اُردُو

اسٹالن: انقلاب کا گورکن

یہ 7 مارچ 2023 کو  انگریزی میں شائع ہونے والے'Stalin: The gravedigger of the revolution .اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔

یہ مضمون اصل میں ٹویٹر پر پوسٹ کیا گیا تھا۔

ستر سال قبل 5 مارچ 1953 کو جوزف سٹالن 73 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ 20 ویں صدی میں محنت کش طبقے کی بدترین شکستوں کی وجہ کسی فرد کے جرائم اور دھوکہ دہی کو قرار دیا جا سکتا ہے تو وہ شخص سٹالن ہے۔

1927 کے اوائل میں ٹراٹسکی نے سٹالن کے سامنے اُسے 'انقلاب کی قبر کھودنے والے' کے طور پر بیان کیا۔ یہ لفظ کے سب سے زیادہ لغوی معنی میں درست ثابت ہوا۔

جوزف اسٹالن 1943 میں [اے پی فوٹو] [AP Photo]

سٹالن کو تاریخ میں ایک اجتماعی قاتل کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جس نے بالشویک پارٹی کے رہنماؤں اور ان لاکھوں سوشلسٹوں کو قتل کرنے کا حکم دیا جنہوں نے اکتوبر انقلاب، سوویت یونین کی تخلیق اور عالمی سوشلزم کی فتح کے لیے جدوجہد کی تھی۔

لیکن سٹالن ایک فرد کی حیثت سے اوسط درجے کا تھا۔ اقتدار میں اس کا عروج بالشویک پارٹی کے بیوروکریٹک انحطاط پزیری کے ساتھ مکمل طور پر جڑا ہوا تھا۔ سٹالنزم اپنے جوہر میں بیوروکریسی کے محنت کش طبقے سے سیاسی طاقت چھیننے کا نتیجہ تھا۔

بیوروکریسی نے سٹالن کو اپنا لیڈر اس لئے منتخب کیا کیونکہ وہ انکے مفادات اور مراعات کے دفاع کے لیے درکار ذاتی اور سیاسی خصوصیات کے حامل تھے، اُس میں بے رحمی، ذاتی اقتدار کی ہوس، بیہودہ عملیت پسندی اور قوم پرستانہ نقطہ نظر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔

ان کے سیاسی نقطہ نظر کا آخری عنصر فیصلہ کن اہمیت کا حامل تھا۔ سٹالنزم کی پروگرام کی  بنیاد 'ایک ملک میں سوشلزم' کا مارکسسٹ مخالف 'نظریہ' تھا جسے سٹالن نے دسمبر 1924 میں پہلی بار آگے بڑھایا تھا۔

مارکسزم کی اس قوم پرست ترمیم پسندی نے عالمی سوشلسٹ انقلاب کے پروگرام کو ترک کرنے اور بین الاقوامی محنت کش طبقے کی جدوجہد کو سوویت بیوروکریسی کے قومی مفادات کے تابع کرنے کا جواز فراہم کیا۔

یہ ٹراٹسکی پر سٹالنسٹ حملے، مستقل انقلاب کے نظریہ کی  مخالفت  اور سوویت بیوروکریسی کی محنت کش طبقے کے ساتھ غداری کی نظریاتی اور سیاسی بنیاد تھی۔

سٹالنسٹ حکومت 1933 تک  ایک  انقلاب مخالف  قوت بن چکی تھی۔ جرمنی میں ہٹلر کے نازیوں کی فتح  جو ایک بڑی  سیاسی تباہی کا باعث بنا اور اس سیاسی تباہی کے لئے سٹالن اور سٹالنزم ذمہ دار تھے اور اس وجہ سے ٹراٹسکی کو چوتھی انٹرنیشنل کی تعمیر کا مطالبہ پیش  کرنا پڑا ۔

سٹالنزم کے ردِ انقلابی کردار کے بارے میں ٹراٹسکی کے تجزیے کو تاریخ نے اسکی عظیم کتاب انقلاب سے غداری میں سچ ثابت کیا ہے۔ ٹراٹسکی نے خبردار کیا تھا کہ سٹالنسٹ حکومت  کو جب تک محنت کش طبقے کے ذریعے ختم نہیں کیا جاتا تو پھر اس کا نتیجہ سرمایہ دارانہ بحالی کی صورت میں نکلے گا۔

سٹالن کے سیاسی وارثوں یعنی کہ نوکر شاہی کٹھ پتلیوں نے جن بالشویکوں کو اس نے قتل کیا تھا تاکہ انکی جگہ لینے کے لیے انہیں منتخب کیا گیا نے سیاسی غداری کے عمل کو جاری رکھا اور اسے مکمل کیا۔ سٹالن کی موت کے صرف 38 سال بعد 1991 میں سوویت یونین تحلیل ہو گیا۔

ٹراٹسکی نے پیشین گوئی کی تھی کہ ’’تاریخ کے قوانین نوکر شاہی کے آلات سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔“سٹالنزم کی عمارت کھنڈرات کا ڈھیر ہے۔ لیکن جیسے جیسے ٹراٹسکی تحریک کے قیام کی صد سالہ تکمیل قریب آرہی ہے چوتھی انٹرنیشنل پوری دنیا میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

Loading