یہ انگریزی میں 10 فروری 2023 میں شایع'Seymour Hersh’s exposure of the Nord Stream bombing: A lesson and a warning' ہونے والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔
بدھ کے روز صحافی سیمور ہرش نے انکشاف کیا کہ امریکی بحریہ نے صدر جو بائیڈن کی ہدایت پر 26 ستمبر 2022 کو روس اور جرمنی کے درمیان قدرتی گیس لے جانے والی نورڈ اسٹریم پائپ لائنوں پر حملوں کی ذمہ دار تھی۔
اس بیان نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے کہ تنازعہ میں امریکہ کی شمولیت 'روسی جارحیت کے بغیر اشتعال انگیزی' کا ردعمل تھا اور امریکہ کے بڑے اخبارات میں اس پر مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اور یہ روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازعے کو یورپ پر امریکی اقتصادی اور فوجی تسلط کو مستحکم کرنے کے لیے استعمال کرنے کے دور رس منصوبوں پر گہری نظر مرکوز کرتا ہے۔
ہرش نے انکشاف کیا کہ:
- جون 2022 میں ایک فوجی تربیتی مشق کی آڑ میں امریکی بحریہ نے روس سے جرمنی جانے والی قدرتی گیس کو لے جانے والی نارڈ اسٹریم 1 اور 2 پائپ لائنوں میں دھماکہ خیز مواد رکھا جس سے بعد میں 26 ستمبر کو ریموٹ دھماکہ سے اڑا دیا گیا۔
- اس آپریشن کا حکم امریکی صدر جو بائیڈن نے دیا تھا اور اس کی منصوبہ بندی سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن، انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے سیاسی امور وکٹوریہ نولینڈ اور قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کی تھی۔
- یوکرین پر روسی حملے سے چند ماہ قبل حملے کی منصوبہ بندی دسمبر 2021 میں شروع ہوئی تھی،
سیمور ہرش پرانے اسکول کا ایک حقیقی صحافی ہے جو اس چیز کی نمائندگی کرتا ہے جو اب تقریباً صحافت میں ناپائید ہے۔ ایک سنجیدہ سراغ لگنے والا تفتیشی رپورٹر ہے وہ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ذریعے جانچ کے لیے اپنے مضامین جمع نہیں کراتا ہے۔ اس نے امریکی تاریخ کے سب سے بڑے جرائم کا پردہ فاش یا انکشاف کرنے میں تعاون کیا ہے، بشمول ویتنام جنگ کے دوران مائی لائی کا قتل عام، واٹر گیٹ اسکینڈل اور ابو غریب میں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی۔
کئی دہائیوں پر محیط ہرش کے صحافتی ریکارڈ کی بنیاد پر اس کے بیان پر یقین کرنے کی ہر وجہ موجود ہے۔ یہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس نے جو ُاس وقت لکھا تھا۔ یہ سوال پوچھتے ہوئے کہ اس سے کس کو فائدہ ہوتا ہے؟—ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس نے بیان کیا، 'روس کا نورڈ اسٹریم پائپ لائن کو تباہ کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔ جرمنی، فرانسیسی اور ھالینڈ کے شیئر ہولڈرز کے ساتھ مل کر روس کے گیز پروم گروپ کے پاس پائپ لائن کا نصف حصہ تھا اور یہ پائپ لائن ماسکو کے یوکرین میں جنگ کے دوران یورپ کے ساتھ اقتصادی تعلقات کی تعمیر نو کے منصوبوں کا مرکز تھی۔
واشنگٹن کے لیے بم دھماکے نے دو فائدے پیش کیے۔ اوّل یہ کہ اس اثنا یوکرین میں روس کے خلاف نیٹو کی فوجی کارروائیوں کے دوران اس سے روس مخالف جنگی پروپیگنڈے کو مزید تقویت ملے گی۔ دوم یہ کہ یورپ کو روسی گیس کی جگہ امریکی قدرتی گیس کی درآمدات پر زیادہ انحصار کرتے ہوئے یورپ کو مزید مضبوطی سے امریکی کنٹرول میں لانا۔ یہ یوکرین کی جنگ میں شروع سے ہی ایک بڑے امریکی مقصد کے عزائم سے مربوط تھا: یہ مقاصد حالیہ برسوں میں تیزی سے کھل کر سامنے آئے ہیں۔
تاہم امریکی میڈیا نے پائپ لائن پر حملے کو روس مخالف مہم کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا۔ 'روس یورپ کے خلاف اپنی توانائی کی جنگ میں ایک نیا محاذ کھول رہا ہے،' 27 ستمبر کو واشنگٹن پوسٹ نے صرف ایک مثال پیش کرنے کے لیے بیان کیا۔ 'سب سے پہلے اس نے گیس کی سپلائی کو ہتھیار بنایا اور اسکی ترسیل روک دی، بشمول نورڈ اسٹریم پائپ لائن کے ذریعے۔ اور اب یہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کر سکتا ہے جو کبھی اپنی توانائی بھیجنے کے لیے استعمال کرتا تھا۔
ہرش کے انکشافات جنگ کی پوری داستان کو بے نقاب کر دیتے ہیں جیسے بائیڈن انتظامیہ اور پورے امریکی میڈیا نے نہ ختم ہونے کے ساتھ دہرایا۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ نورڈ سٹریم پائپ لائنوں پر حملے کی منصوبہ بندی روس کے یوکرین پر حملے سے مہینوں پہلے شروع ہوئی تھی۔ روسی حملہ محض ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کا بہانہ تھا جو یوکرین میں 2014 کی بغاوت کے بعد سے تیار ہو رہے تھے، جس کے بعد جنگ کی تیاری کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی ہتھیاروں کا پروگرام شروع کیا گیا۔
نورڈ سٹریم کے بارے میں انکشافات ایک طرف امریکی سامراج کی مطلق العنانیت کو بے نقاب کرتے ہیں اور دوسری طرف میڈیا کو پروپیگنڈے کے آلہ کار کے طور پر استمعال کرتے ہیں۔ نیو یارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، سی این این اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مختلف 'رپورٹرز' فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے ایک ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں۔
انکشافات ماضی کے بارے میں ایک سبق ہیں اور مستقبل کے بارے میں انتباہ بھی۔
امریکہ اور نیٹو طاقتیں اس وقت روس کے ساتھ تنازع کو وسیع پیمانے پر بڑھانے کی مہم میں مصروف عمل ہیں۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصہ قبل امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے وعدہ کیا تھا کہ 'روس کے زیر قبضہ یوکرین کو آزاد کرانے کے لیے جارحانہ کارروائی کریں گے۔' دوسرے لفظوں میں وہ مضبوط روسی پوزیشنوں پر حملے کی کامیابی پر امریکی اور نیٹو طاقتوں کے پورے وقار کا وعدہ کر رہا تھا جس کا مقصد نہ صرف 2022 سے روس کے قبضے میں لیے گئے علاقے بلکہ پورے ڈان باس اور کریمیا کو دوبارہ حاصل کرنا تھا۔
حالیہ ہفتوں میں بائیڈن انتظامیہ اور اس کے اتحادیوں نے ٹینکوں کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے جس کے بعد یوکرین کو لڑاکا طیارے بھیجنے کا منصوبہ ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سنک نے بدھ کے روز کہا، ' کچھ بھی خارج از امکان نہیں ہے۔
جسکا مطلب ہے کہ بالآخر امریکی اہداف کے حصول کے لیے امریکی-نیٹو کے زمینی دستوں کی تعیناتی اور اس میں شامل اُن تمام چیزوں کی ضرورت ہوگی۔ یہ خطرہ کہ تنازعہ کی نوعیت بڑتے ہوئے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا باعث بن سکتی ہے اس کا اس بات پر صرف انحصار نہیں ہے کہ پیوٹن حکومت جواب میں کیا کرے گی بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا کرے گا کہ اس کے جنگ کے مقاصد کو یقینی بناتے ہوئے اس سیحاصل کیا جا سکے۔
تاہم مسئلہ یہ ہے کہ اس منصوبے کو آبادی میں کیسے فروخت کیا جائے۔ اس ہفتے کے شروع میں بائیڈن کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں انتظامیہ کی پالیسی کے مرکزی عنصر یعنی روس کے خلاف جنگ کا شاید ہی ذکر کیا گیا۔ جسکی وجہ یہ تھی جیسا کہ ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس نے بیان کیا تھا کہ حقیقت میں جنگ عوام میں مقبول نہیں ہے اور دوسری جانب جنگ کو بڑھانے کے لیے بڑے منصوبے کام کر رہے ہیں۔ جسکی ہم نے وضاحت کی کہ اس کے لیے'یوکرین میں نیٹو افواج کی تعیناتی کی ضرورت ہوگی جس میں امریکی کنٹریکٹرز اور فوجی شامل ہونگے لیکن بائیڈن ابھی تک اسے ظاہر کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اسکے لیے میڈیا کی جاری پروپیگنڈہ مہم کو تیز کرنے اور روس مخالف ہسٹیریا کو مزید بلند کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
اس پروپیگنڈہ مہم کو کیسے آگے بڑھایا جائے گ؟ یہاں ماضی کو تمہید کے طور پر دیکھنا ہو گا. اگر امریکا نے گزشتہ سال جنگ میں اضافے کو جواز فراہم کرنے کے لیے نورڈ اسٹریم پائپ لائن پر بمباری کا اہتمام کیا تو اب وہ پھر کیا منصوبہ بندی کر رہا ہے؟
1898 میں ہوانا بندرگاہ میں جنگی جہاز یو ایس ایس مائن میں دھماکے جسے جنگ کے ایک جواز کے طور پر پیش کیا گیا، ہسپانوی-امریکی جنگ شروع کرنے اور کیوبا اور فلپائن میں فوج بھیجنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ 1964 میں خلیج ٹنکن کا من گھڑت واقعہ جس کی بنیاد پر ویتنام کی جنگ میں براہ راست امریکہ نے شمولیت کی۔
11 ستمبر 2001 کے حملوں کی نظیر موجود ہے جنہیں افغانستان، عراق اور دوسرے ممالک میں 'دہشت گردی کے خلاف جنگ' پر حملے کا جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ زیبگنیو برزینسکی نے 1997 میں کہا تھا کہ 'طاقت کا حصول [یعنی امریکی عالمی بالادستی] کوئی ایسا مقصد نہیں ہے جو عوامی جذبات کا تقاضا کرتا ہے خاص طور پر ایسے حالات میں جب اچانک خطرے یا چیلنج کی صورت میں عوام کی گھریلو بہبود کے احساس کو لاحق ہو۔'
2006 میں ان سطور پر تبصرہ کرتے ہوئے، ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ انٹرنیشنل ایڈیٹوریل بورڈ کے چیئرمین ڈیوڈ نارتھ نے لکھا:
9/11 کے واقعات نے خاص طور پر 'عوام کی گھریلو بہبود کے احساس کو اچانک خطرہ یا چیلنج' فراہم کیا جس نے کم از کم قلیل مدت کے لیے انتقام اور دفاع کے نام پر امریکی فوجی طاقت کے استمعال کے لیے سماجی بنیاد پیدا کی۔
اشتعال انگریزی کے لیے جتنا بڑا اضافہ بڑھے گا اتنا ہی بڑا جھوٹ سامنے آئے گا۔ ہرش کے انکشافات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے پاس اشتعال انگیزی کرنے کی ہر صلاحیت موجود ہے جس کا مقصد جنگ کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنا ہے چاہے روسی ردعمل کو اکسانا ہو یا شروع سے تیار کیا گیا 'حملے' کا پلان ہو۔
اس کے بعد پورا امریکی میڈیا متحرک ہو جائے گا۔ یہ پہلے ہی ان دعوؤں اور الزامات پر بھر پور کام کر رہا ہے کہ 2014 میں ملائیشیا ایئر لائنز کی پرواز ایم ایچ 17 کو گرانے کے پیچھے روس کا ہاتھ تھا۔
امریکی محنت کش طبقے کو بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے ایسی کسی بھی اشتعال انگیزی کے خلاف چوکنا رہنا چاہیے۔ محنت کش طبقے میں جنگ مخالف تحریک کی تعمیر کے لیے لازمی شرط کے طور پر واشنگٹن کے جنگی پروپیگنڈے اور امریکی سامراج کے بے شرم معذرت خواہوں کو رد کرنا چاہیے جو اسے لامتناہی فروغ دیتے ہیں۔
