یہ 8 مارچ 2023 میں انگریزی میں شائع 'Stop the pension cuts and the war, bring down the Macron government! ' ہونے والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔
بچھلے دن تقریباً 30 لاکھ مزدورں نے 'معیشت کو مکمل جام کرنے' اور صدر ایمانوئل میکرون کی پنشن میں کٹوتیوں کو روکنے کے مطالبات پر فرانس بھر کے شہروں میں ہڑتال کی اور مارچ کیا۔ یہ عوامی ہڑتال کی تحریک جو کہ 55 سال قبل مئی اور جون 1968 کی عام ہڑتال کے بعد فرانس میں سب سے بڑی ہڑتال ہے ایک تاریخی کردار کی حامل ہے۔ محنت کش طبقے اور میکرون حکومت کے درمیان انقلابی مضمرات کے ساتھ تصادم ابھر رہا ہے۔
معیشت کے مرکز میں اہم صنعتوں میں مزدورں نے معیشت کو روکنے کے لئے کالوں کی پیروی کی. پبلک سیکٹر، ریل اور ماس ٹرانزٹ، پاور اسٹیشنز اور ریفائنریوں کے ساتھ ساتھ آٹو، ایرو اسپیس اور جہاز سازی سبھی میں زبردست ہڑتالیں ہوئیں۔ طلباء نے پیرس، لیون اور رینس کی یونیورسٹیوں میں ناکہ بندی کا اہتمام کیا اور ہڑتالی کارکنوں کے ساتھ مارچ کے لیے وفود بھیجے۔ آج ریفائنریوں اور ایندھن کے ڈپووں پر ہڑتالیں جاری ہیں تاکہ گیس اسٹیشنوں کا ایندھن بند کیا جا سکے اور میکرون کو سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
محنت کش طبقے میں دھماکہ خیز غصہ پیدا ہو رہا ہے جو مارچ کرنے والے لاکھوں لوگوں سے بھی کہیں زیادہ بڑے پیمانے پایا جاتا ہے۔ تین چوتھائی فرانسیسی عوام نے میکرون کی کٹوتیوں کی مخالفت کی جس کا مقصد دسیوں ارب یورو کو پنشن کی کٹوتیوں کے زریعیسے نکالتے ہوئے امیروں کو مستفید کیا جائے تاکہ ان کے ٹیکسوں میں کمی کی جا سکے اور 413 بلین یورو کو فوجی ہتھیاروں کی تعمیر پر خرچ کرتے ہوئے فرانس نیٹو روس یوکرین جنگ میں اپنی شرکت کو تیز تر کرئے۔ حالیہ رائے شماری سے پتہ چلتا ہے کہ 10 میں سے چھ فرانسیسی لوگ چاہتے ہیں کہ ہڑتالی میکرون کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے معیشت کو مکمل روک دیں۔
سوشلسٹ ایکولیٹی پارٹی آف فرانس(پی ای ایس) جو چوتھی انٹرنیشنل کمیٹی کی انٹرنیشنل کمیٹی (آئی سی ایف آئی) کا فرانسیسی سیکشن ہے نے مند درج ذیل مطالبات کو پیش کیا ہے:
1) محنت کش طبقے کو میکرون حکومت کو گرانا ہوگا۔ میکرون اپنے خلاف زبردست مخالفت کو مسترد کرتے ہوئے جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاستوں کے درمیان لاپرواہی سے جنگ کو ہوا دیتے ہوئے مزدورں کے معیار زندگی کو کم کر رہا ہے۔ اس کی حکومت کوئی جمہوری حکومت نہیں ہے جس میں اصلاح کی جا سکتی ہے بلکہ عوام کے لیے ناقابل تلافی دشمنی رکھنے والے مالیاتی طبقے کا ایک ناقابل معافی آلہ کار ہے۔
2) یوکرین میں روس کے خلاف امریکہ اور نیٹو کی جنگ کو ختم کرو جس سے پورے یورپ اور دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے مکمل جنگ شروع ہونے کا خطرہ ہے۔ اس جنگ کو روکنا ہے تاکہ اربوں یورو کو بڑے پیمانے پر قتل کی مشینری سے روکتے ہوئے اہم سماجی ضروریات کی ادائیگی میں منتقل کرنے کے لیے یہ ایک لازمی شرط کے طور پر کیا جائے۔
3) بینک بیل آؤٹ پر استعمال ہونے والے بڑے پیمانے پر فنڈز کو ضبط کرو جنہوں نے مالیاتی اشرافیہ کو بڑے پیمانے پر مالا مال کیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر تباہ کن افراط زر کو پیدا کرتے ہوئے ہوا دے رہے ہیں۔ ان بیل آؤٹس نے صرف فرانسیسی ارب پتیوں کی دولت میں 200 بلین یورو کا اضافہ کیا ہے جب سے 2020 میں کوویڈ-19 کی وبا شروع ہوئی ہے۔ ان عوامی فنڈز کو اہم سماجی ضروریات کو پورا کرنا چاہیے اور بڑی صنعتوں کو عوامی ملکیت میں رکھنا چاہیے تاکہ وہ کام کرنے والے افراد کو ملازمتیں اور سستی خدمات فراہم کر سکیں۔
4) سب سے اہم یہ کہ بڑے پیمانے پر ہڑتال کی کارروائی کو فرانس کی سرحدوں سے باہر، یورپ بھر میں اور بین الاقوامی سطح پر سرمایہ دارانہ نواز ٹریڈ یونین بیوروکریسیوں کے خلاف بغاوت میں پھیلائیں۔ عالمی معیشت بین الاقوامی کارپوریشنوں کی قیادت میں جس میں سرمایہ دار حکمران اشرافیہ روس، یوکرین اور نیٹو کی تمام طاقتوں کو پہلے ہی ایک جنگ میں گھسیٹ چکے ہیں محنت کش طبقے کے کسی بھی اہم اور ضروری مطالبے کو صرف ایک ملک کے اندر مزدورں کو متحرک کرنے سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔
فرانس میں تحریک پورے یورپ میں ابھرنے والی معروضی انقلابی صورت حال کا تیز تر اور شدید اظہار ہے کیونکہ بڑے پیمانے پر ہڑتالیں پورے براعظم میں پھیل چکی ہیں۔ لاکھوں مزدور جرمنی اور برطانیہ میں مہنگائی اور اجرتوں میں اسٹریٹی یا اسپین میں صحت میں کٹوتیوں کے خلاف بڑے بڑے جلوس نکل رہے ہیں۔ بیلجیئم، اٹلی اور یونان میں قومی ریل ہڑتالیں جاری ہیں جہاں ایک ہولناک ٹرین حادثے کے بعد 57 افراد کی جانیں لینے کے بعد دائیں بازو کی مٹسوٹاکس حکومت اور پوری حکمران اشرافیہ کی تباہ کن یورپین یونین کی اسٹریٹی کی دہائیوں سے جاری کوششوں کے خلاف ایک دھماکہ خیز تحریک تیار ہوئی ہے۔
ترکی میں غیر معیاری مکانات کی تعمیر میں حکومت اور پوری سیاسی اسٹیبلشمنٹ کی ملی بھگت کے خلاف دھماکہ خیز غصہ بڑھ رہا ہے جس نے گزشتہ ماہ کے ترک شام کے زلزلوں میں دسیوں اور ممکنہ طور پر سیکڑوں ہزاروں افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ جب کہ یہ جنگ پر اربوں خرچ کر رہی ہے جبکہ حکومت زلزلہ متاثرین کی تلاش کے لیے بروقت سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کا اہتمام کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔
یہ ٹریڈ یونین جدوجہد کا کوئی سلسلہ نہیں ہے جسے کسی ایک یا دوسری قومی حکومت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ وہ سرمایہ داری کے قریب المرگ ایک بین الاقوامی بحران کی پیداوار ہیں۔ ہر ملک میں مزدور عالمی مسائل کے خلاف ایک جیسے مطالبات اٹھا رہے ہیں جیسے مہنگائی، اسٹریٹی، ماحولیاتی انحطاط، جبر اور جنگ؛ ہر جگہ انہیں بدنام سرمایہ دار حکومتوں کی طرف سے قانونی دھمکیوں یا پولیس کے تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ نہ صرف فرانس میں بلکہ پورے یورپ اور بین الاقوامی سطح پر انقلابی دھماکوں کو متحرک کر رہا ہے۔
میکرون کو گرانا کوئی ایسا کام نہیں ہے جسے فرانسیسی سیاسی اسٹیبلشمنٹ پر چھوڑ دیا جائے یا پھر ایک نئی پارلیمانی حکومت لائی جائے۔ بلکہ اسے محنت کش طبقے کی اقتدار کے لیے جدوجہد اور سرمایہ داری کے خاتمے اور یورپ کی متحدہ سوشلسٹ ریاستوں کی تعمیر کے لیے یورپی یونین کی جدوجہد سے تکمیل کرنا چاہیے۔
پی ای ایس محنت کش طبقے کے اقدامات کو قومی یونین بیوروکریسیوں کے ماتحت کرنے کی کوششوں کی پرزور مخالفت کرتی ہے۔ یہ فرانس اور بین الاقوامی سطح پر محنت کش طبقے کی جدوجہد اور سیاسی عمل کو منظم اور مربوط کرنے کے لیے بیوروکریسیوں سے آزاد رینک اینڈ فائل کمیٹیوں کی تشکیل کا مطالبہ کرتی ہے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پی ای ایس کو فرانس میں پیٹی بورژوا جعلی بائیں بازو کی جماعتوں کی ناقابل مصالحت مخالفت میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ جو سبھی امریکہ- نیٹو جنگ سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں یا پر کھل کر انکی حمایت کر رہے ہیں اور آنے والے سماجی دھماکے میں تاخیر کے لیے کام کر رہے ہیں اور اگر اس سے بچایا نہیں جا سکتا تو پھر میکرون کو گرانے کی جدوجہد کو روکنا ہے۔ جہاں سٹالنسٹ جنرل کنفیڈریشن آف لیبر (سی جی ٹی) کے باس فلپ مارٹینز وزیر اعظم ایلزبتھ بورن کے ساتھ اپنی 'بشکریہ کالوں' پر فخر کر رہے ہیں، لا فرانس انسومیس (ایل ایف آئی) کے رہنما جین لوک میلینچن میکرون سے کٹوتیوں پر ریفرنڈم کرانے کی اپیل کر رہے ہیں یا نئے انتخابات کے انعقاد کی سیاسی ڈھل کا سہارا لے رہے ہیں۔
ان قوتوں کو متحرک کرنے کے لیے سرمایہ داری کے حامی نقطہ نظر کو جوآن چنگو نے پیش کیا تھا جو پابلائٹ نیو اینٹی کیپٹلسٹ پارٹی کے الگ ہونے والے مستقل انقلاب کی تنظیم کے دھڑے کے رہنما تھے۔
اس ہفتے کے آخر میں مستقل انقلاب کی تنظیم ویب سائٹ پر ایک انٹرویو میں چنگو نے اعلان کیا: 'صورتحال انقلابی نہیں ہے میں اس تشخیص سے متفق ہوں۔'
انہوں نے فرانسیسی پارلیمانی ازم کی قومی آئینی اصلاحات کے ذریعے سرمایہ داری کے تحت جمہوریت کو فروغ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں 'جمہوری پروگرام کے عناصر کو تیار کرنا چاہیے جیسے کہ مشترکہ ایک ایوانی پارلیمنٹ کی تشکیل جو قانون ساز اور انتظامی دونوں ہو گی۔' انہوں نے مزید کہا کہ اس تجویز کا بنیادی مقصد ' اس ماس تحریک کو بورژوا نمائندہ جمہوریت کے تجربات کرنے میں مدد دینا ہے۔'
یہ محنت کش طبقے کے لیے سیاسی پھندا ہے۔ میکرون کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہونی چاہیے ہے۔ جہاں تک سرمایہ دارانہ نمائندہ جمہوریت کے ساتھ تجربات کرنے میں محنت کشوں کی مدد کرنے کے مقصد کا تعلق ہے تو یہ ایک ضروری وجہ سے رجعتی اور بلکل غلط ہے: کیوں کہ سرمایہ دارانہ حکمران طبقہ 2023 میں اسی طرح جمہوری طور پر عوام کی نمائندگی نہیں کرتا اُسی طرح جیسا کہ فرانس کی جاگیردارانہ اشرافیہ۔ اور پھر پیرس کے لوگوں نے باسٹل پر حملہ کیا۔ فرانسیسی انقلاب کے 1789 کے آغاز میں۔
پی ای ایس محنت کشوں اور نوجوانوں کی رینک اینڈ فائل کمیٹیاں بنانے کے لیے لڑ رہی ہے جس کا مقصد محنت کش طبقے کو بیوروکریٹس اور جعلی بائیں بازو کے ڈھکوسلے بازوں سے آزادانہ طور پر منظم کرنا ہے جو انقلابی کا روپ دھارتے ہوئے سرمایہ داری کی حمایت کرتے ہیں۔ ایسی پالیسی کی ضرورت 20 ویں صدی کی انقلابی جدوجہد میں ٹراٹسکی تحریک کے عظیم تجربات سے ملتی ہے۔
تاریخ میں کئی بار فرانس میں جدوجہد نے بین الاقوامی سطح پر محنت کشوں کے لیے انقلابی لہر کا کام کیا ہے۔ مئی اور جون 1936 کی فرانسیسی عام ہڑتال مزدور طبقے کے پاس انقلاب کے ذریعے دوسری عالمی جنگ کے پھیلنے کو روکنے کا آخری عظیم موقع تھا۔ اس کے بعد اس نے لاکھوں مزدورں کو متاثر کیا جنہوں نے جنگ کے دوران نازیوں کے زیر قبضہ یورپ میں فاشسٹ حکمرانی کے خلاف ہڑتالیں اور مسلح بغاوتیں شروع کیں۔ پھر مئی اور جون 1968 کی فرانسیسی عام ہڑتال نے جدوجہد کی ایک بین الاقوامی لہر کا آغاز کیا جس نے یورپ میں یونان، پرتگال، برطانیہ اور اسپین میں دائیں بازو کی حکومتوں کو گرا دیا۔
لیکن تاریخ میں کئی بار فرانسیسی مزدورں نے انقلابی مواقع کی سیاسی دھوکہ دہی کے ساتھ تلخ تجربات بھی حاصل کیے ہیں۔ مزدور انقلابی اقدام کو اپنے ہاتھوں سے پھسل دیتے ہیں جو بیوروکریسیوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں اور یہ مزدور یونین بیوروکریسیوں سرمایہ دار پارٹیوں کے ساتھ مل کر انقلاب کو روکنے کے لیے مزدوروں کی جدوجہد کو بیچتے رہے۔ جس کی وجہ سے مزدور طبقے کو عبرتناک شکستوں سے دوچار ہونا پڑا ہے۔
1936 میں بورژوا ریڈیکل پارٹی، سوشل ڈیموکریٹس اور سٹالنسٹ کمیونسٹ پارٹی کے درمیان پاپولر فرنٹ نے میٹیگنون معاہدے میں مزدوروں کو رعایتیں دے کر پہلے حملے کو روک دیا۔ اس کے بعد انہوں نے ٹراٹسکی کے خلاف فوجی تشکیل اور رد انقلابی بہتان مہم شروع کی۔ پاپولر فرنٹ کی حکومت نے ان ہڑتالوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کیا جو میٹیگنون معاہدے کے فریم ورک کے خلاف پھوٹ پڑیں۔ اس نے ایک نئی عالمی جنگ اور 1940 میں فرانس کی شکست اور فرانسیسی سیاسی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے نازی تعاون پسند حکومت کے قیام کی راہ ہموار کی۔
1968 میں سی جی ٹی بیوروکریسی اور سٹالنسٹ پی سی ایف نے عام ہڑتال کو ختم کرنے اور سرمایہ دارانہ ریاست کے ساتھ گرینیل معاہدے میں غداری کا اہتمام کرنے کے لیے ہفتوں تک کام کیا۔ ٹراٹسکی ازم سے غداری کرنے والے پابلوائٹ کے مختلف پیروکاروں کے ساتھ مل کر نئی قائم ہونے والی سوشلسٹ پارٹی (پی ایس) کی حمایت کی جو بورژوا مہم جوئی اور سابق نازی کے رفیق فرانکوئس مٹررینڈ کی پارٹی تھی۔ 1981 میں پی ایس کے اقتدار سنبھالنے کے تقریباً فوراً بعد یہ اسٹریٹی اور افریقہ اور نوآبادیاتی جنگوں کا ایک آلہ ثابت ہوئی۔ بالآخر یہ وہ پارٹی ہے جہاں سے میکرون اور میلینچون بھی جنہوں نے خود کو میکرون کے وزیر اعظم کے طور پر تجویز کیا ابھرا کر سامنے آئے۔
ٹراٹسکی نے 1935 میں بیوروکریسیوں کی طرف سے اس طرح کی دھوکہ دہی کو روکنے کے لیے ایکشن کی رینک اینڈ فائل کمیٹیاں بنانے کی ضرورت کی وضاحت کی۔ روس میں اکتوبر 1917 کے انقلاب میں اقتدار پر قبضہ کرنے والی ورکرز کمیٹیوں (سوویت) کے تجربے کی بنیاد پر اس نے 1936 کی عام ہڑتال سے پہلے ایسی کمیٹیوں کی تشکیل کا مطالبہ کیا۔ 'کمیٹی آف ایکشن نہ کہ پیپلز فرنٹ' میں اس نے سٹالنزم، مارسیو پیورٹ جیسے 'بائیں' سوشل ڈیموکریٹس اور سرمایہ دار ریڈیکل پارٹی کے درمیان اتحاد کی مخالفت کی۔ اس نے لکھا:
اصلاح پسند اور سٹالنسٹ سب سے بڑھ کر ریڈیکلز کو خوفزدہ کرنے سے ڈرتے ہیں۔ متحدہ محاذ کا آپریٹس عوام کی متفرق تحریکوں کے سلسلے کی صورت میں شعوری طور پر بے ترتیبی کا کردار ادا کرتا ہے۔ اور مارسیو پیورٹ قسم کے 'بائیں' اس آپریٹس کے زریعے سے عوام کے غصے سے بچانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ جدوجہد کرنے والے عوام کو جدوجہد کے عمل میں جو اس وقت کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے، ایک نیا آپریٹس بنانے میں مدد دے کر ہی حالات کو بچایا جا سکتا ہے۔ ایکشن کمیٹیاں اسی مقصد کے لیے بنائی گئی ہیں۔ اس کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ کمیٹی آف ایکشن کی درآمد کو پارٹی اور ٹریڈ یونین کے آپریٹس کی انقلاب مخالف مخالفت کو توڑنے کا واحد ذریعہ سمجھنا چاہئے ہے۔
یہ سطریں 88 سال بعد اور زور سے گونج رہی ہیں جب یورپ اور دنیا ایک نئی عالمی جنگ کے دہانے پر لڑکھڑا رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر محنت کشوں میں سرمایہ داری کے خلاف دھماکہ خیز غصہ پیدا ہو رہا ہے۔ جنگ روکنے، معیار زندگی بلند کرنے اور سوشلسٹ معاشرے کی تشکیل کے انقلابی امکانات بہت زیادہ ہیں۔ لیکن اس صلاحیت پر عمل کرنے کے لیے ہم بین الاقوامی ورکرز الائنس آف رینک اینڈ فائل کمیٹیز (آئی ڈبلیو اے-آر ایف سی) کو توسیع دینے اور چوتھی انٹرنیشنل کی بین الاقوامی کمیٹی کے سیکشنز کی تعمیر کے لیے انقلابی ٹراٹسکیسٹ ہراول کے طور پر مطالبہ کرتے ہیں۔ محنت کش طبقہ، سوشلزم اور یونائیٹڈ سوشلسٹ سٹیٹس آف یورپ کے لیے لڑ رہا ہے۔
