اُردُو

گہرے ہوتے قرضوں اور کرنسی کے بحران نے غریب ممالک کو متاثر کیا۔

یہ ارٹیکل 9 مارچ 2023 میں انگریزی میں شائع ہوا 'Deepening debt and currency crises hit poorer countries'کا اردو  ترجمہ ہے۔

بڑھتی ہوئی افراط زر، یو ایس فیڈرل ریزرو اور دیگر بڑے مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں اضافے، اور گزشتہ سال کے دوران  یو ایس کی ڈالر کی قدر میں اضافے کے نتیجے میں معاشی تباہی کی لہر غریب ممالک اور نام نہاد ابھرتی ہوئی منڈیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔

سب سے زیادہ مشہور اس بحران سے سری لنکا کا ہے جہاں گزشتہ سال ایک بڑے پیمانے پر بغاوت نے راجا پاکسے حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور جہاں اب وکرما سنگھے حکومت کے خلاف ایک نئی بغاوت پیدا ہو رہی ہے۔ یہ محنت کش طبقے اور محنت کش عوام کو غریب بنا کر بین الاقوامی مالیاتی سرمائے پر ملک کے قرضوں کی ادائیگی کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی اسٹریٹی کا پروگرام نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سری لنکا کی بندرگاہ کے مزدور سری لنکا میں کولمبو بندرگاہ کے داخلی دروازے کے باہر انکم ٹیکس میں اضافے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، بدھ، 1 مارچ، 2023۔(اے پی فوٹو/ارنگا جے وردنا) [AP Photo/Eranga Jayawardena]

لیکن سری لنکا کی صورت حال جہاں بنیادی سماجی خدمات تیزی سے فراہم نہیں کی جا رہی ہیں بہت سے دوسرے ممالک میں بلکل ویسے ہی اسے دھرایا جا رہا ہے۔

ایسے میں ڈالر کی کمی کی وجہ سے  بلومبرگ نے حال ہی میں اطلاع دی ہے کہ نائیجیریا میں بین الاقوامی پروازیں معطل کر دی گئی ہیں اور پاکستان میں کار فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں۔

بنگلہ دیش میں پاور کمپنیوں کو پیداوار روکنا پڑ سکتی ہے جب تک کہ وہ ایندھن خریدنے کے لیے ڈالر وصول نہ کریں۔ جب تک بجلی نہ ہو خشک موسم میں دھان کے کھیتوں کے چاول کی آبپاشی جو ملک کی اہم خوراک ہے جاری نہیں رہ سکتی۔

جیسا کہ بلومبرگ کی رپورٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے: 'دنیا کے سب سے زیادہ کمزور ترقی پذیر ممالک میں حقیقی طور پر حالات سنگین ہیں۔ ڈالر کی کمی کی وجہ سے  خام مال سے لے کر ادویات تک ہر چیز تک رسائی ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔ دریں اثنا حکومتیں  بین الاقوامی مالیاتی فنڈ [آئی ایم ایف] سے امدادی پیکجوں کے لئے اپنے قرضوں کے لئے تگ و دو کر رہی ہیں۔

جیسا کہ سری لنکا میں وہ اس کام پر 'بھگ دوڑ'  میں مصروف  ہیں کہ محنت کش طبقے پر پہلے سے زیادہ مشکلات مسلط کر کے مالیاتی سرمائے کے بے جا مطالبات کو پورا کرنے کے لیے طریقہ کار وضع کرتے ہوئے  شہری اور دیہی غریبوں کے ساتھ ساتھ متوسط ​​طبقے کی ملازمتیں رکھنے والے افراد کو بھی نشانہ بنایا جائے۔

مالیاتی تجزیہ کار پیشین گوئی کر رہے ہیں کہ صورتحال مزید خراب ہونے والی ہے۔

ہانگ کانگ میں اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کے سینئر ماہر معاشیات جان ماریٹ نے بلومبرگ کو تبصرہ کرتے ہوئے کہا: 'یہ ممالک معاشی تباہی میں دھنسے ہوئے ہیں اور کچھ پاکستان جیسے دوسرے ڈیفالٹ کے کنارے پر ڈگمگا رہے ہیں۔ ان کی معیشتوں کے بڑے حصے جدوجہد  میں مصروف ہیں۔  جبکہ انکی کرنسیوں کی قیمت بھی بہت کم ہے۔'

یہ صورت حال امریکی سنٹرل بنک  اور دیگر بڑے مرکزی بینکوں کے واضح اشارے کے ساتھ مزید خراب ہونے والی ہے کہ شرح  سود میں اضافہ جاری رہے گا۔

پاکستان میں کچھ فیکٹریوں نے پیداوار بند کر دی ہے کیونکہ ان کے پاس خام مال کی درآمدات کی ادائیگی کے لیے ہارڈ کرنسی خاص طور پر امریکی ڈالر ختم ہو چکے ہیں۔

پاکستان کو جون میں تقریباً 7 بلین ڈالر کے قرضوں کی ادائیگیوں کو پورا کرنا ہوگا اور ڈیفالٹ کا امکان پہلے سے زیادہ بڑھ رہا ہے۔  زر تبادلہ کے ذخائر ڈوب رہے ہیں۔   پاکستان اور دنیا بھر میں بہت سے دوسرے ممالک کی طرح دہائیوں میں سب سے زیادہ افراط زر کی زد میں ہے۔

موڈیز نے جب  گزشتہ ہفتے ملک کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی کی تو اُس  نے کہا کہ 'ادائیگی کے موجودہ انتہائی نازک توازن کی صورت حال میں ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے ادائیگیوں کو وقت پر محفوظ نہیں کیا جا سکتا ہے۔'

ڈالر کی قلت کے نتیجے میں صحت کی صورتحال جو بڑی سرمایہ دار حکومتوں کی جانب سے کوویڈ - 19 کے عالمی خاتمے کی پالیسی پر عمل کرنے سے انکار کی وجہ سے متاثر ہوئی تھی  طبی سامان کی قلت کے ساتھ ہر جگہ بدتر ہوتی جارہی ہے۔

20 سے زائد ممالک آئی ایم ایف سے امداد کے خواہاں ہیں اور پاکستان جیسے ممالک نے اپنی کرنسیوں کی قدر میں تیزی سے کمی دیکھی ہے۔

سب سے بڑی کمی گھانا کی کرنسی سیڈی کی قدر میں ہوئی ہے  جس میں گزشتہ سال جنوری اور اکتوبر کے درمیان 55 فیصد کمی واقع ہوئی تھی۔ اس نے ملکی کرنسی کے لحاظ سے تمام درآمدی اشیا کی قیمتوں میں ڈرامائی طور پر اضافہ کر دیا کیونکہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے بڑے عالمی فوڈ اینڈ انرجی کارپوریشنز کے منافع میں اضافہ ہوا ہے۔

انتہائی سخت گرفت جس میں بہت سارے غریب ممالک جکڑے ہوئے ہیں اس کا انکشاف قرضوں کی مجموعی سطح سے ہوتا ہے  جو وبائی امراض کے نتیجے میں بڑھتا ہے۔

2019 میں وبائی امراض کے آنے سے پہلے انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل فنانس (آئی آئی ایف) نے حساب لگایا کہ تقریباً 30 بڑے کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے قرض کا کل بوجھ 75 ٹریلین ڈالر تھا۔ یہ پچھلے سال دسمبر تک 98 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا جس میں زیادہ تر اضافہ 2020 اور 2021 میں ہوگا۔

اسی وقت سرکاری قرضوں میں بڑا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے سماجی اخراجات کے اہم شعبوں میں پابندیاں لگ گئی ہیں۔ آئی آئی ایف   کے مطابق  2022 کے آخر میں 30 منتخب ممالک کے لیے کل سرکاری قرض مجموعی داخلی پیداوار کے تقریباً 65 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ وبائی امراض سے پہلے کی سطح سے 10 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہے اور اب تک کا سب سے زیادہ  اضافہ ہے۔

2020-2021 میں شرح سود بہت کم تھی کیونکہ مرکزی بینکوں نے کوویڈ کے آغاز کے بعد مالیاتی نظام میں کھربوں ڈالر انڈیلے تھے۔ لیکن گزشتہ سال مہنگائی میں تیزی سے اضافہ اور محنت کش طبقے میں تحریک کے پھوٹنے کے خوف سے انہوں نے شرح سود میں چار دہائیوں کی تیز ترین شرح سے اضافہ شروع کیا۔

اس کا ایک نتیجہ امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا جس سے افراط زر میں اضافہ بڑھا کیونکہ بہت ساری بین الاقوامی اشیاء کی قیمتیں ڈالر میں ہیں۔ کرنسی منڈیوں میں حرکت کا مطلب یہ ہے کہ جب ڈالر کے حساب سے بعض اشیاء کی قیمتیں گرنا شروع ہوئیں تو بھی کئی ممالک میں ان کی کرنسیوں کی قدر ڈالر کے مقابلے میں گرنے کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان جاری رکھا۔

بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (بی آی ایس) کی ایک حالیہ تحقیق جو اس ماہ اپنے سہ ماہی جائزے کے حصے کے طور پر شائع ہوئی، نے عالمی مالیاتی نظام کے عمل میں ایک اہم تبدیلی کا انکشاف کیا  جس کا خاص طور پر غریب ممالک پر بڑا بین الاقوامی اثر پڑ رہا ہے۔

اس نے بتایا کہ ماضی میں اشیاء کی قیمتوں میں نقل و حرکت کا رجحان تھا۔ یعنی جب قیمتیں بڑتی تھیں تو ڈالر کی قیمت گرنے کا رجحان ہوتا تھا  اور اس طرح درآمد کنندگان اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات  کسی حد تک محفوظ رہتے تھے۔

لیکن یہ رشتہ اب  بدل گیا ہے۔ 2021 تک اجناس کی قیمتیں اور ڈالر کی قدر الٹا حرکت کرتی رہی۔ اب وہ ایک ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

بی آئی ایس کے مطالعہ کے جائزے میں:

'اس طرح اجناس کی قیمتوں اور ڈالر کی گراوٹ کے تمام اثرات معاشی جمود کے خطرات پر ایک دوسرے کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں انہوں نے 2012-2022 میں ایک دوسرے کو آپس میں ملا کر رکھا'۔

اس سال کے پہلے ہفتوں میں یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ شرح سود میں نرمی آنا شروع ہو سکتی ہے اور غریب ممالک اور نام نہاد ابھرتی ہوئی مارکیٹوں پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ لیکن حالیہ عرصے میں مرکزی بینک جس کو بڑی معیشتوں میں 'سخت لیبر مارکیٹ' کہتے ہیں اس کے تسلسل کے ساتھ کوئی تبدیلی کا امکان  نہیں ہے۔

سود کی شرح میں اضافے کی رفتار بعض صورتوں میں کم ہو سکتی ہے لیکن یہ جاری رہنے والی ہیں جو دنیا کی آبادی کے بڑے حصے پر مشتمل غریب ممالک میں محنت کش طبقے اور مظلوم عوام کے لیے پہلے سے ناقابل برداشت حالات کو مزید تیز کر رہی ہیں۔

اس لئے پورے منافع بخش نظام کے خلاف محنت کش طبقے کی متحد جدوجہد کی ضرورت  ہے جو کہ نام نہاد ترقی یافتہ اور کم ترقی یافتہ معیشتوں میں یکساں ہے، روزمرہ کی بار بار کی تلخ حقیقت انہیں سمجھنے میں اور اس پر عمل کرنے میں اضافہ کرئے گی۔

Loading