اُردُو
Perspective

ڈانا میں بڑے پیمانے پر مزدورں کی چھانٹیوں کے خلاف رینک اینڈ فائل کمیٹی کی جدوجہد

یہ 13 مارچ 2023 میں انگریزی میں شائع 'The rank-and-file struggle against mass firings at Dana' ہونے والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے

ڈانا کے برطرف کیے گے مزدور(تصویر: ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس)

ریاستہائے متحدہ میں بین الاقوامی پرزہ جات تیار کرنے والی ڈانا  کی فیکٹریوں میں بڑے پیمانے پر مزدوروں کی برطرفیوں کے خلاف رینک اینڈ فائل کمیٹی آٹو ورکرز کی جانب سے بڑھتی ہوئی مخالفت کو جنم دیا ہے جو کہ محنت کش طبقے کے ابھرتے ہوئے عالمی جوابی اقدام کی ایک سلسلے کی بڑی کڑی ہے۔

پچھلے دو ہفتوں میں ریاستہائے متحدہ میں ڈانا پارٹس پلانٹس کے مزدورں نے 19 ویں صدی سے مشابہ مزدوروں کے حالات کو مسترد اور بے نقاب  کرنے کے لیے ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کا استعمال کیا ہے۔

برسوں کی سنیارٹی اور صاف ستھرا ریکارڈ رکھنے والے مزدوروں کا کہنا ہے کہ انکو  موقع پر ہی برطرف کر دیا گیا جو دہائیوں میں مہنگائی کے بدترین بحران کے دوران اپنے آپ کو پالنے کے لیے مزدوری کر رہے تھے۔ ورکرز کا کہنا ہے کہ انہیں معاہدے کی خلاف ورزیوں کے خلاف بولنے، عدم تحفظات پر تشویش کا اظہار کرنے، اجرتوں میں کمی کے خلاف احتجاج کرنے اور اپنے اعلیٰ افسران کی طرف سے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی اطلاع دینے پر ملازمت سے برطرف کیا جا رہا ہے۔

برطرفی کے نتیجے میں کئی مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کی زندگی اجیرن ہوگئی۔ جب کہ ڈانا  اپنے سی ای او کو سالانہ 14 ملین ڈالر ادا کرتی ہے اور اپنے امیر شیئر ہولڈرز کو سالانہ 57 ملین ڈالر منافع دیتی ہے۔ آٹو ورکرز کا کہنا ہے کہ ان کی کاریں ضبط کی جا رہی ہیں انہیں اپنے گھر کھونے کا خطرہ ہے اور ان کے چھوٹے بچے ڈبے کی پھلیاں کھا رہے ہیں۔ اور طبی امداد سے محروم ہیں۔ یہ سرمایہ داری نظام کے تحت زندگی کی نمایا حقیقت ہے۔

درجنوں مزدوروں نے بغیر وارننگ اور کسی حقیقی تادیبی یا شکایت کے طریقہ کار کے بغیر نوکری سے فارغ کی جانے کی اطلاع دی ہے۔  ورکرز کا کہنا ہے کہ کمپنی انہیں حیلے بہانوں اور فریب کاری سے برطرف کر رہی ہے، بشمول سپروائزرز کے کہ وہ  یہ لکھنے کے لیے کہ وہ کام پر ایک خاص وقت پر پہنچے اور پھر اس کا استعمال کرتے ہوئے مزدوروں کو 'کمپنی کے دستاویزات پر جھوٹ بولنے' کے لیے برطرف کر دیا جاتا ہے۔ ڈانا نے اس پر کوئی تبصرہ یا وضاحت کے لیے متعدد درخواستوں کا جواب نہیں دیا ہے۔

ڈانا مزدوروں کی جدوجہد نے کئی  نازک سوالات کو جنم دیا ہے۔

اول  یہ کہ محنت کشوں کا انتہائی استحصال اور  ظلم اور جبر  سرمایہ دارانہ منڈی اور حکمران طبقے کے مفادات اور  مطالبات کے تحت ہوتا ہے۔ ڈانا ایک بین الاقوامی کارپوریشن ہے جس کی دنیا بھر میں 100 سے زیادہ فیکٹریاں ہیں۔ اسے اپنے کاروبار اور سرمائے کو بڑھنے کے لئے مزید استحصال کو بڑھنا ہوتا ہے کیونکہ دنیا کی بڑی آٹو کمپنیاں اس کا مطالبہ کرتی ہیں اور وال اسٹریٹ آٹو کمپنیوں سے بھی یہی مطالبہ کرتی ہے۔ ڈانا اور تمام کارپوریشنز سرمایہ کاروں کے منافع میں اضافہ کرتے ہوئے محنت کش طبقے کو مادی اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی ادائیگی پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اندرون ملک محنت کش طبقے پر حملوں میں اضافہ بیرون ملک جنگ کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہو رہے ہیں۔ جب کہ ڈانا کے مزدوروں کو بتایا جاتا ہے کہ انکے پاس بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے کوئی رقم موجود نہیں ہے جبکہ بائیڈن انتظامیہ دونوں سیاسی جماعتوں کی حمایت سے روس کے خلاف جنگ کی مالی اعانت اور چین کے خلاف جنگ کی تیاری کے لیے فوج پر  1 ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کی تجویز کر رہی ہے۔

دویم  یہ کہ ڈانا کے حالات کو دیکھے ہوئے یو اے ڈبلیو کا تنظمی ساخت  محنت کش طبقے کے لئے ایک کارپوریٹ پولیس فورس سے  کچھ کم  نہیں ہے۔

ڈانا کے مزدورں کو  یو اے ڈبلیو  کے ذریعہ ظاہری طور پر 'نمائندگی' دی جاتی ہے  جو در حقیقت میں بڑے پیمانے پر چھانٹیوں میں ملوث ہے۔ کچھ مزدور جو اپنی ملازمتیں کھو چکے ہیں وہ تیسری یا چوتھی نسل کے یو اے ڈبلیو  کے ممبر ہیں جن کے دادا دادی اور پردادا نے کمپنی کے ٹھگوں اور نیشنل گارڈ کی شروع  ہی سے   یو اے ڈبلیو بنانے کی مخالفت کی تھی۔

بہت سے مزدوروں نے رپورٹ کیا کہ یو اے ڈبلیو کے اہلکار لڑاکا مزدوروں کو چھانٹیوں کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ڈانا کے ٹولیڈو، اوہائیو پلانٹ میں یو اے ڈبلیو  کے اہلکاروں نے ایک کارکن کو نوکری سے نکالے جانے پر جشن منایا اور زیادہ تر کا کہنا ہے کہ یو اے ڈبلیو  نے ان کی شکایات کو آگے نہیں بڑھایا اور ان کی ملازمتیں واپس دلانے میں کوئی بھی مدد نہیں کی۔ اس 'نمائندگی' یا اس کام  کے لئیمزدور یو اے ڈبلیو  کو اوسطاً $800 سالانہ ادا کرتے ہیں۔

یو اے ڈبلیو کی بیوروکریسی اب اپنی قانونی حیثیت کو بڑھانے کی کوشش میں مصروف ہے جنکی طویل عرصے سے کارپوریٹ  حامی پالیسوں اور  بدعنوانی کھل کر بے نقاب ہوئی ہے- ایک ایسے 'انتخابات' کا انعقاد کر کے جس کے بارے میں اس نے میمبرز کو اطلاع کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ایسا کوئی بھی ڈانا کے مزدور کو تلاش کرنا مشکل ہے جو یہ بھی جانتا ہو کہ انہیں ووٹ دینے کا حق ہے جب رینک اینڈ فائل سوشلسٹ ول لیہمن گزشتہ موسم خزاں کے الیکشن کے پہلے راؤنڈ میں امیدوار تھے۔

تیسرا یہ کہ ڈانا میں ہونے والی لڑائی سے پتہ چلتا ہے کہ مزدور  معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر رہے ہیں اور واپس لڑ رہے ہیں۔ عالمی سوشلسٹ ویب سائٹ کی مدد سے رینک اور فائل ورکرز نے ایک رینک اینڈ فائل کمیٹی تشکیل دی ہے جو تمام برطرف کارکنوں کی دوبارہ خدمات حاصل کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ لیکن ساتھ ہی  مزدور  صرف مزید بدسلوکی کا سامنا کرنے کے لیے اپنی ملازمتیں واپس نہیں لینا چاہتے اس لیے وہ کام کی جگہوں پر جمہوری رینک اور فائل کنٹرول کا بشمول بھرتیوں اور کمپنی میں ملازمت سے برطرف مزدوروں کی بحالی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

ان کی اپیل یو اے ڈبلیو کے بیوروکریٹس سے نہیں ہے جنہوں نے انہیں طویل عرصے سے نظر انداز کیا ہوا ہے بلکہ ڈانا فیکٹری  سے باہر ان کے ساتھی مزدوروں سے ہے۔ اس ہفتے کے آخر میں ڈانا کے مزدوروں نے قریبی سٹیلنٹیس ٹولیڈو جیپ پلانٹ میں ایک طاقتور مداخلت کی ہیاور ان کی جدوجہد کے لیے وسیع حمایت حاصل کی۔ اس ستمبر میں 150,000 سٹیلنٹیس، جی ایم اور فورڈ ورکرز کا معاہدہ ختم ہو رہا ہے۔ فی الحال  5,000  کیٹرپلر کے مزدور الینوائے میں ایک معاہدے پر ووٹ دے رہے ہیں اور تمام صنعتوں میں لاکھوں کارکنوں کے معاہدے صرف امریکہ میں اس موسم گرما میں ختم ہو رہے ہیں بشمول یو پی ایس کے 350,000  مزدوروں کے۔

آخر میں ڈانا فیکٹری میں جدوجہد ریاستہائے متحدہ اور پوری دنیا میں بنیادی طبقاتی تقسیم کو ظاہر کرتی ہے۔ ٹولیڈو کے ڈانا پلانٹ میں زیادہ تر افریقی امریکی مزدوروں کی  بڑے پیمانے پر برطرفیوں کی ابتدائی اشاعت کے بعد، کینٹکی کے ڈرائی رج میں ڈانا کے پلانٹ کے مزدوروں نے جو کہ زیادہ تر سفید فام ہیں ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس  کو اسی طرح کے حالات کی اطلاع دینے کے لیے لکھا ہے۔

ابھرتی ہوئی یہ جدوجہد ہر عمر، قومیتوں اور شعبہ ہائے زندگی کے مزدوروں کو یکجا کرتی ہے جبکہ کمپنی اور یو اے ڈبلیو کی جانب سے مزدوروں کو ملازمت کی درجہ بندی، جنسی رجحان، جنس، نسل اور ثقافتی پس منظر کی بنیاد پر مزدوروں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کی کوششں کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے معاملات میں سفید فام مزدوروں کو سفید فام منیجروں کے نمائندوں کے ذریعہ برطرف کیا جاتا ہے جس میں سفید فام یو اے ڈبلیو عہدیداروں کی نمائندگی نہیں ہوتی ہے، اور اتنی ہی تعداد میں سیاہ فام یو اے ڈبلیو اہلکار سیاہ فام کارکنوں کو غلط طریقے سے ختم کرنے میں سیاہ فام مینیجروں کے نمائندوں کی مدد کرتے ہیں۔

ڈانا مزدوروں کی لڑائی امریکہ اور بین الاقوامی سطح پر مزدوروں کی حمایت کی مستحق ہے اور اس کی انتہائی ضرورت ہے۔

گزشتہ ہفتے شائع ہونے والے کمیٹی کے مشن کے بیان کو اور حالیہ دنوں میں متعدد کام کی جگہوں میں اس بیان کو تقسیم کیا گیا۔ ڈانا ورکرز رینک اینڈ فائل کمیٹی نے کہا کہ اس کا مقصد جدوجہد کو ڈانا فیکٹریوں سے باہر بھی وسعت دینی ہے جس میں تمام   درجے کے مزدوروں کو متحد کرنا، اور یو اے ڈبلیو بیوروکریسی کا خاتمہ کرنا ہے۔ یہ کمیٹی بین الاقوامی ورکرز الائنس آف رینک اینڈ فائل کمیٹیز (آئی ڈبلیو اے- آر ایف سی) کا ایک حصہ ہے، جسے 2021 میں رینک انیڈ  فائل کے عالمی نیٹ ورک کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد 'محنت کش طبقے کے ساتھ اپنی ذاتی آب بیتی کا اشتراک کرنا اور ان لوگوں کے لیے بات کرنا ہے جو اپنی ملازمتوں اور معاش کے کھو جانے کے خوف سے بولنے سے بہت زیادہ خوفزدہ ہیں' اور 'ہم پر ظلم کرنے والے ہاتھوں سے اقتدار چھیننا ہے۔: ڈانا اور یو اے ڈبلیو  سے فیکٹری کے اندر طاقت  چھیننا کر نجات حاصل کرنا ہے۔

کمیٹی کے مقاصد ڈانا کے کارخانوں کی دیواروں یا آٹو پلانٹس کے کام کی جگہوں تک محدود نہیں ہیں، یہ بتاتے ہوئے کہ یہ 'ایک بہت بڑے مقصد کی جانب لڑنا ہے: کام کی جگہ اور مجموعی طور پر معاشرے میں برابری کے لیے اور یہ پورے محنت کش طبقے کی تحریک کے لیے ہے“۔

یہ کوئی خیالی امید نہیں ہے بلکہ یہ ایک اسٹریٹجک ضرورت ہے۔ یونان، فرانس، سری لنکا، برطانیہ، اور دنیا بھر کے درجنوں ممالک میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات کے خلاف ہڑتالیں اور مظاہرے ابھر رہے ہیں اور روس کے خلاف امریکہ اور نیٹو کی جنگ کی وجہ سے زندگی بسر کرنے کے لیے اشیا کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکہ عالمی سامراجی  کے ارتجاع کا مرکز ہے اور امریکی حکمران طبقہ اس وقت دنیا کو روس اور چین دونوں کے خلاف ایٹمی جنگ کے دہانے پر دھکیل رہا ہے کیونکہ وہ عالمی تسلط پسند طاقت کے طور پر اپنی گرتی ہوئی پوزیشن کو بچانے کی لاپرواہی سے کوشش کر رہا ہے۔ عالمی طبقاتی جدوجہد کے میدان جنگ میں امریکی محنت کش طبقے کا داخلہ دنیا کے کونے کونے میں جدوجہد کرنے والے محنت کشوں کو بے پناہ طاقت فراہم کرے گا۔

ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس ڈانا ورکرز کی رینک اینڈ فائل کمیٹی کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ ہم امریکہ اور پوری دنیا کے مزدوروں سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس کے بانی بیان کو شیئر کریں اور ڈانا کی جدوجہد کو جتنا ممکن ہو سکے وسیع پیمانے پر پھلائیں۔

Loading