یہ 20 مارچ 2023 کو انگریزی میں شائع 'Twenty years since the US invasion of Iraq' ہونے والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔
بیس سال قبل 20 مارچ 2003 کو امریکہ کی حکومت نے عراق کے خلاف بلا اشتعال اور غیر قانونی جنگ کا آغاز کرتے ہوئے اکیسویں صدی کے سب سے بڑے جرائم میں سے ایک کا آغاز کیا۔ اس کا آغاز بے دفاع ملک کے خلاف بہت بڑی طاقت کو شروع میں استعمال کرتے ہوئے اسکی مزحمت کی قوت ارادے کو توڑنے کے لئے کیا گیا جسے انگریزی میں اس فوجی حکمت عملی کو (“شاک اینڈ آہ“) کہا جاتا ہے۔ جس سے مسلح افواج کا بڑا حصہ اور بجلی، پانی کی فراہمی، خوراک اور طبی سامان کی پیداوار کو ختم کر دیا اور اس حملوں سے سماجی انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا،
اس کے بعد تباہ شدہ ملک پر 130,000 سے زیادہ امریکی فوجیوں نے حملہ کیا جو کہ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے جدید ترین ہتھیاروں سے لیس تھے جنہوں نے منظم عراقی مزاحمت کا جو تھوڑا کچھ بچا تھا اسکا صفایا کر دیا اور صرف دو ہفتوں کے اندر بغداد پہنچ گئے۔ پھر ایک اور ہفتے کے قتل عام کے بعد امریکی افواج نے دارالحکومت پر قبضہ کر لیا اس آخری یک طرفہ لڑائی میں ان گنت ہزاروں عراقیوں کے مقابلے میں انکی صرف 34 ہلاکتیں ہوئیں۔
عراق میں بش انتظامیہ کی طرف سے استعمال کیے گئے جنگی طریقے پورے ادارے کی نوعیت کے لحاظ سے مکمل طور پر مجرمانہ تھے۔ جنگ ایک خفیہ حملے کے ساتھ شروع کی گی: کروز میزائل سے سرکاری عمارتوں پر حملے کیے گے جہاں انہیں گمان تھا کہ عراقی حکمران صدام حسین مقیم ہیں تاکہ اسکو قتل کیا جا سکے۔ یہ جنگ بین الاقوامی قانون کے ذریعے ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کے ساتھ جاری رہی جیسے کہ سفید فاسفورس بم جس سے شہروں کو آگ لگائی جاتی ہے جو انسانی جسم کو ہولناک طریقے سے جلا دیتے ہیں۔ نیز اس کے علاوہ امریکی اور برطانوی افواج نے ایک اندازے کے مطابق 440,000 کمزور اقسام کے یورینیم کے گولے داغے جو طویل مدتی کینسر کی شرح کو تیزی سے بڑھ دیتے ہیں اور خوفناک پیدائشی نقائص پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
جنگ کے دوران امریکی افواج کی طرف سے تشدد کی سب سے خوفناک شکلیں استعمال کی گئیں جس کا انکشاف ابو غریب جیل کی چونکا دینے والی تصاویر میں ابھر کر سامنے آیا۔ اس خوفناک تشدد کو لاگو کرنے کی اجازت بش انتظامیہ کے وکلاء کی طرف سے تیار کی گئی تھی جنہوں نے زور دے کر کہا تھا کہ صدر کے پاس بطور کمانڈر انچیف عملی طور پر لامحدود اختیارات ہیں۔
حملے کا نتیجہ اور اس کے آٹھ سالہ قبضے کے بعد، ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس نے ایک پورے معاشرے کی جان بوجھ کر تباہی کو 'سماجی قتل' قرار دیا۔ سامراجی فتح نے مشرق وسطیٰ کے سب سے ترقی یافتہ ممالک میں سے ایک کو نہ صرف اقتصادی بلکہ سیاسی طور پر بھی قرون وسطیٰ کی بربریت کے حالات سے دوچار کر دیا۔ امریکی حکمرانوں نے منظم طریقے سے مذہبی تقسیم کو فروغ دیا اور امریکی قبضے کے خلاف کسی بھی متحدہ مزاحمت کو روکنے کی کوشش میں سنی اور شیعہ مسلمانوں اور مسلمانوں اور چھوٹی مذہبی اقلیتوں کے درمیان فرقہ وارانہ جنگ کو ہوا دی۔
جان بوجھ کر ایک جارحانہ جنگ شروع کرتے ہوئے امریکی حکومت اور اس کے سرکردہ عہدیداران جن میں جارج ڈبلیو بش، رچرڈ چینی، ڈونلڈ رمزفیلڈ، کونڈولیزا رائس، اور کولن پاول شامل تھے، جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر جیسے اتحادیوں کے ساتھ مل کر انہوں نے دوسری عالمی جنگ کے بعد نیورمبرگ ٹربیونل کے طے کردہ بنیادی اصول کی کھلے عام خلاف ورزی کی، ٹربیونل نے نازیوں کے مرکزی جرم کی بنیاد جس سے ان کے دیگر تمام جرائم کا آغاز ہوا، وہ تھا بلا اشتعال حملہ اور جارحانہ جنگیں. (نیچے ملاحظہ کریں 2004 میں ڈیوڈ نارتھ کی طرف سے ڈبلن آئرلینڈ میں ایک مباحثے میں دیے گئے ریمارکس۔)
امریکی میڈیا نے عراق جنگ کی برسی پر روایتی طور پر سرسری توجہ دی۔ انہوں نے جو کچھ بھی کہا ہے اس کا مقصد عراق میں بڑے پیمانے کے جرم پر اور اس میں میڈیا کے اپنے کردار کو چھپانا ہے۔
ہمیشہ کی طرح نیویارک ٹائمز کے صفحات میں اس کا سب سے زیادہ گھٹیا پن اور گستاخانہ اظہار ملتا ہے۔ میکس فشر کی ایک خبر کا تجزیہ جسکا عنوان کے '20 سال بعد عراق کے بارے میں ایک سوال: امریکہ نے حملہ کیوں کیا؟' فشر کے انٹرویو میں ایک 'اسکالر' کے الفاظ میں جنگ شروع کرنے میں بش انتظامیہ کے مقاصد کو غیر یقینی اور یہاں تک کہ 'بنیادی طور پر ناواقف' قرار دیتا ہے۔
ٹائمز کا مضمون 'ایک زمانے میں رائج تھیوری: کہ واشنگٹن نے عراق کے تیل کے وسیع وسائل کو کنٹرول کرنے کے لیے حملہ کیا' کو صاف طور پر مسترد کر دیا جنگ کے فیصلے کرنے میں خود نائب صدر چینی اور بش جیسے سابق تیل کے کاروبایوں کی اہمیت کا ذکر کیے بغیر انہیں مکمل نظر انداز کر دیا گیا۔ اور یہ صدام حسین کے 'بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں' کے بارے میں منظم جھوٹ کو گروپ کی اشتمائی سوچ سے منسوب کرتا ہے، جس میں ' (الف) سینئر عہدیداروں کا تنقیدی گروپ اپنی اپنی وجوہات کی بنا پر صدام حسین کو گرانا چاہتے تھے اور پھر آسانی سے دستیاب جواز پر یقین کرنے کے لیے ایک دوسرے سے متفق ہو گے۔
ٹائمز نے اپنے 'تجزیہ' میں بڑے احتیاط سے 'بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار' کی مہم جو خود ہی اُس نے اسکی تشہیر اور وکلات کی تھی لیکن اُس نے خود ٹائمز کے جھوٹے دعوئ کے کردار کے بارے میں کسی بھی بحث سے گریز کیا ہے۔ جوڈتھ ملر اور مائیکل گورڈن کی طرف سے لکھی گئی رپورٹس سب سے زیادہ بدنام جو ستمبر 2002 کے صفحہ اول ٹائم اخبار کے عنوان سے خصوصی طور پر شائع کیا گیا، ' امریکی بش انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے دعووں کی توثیق کرتے ہوئے جسے مجموعی طور پر کارپوریٹ میڈیا نے اسکی تشہیر کرتے ہوئے اسے آگے بڑھایا۔ وائٹ ہاؤس کے حکام نے پھر ان رپورٹوں کو عراق کے خلاف 'ثبوت' کے طور پر پیش کیا جو انہوں نے خود اپنے حملے کے جواز کے طور پر لگائی تھیں۔
جنگ کے محرکات 'نامعلوم' نہیں ہیں۔ درحقیقت وہ اس وقت جانے جاتے تھے جب دنیا بھر میں لاکھوں افراد نے حملے سے پہلے ہی مظاہروں میں شرکت کی اور امریکی انتظامیہ کے جھوٹ کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ 'تیل کے بدلے خون نہیں'۔ مظاہروں کا حجم اور وسعت اتنی بڑی تھی کہ اس نے نیویارک ٹائمز کو یہ تبصرہ کرنے پر مجبور کر دیا کہ دنیا میں 'دو سپر پاور' ہیں: امریکہ اور 'عالمی رائے عامہ۔'
21 مارچ 2003 کو حملے شروع ہونے کے اگلے دن ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ انٹرنیشنل ایڈیٹوریل بورڈ کے چیئرمین ڈیوڈ نارتھ نے جنگ کی نوعیت بیان کرتے ہوئے ایک بیان شائع کیا:
امریکہ کا عراق پر بلا اشتعال اور غیر قانونی حملہ ایک ایسا واقعہ ہے جو تمام زندگی بدنامی کے ساتھ زندہ رہے گا۔ واشنگٹن میں جن سیاسی مجرموں نے اس جنگ کا آغاز کیا ہے اور میڈیا کے ان بدمعاشوں نے جو خون کی ہولی کھیل رہے ہیں نے اس ملک کو شرم سے جھک دیا ہے۔ دنیا کے ہر حصے میں کروڑوں لوگ ایک سفاک اور بے لگام فوجی طاقت کے تماشے سے پسپا ہیں جو ایک چھوٹے اور بے دفاع ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ عراق پر حملہ اصطلاح کے کلاسیکی معنوں میں ایک سامراجی جنگ ہے: جارحیت کا ایک گھناؤنا عمل جو ریاستہائے متحدہ میں مالیاتی اور کارپوریٹ اولیگاری کے انتہائی رجعتی اور خونخوار طبقوں کے مفادات کے لیے کیا گیا ہے۔ اس کا واضح اور فوری مقصد عراق کے تیل کے وسیع ذخائر پر کنٹرول قائم کرنا اور اس مظلوم ملک کو امریکی نوآبادیاتی کے تابع کرنا ہے۔
یہ جنگ ڈیموکریٹس اور ریپبلکن دونوں کے تحت سوویت یونین کی تحلیل کے دوران اور اس کے بعد ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی طرف سے شروع کیے گئے حملوں اور قبضوں کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کا حصہ تھی۔ اس سلسلے کی پہلی خلیجی جنگ (1990-91) میں کی گی۔ پھر سربیا کی بمباری (1999)؛ افغانستان پر حملہ (2001)؛ لیبیا پر بمباری (2011) اور شام میں امریکی حمایت یافتہ خانہ جنگی (2011) شامل ہیں۔ امریکی سرمایہ داری کی طاقت کے اظہار سے کوسوں دور امریکی حکمران طبقے کی جانب سے دنیا کو فتح کرنے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کی کوشش اسکے اپنے انتہائی داخلی بحران سے جنم لیتی ہے۔ جیسا کہ ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس نے اس بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:
شروع ہونے والے تنازع کے ابتدائی مراحل کا نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو امریکی سامراج تباہی سے دوچار ہے۔ یہ دنیا کو فتح نہیں کر سکتا۔ یہ مشرق وسطیٰ کے عوام پر دوبارہ نوآبادیاتی طوق نہیں ڈال سکتا۔ اسے اس جنگ کے ذریعے اپنی اندرونی خرابیوں کا کوئی قابل عمل حل نہیں ملے گا۔ بلکہ جنگ سے پیدا ہونے والی غیر متوقع مشکلات اور بڑھتی ہوئی مزاحمت امریکی معاشرے کے تمام اندرونی تضادات کو مزید تیز کر دے گی۔
عراق جنگ کی 20 ویں برسی اب روس کے خلاف امریکہ اور نیٹو کی بڑھتی ہوئی جنگ کے درمیان منائی جا رہی ہے جس سے ایک بہت وسیع جنگ کے بڑھنے کا خطرہ ہے جس میں پورا یورپ اسکی لپیٹ میں ہے اور ٹرومین کے بعد پہلی بار ایٹمی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کا خطرہ سامنے آ رہا ہے۔ جیسا کہ ٹرومین انتظامیہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی کو جوہری طور پر جلا کر تباہ کر دیا تھا۔
اگرچہ عراق کے خلاف بش انتظامیہ کی جنگ کے متوسط طبقے کے سابق ناقدین روس کے خلاف جنگ کے سب سے پرجوش حامی بن چکے ہیں لیکن امریکی پالیسی کو چلانے والے بنیادی مفادات وہی ہیں۔ امریکی سامراج جس کی قیادت اب بائیڈن انتظامیہ کر رہی ہے نے جنگ کو اکسایا اور اس کا تعاقب روس کی فوجی شکست تک کرنے کے لیے پرعزم ہے چاہے اس کے نتائج کچھ بھی ہوں۔ ایک دوسرے سے منسلک درپیش بحرانوں کا اُسے سامنا ہے جو وبائی امراض کی وجہ سے بہت زیادہ بڑھ گیا ہے حکمران طبقہ تباہی کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔
میڈیا جس نے کل تک 'بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں' کے جھوٹ کو فروغ دیا تھا اب وہ 'ووہان لیب لیک' کے جھانسے میں چین کو کورونا وائرس وبائی مرض کا ذمہ دار ٹھہرانے اور 'بغیر اشتعال انگیز روسی جارحیت' کے دعوے اور روس پر یوکرین میں نازی طرز کے مظالم کے مضحکہ خیز الزامات لگا رہا ہے تاکہ انکے خلاف جنگ کو تیز کیا جائے۔
2023 کے جھوٹ 2003 کے جھوٹ کے مقابلے میں زیادہ ننگے اور زیادہ سے زیادہ مضحکہ خیز ہیں۔ پیوٹن کا رجعتی حملہ روسی اشرافیہ کی طرف سے اپنے طبقاتی مفادات کو حقیقی خطرے سے بچانے کے لیے ایک مایوس کن کوشش ہے: جسکا اُسے امریکی اور یورپی سامراج کی کہیں زیادہ طاقتور قوتوں سے سامنا ہے۔
عراق پر حملے کے بیس سال بعد بھی اس کے تمام ذمہ دار آزاد ہیں۔ لیکن پوری دنیا میں طبقاتی جدوجہد کی زبردست بڑھوتی ایک ماس تحریک کے لیے ایک طاقتور بامقصد بنیاد فراہم کرتی ہے جو عالمی سماج کی سوشلسٹ تنظیم نو کے ایک حصے کے طور پر سامراجی جنگ کے خاتمے اور ان کا لازمی احتساب کرے گی۔
