اُردُو

بالشویک لیننسٹوں کے ینگ گارڈ کی طرف سے فورتھ انٹرنیشنل کی بین الاقوامی کمیٹی کو ایک خط

یہ انگریزی میں 4 فروری 2023 کو شائع ہونے 'A letter from the Young Guard of Bolshevik Leninists to the International Committee of the Fourth International' والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔

ڈیر کامریڈز،

پچھلے ہفتے ایک بہت اہم پیش رفت ہوئی جو نیٹو کے حمایت یافتہ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کی موجودہ صورتحال کو متاثر کرے گی۔ صورتحال ایسی ہے کہ نیٹو ممالک کی طرف سے ٹینکوں کی فراہمی جنگ کا رخ بدل سکتی ہے: بالواسطہ یا پراکسی جنگ سے نیٹو ممالک اور روس کے درمیان براہ راست جنگ کی صورت میں بدل سکتی ہے۔ یہ پیش رفت جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو خارج از امکان نہیں کرتی۔

پوری جنگ کے دوران نیٹو ممالک نے یوکرین کے لیے امداد کو مسلسل بڑھایا ہے۔ اگر موجودہ امداد میں ٹینک شامل ہیں تو مستقبل کی امداد میں کیا شامل ہو سکتا ہے؟ کب  نیٹو ممالک اپنے لڑاکا طیاروں کے ساتھ یوکرین پر فضائی راستوں کو  بند کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں؟ اور پھر یا براہ راست کریمیا پر قبضے کی حمایت کرتے ہوئے اور بشمول  ایٹمی حملے تک؟

اگرچہ مغربی میڈیا وقتاً فوقتاً قارئین کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ نیٹو پہلے جوہری ہتھیار استعمال کرنے والا پہلا نہیں ہو  گا، لیکن یہ کسی بھی طرح اس حقیقت کی نفی نہیں کرتا کہ نیٹو کی پالیسی پیوٹن کی حکومت کے ذریعے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا باعث بن سکتی ہے جس کا تختہ الٹنے کا خطرہ ہے۔

مغربی میڈیا روسی معاشرے کو ایک ایسے عفریت کے ملک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو یوکرین پر قبضے کے لیے نشے میں دھت ہو کر متحد ہے۔ میں اس الزام کی تردید کرنے کا پابند ہوں۔ روسی معاشرہ نیٹو ممالک کے معاشرے کی طرح  دو اہم متحارب طبقات پر مشتمل ہے: مزدور اور سرمایہ دار۔ یہ ایک دوسرے سے اتنا دور اور متضاد ہیں کہ جس سے میڈیا ایک کنکریٹ کی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ روس نواز میڈیا مغربی میڈیا کی طرح اسی نتیجے پر پہنچتا ہے صرف ان کے لیے سارا روس 'عالمگیریت اور لبرل ازم' کے خلاف اپنی 'قومی' جدوجہد میں متحد ہے۔ اس طرح وہ روسی معاشرے کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ طبقاتی طور پر تقسیم  ہے۔

میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ روسی معاشرہ جنگ کے حوالے سے منقسم ہے۔ کم از کم اتنے ہی لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ یوکرین کے ساتھ دشمنی بند ہو اور ایسے بھی لوگ ہیں جو یوکرین میں دشمنی کی حمایت کرتے ہیں۔ اور یہ حکومت کے اپنے اعداد و شمار پر مبنی ہیں۔ تاہم اصل تعداد پیوٹن کی حکومت اور اس جنگ کی اور بھی زیادہ مخالفت ظاہر کرے گی۔

تاہم  روس کی فوجی کارروائی کی حمایت کرنے والے بھی پیوٹن کی حکومت کی حمایت میں متحد نہیں ہیں۔ جو لوگ اس کی حمایت کرتے ہیں ان میں سے بہت سے ایسے اشتباہ کی بنیاد پر کرتے ہیں کہ موجودہ جنگ ان کے خیال میں سامراج اور یک قطبی دنیا کے خلاف جنگ ہے۔ لہذا پیوٹن کی حکومت کی رجعتی نوعیت سے کسی حد تک آگاہ ہونے کے باوجود وہ اب بھی جنگ کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ نیٹو سامراج کے خلاف مزاحمت کا یہی واحد راستہ ہے۔

بلاشبہ  پیوٹن کی حکومت کی حمایت نیٹو کے حقیقی خطرے کی وجہ سے ہوتی ہے، جسے آبادی کے بڑے حصے محسوس کرتے ہیں۔ پیوٹن  کے تمام پروپیگنڈے کی بنیاد سچائی کو جھوٹ کے ساتھ ملانے پر ہے۔ اس کا مقصد مزدوروں کو یہ باور کرنا ہے جو مغربی سامراج کے خطرے سے آگاہ ہیں کہ اس کے خلاف جنگ کی ذمہ داری پیوٹن ہی کر سکتے ہیں اور  گویا  یہ کہ وہ ان کے مفادات کا محافظ ہے۔

اور جب مزدور  نیٹو طاقتوں کی بیرون ملک عسکریت پسندی کو دیکھتے ہیں اور خاص طور پر جرمنی کی طرف سے لیوپرڈ ٹینک یوکرین بھیجے جاتے ہیں تو وہ نیٹو کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کے استعمال تک اور اس میں شامل ہونے تک ایک مکمل جنگ کے حقیقی خطرے کے بارے میں تیزی سے آگاہ ہو جاتے ہیں۔ اور چونکہ محنت کشوں کا سوشلسٹ شعور  فل حال کم ترقی یافتہ ہے اس لیے انہیں پیوٹن کی حکومت کے علاوہ کوئی متبادل نظر نہیں آتا۔

پیوٹن حکومت اس حب الوطنی کو تقویت دینے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے لیے سوویت یونین اور جرمنی کے درمیان 'عظیم حب الوطنی کی جنگ' کے تجربے کو استعمال کرتے ہوئے قیاس کیا جاتا ہے کہ اور  'کوئی متبادل نہیں'۔ لیکن اس کی جانب سے حقیقی کمیونسٹ مخالف پروپیگنڈہ کو پرموٹ کیا جاتا ہے۔ پیوٹن اس  سرمایہ دارانہ بحالی کی موجودہ حکومت اور دوسری عالمی جنگ کے دوران سوویت یونین کے درمیان مساوی علامت اور مسابقت پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ اس وقت ایک مزدور ریاست تھی تاہم   ایک زوال پزیر ریاست کے طور پر موجود تھی۔  اور یہ اسکے باوجود کہ وہ اکتوبر انقلاب اور بالشویکوں سے اپنی کھلی نفرت  کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس کے لیے بنیادی نکتہ عظیم روسی شاونزم کی روح میں 'عوام کو تعلیم دینا' ہے۔

یہ بہت ہی قابل ذکر ہے کہ یوکرین کے خلاف روسی پروپیگنڈا کس طرح کام کرتا ہے۔ پیوٹن کا پورا 'خصوصی آپریشن' دو اصولوں پر مبنی تھا: 'غیر فوجی کاری' اور 'ڈینازیفیکیشن' (نازی فورسز کو اداروں سے اور علاقے سے خارج کرنے کا عمل)۔ دوسرا اصول سامراج کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مبنی پہلے کو چھپانے کا کام کرتا ہے۔ مزید برآں دونوں اصول صرف اپنے ہی مخالف میں بدل گئے: یوکرین کی عسکریت پسندی مزید تیز ہوئی اور نیو  نازیوں نے مخالف قوتوں کو ختم کرتے ہوئے  جنگ کے پس منظر میں اپریٹس میں اپنی جگہ اور مضبوط کی۔

اگر پیوٹن نیو نازیوں کی طرف توجہ مرکوز  کرتے ہیں جن کا یوکرین کے ریاستی نظام میں شدید اثر و رسوخ ہے  تو یہ صرف اس لحاظ سے کہ وہ نیٹو کے مفادات کی خدمت کرتے ہیں اور نظریاتی اور عسکری دونوں محاذوں پر روس مخالف مہم کی حمایت کرتے ہیں۔ اگر نیو نازیوں نے کم از کم غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا تو پیوٹن ان کے وجود کو قبول کر لیں گے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کا آئیڈیل رجعت پسند بادشاہت پسند فلسفی ایوان الین ہے  جس نے ہٹلر کے اقتدار میں آنے اور اس کی 'بالشوزم کے خلاف لڑائی' کی حمایت کی تھی۔

بالآخر پیوٹن کے پروپیگنڈے کی وجہ سے پیدا ہونے والے یہ سارے اشتباہ مسلسل دباؤ میں رہیں گے کیونکہ پیوٹن حکومت کا ایڈونچر ختم ہوتا جا رہا ہے اور تیزی سے اپنی رجعتی نوعیت کو ظاہر کرتا جا رھا ہے۔

ہر مزدور کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بورژوا قوم پرستی کی بنیاد پر سامراج کو شکست دینا ناممکن ہے۔ بورژوازی اپنی اندرونی جھڑپوں کے باوجود ایک بنیادی سوال پر متحد ہے: وہ محنت کش طبقے کی جدوجہد کو دبانا ہے۔ اس تفہیم کا ابھی بہت فقدان ہے۔

روسی معاشرہ تقسیم ہے۔خوشحال پرتوں کے رویہ کے برعکس غریبوں کا جنگ کے بارے میں رویہ زیادہ منفی  ہے۔ جنگ سے زیادہ سے زیادہ خاندان متاثر ہو رہے ہیں۔ 2022 کے موسم خزاں میں جو جنگ متحرک ہوئی اس نے فرنٹ اور محنت کش طبقے کے درمیان تعلق کو مضبوط کیا۔ یہاں تک کہ اگر ابھی تک جنگ سے کھلی نفرت نہیں ہے جیسا کہ لوگ پیوٹن کی حکومت سے انتقامی کارروائیوں سے ڈرتے ہیں پھر بھی بے اطمینانی پھیل رہی ہے۔ بہت سے لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ آگے کیا ہوگا اور ایسی صورت حال میں کیا کرنا ہے۔

پیوٹن کے 'خصوصی آپریشن' کا دیوالیہ پن خراسوں اور خراکوف کے قریب روسی فوجیوں کی شکستوں سے اچھی طرح ظاہر ہوا، صرف ان جذبات کو ہوا دیتا ہے۔  سرکاری سروے میں بھی بہت سے لوگ کھل کر اپنے جنگ مخالف خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ روسی محنت کش طبقے کے یوکرائنی محنت کش طبقے کے ساتھ رشتہ داری، فکری اور دوستانہ تعلقات ہیں۔ یہ اس جنگ سے بیزار ہیں۔

معاملات کی حقیقی حالت کسی بھی پروپیگنڈے سے زیادہ مضبوط ہوتی  ہے۔ روس کے فریب زدہ، استحصال زدہ مزدور دھیرے دھیرے زگ زیگ سے گزر رہے ہیں لیکن اسکے باوجود  موجودہ جنگ کو سمجھنے کی طرف پیش رفت کر رہے ہیں۔  ان کی یہ پوزیشن  تحریک کو  آگے بڑھتی ہے۔ نہ جانے کیا کرنا ہے، عوام غیر معقول صورت حال سے نکلنے کا سمجھدار راستہ تلاش کرتے ہیں۔

نوجوان جو ہمیشہ کی طرح روسی معاشرے میں جنگ مخالف ونگ کے اہم نمائندے ہیں۔ لیکن ایک خاص ترقی پسندی کے باوجود نوجوان نسل میں اب بھی بہت سی کمزوریاں ہیں۔ ضرورت سے زیادہ مخالفت نوجوانوں کو نیٹو ممالک کے پروپیگنڈے کا ایک اچھا ہدف بناتی ہے۔ تاہم  ہر طرف سے اس دباؤ کے باوجود  سوشلسٹ پروگرام پر مبنی مستقبل کی جنگ مخالف تحریک کی شروعات نوجوانوں میں سے ابھرتی ہے۔

پیوٹن کا پروپیگنڈہ بھی نوجوان نسل پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کی حکومت کی تمام سرگرمیوں کا مقصد نوجوانوں میں 'حب الوطنی کے جذبے' کو فروغ دینا تھا۔ 'خصوصی آپریشن' کے آغاز نے اس عمل  کو ناقابل یقین رفتار سے تیز کر دیا۔ نوجوان نسل دوسری عالمی جنگ  کے بارے میں جانتی ہے، لیکن حکومت ان کے علم کو 'فاشزم کے خلاف جدوجہد' اور 'مادر وطن کے دفاع ' تک محدود رکھنا چاہتی ہے۔ پرانی نسل طویل عرصے سے اس پروپیگنڈے کے بھنور میں ڈوبی ہوئی ہے، جب کہ نوجوان نسل کو اس سے کسی تک  آزادی حاصل ہے۔

لیکن پیوٹن کا پروپیگنڈہ  جو کہ یو ایس ایس آر اور جرمنی کے درمیان جنگ کے تجربے کو پیش کرتا ہے دراصل ایک حقیقی پنڈورا باکس کھولتا ہے۔ نوجوانوں کو 20  ویں صدی کی تاریخ  کی جانب موڑتا ہے۔ اس کے شعوری عناصر روسی شاونزم کے طریقہ کار کی پیروی نہیں کرنا چاہتے بلکہ سطحی مشاہدے سے بالاتر واقعات کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ ملک کی ترقی میں تاریخی ادوار کا موازنہ دلچسپ رجحانات کا باعث بنتا ہے۔

اکتوبر انقلاب کی طرف بڑے پیمانے پر عوام کا رویہ ہمیشہ متضاد رہا ہے لیکن 1991 سے انقلاب کی حمایت کی طرف عمومی طور پر مثبت رجحان رہا ہے۔ 2005 میں پیوٹن  حکومت نے 7 نومبر کو چھٹی کے طور پر بھی ختم کر دیا اور ایک نئی چھٹی متعارف کرائی 4 نومبر، 'عوام کے اتحاد کا دن'۔ اس کے باوجود رجحان نہیں بدلہ بلکہ وہی رہا۔ فی الحال جدید روس کی تاریخ میں کسی بھی دوسرے وقت کی نسبت زیادہ لوگ اکتوبر انقلاب کے بارے میں مثبت رویہ رکھتے ہیں۔

جہاں تک سوویت یونین کا تعلق ہے  پرانی نسل نے ہمیشہ اس کے بارے میں مثبت رویہ رکھا ہے۔ نوجوانوں کا سوویت یونین کے بارے میں زیادہ سنجیدہ رویہ ہے اور اس کی تاریخ کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوویت یونین کی صد سالہ تقریب کے اعزاز میں ایک حالیہ VTsIOM سروے کے مطابق جسے کہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ تقریباً تین میں سے ایک نوجوان کا سوویت یونین کے بارے میں مثبت رویہ پایا جاتا  ہے۔ اور یہ ان تمام  پرپیگنڈا کے ڈھیروں اور جھوٹوں کے ڈھیروں کے تلے عوام کو گمراہ کرنے کے بعد ہے جو عوام پر  سرمایہ داری کی بحالی کے بعد برسوں چھایا رہا تھا۔

خود سرمایہ داری کی بحالی کا تعلق بنیادی طور پر منفی نتائج  پر برآمد ہوا ہے عام آبادی کے لیے ایک  آفات کے ساتھ جبکہ آبادی کے صرف خوشحال طبقات ہی اس کے بارے میں سب سے زیادہ مثبت رویہ رکھتے ہیں، جو کہ 'معاشی آزادی' کی خواہش کے ساتھ سرمایہ داری میں منتقلی کا جواز پیش کرتے ہیں۔ عام طور پر ہم طبقاتی احساس اور  جذبات کے نشانات کو کسی نہ کسی رائے میں ضرو  نوٹ کر سکتے ہیں: مزدور انقلاب اور سوویت یونین دونوں کے لیے مثبت رویہ رکھتے ہیں جب کہ بورژوا کی پرتیں سرمایہ داری کی بحالی کے علاوہ ہر چیز کے لیے منفی رویہ رکھتی ہیں جس نے انہیں 'جائیداد کا حق' دیا۔

ان تمام مثبت رجحانات کے باوجود جن کی میں نے نشاندہی کی ہے  روسی معاشرہ اب بھی اپنے ملک کی تاریخ سے لاعلمی اور غلط فہمی کا شکار ہے۔ اگر محنت کشوں اور نوجوانوں کے جذبات میں کچھ مثبت رجحانات ہیں تو ان کے ذہن  اب بھی سٹالنسٹوں، گورباچوف، یلٹسن، اور پیوٹن  کے پروپیگنڈے کے بہت سے فرسودہ خیالات  سے زہر آلود ہیں۔ اور اس کنفیوژن کی وجہ سے بہت سے لوگ اکتوبر انقلاب، سوویت یونین، اور سرمایہ داری کی بحالی کے بارے میں اپنے خیالات  میں الجھے ہوئے ہیں۔  انکے یہ رجحانات موجودہ جنگ کے تصور میں بھی پائے جاتے ہیں جو  محنت کش طبقے کو تقسیم کرتے ہیں۔

روسی محنت کش طبقے اور نوجوانوں میں جنگ مخالف شعور کی نشوونما کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ایک حقیقی سوشلسٹ اور انقلابی آواز کی عدم موجودگی ہے۔ روسی پارلیمانی ازم، بنیادی طور پر بوسیدہ، کسی بھی طرح سے آبادی کی اکثریت کے مفادات کی نمائندگی نہیں کرتا ہے۔ تمام موجودہ جماعتیں، دائیں سے بائیں تک، اپنے 'مغربی ہم منصبوں' کی بازگشت کرتے ہوئے جنگجویانہ پالیسی میں مصروف ہیں۔ وہ انتہائی غیر مستحکم ماحول میں پیوٹن کی حکومت کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہر طرح سے کوشش کر رہے ہیں۔

غیر قانونی اپوزیشن کی طرف سے کوئی بھی پارٹی یا تنظیم محنت کش طبقے کے لیے کوئی واضح انقلابی پروگرام نہیں رکھتی۔ بلکہ ان میں سے ہر ایک موجودہ حالات کو سمجھے میں الجھا ہوا  ہے اور محنت کش طبقے کو تقسیم کرتا ہے اور اسے کمزور کرتا ہے۔ پیوٹن کی حکومت کے مخالف 'سوشلسٹ اور کمیونسٹ' گروپوں اور تنظیموں کے پاس  کوئی بھی محنت کش طبقے کے لیے واضح پروگرام نہیں ہے۔

سٹالنسٹ، ماؤسٹ، پابلوائٹس اور دیگر  ان  تمام سیاسی قوتوں نے سرمایہ داری اور جنگ کے خلاف تاریخی طور پر ترقی پسند تحریک کی نمائندگی نہیں کی۔ بلکہ ان قوتوں میں سے ہر ایک نے پہلے ہی محنت کش طبقے کے ساتھ غداری کا مظاہرہ کیا ہے۔

سٹالنسٹ موجودہ صورتحال کے اصل مجرم ہیں کیونکہ یہ جنگ یو ایس ایس آر میں سرمایہ داری کی بحالی کے طویل مدتی نتائج میں سے ایک ہے جو سٹالنسٹ بیوروکریسی کی پہل پر کی گئی تھی۔ سی پی یو ایس  کا مرکزی وارث، سی پی آر ایس  یوکرین میں پیوٹن کی فوجی کارروائی کی حمایت کرتا ہے۔

ماؤ نواز محنت کش طبقے کو الجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کے لیے طبقاتی جدوجہد کی جگہ شناختی سیاست نے لے لی ہے۔ دوسروں کے لیے  ماؤ اور اس کی گوریلا جنگ کی پوجا جدید معاشرے کو سمجھنے سے قاصر ہے اور وہ کلیدی میدان  یعنی شہروں میں جہاں محنت کش طبقے اور بورژوازی کے درمیان جدوجہد ہوتی ہے سے کوسوں دور ہیں۔

پابلوائٹس سٹالنزم کے بائیں بازو کے پیلو تھے لیکن اب وہ امریکی سامراج کے بالواسطہ محافظ ہیں۔ ان میں سے کچھ بدعنوان بورژوا زیلنسکی حکومت کے کھلے عام محافظ ہیں۔ دوسرے جنگ کی تفہیم میں الجھن پیدا کرتے ہیں اس کے خطرات اور نتائج کو ہر ممکن طریقے سے کم کرتے ہیں اس طرح انقلابی پروگرام کی بنیاد پر مداخلت کے بجائے غیر فعال مشاہدے کے لیے گرونڈ فراہم کرتے ہیں۔ ان کا عمل محنت کش طبقے کو قانونی پارلیمانی جماعتوں بنیادی طور پر کمیونسٹ پارٹی (کے پی آر ایف) کے ماتحت کرنے پر مبنی ہے۔

روسی محنت کش طبقہ نیٹو ممالک میں جنگ مخالف جدوجہد کی ہر ممکن حمایت کرتا ہے۔ یہ حمایت روس، یوکرین، یورپ، امریکہ، ایشیا اور آسٹریلیا میں محنت کش طبقے کے بین الاقوامی اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے ایک پل  کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ روس میں جیسا کہ ہر سرمایہ دار ملک میں جنگ کی مخالفت موجود ہے اور یہ ضرور  پھیلے گی لیکن یہ مخالفت صرف سوشلسٹ بین الاقوامیت کے سائنسی پروگرام کی بنیاد پر ہی حقیقی طاقت حاصل کر سکتی ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ سوشلسٹ انقلاب کی عالمی پارٹی کے طور پر چوتھی انٹرنیشنل کی بین الاقوامی کمیٹی کی تعمیر اور توسیع کے لیے حقیقی جدوجہد اکتوبر انقلاب کی تاریخ کو واضح کرنے کی بنیاد پر ہر ملک کے محنت کش طبقے کو تعلیم دینے سے ہی ممکن ہے۔ سوویت یونین اور سرمایہ داری کی بحالی  جو اسٹالنزم اور پابلو ازم کے خلاف ٹراٹسکی ازم کی جدوجہد کی تاریخ کا مطالعہ کیے بغیر ناممکن ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری سرگرمیاں جن کا رخ روس اور پورے سابق سوویت یونین میں ایک سیکشن کی تعمیر کی طرف ہے ایک بہت اہم سوال سے دوچار ہے: محنت کش طبقے کے شعور سے تمام سٹالنسٹ اور پیوٹنسٹ گندگی کا خاتمہ اور  وضاحت کے ساتھ انقلابی سیاست کا تعارف۔

انقلابی سلام کے ساتھ،

آندرے رِٹسکی

وائے جی بی ایل کی جانب سے

Loading