اُردُو
Perspective

ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے کی عالمی اہمیت

یہ انگریزی میں 4 مارچ 2023  میں شائع'The global significance of the earthquake in Turkey and Syria' ہونے والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔

ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس انٹرنیشنل ایڈیٹوریل بورڈ کے چیئرمین ڈیوڈ نارتھ کے استنبول ترکی سے فراہم کردہ ویڈیو بیان کا متن درج ذیل ہے۔ ویڈیو بھی نیچے منسلک   ہے۔

ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے کی عالمی اہمیت

گزشتہ ماہ 6 فروری کو دو تباہ کن زلزلے  جن کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.6 اور 7.7 تھی  شام کی سرحد کے قریب جنوبی ترکی کے شہر مارش سے ٹکرائی۔ نو گھنٹے کے اندر ان زلزلوں سے 100,000 سے 150,000 لوگوں کی جانیں گئیں۔ لیکن اصل تعداد حقیقت میں اس سے زیادہ ثابت ہو سکتی ہے۔

اس سانحہ کو صرف قدرتی آفت قرار دینا کافی نہیں ہے۔ بلاشبہ ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت ایک طاقتور ارضیاتی رجحان ہے۔ تاہم  اس طرح کے واقعات کے ردعمل اور اثرات کا تعین سماجی طور پر ہوتا ہے۔

جانی نقصان کی اصل ذمہ داری  پہلے سے  ناکافی تیاری پر عائد ہوتی ہے جو کہ دو باہم مربوط عوامل کی پیداوار ہے۔ اول۔ خالصتاً قومی مفادات کے طور سے سیاست کا غلبہ اور دوئم۔ منافع کی بنیاد پر پالیسی کا تعین اور  سرمائے کا ارتکاز ہیں۔

سائنسدانوں کی تمام تنبیہات کے باوجود جو اقدامات ضروری تھے وہ نہیں کیے گئے۔

میں اس وقت استنبول میں ہوں۔ میرے پیچھے تاریخی بندرگاہ کا ایک حصہ ایک ایسا علاقہ ہے کہ اگر اس شہر میں زلزلہ آتا ہے تو جیسا کہ ماہرین زلزلہ نے وسیع پیمانے پر پیش گوئی کی ہے تو اس کے نتیجے میں یہاں اور پورے شہر میں تباہ کن جانی نقصان ہوگا جس کی تعداد شاید لاکھوں میں ہوگی۔

یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس کے عالمی مضمرات ہیں۔ ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں تقریباً ہفتہ میں ایک بار  اگر روزانہ کی بنیاد پر نہیں تو ہم کسی نہ کسی طرح کی آفات کے بارے میں سنتے رہتے ہیں۔

ابھی چند روز قبل یونان میں ٹرین پٹری سے اتر گئی۔ مشرقی فلسطین اور اوہائیو میں تباہی اس طرح کے واقعات میں قدر مشترک جو چیز پائی جاتی ہے  ہمیشہ زندگی کو منافع کے ماتحت کرتا ہے۔ اور ایسے واقعات ایک وبائی مرض کے سائے تلے ہو رہے ہیں جس نے پوری دنیا میں لاکھوں اور لاکھوں لوگوں کی جانیں لے لی ہیں۔

اور اس سے بھی اہم یہ کہ جہاں میں اس وقت موجود ہوں بحیرہ اسود کے اُس پار یوکرین میں جاری جنگ کا جوہری تباہی کی طرف بڑھنے کا خطرہ ہے۔

ان سے کیا نتیجہ اخذ ہوتا ہے؟ ہم ایک سماجی نظام میں رہتے ہیں ایک معاشی نظام جو فرسودہ  ہو چکا ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام جو  قومی ریاست کا نظام ہے سرمایہ دار طبقے کی حکمرانی اب  جدید عوامی معاشرے کی ضروریات سے پوری طرح مطابقت نہیں رکھتی۔

ترکی اور شام میں اس قدر تباہ کن اثرات مرتب کرنے والا زلزلہ ایک عالمی اور تاریخی واقعہ ہے۔ اس کے سیاسی نتائج برآمد ہوں گے۔ یہ اسی طرح کے کردار کا ایک اور تاریخی واقعہ جو یاداشت میں لوٹ آتا ہے وہ انتہائی بڑا زلزلہ جو 1755 میں پرتگال کے شہر لزبن میں آیا تھا۔

اُس وقت موجودہ جاگیردارانہ ڈھانچے کے معذرت خواہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اس تباہی سے جس میں دسیوں ہزار جانیں ضائع ہوئیں موجودہ نظام پر ایمان اور اعتماد کو ٹھیس نہیں لگانی چاہیے یہ کہ جو کچھ ہوا وہ ایک خدائی منصوبے کا حصہ تھا۔ جانی نقصان خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اس کی کوئی پوچھ گچھ نہیں ہونی تھی  یہ سب فطرت کی طرف سے اچھائی کے لیے تھا۔ تاہم درحقیقت انسان زندہ رہا اور وہ دعویٰ کرتے رہے 'تمام ممکنہ دنیاوں میں سے بہترین' میں۔

یہ پرامیدی کا تصور والٹیئر کے زبردست حملے کا شکار ہوا جس نے رجعتی رجائیت کے اس خالی نظریے کے جواب میں اپنی مشہور کتاب کینڈائیڈ لکھی۔اُس نے لکھا  نہیں ہم تمام ممکنہ دنیاؤں میں نہیں رہتے تھے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے تھے جسے بدلنا تھا جس میں زندگی اور معاشرہ انسانی عمل کے تابع ہو سکتا تھا۔

اس  کے اس اقدام نے سائنسی سوچ کے ایک منطقی عمل کو تیز  تر کیا  جس کے نتیجے میں 1776 کے امریکی انقلاب اور 1789 سے 1794 کے عظیم فرانسیسی انقلاب  اور دنیا کو بدلنے کے لیے 19ویں اور 20 ویں صدی کی تمام عظیم سماجی جدوجہد کو جنم دیا۔ اور انسانی عمل کے ذریعے ایک ایسا معاشرہ وجود میں لانا جو انسانیت کے مفاد میں حالات کو منظم کرے۔

ہر کسی کو یہ تسلیم کرتے ہوئے یہ جدوجہد کرنی چاہیے کہ یہاں جو کچھ ہوا ہے اور دوسرے تمام واقعات جو انسانی زندگی کے حالات پر اس قدر تباہ کن اثرات مرتب کر رہے ہیں انقلابی فکر کے ایک نئے اور طاقتور احیاء کا باعث بنیں گے۔

یہ چوتھی انٹرنیشنل کی انٹرنیشنل  کمیٹی کا ٹراٹسکی تحریک کا تناظر ہے۔ اس لڑائی کا حصہ بنیں۔ سوشلزم کے لیے جدوجہد کریں۔ محنت کش طبقے کی انقلابی تحریک کی تعمیر کریں جو پوری انسانیت کے مفاد میں معاشرے کی تجدید اور تبدیلی کر سکے۔

Loading