اُردُو

جرمن حکومت یوکرین کو روس کے خلاف ٹینکوں کی ترسیل سمیت فوجی امداد میں کئی گنا اضافہ کر رہی ہے۔

یہ 31 مارچ 2023 کو انگریزی میں شائع 'German government sends battle tanks against Russia and multiplies military aid to Ukraine' ہونے والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔

جرمنی کی حکمران ٹریفک لائٹ اتحادی حکومت  جو سوشل ڈیموکریٹس، گرینز اور آزاد ڈیموکریٹس پر مشتمل ہے روس کے خلاف اپنی جارحیت کو بڑھا رہی ہے۔

وزارت دفاع کے ایک سرکاری بیان کے مطابق '18 لیپرڈ- 2  بشمول گولہ بارود اور اسپیئر پارٹس پیکج کے علاوہ  جرمنی میں اپنے تربیت یافتہ  عملے کے ساتھ دو 'بفلو' ریکوری ٹینک سموار کے دن یوکرین پہنچ گے ہیں۔'

جرمن چیتے کے 2 اہم جنگی ٹینک یوکرین جاتے ہوئے (تصویر: بنڈسویر) [Photo: Bundeswehr]

کیف کو جرمن جنگی ٹینکوں کی یہ پہلی ترسیل ہے۔ جسکے دور رس تاریخی اور سیاسی اثرات مرتب ہونگے۔ سوویت یونین کے خلاف ہٹلر کی تباہی کی جنگ کے 82 سال بعد جرمن ٹینک ایک بار پھر روس کے خلاف بڑھ رہے ہیں۔

وزارت دفاع نے لکھا ہے کہ 'اگلے مرحلے میں لیبرڈ ٹینکوں 1 اے5  کی فراہمی کی جائے گی۔' مقصد یہ ہے کہ گرمیوں تک پہلے 25 ٹینک فراہم کیے جائیں اور پھر سال کے آخر تک ان کی تعداد بڑھ کر تقریباً  80 کر دی جائے گی اور 2024 کے دوران کم از کم 100 لیپرڈ 1 اے 5  ٹینک فراہم کیے جائیں۔

کیف کو اس سے قبل 40 مارڈر بکتر بند گاڑیاں 34 چیتا اینٹی ایئر کرافٹ بندوقیں، چھ بائبر پل بچھانے والے ٹینک  15 سالویج ٹینک، 14 خود سے چلنے والے ہووٹزر 2000، 54 ایم 113 آرمرڈ ٹروپ کیریئرز اور تین بیجر ٹینکرز ملے تھے۔ یوکرین کے لیے 'فوجی مدد' کی سرکاری فہرست کے مطابق  جرمن حکومت انہیں مزید برآمد کرنے کے لیے  بڑی تعداد میں ٹینک اور ہاؤٹزر تیار کر رہی ہے۔

جرمن ٹینکوں کی ترسیل نیٹو طاقتوں کی طرف سے جنگ کو  وسیع پیمانے پر بڑھنے  کی مہم کا حصہ ہے۔ منگل کے روز  یوکرین کے وزیر دفاع ریزنیکوف نے ٹویٹر پر فخر کرتے ہوئے کہا  کہ انہوں نے چیلنجر 2 ٹینک کو  'گھما'  کر آزمایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی طرف سے فراہم کردہ ٹینک 'حال ہی میں ہمارے ملک میں پہنچ  گے ہیں'۔

ایک اور ٹویٹ میں ریزنکوف نے جرمن ٹینک کی ترسیل کے لیے جرمن چانسلر اولاف شولز اور وزیر دفاع بورس پسٹوریئس ( جو دونوں ایس پی ڈی پارٹی کے لیڈر ہیں) کا شکریہ ادا کیا۔ 'مارڈر فوجی بکتر بند گاڑی جرمن معیار کی ایک بہترین مثال ہے۔ میں نے خود اسے آزمایا ہے۔ جلد ہی چیتے پر قابو پانے کے منتظر ہیں۔ مجھے ان کے گرجنے کا طریقہ پسند ہے!'

ٹینکوں کی ترسیل کے ساتھ سامراجی طاقتیں یوکرین کی فوج کو مضبوط بنانے کے ہدف پر عمل پیرا ہیں تاکہ وہ مشرقی یوکرین میں محاذ پر موجود روسی فوجیوں کو پسپا کر سکے اور ممکنہ طور پر جوابی کارروائی بھی کر سکے۔ پسٹوریئس نے وضاحت کی کہ 'مجھے یقین ہے کہ وہ [جرمن ٹینک] محاذ پر ایک نمایا تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہونگے۔

یہ واضح ہے کہ نیٹو طاقتیں اپنا مقصد صرف اسی صورت میں حاصل کر سکتی ہیں جب وہ اپنی جنگی کوششوں میں اضافہ جاری رکھیں۔ یہ عوام کو بتائے بغیر اسے عملی جامعہ پہنایا جا  رہا  ہے. بدھ کو بجٹ کمیٹی نے یوکرین کے لیے مزید 12 بلین یورو کی فوجی امداد جاری کرنے کا اعلان  کی۔

پسٹوریئس نے اعلان کیا کہ 'تقریباً چار بلین اس ہتھیاروں کو دوبارہ بنانے پر خرچ کیے جائیں گے جو بنڈیسوہر (جرمن مسلح افواج) نے یوکرین کو ترسیل کیے ہیں۔' 'اور دوسرا حصہ جو تقریباً آٹھ بلین کا ہے ہتھیاروں اور دوسرے مواد پر مشتمل ہو گا  اگلے چند سالوں میں یوکرین کے لیے مزید فوجی مدد کے لیے جائے گا۔'

اس سے قبل  جرمن محکمہ خزانہ نے کمیٹی کو لکھے گئے ایک خط میں زور دیا تھا کہ 'یوکرین کی مسلح افواج کے زیادہ مادی نقصانات کے پیش نظر  نئے مواد کی فراہمی کی شدید ضرورت ہے۔' خط میں مزید کہا گیا کہ 'ہمیں فضائی دفاع  بکتر بند گاڑیوں، ہتھیاروں کے نظام کے لیے گولہ بارود اور جرمنی کی طرف سے فراہم کردہ توپ خانے کے شعبوں میں مواد کی ضرورت ہے۔' بہر حال  جو بھی ہتھیار فراہم کرتا ہے وہ مستقبل میں ہتھیاروں کے ان نظاموں کو فعال رکھنے کے لیے 'بنیادی طور پر اسکی ضروری دیکھ بال اور  ذمہ داری کے تحت' اسے جاری و ساری کرتا ہے۔

دوسرے لفظوں میں جرمن سامراج جوہری ہتھیاروں سے لیس روس کے خلاف برسوں سے بڑھتی ہوئی جنگ کی تیاری کر رہا ہے -  جو کہ ممکنہ طور پر تباہ کن نتائج پر منتج ہوگی۔  اس ہفتے کے آخر میں کریملن نے اعلان کیا کہ وہ بیلاروس میں روسی  ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کو تعینات کرے گا۔ لیکن جوہری کشیدگی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے باوجود جرمن حکومت کسی بھی مذاکراتی حل کو مسترد کرتی چلی آ رہی ہے۔ برلن کا مقصد وسائل سے مالا مال ملک کو زیر کرنا ہے اور ماسکو میں مغرب نواز کٹھ پتلی حکومت قائم کرنا ہے۔

'ہم روس کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں،' گرین وزیر خارجہ اینالینا بیرباک نے جنوری کے آخر میں کونسل آف یورپ کی پارلیمانی اسمبلی کو بتایا۔

جب ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 17 مارچ کو روسی صدر کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تو ٹریفک لائٹ اتحاد نے فوری طور پر اعلان کیا کہ وہ اس پر عمل درآمد کرے گا۔ وفاقی وزیر انصاف مارکو بشمین نے کہا کہ 'اگر صدر پیوٹن جرمن سرزمین میں داخل ہوتے ہیں تو ہم انہیں قید کرنے اور آئی سی سی کے حوالے کرنے کے پابند ہیں۔'

یہ تیزی سے واضح ہوتا جا رہا ہے کہ شولز  اور ٹریفک لائٹ اتحاد کی طرف سے اعلان کردہ خارجہ پالیسی میں 'نئے دور' کا رخ نہ صرف روس کے خلاف ہے۔ بلکہ جرمن حکمران طبقہ نیٹو کی طرف سے اکسائے گئے یوکرین پر روسی حملے کو جرمنی کو دوبارہ مسلح کرنے اور  برلن کی قیادت میں پورے یورپ کو فوجی بنانے اور دو ہاری ہوئی عالمی جنگوں کے بعد خود کو ایک سرکردہ جنگی طاقت کے طور پر دوبارہ قائم اور منظم کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

منگل کو جرمن اور ڈچ حکومت کی چوتھی مشاورت ہوئی جو اس پالیسی کے بارے میں تھی۔ ڈچ فوج کے بنڈسوہر میں انضمام پر توجہ مرکوز کی گئی۔

شولز نے ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک روٹے کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ 'تین دنوں میں ہم تینوں ڈچ آرمی بریگیڈز کو بنڈسویر ڈھانچے میں اسکا مکمل انضمام  کر لیں گے۔' یہ اس نقط نظر سے کہ 'یورپی یونین کس طرح ایک ایسا بڑا کردار ادا کر  سکتا ہے جو جیوپولیٹکل عمل کے اعتبار  سے اس سے بھی زیادہ اہم  ہو گا  جتنا کہ ہم آج سمجھتے ہیں۔'

جنگی پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے یورپ کو ایک حقیقی جنگی کیمپ میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ شولز نے کہا  'اپنے یورپی شراکت داروں کے ساتھ مل کر  ہم گولہ بارود کی پیداوار کو اس طرح بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہم ان تمام ہتھیاروں کو [یوکرین کے لیے] مستقل بنیادوں پر اسے لیس کر سکیں،' شولز نے مزید کہا کہ  'ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ پولینڈ، سلوواکیہ، رومانیہ میں ہر جگہ مرمت کی سہولیات موجود ہیں تاکہ جنگ  کے دوران استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی جلد مرمت  کی جا سکے۔'

جنگ کو بھڑکانے والے ذرائع ابلاغ دائیں جانب سے حکومت پر مسلسل دباو اور  تنقید کر رہے ہیں کہ ایٹم بم کے حصول تک کے لیے مزید تیز اور جامع دوبارہ ہتھیار بنائے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایک تبصرہ میں ڈیر اسپیگل اخبار  نے شولز اور جرمن حکومت پر الزام لگایا کہ وہ 'امریکہ کی حفاظتی طاقت' سے خود کو کافی تیزی سے آزاد نہیں کر رہے اور 'وفاقی جمہوریہ سے باہر جوہری طاقت تشکیل دے رہے ہیں۔'

'ہم یورپی جوہری چھتری کے نیچے رہنے کے بارے میں بحث کو  مزید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یا پھر اس سے بھی بدتر یہ کہ جرمن بم کی ضرورت کے بارے میں اگر فرانسیسی  اپنی نیوکلیر سٹریک فورس  کا اشتراک اپنے شرکت داروں سے کرنے کو تیار نہیں ہے یہ الفاظ ' واشنگٹن میں ڈیر اسپیگل کے دفتر کے سربراہ رینی فائسٹر نے غصے سے چلاتے ہوئے کہے۔

عسکریت پسندانہ جنون کی قیمتیں جو کہ ایٹمی اضافے کی صورت میں پورے کرہ ارض کے وجود کو خطرے میں ڈالا رہی ہے مالی نقطہ نظر سے یہ  محنت کش طبقے پر عائد کی جائیں گی۔ پہلے ہی پچھلے سال  جب بنڈسٹیگ (جرمن پارلیمنٹ) نے بنڈسویر کے لیے 100 بلین یورو کے خصوصی فنڈ کا فیصلہ کیا اور  جسے خاص طور پر صحت کے بجٹ میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں کے زریعے پورا کیا گیا۔ اب وفاقی حکومت خصوصی فنڈ کو تین گنا کرنے اور اس کے ساتھ ساتھ باقاعدہ فوجی بجٹ میں بڑے پیمانے پر اضافے پر بات کر رہی ہے۔

موجودہ فوجی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 'صرف 100 بلین یورو تمام کمی کو پورا کرنے کے لیے  ناکافی ہیں جس کے لیے فوجی ماہرین کے مطابق کل 300 بلین یورو درکار ہوں گے تاکہ دفاعی بجٹ کی سطح کو بتدریج بڑھنا ہو گا جو کہ نیٹو کے 2 فیصد ہدف کی جانب اہم اقدامات کے طور پر ہمیں گولہ بارود کے ذخیرے کو جمع کرنے اور گولہ بارود کے گوداموں کی تعمیر کے لیے مزید دوہرے ہندسے کے اربوں ڈالرز کی ضرورت ہے۔ یہ رقوم خصوصی فنڈ میں شامل نہیں ہیں بلکہ سالانہ دفاعی بجٹ سے مالی اعانت کے طور پر فراہم کی جائیں گی۔“

منصوبہ بند اسلحے کے طول و عرض بہت بڑے ہیں اور صرف 1930 کی دہائی میں وہرماچٹ کے اسلحے سے اسکا موازنہ کر سکتے ہیں۔ اس وقت  اسی صورت میں جنگی پروگرام کے لیے محنت کش طبقے پر تاریخی حملوں کی ضرورت ہوتی ہے اور بالآخر جو ایک آمریت کے قیام پر منتج ہوتی ہے۔ 300 بلین یورو اس وقت تقریباً دو گنا رقم کے مساوی ہے جو وفاقی حکومت اس وقت کام اور سماجی امور پر (116۔2 بلین یورو) 12 گنا صحت بجٹ (24.5 بلین یورو) اور 15 گنا تعلیمی بجٹ (21.4 بلین یورو) کے لیے فراہم کرتی ہے

لیکن سرمایہ داری کا وہی تاریخی بحران جو حکمران طبقے کو عالمی جنگ اور فاشزم کی طرف دھکیلتا ہے سماجی انقلاب کی معروضی بنیاد بھی پیدا کرتا ہے۔ فرانس میں صدر ایمانوئل میکرون کی پنشن اصلاحات کے خلاف منگل کو لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ اور جرمنی میں بھی  مزدور مخالف پالیسیوں کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے اور حکومت کی جانب سے پردے کے پیچھے تمام پارلیمانی جماعتوں اور ٹریڈ یونین بیوروکریسی کے ساتھ اتحادی میٹنگوں میں ان  دنوں محنت کش طبقے کی مزاحمت کو توڑنے اور دبانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرکے نافذ کیا جا رہا ہے۔

اپنی جدوجہد کو کامیابی سے آگے بڑھانے اور ہمکنار کرنے کے لیے مزدورں کو رینک اینڈ فائل کمیٹیاں بنانے کی ضرورت ہے جو یونینوں سے آزاد ہوں، ہڑتالوں اور احتجاج کو اپنے ہاتھ میں لیں اور یورپ اور بین الاقوامی سطح پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس کمیٹیوں کے نیٹ ورک کا حصہ بنے جس کے لیے انہیں سوشلسٹ  تناظر کی ضرورت ہے۔

جرمنی میں ریلوے اور عوامی خدمت کے شعبوں کی ہڑتالوں پر سوشلسٹ ایکویلیٹی پارٹی (ایس جی پی) کے ایک حالیہ بیان کے مطابق  انہیں 'حکومت کے ساتھ اس لڑائی کو سمجھنا چاہیے کہ اس کی بنیادی وجہ کیا ہے: سرمایہ داری اور جنگ کے خلاف محنت کش طبقے کی یورپی اور بین الاقوامی تحریک کے حصے کے طور پر' محنت کشوں کے مطالبات صرف اس صورت ہی فتحیاب ہو سکتے ہیں جب تک  بینکوں اور کارپوریشنوں کی طاقت کو توڑ کر انہیں مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں دیا نہیں جاتا اسکے بغیر کوئی سماجی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اجرتوں کا دفاع  کیا جا سکتا۔ اجرتوں میں کٹوتیوں کے خلاف لڑائی کو براہ راست جنگ کے خلاف لڑائی سے جوڑا جانا لازمی  ہے۔

Loading