اُردُو
Perspective

بڑے پیمانے پر ہڑتالیں، جنگ اور یورپ میں انقلابی بحران

یہ انگریزی میں 10 فروری 2023 کو شائع ہونے 'The mass strike movement, war and the revolutionary crisis in Europe' والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔

یورپ میں ایک بڑے پیمانے پر ہڑتالوں کی تحریک پھوٹ پڑی ہے  جس میں براعظم کے ہر کونے سے لاکھوں مزدور ان ہڑتالوں میں داخل ہو رہے ہیں۔ جو صورت حال ابھر کر سامنے آ رہی ہے وہ قومی ٹریڈ یونین جدوجہد کا سلسلہ نہیں ہے جسے کسی ایک یا دوسری سرمایہ دار حکومت کے ساتھ الگ تھلگ مذاکرات سے حل کیا جا سکتا ہے۔ بلکہ  یہ ایک بین الاقوامی سیاسی جدوجہد ہے کیونکہ مزدوروں ہر ملک میں ایک جیسے مطالبات اٹھا رہے  ہیں اور انہیں پولیس کے تشدد اور حکومتوں کی طرف سے قانونی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ تمام حکومتیں اپنی حمایت کھو چکی ہیں اور جنہیں بڑے پیمانے پر نفرت آمیز سمجھا جاتا ہے۔

جیسا کہ  یہ حکومتیں اعلان کرتی ہیں کہ وہ عوام کے بڑھتے ہوئے مطالبات پر کوئی رعایت نہیں دے سکتی ہیں یورپ کی تمام رنگوں پر مشتمل حکومتیں - قدامت پسند، سوشل ڈیموکریٹک یا گرہنز - یوکرین میں روس کے ساتھ نیٹو کی جنگ کو بے دھڑک آگے بڑھا رہی ہیں۔ وہ اپنی فوجوں پر سیکڑوں بلین یورو اور پاؤنڈ خرچ کر رہے ہیں اور یوکرین کی حکومت کو ٹینکوں، جیٹ فائٹرز، میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں سے مسلح کر رہے ہیں۔ وہ ایک تیسری عالمی جنگ کے بھڑکنے کو حرکت میں لا رہے ہیں جس کی قیمت ہر ملک کے محنت کش طبقے کو ادا کرنا ہوگی۔

منگل 7 فروری 2023 مشرقی فرانس کے شہر اسٹراسبرگ میں پنشن میں کمی کے خلاف مارچ کے دوران مظاہرین۔ (اے پی فوٹو/جین فرانکوئس بادیاس) [AP Photo/Jean Francois Badias]

ان کا مجرمانہ کردار ترکی اور شام کی سرحد پر زلزلے کی تباہی پر ان کے ردعمل سے واضح ہوتا ہے۔ اس سماجی تباہی کے دوران  جس نے لاکھوں افراد کو بے گھر اور دسیوں ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے، یورپی طاقتوں نے واشنگٹن کے ساتھ مل کر شام پر سخت پابندیاں برقرار رکھی ہیں، یہ ملک پہلے ہی حکومت کی تبدیلی کے لیے نیٹو کی 12 سالہ جنگ سے تباہ ہو چکا ہے۔

پورے یورپ میں جو کچھ ابھر رہا ہے وہ معروضی طور پر انقلابی صورتحال ہے۔ متبادلات اتنے ہی واضح طور پر سامنے آئے ہیں جیسے کہ ایک صدی قبل پہلی عالمی جنگ  کے آغاز کے وقت تھے۔ یا تو سرمایہ دار طبقہ یورپ اور دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاستوں کے درمیان عالمی جنگ میں جھونک دے گا یا محنت کش طبقہ جنگجو حکمران اشرافیہ کے ہاتھوں سے اقتدار چھین لے گا۔

پہلی عالمی جنگ  میں تقریباً تین سال کا عرصہ لگا جب  محنت کش طبقے نے جنگ کے خلاف اپنا پہلا بڑا سیاسی جوابی حملہ کیا: روس میں فروری 1917 کے انقلاب نے زار کا تختہ الٹ دیا اور اکتوبر 1917 کے انقلاب میں بالشویک پارٹی  جسکی قیادت ولادیمیر لینن اور لیون ٹراٹسکی کر رہے تھے محنت کش طبقے کو اقتدار میں لا نے کا باعث بنی،  تاہم آج جب کہ بورژوازی اب بھی انسانیت کو تیسری  عالمی جنگ  میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہی ہے محنت کش طبقہ طاقتور جدوجہد کی لہر شروع کر رہا ہے۔

لاکھوں افراد کو جدوجہد کی طرف لے جانے والے جذبات ابتدا  سے سرمایہ دارانہ مخالف، عسکریت پسندی کے مخالف اور سوشلسٹ کردار کے حامل ہیں۔ کئی دہائیوں کے ریاستی بیل آؤٹس کی طرف سے انتہائی امیروں کو کھربوں یورو اور پاؤنڈز کے حوالے کرنے کے بعد مزدور پنشن اور کلیدی سماجی خدمات کو ختم کرنے والی آسٹریٹی کی پالیسیوں یا مہنگائی کے عالمی اضافے کے دوران حقیقی اجرتوں میں کمی کرنے والے معاہدوں کو غصے سے مسترد کرتے ہیں۔ وہ غربت کو قبول نہیں کرتے تاکہ روس کے ساتھ ہمہ گیر جنگ میں سماجی دولت کو موڑ دیا جائے۔

فرانس میں 30 لاکھ مزدوروں کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کرکے پنشن سے دسیوں ارب یورو کم کرنے کے میکرون کے منصوبے کے خلاف ہڑتال کی گی  ہے۔ یہ مخالفت اس وقت بڑھی جب میکرون نے فوجی اخراجات میں 40 فیصد اضافے اور روس کے ساتھ جنگ ​​کے لیے یوکرین میں ٹینک بھیجنے کا اعلان کیا اور ہڑتالیوں کے خلاف  دسیوں ہزار بلوا پولیس کو  مسلط کیا گیا ہے۔ ایک سروئے کے مطابق  میکرون کی پنشن میں کٹوتیوں کی 70 فیصد نے مخالفت اور معیشت کا پیا اور کٹوتیوں کو روکنے کے لیے سماجی  ہڑتال کے لیے 60 فیصد حمایت سامنے آئی ہے-  یہ درحقیقت میکرون کے خلاف عام ہڑتال ہے۔

برطانیہ میں، ریل، پوسٹ، ٹیلی کام ورکرز، نرسز، پیرا میڈیکس، اسکول کے اساتذہ، لیکچررز اور سرکاری ملازمین نے سات ماہ تک جاری رہنے والی ہڑتال کی لہر میں شمولیت اختیار کی ہے اور لاکھوں افراد اس جدوجہد میں شامل ہو رہے ہیں۔ ٹریڈ یونین بیوروکریسی کی طرف سے انہیں ختم کرنے کی مسلسل کوششوں اور اہم صنعتوں اور خدمات میں ہڑتالوں کو مجرمانہ بنانے کے حکومتی منصوبوں کے باوجود ہڑتالیں جاری ہیں۔

ترکی میں جہاں زندگی کی بڑھتی ہوئی لاگت کے خلاف  سو سے زاہد وہ ہڑتالیں ہوئی ہیں جو ٹریڈ یونین کی قیادت کے بغیر ہوئی ہیں اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے ورکروں کی طرف سے گزشتہ ایک سال میں عام ہڑتالیں ہوئیں، محنت کش عوام میں سماجی غصہ ایک انقلابی دھماکے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زلزلہ جو پہلے ہی 10 شہروں میں 20،000 سے زیادہ اموات کا سبب بن چکا ہے جنکی مشترکہ آبادی 13 ملین افراد پر مشتمل ہے۔ زلزلے کی طویل عرصے سے پیش گوئی کی گئی تھی لیکن کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے تھے اور متاثرین کو بڑی حد تک ان  کے حالات پر بے بس چھوڑ  دیا گیا ہے جس سے پورے ملک میں عوامی غم و غصہ تیزی سے جنم لے رھا ہے۔

جرمنی میں حقیقی اجرتوں پر مہنگائی کے تباہ کن اثرات کے خلاف ہڑتالیں بڑھ رہی ہیں جو کہ یورپ کو روسی توانائی کی برآمدات میں کٹوتی کی وجہ سے  ہیں۔ ڈھائی ملین اساتذہ، پوسٹل ورکرز، ہسپتال اور صفائی ستھرائی کے محنت کش، ٹرانسپورٹ ورکرز اور دیگر سرکاری ملازمین تنخواہوں میں بڑی کٹوتیوں کے معاہدے کے مذاکرات کے دوران 'انتباہی ہڑتال' میں شامل ہیں۔ روس کے ساتھ جنگ ​​کے لیے جرمنی کو مکمل طور پر دوبارہ فوجی بنانے کے سیاسی اسٹیبلشمنٹ کے منصوبے کی زبردست پیمانے پر مخالفت موجود  ہے۔

اس طرز کو پورے یورپ میں دہرایا گیا ہے، برطانیہ کے دائیں بازو کے ڈیلی میل نے ' ہڑتالوں سے پیدا شدہ ' صورت حال کی سخت مزامت کی  ہے کیونکہ”ہڑ تالوں نے  یورپ کی معیشتوں کو  جکڑ لیا ہے۔' اٹلی میں، ایئر لائن اور ہوائی اڈے کے کارکن، ریل کارکن، اساتذہ اور مقامی ٹرانسپورٹ ورکرز اس ماہ صنعتی کارروائی کر رہے ہیں۔ اسپین میں ایئر ٹریفک کنٹرولرز، ایئر لائن ورکرز، ہیلتھ کیئر ورکرز، ایمیزون کا عملہ اور اساتذہ ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔ پرتگال میں ہڑتالیں دس سال کی بلند ترین سطح پر ہیں بشمول ریل کارکنوں، ڈاکٹروں اور اساتذہ کی ہڑتالیں۔

 کچھ ہڑتالوں کی خاص اہمیت یہ ہے جو یکیبعد دیگر ممالک میں صحت، تعلیم اور ٹرانسپورٹ ورکرز کی جانب سے کی گئی ہڑتالیں جنہیں یورپی حکومتوں کی جانب سے کوویڈ- 19  کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کسی بھی سائنسی پالیسی کو مسترد کرنے کی وجہ سے ہونے والی بیماری اور موت کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔

عوام کے بڑھتے ہوئے مطالبات کی وجہ سے حکمران طبقے میں خوف و ہراس بڑھتا جا رہا ہے اور  روس کے ساتھ اس کی جنگ میں اضافے کے پیچھے یہ خوف ایک بڑا محرک ہے۔ اور اس خوف اور اس  تزبزب نے انہیں ذہنی طور پر مفلوج کر دیا ہے اور اب ایک مایوس اور لاپرواہ جوا کھیل رہے ہیں کہ جنگ کو  مزید بڑھانے سے انہیں کم از کم طبقاتی جدوجہد کو عارضی طور پر دبانے کا موقع ملے گا۔

اس کے برعکس جنگ کی مخالفت سماجی اور سیاسی احتجاج اور سرمایہ داروں اور محنت کشوں کے درمیان کھلے سیاسی تصادم کا فیصلہ کن عنصر بن رہی ہے۔ اس ماہ ایک اندازے کے مطابق 50,000 افراد نے ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں فوجی اخراجات میں اضافے کے لیے مالی امداد کے لیے عام تعطیل کو ختم کرنے کے منصوبے کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مسلسل یورپ بھر میں ہڑتال کرنے والے شکایت کر رہے ہیں کہ اجرتوں اور سماجی خدمات جیسے کہ صحت عامہ اور پنشن کے لیے پیسے نہیں ہیں لیکن جنگی بجٹ میں اضافہ بڑھ رہا ہے جسکا کوئی خاتمہ نظر نہیں آتا۔

پہلی  عالمی جنگ  کے پہلے سال میں بالشویک رہنما ولادیمیر لینن جو اس وقت سوئٹزرلینڈ میں بظاہر الگ تھلگ سیاسی جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے نے اصرار کیا کہ عالمی جنگ کے پھوٹنے سے عالمی سوشلسٹ انقلاب کے لیے معروضی حالات بھی پیدا ہوئے ہیں۔ اس نے ناقابل مصالحت طور پر  یورپی سوشل ڈیموکریٹس کی مخالفت کی جنہوں نے عالمی جنگ کی حمایت کی اور اس بات پر انکار کرتے رہے کہ انقلاب ممکن ہے۔ ایک انقلابی صورت حال  جیسے  لینن نے اسکی خصوصیات یوں بیان  کی

مندرجہ ذیل تین بڑی علامات: (1) جب حکمران طبقات کے لیے بغیر کسی تبدیلی کے اپنی حکمرانی قائم رکھنا ناممکن ہو… (2) جب مظلوم طبقات کے مصائب اور مشکلات معمول سے زیادہ شدید ہو جائیں؛ (3) جب مندرجہ بالا وجوہات کے نتیجے میں عوام کی سرگرمی میں کافی اضافہ ہو جاتا ہے... ایک آزاد تاریخی عمل میں۔

ایک صدی بعد لینن کا تجزیہ یورپ میں جاری بحران کے معروضی انقلابی کردار کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے۔ یورپی بورژوازی اب پرانے طریقے سے حکومت نہیں کر سکتی جیسا کہ اس نے 1991 میں سٹالنسٹ بیوروکریسیوں کی طرف سے مشرقی یورپ میں سرمایہ داری کی بحالی اور سوویت یونین کی تحلیل کے بعد کے عرصے میں کیا تھا۔

1991 کے بعد سے اس نے عراق، یوگوسلاویہ، افغانستان، لیبیا، شام، مالی اور اس سے باہر نیٹو کی جنگیں بیرون ملک لڑی ہیں اور اندرون ملک مسلسل اسٹریٹی لاگو کی ہے۔ اس نے دوسری عالمی جنگ  میں سوویت یونین کی نازی جرمنی کی شکست کے بعد کے دور میں اپنائے ہوئے اصلاح پسندانہ پروگرام کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور آج کھلے عام فاشسٹ پارٹیوں اور پولیس ریاستی طرز حکمرانی کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہ ایک انتہائی پیراسایٹ کی ماند مالیاتی اشرافیہ ہے جس کی دولت کا انحصار بیرون ملک مسلسل فوجی اضافے اور سماجی کٹوتیوں اور اندرون ملک عوام کے پیسوں سے بینک بیل آؤٹ اور اسٹاک مارکیٹ میں قیاس آرائی پر مبنی جنون پر ہے۔

کوویڈ- 19 وبائی بیماری عالمی تاریخ کا ایک محرک واقعہ تھا جس نے کئی دہائیوں سے مقداری طبقاتی تنازعات کو شدت کے ساتھ کیفیتی تبدیلی کی ایک نئی بلندی تک پہنچایا۔ حکمران اشرافیہ کی کاغذی دولت کو بینک بیل آؤٹ کے ایک نئے دور سے بہت زیادہ بڑھاوا دیا گیا تھا  لیکن اجتماعی اموات اور مصائب  اور انکی  بے حسی کی وجہ سے یہ بڑے پیمانے پر بے نقاب ہو کر بدنام ہو چکی ہیں۔ اس نے روس کے ساتھ خودکشی کی جنگ لڑتے ہوئے دائیں جانب تیزی سے رجعتی  طور پر مڑتے ہوئے اور جابرانہ اقدامات اٹھاتے ہوئے  مظاہروں پر  پولیس فورسزکے زریعے تشدد کو تیز کیا ہے۔

محنت کش طبقے کے لیے  وبائی مرض نے مصائب اور ضرورت کی شدید شدت کی نشاندہی کی۔  صرف یورپ میں کوویڈ- 19 سے 20 لاکھ افراد ہلاک ہوئے جب کہ بڑے پیمانے پر نئے بینک بیل آؤٹ سے نقد رقم کے اچانک انجیکشن نے افراط زر کو جنم دیا۔ قومی یونین بیوروکریسیوں اور حکمران طبقوں کے درمیان مراعات کے معاہدوں اور 'سماجی مکالمے' کے خلاف محنت کش طبقے نے یورپ بھر میں جدوجہد کی جو بین الاقوامی لہر شروع کی ہے اس کا آزادانہ طور پر تاریخی عمل میں داخلہ ہوا  ہے۔

دھماکہ خیز سماجی غصہ پورے براعظم میں محنت کش طبقے کی ہڑتال کی تحریک کو ہوا دے رہا ہے جو کہ عالمی سطح پر طبقاتی جدوجہد کے  پھوٹ پڑنے کا ایک اعلی درجے کا مظہر ہے۔ فیصلہ کن سوال محنت کش طبقے میں یہ شعور پیدا کرنا ہے کہ مالکوں یا قومی حکومتوں کے خلاف اس کی جدوجہد سرمایہ داری کے خلاف محنت کش طبقے کے ایک معروضی طور پر متحد بین الاقوامی جوجہد کا حصہ ہے۔

محنت کش طبقہ جو آج کے عالمی سطح پر مربوط اجتماعی معاشرے کی دولت تخلیق کرتے ہیں ان کو یہ فیصلہ کرنے کا پورا حق حاصل ہے کہ اس دولت کو کس طرح استعمال کیا جائے گا اور انہیں معیشت پر مالیاتی اشرافیہ کی اجاراداری اور احکامات  کو توڑنا چاہیے تاکہ ضروری سماجی ضروریات کو پورا کیا جا سکے اور اس کو ہمیشہ کے لیے روکا جا سکے۔ جنگ کی توسیع محنت کش طبقے کی ترقی یافتہ پرتوں کے درمیان اس طرح کے افہام و تفہیم کی ترقی ان جدوجہدوں کو سامراجی جنگ  کے خلاف  اور سوشلزم کے لئے متحد کرنے کی بنیاد فراہم کریگی۔

جنگ کو روکنے اور اسٹریٹی کے خاتمے  کے لیے کام کی جگہوں اور اسکولوں میں جدوجہد کرنے والی طاقتور بین الاقوامی رینک اینڈ فائل تنظیموں کی تعمیر کی ضرورت ہے  جو کہ یونین بیوروکریسی سے مکمل آزاد ہوں۔ ہر وہ ہڑتال جو پھوٹتی ہے اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ ٹریڈ یونین بیوروکریسی مالکوں اور سرمایہ دار ریاست کے ساتھ اپنے معاملات میں مزدوروں کو ماتحت کرنے کا کام کرتی ہے اور ہر ملک میں سرمایہ دار طبقے کی جنگی پالیسی کا دفاع کرتی ہے۔ جدوجہد کی نئی تنظیموں سے ہی محنت کش طبقہ بین الاقوامی سطح پر بینکوں کی اسٹریٹی کے مطالبات اور روس کے خلاف نیٹو کی جنگ کے خلاف متحد ہو سکتا ہے۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف دی فورتھ انٹرنیشنل (آئی سی آئی ایف) عالمی ٹراٹسکیسٹ تحریک اسٹریٹی  اور جنگ کے خلاف جدوجہد کے ایک لازمی جزو کے طور پر بین الاقوامی ورکرز الائنس آف رینک-اینڈ فائل کمیٹیز (آئی ڈبلیو ایے- آر ایف سی) کی تعمیر کا مطالبہ کرتی ہے اور اسکے لئے لڑ رہی ہے۔ اس اقدام کی ضروری حقیقت اس وقت مزید واضح ہوتی جائے گی  جب طبقاتی جدوجہد پورے یورپ میں عام ہڑتالوں کی کال  کی طرف بڑھتی ہے۔

آئی سی آئی ایف محنت کش طبقے کی تحریک کو درپیش بہت بڑے سیاسی  مسائل اور کام  کو اس کی بین الاقوامی سیاسی قیادت کے ایجنڈے پر رکھتے ہیں۔

یہاں تک کہ سب سے بڑی عام ہڑتال بھی سرمایہ داری کو تیسری عالمی جنگ میں ڈوبنے اور محنت کش طبقے پر اس کے مسلسل سماجی حملوں اور جبر کو نہیں روکے گی۔ محنت کش طبقے کو اس واضح فہم کے ساتھ سیاسی اور نظریاتی طور پر مسلح ہونا چاہیے کہ سیاسی اسٹیبلشمنٹ کی تمام قوتیں پرعزم دشمنوں کی طرح انکا مقابلہ کرتی ہیں۔ نہ ہی مزید بائیں بازو کی سرمایہ دارانہ حکومتوں کو منتخب کرنے کی کوشش کر کے بحران کو حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ صرف محنت کش طبقے کی جدوجہد میں بنائی گئی تنظیموں کو اقتدار منتقل کرنے کی جدوجہد سے ہی یورپ اور بین الاقوامی سطح پر محنت کشوں کی طاقت حاصل کرنے کی صورت میں سوشلزم کو قائم کیا جا سکتا ہے۔

حکومت یا حزب اختلاف میں سابقہ ​​اصلاح پسند جماعتیں جیسے جرمنی میں سوشل ڈیموکریٹس اور برطانیہ کی لیبر پارٹی اسٹریٹی اور جنگ کی شدید حامی ہیں۔ نہ ہی سٹالن کے 'ایک ملک میں سوشلزم' کے جھوٹے نظریہ کے حامیوں کی جعلی بائیں بازو کی سیاسی اولادیں یا ٹراٹسکی ازم کے پیٹی بورژوا منحرف اور غدار افراد کسی متبادل کی نمائندگی کرتے ہیں۔

جرمنی میں ڈائی لنکے، نیو اینٹی کیپٹلسٹ پارٹی (این پی اے) اور فرانس میں جین لوک میلینچون، سپین میں پوڈیموس  اور سریزا  ('ریڈیکل بائیں بازو کا اتحاد') جنکی سماجی بنیادیں خوشحال درمیانے طبقے میں پائی جاتی ہیں۔ انکی ان پارٹیوں کے اپنے ریکارڈ  اور کردار سے ان کا چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ یونان میں اقتدار میں آ کر سریزا نے پنشن اور سماجی اخراجات میں کمی کرنے اور پناہ گزینوں کے لیے حراستی کیمپوں کی تعمیر کے بجائے اسٹریٹی کے خاتمے کے اپنے وعدوں سے یکسر منہ مورڑ لیا۔ آج اقتدار میں پوڈیموس یوکرین کی نیو- نازی ازوف بٹالین کو مسلح کر رہا ہے بینکوں کو بیل آؤٹ کر رہا ہے اور ٹرکوں کے کارکنوں اور لوہے میں کام کرنے والے محنت کشوں پر  پولیس بھیج کر ان کی آواز کو تشدد  کے ساتھ دبا رہا ہے۔

جیریمی کوربن اور اس کے جعلی بائیں بازو کے حامیوں نے برطانیہ کی لیبر پارٹی کی قیادت میں گھستے ہوئے پارٹی کے دائیں بازو کے خلاف کوئی جدوجہد کرنے سے انکار کر دیا اور قیادت کو ہڑتالوں کے اعلان کردہ مخالف اور پاگل جنگجو کیئر اسٹارمر کے حوالے کر دیا۔  میلینچون اور ڈائی لنکے جیسی قوتوں نے انتخابات میں لاکھوں ووٹ حاصل کیے ہیں لیکن جنگ کے خلاف عوامی جذبات کو متحرک کرنے کی کسی بھی اپیل سے سختی سے گریز کیا ہے۔

اس دائیں بازو اور جنگ کے حامی ماحول کا متبادل صرف اور صرف  آئی سی آئی ایف ہے جو  مارکسزم کے دفاع اور مستقل انقلاب کے نقطہ نظر پر مبنی ہے جس پر  اکتوبر انقلاب کی بنیاد رکھی گی تھی۔  یہ مالیاتی اشرافیہ کے سرمائیکو ضبط کرنے، سرمایہ داری کو اکھاڑ پھینکنے اور یورپ کی متحدہ سوشلسٹ ریاستوں کی تعمیر کے لیے محنت کش طبقے کی جدوجہد کے لئے  سیاسی اور تاریخی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

یورپ اور بین الاقوامی سطح پر آئی سی آئی ایف  محنت کش طبقے میں مارکسی انقلابی شعور کی جدوجہد کو تیز کر کے بڑھتی ہوئی جنگ اور انقلابی بحران کا جواب دے گی۔ تحریک کی وسعت  اور اس کی معروضی انقلابی صلاحیت اور مخالف طبقاتی قوتوں کے بقایا اثر و رسوخ کے درمیان  خلاء کو  پرعزم جدوجہد کے ذریعے دور کیا جانا چاہیے۔ ہم محنت کش طبقے کی بڑھتی ہوئی انقلابی تحریک کو سوشلزم کی شعوری تحریک میں تبدیل کرنے کے لیے جدوجہد کریں گے۔ جس کا مطلب ہے آئی سی آئی ایف اور اس کے سیکشنز کو سوشلسٹ انقلاب کی نئی ماس پارٹیوں کے طور پر بنانا۔

Loading