یہ انگریزی میں 30 جنوری کو شائع ہونے والے اس '90 years since Hitler took power: A sinister anniversary' پیش منظر کا اردو ترجمہ ہے۔
نوے سال پہلے 30 جنوری 1933 کو صدر پال وان ہنڈنبرگ نے نیشنل سوشلسٹ جرمن ورکرز پارٹی (این ایس ڈی اے پی) کے رہنما، ایڈولف ہٹلر کو جرمن ریخ (سابقہ تیسری جرمن حکومت) کا چانسلر مقرر کیا۔ اسطرح نازیوں کو اقتدار کی منتقلی کے خوفناک نتائج برآمد ہوئے۔ ہٹلر شاید 1,000 سالہ ریخ کے وعدے کو قائم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا کیونکہ اس کا دور حکومت 12 سال کے بعد ختم ہوا لیکن ان 12 سالوں کے دوران اس کی حکومت کے ذریعے کیے گئے جرائم کسی تصور سے بھی زیادہ تھے اور 1000 سال کے دور سے بھی کافی تھے۔
چند مہینوں کے اندر ہی نازیوں نے دہشت کا راج شروع کیا جس میں پروپیگنڈے کے جدید ترین ذرائع کو مکمل نگرانی اور بے رحمانہ جبر کے ساتھ ملاتے ہوئے بے رحمی سے محنت کشوں کی تنظیموں کو توڑا اور ان کے رہنماؤں اور اراکین کو قتل کیا یا انہیں اس مقصد کے لیے خصوصی طور پر قائم کیے گئے حراستی کیمپوں میں ڈال دیا۔
أس نے جرمنی کو جسے طویل عرصے سے ثقافت اور صنعتی ترقی کی قوم سمجھا جاتا تھا کو ایک وحشیانہ جنگی مشین میں تبدیل کر دیا۔ ہٹلر کی ریخ چانسلر کے طور پر تقرری کے ساڑھے چھ سال بعد اس کی فوج (وہرماچٹ) نے پولینڈ پر حملے کے ساتھ دوسری عالمی جنگ کا آغاز کیا۔ اس کے بعد 1941 کے موسم گرما میں سوویت یونین کو مکمل فنا کرنے کی منصوبہ بند جنگ شروع کی جس میں 27 ملین سوویت شہری مارے گئے۔
نازیوں کی بربریت اپنے نقط عروج پر اس وقت پہنچ گئی تھی جب انہوں نے 60 لاکھ یہودیوں کے ساتھ ساتھ سیکڑوں ہزاروں سینتی اور روما کے صنعتی لوگوں کی قتل و غارت کیُ جنہیں رجسٹرڈ کیا گیا تھا پھر پکڑا گیا تھا اور انہیں جلاوطنی کے کیمپوں میں لے جایا گیا جہاں انہیں گیس چیمبروں کے لیے منتخب کیا گیا تھا اور بیوروکریٹک سرپرستی کے ساتھ مکمل جلایا گیا.
ہٹلر کے اقتدار میں آنے کے دس سال بعد 2 فروری 1943 کو سٹالن گراڈ میں ریڈ آرمی کے ہاتھوں وہرماچٹ کی شکست جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ جنگ کی آگ اب جرمنی کی طرف بڑھی۔ جرمنی پر اتحادیوں کی بمباری میں لاکھوں شہری مارے گئے۔ جب 30 اپریل 1945 کو جب ہٹلر نے اپنی کھوپڑی پر خود گولی ماری اور جرمنی نے ہتھیار ڈال دیے اس وقت ملک تباہ حال تھا۔
اس کے بعد کئی سالوں تک اس بات پر اتفاق رائے رہا کہ ایسے جرائم کو کبھی نہیں دہرایا جائے گا۔ لیکن اب ایسا نہیں رہا۔ جرمن حکومت روس سے لڑنے کے لیے جرمن لیپرڈ جنگی ٹینکوں کو تعینات کر کے ہٹلر کے اقتدار میں آنے کی 90 ویں سالگرہ منا رہی ہے۔ اس کا مقصد 80 سال قبل سٹالن گراڈ میں ہونے والی شکست کا بدلہ یوکرین میں جنگ کو بڑھا کر روس کو فوجی طور پر زیر کرنا ہے۔
ڈیر اسپیگل جریدے نے اپنے تازہ شمارے میں رپورٹ کیا ہے کہ نیٹو ہائی کمان 'تمام اتحادی علاقے کے لیے کئی مہینوں سے تین علاقائی آپریشنل منصوبے بنا رہی ہے۔' 'بہت سے منسلکات کے ساتھ فون بک کی طرح کے موٹے منصوبے تفصیل سے بیان کرتے ہیں کہ سائبر اسپیس سے لے کر جغرافیائی جگہ سے لے کر بحری، فضائی اور زمینی افواج تک، کس فوجی جہت پر کون سی صلاحیتیں تعینات کی جا سکتی ہیں۔' اس دوران امریکی جرنیل اس بارے میں بھی قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ آیا چین کے خلاف جنگ جو ایک اور جوہری ہتھیاروں سے لیس طاقت ہے دو یا چار سالوں میں شروع ہو جانی چاہیے۔
ہٹلر انتہائی خوش ہو گا۔ وہ نیٹو کے حملے کی مکمل حمایت کرے گا اور جنگی ٹینکوں اور آبدوزوں کی تعیناتی کے حکم کی بلند آواز سے تعریف کرے گا۔
جرمنی میں ہٹلر کی بحالی کا عمل برسوں پہلے شروع ہوا تھا۔ جب، 1980 کی دہائی میں، مورخ ارنسٹ نولٹے نے نازی ازم کو روسی اکتوبر انقلاب کے لیے ایک قابل فہم ردعمل کے طور پر پیش کیا، تو انھیں غصے کے ایک طوفان کا سامنا کرنا پڑا جو'ہسٹوریکرسٹریٹ' (تاریخوں کا تنازعہ) کے نام سے مشہور ہوا۔
لیکن جب 2014 میں ہمبولڈ یونیورسٹی کے پروفیسر جارگ بیبرووسکی نے ڈیر اسپیگل میں نولٹے کی بحالی کی اور اعلان کیا کہ 'ہٹلر شیطانی نہیں تھا،' میڈیا اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ کا تمام تر غصہ سوشلسٹ ایکویلٹی پارٹی (ایس جی پی) کے خلاف تھا۔ کیونکہ عوامی طور پر بابرووسکی پر تنقید ایس جی پی نے کی تھی۔ جیسا کہ ایس جی پی نے اس وقت وضاحت کی تھی ہٹلر کی بحالی جرمن عسکریت پسندی کے احیاء سے جڑی ہوئی تھی۔
اس کی تصدیق اب یوکرین کی جنگ سے ہو رہی ہے۔ اس نے جرمن حکومت کے لیے ہٹلر کے بعد سب سے بڑے ہتھیار سازی کا پروگرام شروع کرنے کا بہانہ بنایا ہے۔ اس جنگ کو جان بوجھ کر نیٹو کی مشرق کی جانب مسلسل توسیع اور کیف میں 2014 کودیتا کے ذریعے اکسایا گیا۔ یہ سامراجی طاقتوں کے درمیان دنیا کی پرتشدد از سر نو تقسیم کا حصہ ہے جو سرمایہ داری کے گہرے بحران سے متاثر ہے۔ سامراجیوں کا ہدف روس کو توڑنا ہے اس کے بے پناہ قدرتی وسائل کو آپس میں تقسیم کرنا اور چین کو گھیرنا ہے۔
آگرچہ اس تمام تر سامراجی اقدامات کے یہ کسی بھی طرح سے یوکرین پر روس کے رجعتی حملے کا جواز نہیں بنتا۔ پوٹن کی حکومت روسی اولیگارشی کے مفادات کو مجسم کرتی ہے، جنہوں نے 1991 میں سوویت یونین کو تحلیل کیا اور سماجی ملکیت کو بے دردی سے لوٹ لیا۔ نیٹو کی جارحیت وہ قیمت ہے جو اب روسی عوام 1917 کے اکتوبر انقلاب کی کامیابیوں کی تباہی کے لیے ادا کر رہے ہیں۔ جو ہٹلر کے ٹینک 1943 میں حاصل نہیں کر سکے وہ اب برلن اور واشنگٹن نیٹو اور کیف میں اس کی کٹھ پتلی کی مدد سے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسے بین الاقوامی محنت کش طبقے کی متحد تحریک سے ہی روکا جا سکتا ہے۔
ہٹلر کے اقتدار میں آنے کے اسباق
ہٹلر کے عروج کے تاریخی اسباق آج بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کے برعکس جو اکثر دعویٰ کیا جاتا ہے وہ کسی عوامی تحریک کے ذریعے اقتدار میں نہیں لائے گئے جس کے خلاف جمہوریت کے محافظ بے اختیار ثابت ہوئے۔ اسے ریاستی اقتدار پر فتح حاصل کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ اسے سیاسی، معاشی اور فوجی اشرافیہ نے ان کے حوالے کیا تھا۔
جب ہٹلر 1933 میں ریخ کا چانسلر مقرر ہوا تو ویمار ریپبلک کے جمہوری ادارے کافی عرصے سے تباہ ہو چکے تھے۔ اور گزشتہ تین سال سے چانسلرز نے ریخ کے صدر کے دستخط کردہ ہنگامی فرمانوں کے ذریعے حکومت کی تھی۔
ہٹلر کی این ایس ڈی اے پی — جس نے پہلی عالمی جنگ کے مایوس افسروں مہنگائی اور معاشی بدحالی کی وجہ سے تباہ شدہ پیٹی بورژوا پرتوں اور نسل اور کمیونزم مخالفت کے جھنڈے تلے دیگر منحرف عناصر کو اکٹھا کیا — 1932 کے موسم گرما میں شاندار انتخابی نتائج حاصل کیے جو کہ مجموعی طور پر 37 فیصد تھے. اس کے بعد پارٹی کی حمایت تیزی سے منتشر ہو گئی۔ جب چار ماہ بعد ریخسٹاگ (مجلس مقننہ) کے نئے انتخابات ہوئے تو مزدوروں کی دو جماعتوں، سوشل ڈیموکریٹس (ایس پی ڈی) اور کمیونسٹ پارٹی (کے پی ڈی)نے نازیوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ مشترکہ ووٹ حاصل کیے۔ این ایس ڈی اے پی پارٹی دیوالیہ پن کا سامنا کر رہی تھی اور ہٹلر نے مایوسی میں خودکشی کا بھی سوچا۔
اس بحران میں ریخ کے صدر وون ہندنبرگ کے گرد ایک چھوٹے سے سازشی حلقے نے ہٹلر کے حق میں فیصلہ کیا۔ بڑے کاروباری اداروں اور فوج نے ان کی منظوری کا اشارہ دیا۔ انھوں نے ہٹلر کی حمایت اس لیے نہیں کی کہ انھوں نے اس کے ارادوں کو غلط سمجھا، بلکہ اس لیے کہ انھیں بالکل معلوم تھا کہ وہ کیا کرنے والا ہے۔
جنوری 1932 کے اوائل میں ہٹلر نے ڈسلڈورف انڈسٹری کلب سے ایک تقریر میں اعلیٰ کاروباری نمائندوں سے وعدہ کیا کہ وہ جمہوریت کو ختم کر دیں گے، طبقاتی جدوجہد اور 'بالشوزم' کو دبائیں گے اور جرمنی کے لیے نئے لیبینسروم (رہنے کی جگہ) کو فتح کریں گے۔ اس نے انہیں یقین دلایا کہ کبھی کبھار سرمایہ دارانہ مخالف بیان بازی کے باوجود بھی نازی نجی املاک کی خلاف ورزی نہیں کریں گے اور نہ ہی لوگوں کے درمیان آمدنی کے فرق کو چیلنج کریں گے۔
ہٹلر نے حکومت سنبھالنے کے چار دن بعد ریخسوہر(مسلح افواج) کے رہنماؤں سے ملاقات کی تاکہ کسی بھی دیرینہ شکوک کو دور کیا جا سکے۔ 'نسل' کی اہمیت کے بارے میں تعارفی تبصروں کے بعد اس نے ان سے وعدہ کیا کہ ' جرمن لوگوں کے رہنے کی جگہ کو وسعت دی جائے گی اور اسکے لئے انکے ہاتھوں میں ہتھیار ہونا ضروری ہے' انہوں نے کہا کہ ایک پیشگی شرط کے طور پر، ’’ہر تخریبی رائے کو ممکنہ طور پر مضبوط ترین طریقے سے دبایا جانا چاہیے،‘‘ اور ’’مارکسزم کو مکمل طور پر تباہ کر دینا چاہیے۔‘‘
ہٹلر کے لیے فیصلہ کر کے، سرمائے اور فوج نے سرمایہ داری کے ناقابل حل بحران کا اظہار کیا تھا۔ یورپ کے وسط میں محدود متحرک جرمن صنعت صرف پرتشدد فتح کے ذریعے ہی پھیل سکتی ہے۔ اس کے لیے طبقاتی جدوجہد کو دبانا اور مزدوروں کی تحریک کو کچلنا ضروری تھا۔
اسی وجہ سے آج پھر فاشسٹ قوتوں کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ اور صرف جرمنی میں ہی نہیں جہاں فاشسٹ الٹرنیٹیو فار جرمنی (اے ایف ڈی) پارلیمنٹ میں ہے اور مہاجرین اور گھریلو پالیسی پر حکومتی لائن کا حکم دیتی ہے۔ امریکہ میں ٹرمپ کے ریپبلکن اور برازیل میں بولسونارو کے حامیوں میں واضح فاشسٹ خصوصیات ہیں۔ اٹلی میں مسولینی کے وارث حکومت کے سربراہ ہیں۔
حالیہ برسوں میں سرمائے کی حوس اور ارتقاز نے طبقاتی تضادات کو بریکنگ پوائنٹ پر پہنچا دیا ہے۔ چند درجن افراد انسانیت کے نصف غربا سے زیادہ دولت کے مالک ہیں۔ متوسط طبقے کے امیر نمائندوں نے - امیر ترین 10 فیصد - نے بھی خود کو اور مالا مال کیا ہے۔ آج وہ عسکریت پسندی کی سب سے اہم سماجی بنیاد ہیں۔ اس کے برعکس محنت کش طبقے کا معیار زندگی بڑے پیمانے پر گرا ہے کام کے حالات تیزی سے ناقابل برداشت ہوتے جا رہے ہیں اور دنیا بھر میں احتجاج اور ہڑتالیں عروج پر ہیں۔
یہ جنگ اور فاشزم کے خلاف جدوجہد کی معروضی بنیاد ہے۔ 1933 میں ایس پی ڈی اور کے پی ڈی کے 13 ملین ووٹرز ہٹلر کو روک سکتے تھے۔ وہ لڑنے کے لیے تیار تھے، لیکن ان کی لیڈر شپ نے انہیں شکست سے دوچار کر دیا۔ ایس پی ڈی نے واضح طور پر لڑنے سے انکار کر دیا اور اس کے بجائے ریاست اور ہندنبرگ سے اپیل کی۔ سٹالن کے زیر اثر کے پی ڈی نے نامرد اور مضحکہ خیز پالیسی اپنائی۔ کے پی ڈی نے ایس پی ڈی کو 'سوشل فاشسٹ' کہا اور نازیوں کے خلاف متحدہ محاذ کو مسترد کر دیا
'جرمن پرولتاریہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے، تعداد اور ثقافت دونوں لحاظ سے کافی مضبوط تھا، لیکن محنت کش طبقے کے رہنما اس قابل نہیں تھے،' لیون ٹراٹسکی نے لکھا، جس نے متحدہ محاذ کی پالیسی کے لیے انتھک جدوجہد کی تھی۔
جیسا کہ 90 سال پہلے ہوا تھا، صرف بین الاقوامی محنت کش طبقے کی ایک آزاد سوشلسٹ تحریک ہی فاشزم اور بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کی پیش قدمی کو روک سکتی ہے۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل اور اس کا جرمن سیکشن (ایس جی پی) ایک ایسی سیاسی جماعت بنا رہے ہیں جو ایسی تحریک کی قیادت کر سکے۔
