یہ 31 مارچ 2023 کو انگریزی میں شائع 'NATO’s border with Russia to double in length as Finland joins US-led alliance' ہونے والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔
امریکی قیادت میں نیٹو کے جارحانہ فوجی اتحاد کا 31 واں رکن بننے میں فن لینڈ کے لیے آخری رکاوٹ جمعرات کو دیر گئے ترک پارلیمان نے ہیلسنکی کی رکنیت کی درخواست کو متفقہ طور پر منظور کرنے کے لیے ووٹ دیا۔ نیٹو کے تمام موجودہ ممبران سے منظوری کے بعد فن لینڈ کو جولائی میں ولنیئس میں ہونے والے اگلے نیٹو سربراہی اجلاس میں باضابطہ طور پر رکن کے طور پر اتحاد میں شامل کر دیا جائے گا۔
یہ اقدام امریکہ اور نیٹو کی طرف سے روس کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اضافے کی واضع نشاندہی کرتا ہے جس کی روس کے ساتھ سرحد دگنی سے زیادہ ہو جائے گی۔ فن لینڈ کی روس کے ساتھ 1,340 کلومیٹر طویل زمینی سرحد ہے اور اسکے ساتھ وہ نیٹو میں شامل ہونے والی بالٹک سمندری ساحل کے ساتھ ساتویں ریاست بن جائے گی۔ صرف سویڈن جس کے اتحاد میں شمولیت کی ترکی سے منظوری زیر التواء ہے اب تک باضابطہ طور پر فوجی اتحاد سے باہر ہے۔ ایک بار جب سویڈن کی رکنیت کو حتمی شکل دے دی جائے گی جو ممکنہ طور پر مئی میں ترکی میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد تو پھر روس بحیرہ بالٹک میں نیٹو کے مکمل گھیراو میں آجائے گا۔
فن لینڈ کی نیٹو کی رکنیت کی تصدیق یوکرین میں سال کے آغاز سے جاری جنگ میں نمایاں شدت کے بعد سامنے آئی ہے۔ سامراجی طاقتوں نے اپنے جنگی ٹینکوں اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سمیت اعلیٰ طاقت کے ہتھیاروں کی ترسیل میں تیزی سے اضافہ کر دیا ہے جس سے نیٹو اور روسی افواج کے درمیان براہ راست جنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ لڑاکا طیاروں اور یہاں تک کہ زمینی فوج بھیجنے پر بھی بحث جاری ہے۔ ایسے اقدامات ان جوہری ہتھیاروں سے لیس طاقتوں کے درمیان تصادم کے خطرے کو یکسر بڑھا دیں گے۔
نیٹو اور مغربی سامراجی طاقتوں کے نمائندوں نے اس خبر پر پرجوش ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے ٹویٹ کیا کہ 'میں آنے والے دنوں میں نیٹو ہیڈکوارٹر پر فن لینڈ کا جھنڈا بلند کرنے کا منتظر ہوں۔ ایک ساتھ مل کر ہم مضبوط اور محفوظ رہنے گے۔' فن لینڈ کے امریکی سفیر ڈگلس ہکی نے اس فیصلے کو ایک 'تاریخی لمحہ' قرار دیتے ہوئے کہا کہ فن لینڈ ایک 'مضبوط قابل شراکت دار ہے جو نیٹو کی اقدار کا اشتراک کرتا ہے۔'
فن لینڈ کی نیٹو کی رکنیت کے حوالہ جات کی وضاحت کرنا 'سیکیورٹی' اور 'استحکام' کو اورویلیان کے مفہوم کے طور پر بیان کرنا ایک معمولی بات ہوگی۔ جو حقیقت میں اس کی نشاندہی کرتا ہے وہ یہ ہے کہ موجودہ صورتحال کس طرح 20 ویں صدی کے پہلے نصف سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے جب دنیا کی بڑی طاقتوں نے اپنے مفادات کے لیے دنیا کو تقسیم کرنے کی کوشش کی تھی۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد اور دوسری عالمی جنگ کے دوران فن لینڈ کی بورژوازی نے سامراجی طاقتوں کے مجرموں کے لیے خوشی اور رضامندی سے انکے ساتھ کام کیا کیونکہ انہوں نے سوویت یونین کو فوجی شکست دینے اور اس علاقے کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جو اب روس اور سابق سوویت جمہوریہ تھا۔ اس پر براہ راست قبضہ کرنے اور اسکی بے رحمانہ لوٹ مار کے لیے امریکی جرمن اور برطانوی سامراج نے جو کردار ادا کیا تھا۔ یہی راستہ اب سوشل ڈیموکریٹ کی زیرقیادت وزیر اعظم سانا مارین اور دائیں بازو کے صدر ساؤلی نینیسٹو کی طرف سے اسے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
1918 میں فن لینڈ کے انقلاب کو خونریزی سے کچلنے کے بعد جو روس میں بالشویکوں کی فتح کے براہ راست ردعمل کا نتیجہ تھا فن لینڈ کے حکمران طبقے نے اپنی نئی قائم کردہ 'آزادی' کو جرمن اور اس کے بعد برطانوی سامراج کے تابع کرنے کے لیے استعمال کیا۔ فن لینڈ نے رد انقلابی سامراجی سفید فوجیوں کی کارروائیوں کے لیے ایک اڈے کے طور پر کام کیا جنھیں سامراجی طاقتوں سے وسیع فوجی امداد حاصل تھی۔
دوسری عالمی جنگ کے دوران فن لینڈ کی حکمران اشرافیہ نے نازی جرمنی کے ساتھ فوجی اور سٹٹیجک اتحاد کا جواز پیش کرنے کے لیے سٹالنسٹ بیوروکریسی کی انقلاب مخالف پالیسیوں کا فائدہ اٹھایا۔ 1939-1940 کی سویت یونین اور فن لینڈ کے درمیان جنگ جیسے وینٹر وار کے نام سے جانا جاتا ہے فن لینڈ نے اپنے کھوئے ہوئے علاقے پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے پرعزم طور پر اسکی افواج نے سوویت یونین کے خلاف نازیوں کی فنا کی جنگ میں انکا ساتھ دیا جو تسلسل کی جنگ کے نام سے مشہور ہوا۔ لینن گراڈ جو اب سینٹ پیٹرزبرگ ہے کے وحشیانہ محاصرے میں فن لینڈ کی افواج ملوث تھیں۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد سامراجیوں اور سٹالنسٹ سوویت بیوروکریسی کے درمیان طاقت کے توازن نے امریکی سامراج کے زیر تسلط جنگ کے بعد کے معاشی توازن کے دوران نارڈک خطے میں حکمران اشرافیہ کو بشمول فن لینڈ، سویڈن، ناروے اور ڈنمارک کہ بڑی طاقتوں کے تنازعات سے دوچار دنیا میں اس قابل بنایا کہ اپنے کو امن کی پناہ گاہ کے محافظ کا روپ دھارتے ہوئے پیش کر سکیں۔ محنت کشوں اور عوام الناس کے لیے سماجی پروگراموں اور فلاحی فوائد کی صورت میں خاطر خواہ رعایتیں دی گئیں جبکہ فن لینڈ اور سویڈن سرد جنگ میں باضابطہ طور پر 'غیر جانبدار' رہے۔
آج خطے کے حالات اس پہلے دور کی نسبت یکسر بدلہ گے طرح ہیں جبکہ آج بھی دنیا بھر میں 'ترقی پسند' اسے ایک مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ سرمایہ داری کی کس طرح 'اصلاح' کی جا سکتی ہے۔ نورڈک ممالک اب سامراجی جنگ میں فرنٹ لائن ریاستیں ہیں جس کا مقصد روس کو نیم کالونی کی حیثیت سے ماتحت کرنا اور اس کے وسیع قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔ 'نارڈک ماڈل' کو مثال کے طور پر پیش کرنے والے شاہد یہ نہیں جانتے سماجی پروگراموں کو یا تو مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے یا پھر اسکی ریڑ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے۔
نیٹو کی بڑی مشقیں مستقل بنیادوں پر متاوتر سے جاری رہتی ہیں اور فن لینڈ اور سویڈن ان مشقوں کا حصہ ہوتے ہیں۔ امریکی فوجیوں نے ناروے میں اپنی کارروائیوں کو بڑے پیمانے پر بڑھا دیا ہے۔ ناروے کی حکومت کے ساتھ حال ہی میں ایک معاہدے میں امریکہ کو نام نہاد 'متفقہ علاقوں' تک بلا روک ٹوک رسائی دی گی ہے اور اس طرح کے عمل کو واشنگٹن سویڈن اور فن لینڈ میں بھی لاگو کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس ماہ کے شروع میں ڈنمارک، فن لینڈ، ناروے اور سویڈن نے ایک نارڈک بیڑے کے طور پر اپنے تقریباً 250 امریکی ساختہ F-35 لڑاکا طیاروں کو اڑانے کا معاہدہ کیا۔ 24 مارچ کا خط اس مقاصد کو عملی جامہ پہننے کے لیے ان چار ممالک کو ایک 'متحد نورڈک ایئر ڈیفنس' بنانے کے عزم کا عہد کرتا ہے۔ ڈنمارک کی فضائیہ کے کمانڈر میجر جنرل جان ڈیم نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 'ہمارے مشترکہ بیڑے کا موازنہ ایک بڑے یورپی ملک سے کیا جا سکتا ہے۔' معاہدے پر دستخط جرمنی کے رامسٹین ایئر بیس پر ہوئے جہاں نیٹو ایئر کمانڈ کے سربراہ جنرل جیمز ہیکر بھی موجود تھے۔ نیٹو کی کولڈ رسپانس کی بڑی مشق جو صرف ناروے میں کی جاتی تھی جس کی میزبانی روایتی طور پر ناروے کرتا تھا۔ اس پر اب چار نورڈک ممالک کے فوجی اہلکار اسے تبدیل کرتے ہوئے اسے ایک نورڈک رسپانس کی نقل و حرکت میں تبدیل کر رہے ہیں جو پورے نورڈک خطے کو گھیرے میں لے گا۔
فن لینڈ کی نیٹو کی رکنیت کے بارے میں اپنی رپورٹ میں نیویارک ٹائمز اور بین الاقوامی سطح پر ذرائع ابلاغ نے اس اقدام کو 'یوکرین پر حملے کے بعد کے دور کی شروعات ' کے طور پر پیش کیا۔ یہ ایک کھلا جھوٹ ہے۔ خود یوکرین کی جنگ کی طرح فن لینڈ اور اب جلد ہی سویڈن کا نیٹو میں انضمام پہلے ہی سے ترتیب دیا گیا تھا دنیا بھر میں کئی دہائیوں سے امریکی سامراجی جنگوں اور نیٹو کی مشرق کی جانب روس کی سرحدوں پر جارحانہ توسیع کے منصوبے کے طور پر پہلے ہی سے تیار کیا جا چکا تھا۔
1990 کی دہائی میں سوویت یونین کی تحلیل کے بعد نیٹو کی ابتدائی توسیع کے ایک پیش قدمی کے طور پر فن لینڈ اور سویڈن ' پاٹنرشپ فار پیس ' کے پہلے اراکین میں شامل تھے نیٹو کے اس اقدام جس نے انہیں مشترکہ مشقوں میں حصہ لینے اور نیٹو کے طریقہ کار کا تجربہ حاصل کرنے کے قابل بنایا۔ فن لینڈ اور سویڈن دونوں 2014 میں یوکرین کے ساتھ مل کر نیٹو کے ' اینہانس اپرچونیٹی پاٹنرز ' بن گئے اور 2017 میں بالٹک اور نورڈک نیٹو کے رکن برطانوی سامراج کی زیر قیادت اتحاد جوائنٹ ایکسپیڈیشنری فورس (جے ای ایف) میں شمولیت اختیار کی۔ فن لینڈ اور سویڈن کو باضابطہ طور پر فوجی اتحاد میں شامل کرنے کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے طویل عرصے سے کام کیا جا رہا تھا اور پھر یوکرین پر پیوٹن کے رجعتی حملے نے اس بہانے کو مزید تقویت بخشی اور فن لینڈ کو نیٹو فوجی اتحاد میں شامل کر لیا۔
سوویت یونین کی تحلیل کے بعد ابھرنے والے مجرمانہ سرمایہ دارانہ اشرافیہ کے مفادات کی نمائندگی کرنے والی رجعت پسند قوم پرست پیوٹن حکومت کے پاس پورے نورڈک خطے میں سامراجیوں کی طرف سے فوجی جارحیت میں اضافے کا کوئی ترقی پسند جواب نہیں ہے۔ فروری 2022 میں یوکرین پر اپنے تباہ کن حملے کی مناسبت سے روس نے فن لینڈ کی نیٹو کی رکنیت کی جلد تصدیق کے جواب میں فوجی جوابی کارروائی کی خونریزی کی دھمکیاں جاری کر دیں۔ روس کے سفارت خانے سٹاک ہوم سے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا گیا، ’’اگر کوئی اب بھی یہ سمجھتا ہے کہ اس سے کسی نہ کسی طرح یورپ کی سلامتی میں بہتری آئے گی تو آپ یقین کریں کہ دشمن بلاک کے نئے ارکان روس کے انتقامی اقدامات کا ایک جائز ہدف کا نشانہ بنیں گے بشمول فوجی اقدامات کے۔‘‘ اس بیان پر سویڈن کے وزیر خارجہ ٹوبیاس بلسٹروم نے سٹاک ہوم میں روسی سفیر کو جواب طلبی کے لیے وزارت خارجہ میں بلایا۔
نارڈک کے علاقے میں خطرناک عسکری تشکیل اور روس کے خلاف امریکی نیٹو کی جنگ کو بالٹک تک پھیلانے اور اسے روکنے کا واحد راستہ محنت کش طبقے میں جنگ مخالف بین الاقوامی تحریک کی تعمیر ہے۔ تمام نارڈک ممالک اور یورپ، روس، یوکرین اور عالمی سطح پر محنت کشوں کو سامراجی جنگ اور اس کو جنم دینے والے سرمایہ دارانہ منافع بخش نظام کو ختم کرنے کے لیے سوشلسٹ اور بین الاقوامی پروگرام کی بنیاد پر متحد ہونا چاہیے۔
ایسی تحریک کی بنیاد اسی معروضی بحران سے پیدا ہوتی ہے جو سامراجیوں کو عالمی جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے۔ پورے یورپ میں محنت کش طبقہ زندگی کی ناقابل برداشت
