یہ 14 مارچ 2023 میں انگریزی میں شائع 'The bailout of Silicon Valley Bank and the historic crisis of capitalism' ہونے والے اس ارٹیکل کا اوردو ترجمہ ہے۔
سلیکن ویلی بینک (ایس وی بی) کا انہدام جو کہ امریکی تاریخ میں ڈالر بینکنگ کی دوسری سب سے بڑی ناکامی ہے اور بینکاری نظام میں جاری ہنگامہ خیزی مزید ناکامیوں اور بحران کے امکانات کو بڑھا رہی ہے جو کہ امریکہ اور عالمی سرمایہ داری کے تاریخی بحران کا ایک اور اظہار ہے۔
سرمایہ داری کا یہ گہرا ہوتا ہوا سڑا گلہ بحران اور انحطاط امریکہ اور عالمی سیاست میں دو باہم مربوط پیش رفتوں کی بنیادی محرک قوت ہے: تیسری عالمی جنگ کی جانب تیزی سے اضافہ اور امریکہ اور بین الاقوامی سطح پر محنت کش طبقے پر جاری اور شدید حملے جیسا کہ حکمران طبقے کوشش کر رہے ہیں اپنے فرسودہ اور رجعتی نجی منافع بخش نظام کے وجودی بحران کی قیمت محنت کش طبقے کو ادا کرنی پڑھے۔
بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے مالیاتی سرمایہ کاروں، قیاس آرائیوں اور دولت مندوں کے پیسے اور دولت کے تحفظ کے لیے 'جو بھی ضرورت ہو' کرنے کے عزم نے ایک بار پھر سرمایہ دارانہ حکومتوں کی اصل نوعیت کو عیاں کر دیا ہے کیونکہ حکمران مالیاتی اشرافیہ کے معاملات کے انتظام کے لیے انتظامی کمیٹی کا کردار ادا کرتی ہے۔
چار دہائیوں سے زائد عرصے میں بدترین مہنگائی کے شکار محنت کش طبقے کی صحت، تعلیم اور دیگر سماجی ضروریات کے لیے پیسے نہیں ہیں لیکن مالیاتی اشرافیہ کی دولت کے دفاع کے لیے راتوں رات اربوں کھربوں مہیا کیے جاتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ جنگ کی کارروائی کے لیے ضروری ذرائع اشیا کی تیاری میں بھرپور بیسے خرچ کیے جا رہے ہیں یعنی یوکرین میں امریکی نیٹو جنگ جس کا ہدف روس کو توڑنا اور اسے تقسیم کرنا اور چین کے خلاف جنگی مہم کو تیز کرنا ہے جنہیں امریکہ اپنا سب سے بڑا عالمی حریف سمجھتا ہے۔
ایس وی بی بنک کا دیوالیہ اور مالیاتی نظام کے پھٹنے کے امکان اور جنگی مہم کے درمیان ایک گہرا اور نامیاتی رشتہ ہے۔
مالیاتی بحرانوں کا مسلسل پھوٹنا ضابط کارروں اور مالیاتی حکام کے ان تمام دعوؤں کے باوجود کہ ہم نے سبق سیکھ لیا ہے اور تمام حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں یہ امریکی سامراج کی معاشی طاقت کے تاریخی زوال کا اظہار ہے جسے وہ فوجی طاقت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔
اس حوالے سے لیون ٹراٹسکی کا 1928 میں کیا گیا دور اندیش تجزیہ ذہن میں آتا ہے۔ اس نے کہا کہ امریکی سامراج کا جارحانہ کردار اس کے تاریخی زوال کے حالات میں اس کے عروج کے حالات سے زیادہ کھلے عام زیادہ برہنہ اور زیادہ ظالمانہ طور پر ابھر کر سامنے آئے گا جو اس کے عروج کے حالات سے زیادہ خونی اور پرتشدد ہو گا۔
ایس وی بی کا خاتمہ اور اس کے اثرات پورے مالیاتی نظام میں جھٹکوں کی لہریں ابھر رہی ہیں جن کے مکمل نتائج ابھی سامنے آنا باقی ہیں امریکی سرمایہ داری کی بنیادی حرکیات کا ایک اور مظہر ہے جسے کہہ جا سکتا ہے کہ امریکی سرمایہ داری سنگین بحران کے عمل میں داخل ہے۔
پچھلے 50 سالوں کے واقعات کا جائز لیتے ہوئے یہ محترک عمل واضح طور پر سامنے آتا ہے: حکمران طبقے اور اس کی ریاست کی طرف سے کسی بحران کو روکنے یا اسے ختم کرنے کی کوشش کرنے والے اقدامات اور بھی زیادہ پرتشدد شکل میں دوسرے بحران کے پھٹنے کے حالات ہموار کرتے ہیں۔
اگست 1971 میں اپنے حریفوں کے مقابلے میں امریکی سرمایہ داری کی زوال پزیر پوزیشن کے اقدام کے طور پر امریکی صدر نکسن نے جنگ کے بعد کے زری نظام کی پالیسی کو ختم کرتے ہوئے یعنی امریکی ڈالر سے سونے کی مقدار میں برابری کا خاتمہ کر دیا۔
اس فیصلے کا ایک نتیجہ جو کہ امریکہ کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے لیا گیا تھا مالیاتی قیاس آرائیوں کو فروغ دینا تھا جس نے 1980 کی دہائی کے دوران امریکی سرمایہ داری کے طریقہ کار کو تیزی سے نمایاں کیا اور اسکا خاص طریقہ بن گیا جو جنگ کے بعد پوری صنعتوں کی بنیاد عروج کے دور میں رکھی گئی تھی کو تیزی سے برباد کر دیا گیا۔
اکتوبر 1987 میں ان اقدامات سے پیدا ہونے والا بڑھتا ہوا بحران وال سٹریٹ کریش کی صورت میں پھٹ پڑا جو اب تک تاریخ کا سب سے بڑا ایک روزہ گراوٹ ہے اور جو 22 فیصد سے زیادہ تھا۔
اس بحران کے اقدام کے حل طور پر امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین ایلن گرین اسپین کی طرف سے دی گئی ضمانت — جسے عرفی نام میں گرین اسپین پٹ کے طور سے جانا جاتا ہے — کہ فیڈ مالیاتی منڈیوں کو سہارا دے گا اور پھر اگلی دو دہائیوں کے دوران قیاس آرائیوں کے بڑھتے ہوئے جنون کو فروغ دیا گیا جس کے نتیجے میں 2008 کا امریکہ اور عالمی مالیاتی بحران پھٹ پڑہ۔
اس کے بعد فیڈ اور امریکی حکومت نے سینکڑوں بلین ڈالرز کا بینکوں کے بیل آؤٹ کا انتظام کیا کیونکہ بے روزگاری کی شرح دوہرے ہندسوں تک پہنچ گئی تھی محنت کش طبقے کے خاندان اپنے گھروں سے محروم ہو گئے اور کام کی جگہوں کے حالات خراب تر ہوتے گئے اور نمایا طور پر اوبامہ انتظامیہ کی طرف سے ڈبل ٹائر اجرت کے نظام کو ٹریڈ یونینوں کے تعاون سے ترتیب دیتے ہوئے لاگو کیا گیا۔
بحران کے نتیجے میں فیڈ نے قونٹٹیو ای زنگ(بڑی مقدار میں پیسوں کو انڈیلنا) کا اپنا پروگرام شروع کیا ٹریژری بانڈز اور رہن املاک کی حمایت یافتہ سیکیورٹیز کی خریداری کرتے ہوئے مالیاتی نظام میں کھربوں ڈالر انڈیلے گے۔ اُس نے 2008 کے بحران کو ہوا دینے والی قیاس آرائیوں کو ختم کرنے کے بجائے مرکزی بینک (فیڈ) نے جو کہ سرمایہ دارانہ ریاست کا مرکزی مالیاتی ادارہ ہے اسے مزید ہوا دی۔
اس کا مطلب یہ تھا کہ جب 2020 کے اوائل میں کوویڈ- 19 وبائی مرض نے حملہ کیا تو ٹرمپ انتظامیہ نے ڈیموکریٹس کے تعاون سے صحت عامہ کے ضروری اقدامات شروع کرنے سے انکار کر دیا اس خوف سے کہ وہ قیاس آرائیوں کے بلبلے کو پھاڑ دیے گا۔
اس کے بجائے فیڈ نے مارچ 2020 کے مالیاتی شٹ ڈوُن ہونے کے بعد مزید رقم جمع کی جب کئی دنوں تک امریکی حکومت کے قرضوں کے لیے کوئی مارکیٹ نہیں تھی جو کہ دنیا کی سب سے محفوظ مالیاتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے اس طرح مزید قیاس آرائیوں اور مالیاتی طوفیلی اداروں کو ہوا دی گئی۔
لیکن اس آپریشن کے حقیقی معیشت پر اثرات مرتب ہوئے۔ کووِڈ کو ختم کرنے سے انکار، مالیاتی نظام میں 4 ٹریلین ڈالر کا انجیکشن، اجناس کے بڑے تاجروں اور دیو ہیکل فوڈ کارپوریشنز کی طرف سے بے تحاشا قیاس آرائیاں اور منافع خوری اور اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ اور یوکرین میں روس کے خلاف فوجی کارروائی اور ان تمام عوامل نے چار دہائیوں میں سب سے زیادہ مہنگائی کی بلند ترین شرح کو قائم کر دیا۔
محنت کش طبقے کی اجرتوں میں اضافے کے نتائج سے خوفزدہ ہو کر — مالیاتی نظام کی تباہی — پھر فیڈ نے راستہ بدل دیا اور 1980 کی دہائی کے اوائل کے بعد سے سود کی شرح میں سب سے زیادہ جارحانہ اضافے کے زریعے اجرتوں میں اضافے کو کچلنے کی کوشش کی۔
اب ان اقدامات نے ایک نئے مالیاتی بحران کے حالات کو جنم دیا ہے جیسا کہ ایس وی بی کے خاتمے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ بہت سے دوسرے بینکوں اور مالیاتی کارپوریشنوں کی طرح ایس وی بی جو کیلیفورنیا میں ہائی ٹیک سیکٹر کے ساتھ قریبی طور پر منسلک رہا ہے نے 2020 اور 2021 میں فیڈ کی طرف سے فراہم کردہ سستے پیسوں سے فائدہ اٹھایا۔
اس کے پاس اتنی زیادہ نقدی رقم تھی کہ اسے اپنا بڑا حصہ ٹریژری بانڈز اور رہن کی حمایت یافتہ سیکیورٹیز میں رکھنا پڑا جو کہ انتہائی محفوظ اثاثے سمجھے جاتے ہیں۔
فیڈ کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے نظام کی طرف موڑ کے ساتھ ہی جس کا مقصد افراط زر سے لڑنا تھا لیکن حقیقت میں محنت کش طبقے کو دبانے کے لیے اگر ضروری ہو تو کساد بازاری کے ذریعے جس سے صورت حال تیزی سے بدل گئی۔
شرح سود میں اضافے کے ساتھ ہی ایس وی بی کے پاس رکھے جانے والے بانڈز کی مارکیٹ ویلیو گر گئی جیسا کہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ فیڈرل فنڈز کی شرح میں ہر 25 بیس پوائنٹ (0.25 فیصد پوائنٹ) اضافے پر اس کے بانڈز کو $1 بلین کا نقصان ہوا جس میں پہلے ہی تقریباً 450 بیس پوائنٹس کا اضافہ کیا جا چکا ہے۔
اس کے اثاثوں کی بنیاد میں 42 بلین ڈالر کی کمی کے نتیجے میں بینک کا خاتمہ ہو گیا۔
ایس وی بی کے حالات ہر جگہ دہرائے نہیں جاتے لیکن مالیاتی نظام کے تمام شعبے سرمایہ دارانہ معیشت کی غالب قوت سستے پیسے کی آمد پر اس قدر انحصار کر چکے ہیں کہ اب وہ شرح سود میں اضافے سے بہت زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جس کے اثرات اب محسوس ہونے لگے ہیں۔
اس کے نتائج کیا ہیں؟ وہ مالیاتی سرمائے کی فطرت سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔
پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے کہ وہ پیسوں کو پیسوں ہی کے زریعے سے زیادہ جمع کر سکتا ہے۔
لیکن یہ ظاہری شکل ایک گہری حقیقت کو چھپا دیتی ہے۔ مالیاتی سرمایہ اضافی یا نئی قدر پیدا نہیں کرتا۔ آخری تجزیے میں یہ سرمایہ سرمایہ دارانہ پیداوار کے عمل میں محنت کش طبقے سے حاصل کی جانے والی قدر زائد ہے۔
اس طرح جب یہ سرمایہ مسلسل ایک ایسے دائرے میں فرار ہونے کی کوشش کرتا ہے جہاں پیسہ زیادہ پیسہ پیدا کرتا ہے، مالیاتی سرمایہ ہمیشہ محنت کش طبقے کے استحصال کو تیز کرنے کی کوشش کرتا ہے سب سے بڑھ کر بحران کے وقت جیسا کہ 2008 کے تجربے نے اسے حقیقی طور پر ظاہر کیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی داخلی معاشی اور سماجی بحران کی وجہ سے حکومت اور سرمایہ دارانہ ریاست کو سماجی اخراجات میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کے ذریعے محنت کش طبقے کو جنگ کی ادائیگی پر مجبور کرتا ہے۔
ہر بحران میں معاشرے کے دو اہم طبقے اپنے بنیادی مادی مفادات پر خود کو اور زیادہ سے زیادہ براہ راست صف بندی کرتے ہیں۔ حکمران طبقے کا پروگرام اسی کے مطابق تیار کیا جاتا ہے: جو جنگ اور سماجی ردِ انقلاب کے ساتھ مل کر مالیاتی طبقے کے لیے بچاؤ کی کارروائیاں پر مشتمل ہوتا ہے۔
اسی طرح محنت کش طبقہ بھی سرمایہ دارانہ نظام کے تمام آلات سے تصادم کی راہ پر گامزن ہے۔ تاہم اس جدوجہد کے کامیاب ہونے کے لیے حکمران طبقے اور اس کے نظام کا بحران خوا کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو محنت کش طبقے کو سیاسی طور پر ایک واضح پروگرام اور تناظر سے مسلح ہونا چاہیے: سیاسی طاقت کی فتح اور سوشلسٹ معیشت کی تعمیر کے لیے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کی ایک ہراول انقلابی پارٹی ہونی چاہیے۔ ایس وی بی کا خاتمہ سرمایہ داری کے گہرے ہوتے ہوئے بحران کا ایک انتہائی ضروری مطالبے کا شدید ترین اظہار ہے جو امریکہ اور بین الاقوامی سطح پر انٹرنیشنل کمیٹی اور اس کے سیکشنز کی تعمیر کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔
