیال سے سکون حاصل کرتا ہے کہ 'تاریخ ہماری طرف ہے۔' یہ درست ہے کہ سرمایہ داری کا بحران انقلاب کی طرف لے جاتا ہے۔ لیکن انقلاب کے لیے تیاری اور لڑنے کی ضرورت ہے۔ سرمایہ داری کے بحران کے سوشلسٹ حل کے لیے محنت کش طبقے کی قیادت کے بحران کے حل کی ضرورت ہے۔
92- جیسا کہ ہم نئے سال کا آغاز کر رہے ہیں ہم مزدوروں اور نوجوانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ گزشتہ سال کے اسباق کے ساتھ ساتھ تاریخ کے اسباق پر بھی توجہ دیں، اور یہ تسلیم کریں کہ سرمایہ داری اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے۔ انسانیت کا مستقبل سوشلزم کی فتح پر منحصر ہے۔ ہم آپ سے اس لڑائی میں شامل ہونے کے لیے رینک اور فائل کمیٹیوں کے بین الاقوامی ورکرز الائنس کی تعمیر کے لیے کوویڈ -19 وبائی مرض کے بارے میں عالمی مزدوروں کی تحقیقات میں حصہ لینے، عالمی سوشلسٹ ویب سائٹ کے پھیلاؤ کو بڑھانے کے لیے، اور سب سے بڑھ کر، اپنے ملک میں سوشلسٹ ایکولیٹی پارٹی میں شامل ہونے کا فیصلہ کرنا اور چوتھی انٹرنیشنل کی بین الاقوامی کمیٹی کو سوشلسٹ انقلاب کی عالمی پارٹی کے طور پر بنانے کے لیے کام کریں۔
