اُردُو
Perspective

میکرون کے خلاف طبقاتی جدوجہد اور پیرس کمیون کے اسباق

یہ 19 مارچ 2023 کو انگریزی میں شائع 'The class struggle against Macron and the lessons of the Paris Commune' ہونے والے اس آرٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔

جمعرات 16 مارچ 2023 کو پیرس میں قومی اسمبلی کے قریب ایک مظاہرے کے بعد پولیس کانکورڈ اسکوائر پر مظاہرین پر بڑھ رہی ہے۔ [اے پی فوٹو/تھامس پیڈیلا] [AP Photo/Thomas Padilla]

پیرس میں پیرل چیسی (Père Lachaise)کے مشہور قبرستان میں جس سے کمانڈرز دیوار کہا جاتا ہے وہاں موجود ہے۔ جہاں 28 مئی 1871 کو فرانسیسی فوج نے کمیون کے 147 ارکان کو پھانسی دے کر اجتماعی قبر میں دفن کر دیا۔ یہ سزائے موت ناقابل تصور سفاکیت کے قتل عام کی انتہا تھی، ایک  'خونی ہفتہ'، جس کے دوران فرانسیسی حکمران طبقے نے پیرس کمیون کو انتہائی جبر کے ساتھ دبایا گیا اور 20,000 مزدوروں کو ہلاک کر دیا گیا۔

کمیون کی تاریخ اور اسباق عصری لحاظ سے بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون جسے ریاستی ادارے کی مکمل حمایت حاصل ہے پارلیمنٹ میں ووٹ حاصل کیے بغیر بڑی مقبول اپوزیشن کی مخالفت میں پنشن میں کٹوتی نافذ کرنے کے لیے پیش قدمی کر رہے ہیں۔

میکرون کے آمرانہ اقدامات سے ایک بار پھر سرمایہ دارانہ ریاست کے نام نہاد جمہوری نقاب کو پوری طرح پھاڑتے ہوئے طبقاتی حکمرانی کے ایک ننگے آلے کے طور پر بے نقاب کر رہا ہے۔

میکرون نے کہا کہ ووٹ مالیاتی منڈیوں کے استحکام کے لیے ناقابل برداشت خطرہ ہے، جو کہ 'انکار' کے نتائج کو برداشت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا: 'میری سیاسی دلچسپی اور میری سیاسی خواہش ووٹ کے لیے جانا تھا (کٹوتی کے لئے قومی اسمبلی میں) مگر میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ صورتحال میں مالی اور اقتصادی خطرات بہت زیادہ ہیں۔'

میکرون  کی کٹوتیوں نے تین چوتھائی فرانسیسی عوام کی  ان  کتوتیوں کے خلاف ہڑتال کرنے والے لاکھوں کارکنوں کی مخالفت کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ فرانسیسی آئین کی پرتشدد دفعات کا استعمال کرتے ہوئے  وہ انہیں حکم نامے کے ذریعے مسلط کر رہا ہے جب تک کہ پارلیمنٹ اس کی حکومت کو گرانے کے لیے ووٹ نہیں دیتی وہ فرانس بھر میں پھوٹ پڑنے والے مظاہروں پر حملہ کرنے کے لیے دسیوں ہزار بھاری مسلح فسادی پولیس بھیج رہا ہے تاکہ ان کو بے رحمی سے کچلا جا سکے۔

محنت کش طبقے اور سرمایہ دارانہ ریاست کے درمیان ایک فیصلہ کن تصادم ابھر رہا ہے کیونکہ مذاکرات ناکامی سے دو چار ہیں اور 'جمہوری' حکمرانی کی گنجائش ختم ہو رہی ہے۔ بینکوں کے مفادات کی وضاحت کرنا مشکل نہیں ہے۔ بینک بیل آؤٹ اور روس کے خلاف نیٹو کی جنگ میں سیکڑوں ارب یورو خرچ کرنے سے جس کی وجہ سے محنت کش لوگوں میں معیار زندگی کے گرنے کے سبب اسکے خلاف  زبردست مخالفت پائی جاتی ہے۔

چونکہ عوام بینکوں کی طرف سے مانگی گئی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں اس لیے سرمایہ دارانہ ریاست جمہوریت کے پھندے سے چھٹکارا حاصل کرے گی اور زبردستی اپنی مرضی عوام پر لاگو کرے گی۔ پیرس کو حقیقی طور پر مسلح کیمپ میں تبدیل کر دیا گیا ہے  جس میں بھاری ہتھیاروں سے لیس نیم فوجی پولیس کو احتجاج کی کسی بھی علامت کو روکنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔

میکرون یہ اقدامات پیرس کمیون کے قیام کی سالگرہ کے موقع پر کر رہے ہیں جو اس ہفتے کے آخر میں 152 سال قبل پیرس میں اقتدار سنبھالا تھا  18 مارچ 1871 کو فرانکو- پرشین جنگ کے خونریزی کے دوران اور جو یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا تھا۔ کہ محنت کش طبقے نے پیرس میں اپنی ریاست بنائی تھی۔ کمیون کی کامیابیاں بلکہ اس کا ہولناک قتل عام بھی بین الاقوامی طبقاتی جدوجہد کے عظیم تجربات میں سے ایک ہیں۔

کارل مارکس اور اس کے عظیم شریک مفکر فریڈرک اینگلز اور بعد میں ولادیمیر لینن، لیون ٹراٹسکی اور بالشویکوں نے ریاست کے بارے میں کمیون سے ناقابل فہم سبق حاصل کیا۔ اینگلز نے 1891 میں کمون پر مارکس کے کلاسک کام  فرانس میں خانہ جنگی  کے تعارف میں لکھا:

سابق ریاست کی خصوصیت کیا تھی [کمیون کے ذریعے معزول]؟  ابتد میں معاشرہ محنت کی سادہ تقسیم  کے زریعے سے اپنے مشترکہ مفادات کی دیکھ بھال کے لیے اپنے  خصوصی تنظمی ادارئے بنائے تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ادارئے اور سب سے اہم ریاستی طاقت، اپنے خاص مفادات کے لئے سماج کے خادموں کی بجائے سماج  کے آقاؤں میں تبدیل ہو گے جیسا کہ دیکھا جا سکتا ہے کہ نہ صرف  موروثی بادشاہت میں لیکن یکساں طور پر جمہوری جمہوریہ میں بھی۔

پہلی عالمی جنگ  کے سامراجی قتل عام کے دوران جیسا کہ لینن نے روس میں اکتوبر 1917 کے انقلاب کی بنیاد کو واضح کرنے کے لیے کام کیا اس نے کمیون پر مارکس اور اینگلز کے کاموں کا گہری سے مطالعہ کیا۔

لینن کے تناظر کی بنیاد  اینگلز کی ریاست کی تعریف طبقاتی دشمنیوں کی ناقابل مصالحت کی پیداوار کے طور پر تھی جو حکمران طبقے کا سماج پر اپنا حکم مسلط کرنے کا ایک آلہ تھا۔ لینن نے محنت کشوں کے تعمیر کردہ سوویت  (کونسل)  کے ذریعہ ریاستی اقتدار کی منتقلی پر زور دیا جو حکمران طبقے کے رد انقلابی تشدد کو دبائے کا واحد راستہ  اور سماجی مساوات پیدا کرنے کے لیے سوشلسٹ پالیسیوں کو نافذ کرکے سماج کی طبقاتی تقسیم پر قابو پا سکے گا جہاں سے ریاست ابھرتی ہے  اس نے لکھا:

اینگلز ’طاقت‘ کے تصور کو واضح کرتا ہے جسے ریاست کہا جاتا ہے ایک ایسی طاقت جو سماج سے پیدا ہوئی لیکن خود کو اس سے اوپر رکھتی ہے اور پھر سماج  سے زیادہ سے زیادہ بیگانہ ہوتی گی۔ یہ طاقت بنیادی طور پر کس چیز پر مشتمل ہے؟ یہ مسلح افراد کے مخصوص اداروں پر مشتمل ہے جن کے حکم پر جیلیں وغیرہ ہیں۔ …

ایک ریاست ابھرتی ہے ایک خاص طاقت پیدا ہوتی ہے، مسلح افراد کی مخصوص ادارے اور ہر انقلاب ریاستی نظام کو تباہ کر کے ہمیں ننگی طبقاتی جدوجہد دکھاتا ہے اور جو  واضح طور پر دکھاتا ہے کہ حکمران طبقہ کس طرح مسلح افراد کے مخصوص اداروں کو بحال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاکہ وہ اس کی خدمت کریں اور کس طرح مظلوم طبقہ اس قسم کی ایک نئی تنظیم بنانے کی کوشش کرتا ہے  جو استحصال کرنے والوں کی بجائے استحصال زدہ  کی خدمت کرنے کے قابل ہو۔

فرانس میں ہونے والی پیش رفت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ عظیم مارکسسٹوں نے ریاست کی کیا شاندار وضاحت کی ہے: ریاست خوا وہ پارلیمانی جمہوریت کی شکل میں ہو تو بھی وہ حکمران طبقے کی آمریت کے لیے ایک آلہ ہے۔  اور سرمایہ دارانہ ریاست کے خلاف محنت کش طبقے کے لیے آگے بڑھنے کا واحد راستہ محنت کش طبقے کو  طاقت کا اپنا آلہ  بنانے اور سوشلسٹ انقلاب کے لئے  ریاستی طاقت کو  اپنے بنائے ہوئے ڈھانچوں یا اداروں میں منتقل کرنے کی جدوجہد ہے۔

میکرون بحرانوں کے بڑھتے ہوئے سلسلے کا جواب دے رہا ہے جس میں روس کے خلاف امریکہ-نیٹو کی بڑھتی ہوئی جنگ، کویڈ- 19 وبائی مرض کے اثرات، عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا گہرا ہوتا ہوا معاشی اور مالیاتی بحران اور سب سے بڑھ کر طبقاتی جوجہد کی نئی سرگرمی  شامل ہیں۔  جنگ اور سماجی عدم مساوات کے خلاف ہڑتالیں اور  ان حالات کے خلاف سماجی غصہ بے مثال شدت کو پہنچ رہا ہے اور پھٹ رہا ہے۔

اس کے ردعمل  میں میکرون حکم نامے کے ذریعے حکمرانی کا رخ کر رہا ہے۔ محنت کش طبقے کو درپیش اہم  سنجیدہ سوال یہ ہے کہ ان پر مسلط اس تاریخی بحران سے سیاسی اور تزویراتی نتائج اخذ کیے جائیں۔ یہ ایک ضروری سیاسی حقیقت کی گواہی دیتا ہے: سوشلسٹ انقلاب ایجنڈے پر ابھی تک موجود  ہے۔

سماجی اور جمہوری حقوق کے دفاع کے لیے کوئی پارلیمانی راستہ نہیں ہے۔ مزدور فرانسیسی یونین کی بیوروکریسیوں یا ژاں لوک میلینچن جیسے جعلی بائیں بازو کے سیاست دانوں پر کوئی اعتبار نہیں کر  سکتے۔ کیونکہ وہ سب  فریب کے زریعے انکی جدوجہد کو موڑنے کے لئے غلط فہمی پھیلاتے ہیں کہ احتجاجی ہڑتالیں میکرون کا ذہن بدل دے گی یا پارلیمنٹ پھر فرانسیسی وزیر اعظم ایلزبتھ بورن کی حکومت کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ووٹ دینے پر راضی ہو جائے گی۔

لیکن میکرون کا پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اور یہاں تک کہ اگر کل فرانس میں ایک نئی سرمایہ دارانہ حکومت بھی قائم ہو جاتی ہے تب بھی وہ نیٹو کی جنگ اور یورپی یونین کے بینک بیل آؤٹ کے لیے محنت کشوں کو لوٹنے کی کوشش کرے گی کیونکہ انہیں اسٹیبلشمنٹ کی تمام جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ اور اس  نئی حکومت کو جلد ہی محنت کش طبقے سے ٹکراو کا   سامنا ہو گا۔

جو لوگ اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ حالات انقلابی نہیں ہیں یا  پھر جو کہتے ہیں کہ مزدوروں کو پہلے بورژوا جمہوریت کے ساتھ مزید تجربات کی ضرورت ہے وہ رجعت پسند ہیں جو تحریک کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مزدوروں کو 'بورژوا جمہوریت' کے ساتھ زیادہ تجربے کی ضرورت باقی نہیں ہے کیونکہ وہ بورژوا آمریت کا سامنا کر رہے ہیں۔ وہ اس حقیقت کا تجربہ کر رہے ہیں کہ حقیقی جمہوریت بورژوازی کے ساتھ  اب مطابقت نہیں رکھتی۔

یہ صرف فرانس کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ  بین الاقوامی سطح پر ہر جگہ سامنے آ رہا ہے۔ دنیا بھر میں  سرمایہ دار ریاستیں محنت کش طبقے میں بڑھتے ہوئے غصے کا سامنا کرتے ہوئے خود کو مزید آمرانہ اختیارات سے نوازتے ہیں۔ سری لنکا میں جہاں محنت کش طبقے کی عوامی بغاوت نے گزشتہ سال صدر گوٹابھایا راجا پاکسے کو گرایا  سرمایہ دارانہ ریاست ایک ہنگامی حکومت کی شکل اختیار کر رہی ہے جس میں ہڑتالوں، مظاہروں کو غیر قانونی قرار دینے اور سیاسی مخالفین کو قید کرنے کے خصوصی اختیارات کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ پچھلے سال  امریکہ میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز نے ریل روڈ ورکرز کی ہڑتال کو غیر قانونی بنانے اور ایک کنٹریکٹ معاہدہ نافذ کرنے کے لیے ایک ساتھ یکجا  ہوئے جیسے مسترد کر دیا گیا تھا۔

فرانس میں بڑھتی ہوئی جدوجہد کے دوران چوتھی انٹرنیشنل  کی انٹرنیشنل کمیٹی اور اس کے فرانسیسی سیکشن کی پارٹی ڈی ایلگلیٹ سوشلسٹ (پی ای ایس) نے یونین بیوروکریسیوں سے مکمل آزاد رینک اور فائل کمیٹیوں کی تعمیر کا مطالبہ کیا ہے۔ جو میکرون کے خلاف جدوجہد کو منظم اور مربوط کرنے کا واحد زریعہ ہے۔ صرف ایسی ہی تنظیمیں ہڑتالوں اور احتجاج کو متحد کر سکتی ہیں اور مزدوروں اور نوجوانوں کو پولیس کے تشدد اور حملوں سے بچا سکتی ہیں اور 'سماجی مکالمے'  جیسے ہتھکنڈوں کو سرمایہ دار ریاست کو قائم رکھنے  یعنی عوام کو سرمایہ دارانہ ریاست کے ماتحت کرنے والی تنظیموں کی طبقاتی جدوجہد کے حکم کو توڑ سکتی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ہر کارخانے، کام کی جگہ اور محلے میں مزدوروں کی تنظیموں کی تعمیر اقتدار کی نئی شکل کی بنیاد قائم کرنے  جو کہ سرمایہ دارانہ ریاست اور اس کے مسلح افراد کے دستوں کے برعکس  مزدوروں کی ریاست کے قیام کے لئے ہوگی۔

تاہم اس کردار کو ادا کرنے کے لیے محنت کش طبقے کو اس شعور کے ساتھ لیس ہونا چاہیے کہ اس کا کام پارلیمانی راستہ تلاش کرنا نہیں بلکہ اقتدار سنبھالنا اور سوشلسٹ سماج کی تعمیر کرنا ہے۔ اسے طبقاتی جدوجہد میں جانا چاہیے اور اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے کہ یہ 150 سال قبل کمیون کے بہادر جنگجوؤں کے ذریعے شروع کی گئی تاریخی اور بین الاقوامی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

Loading