اُردُو

لیون ٹراٹسکی اور اکیسویں صدی میں سوشلزم کے لیے جدوجہد

یہ 4 اپریل  2023 میں انگریزی میں شائع 'Leon Trotsky and the Struggle for Socialism in the Twenty-First Century' ہونے والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔

یہ ڈیوڈ نارتھ کا لیون ٹراٹسکی اور اکیسویں صدی میں سوشلزم کے لیے جدوجہد کی کتاب کا دیباچہ ہے۔ نارتھ ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کے انٹرنیشنل ایڈیٹوریل بورڈ کے چیئرمین اور سوشلسٹ ایکویلیٹی پارٹی (یو ایس) کے قومی چیئرمین ہیں۔

کتاب کا پرنٹ اور ایپب ورژن 30 جون 2023 کو شائع کیا جائے گا۔ یہ کتاب  6 اپریل کو مہرنگ بک سے پری آرڈر کے لیے دستیاب ہوگی۔

اس جلد میں مرتب کیا گیا مواد چالیس سال کے عرصے میں لکھا گیا۔ پہلا مضمون  لیون ٹراٹسکی اور مارکسزم کی بڑھوتی ابتدائی طور پر 1982 کے خزاں کے آخر میں شائع ہوئی تھی۔ آخری مضمون روس یوکرین اور سابق سوویت یونین کے دیگر ممالک میں ٹراٹسکیوں کے ذریعے قائم کردہ نوجوانوں کی ایک تنظیم کے نام ایک خط  جسے فروری  2023 میں لکھا گیا تھا پر مشتمل ہے۔

پہلی اور آخری دستاویز کو الگ کرنے والے کئی سالوں کے باوجود وہ ایک مرکزی دلیل سے جڑے ہوئے ہیں:  کہ لیون ٹراٹسکی بیسویں صدی کی پہلی چار دہائیوں کے دوران سوشلزم کی تاریخ میں سب سے اہم شخصیت کے طور پر اپھرئے اور یہ کہ ان کی انتھک جدوجہد اور تناظر جس کہ انتہائی دور رس نتیجہ برامد ہوئے جو آج بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ جو کہ عالمی سوشلزم کی فتح کے لیے جاری عصری جدوجہد کی ناگزیر نظریاتی اور سیاسی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ پچھلے چالیس سالوں کے واقعات نے تاریخ میں ٹراٹسکی کے مقام اور اس کی پائیدار سیاسی اہمیت کے اس جائزے کو انتہائی مضبوطی سے ثابت کیا ہے۔

فورتھ انٹرنیشنل کے بانی، لیون ٹراٹسکی

آئیے اس حقیقت سے آغاز کرتے ہیں کہ ٹراٹسکی کی جانب سے سٹالنزم کی ایک رد انقلابی قوت کے طور پر مذمت کو تاریخ  نے مہر تصدیق ثبت کر دی  ہے۔ لیکن جب پہلا مضمون لکھا گیا  تب بھی سوویت یونین اور اس سے منسلک سٹالنسٹ حکومتیں مشرقی یورپ میں موجود تھیں۔ کریملن  بیوروکریسی سے وابستہ سٹالنسٹ سیاسی جماعتیں لاکھوں ممبران پر فخر کرتی تھیں۔ ٹراٹسکی کی یہ پیشین گوئی کہ سٹالنسٹ بیوروکریسی سرمایہ داری کو بحال کر دے گی اور حکومت کا بوسیدہ ڈھانچہ قومی معاشی خود مختاری، نااہلی اور جھوٹ کے بوجھ تلے گر جائے گا اس تناظر کو سیاسی معذرت خواہ نے اسے ' موجودہ حقیقی سوشلزم' کی حمایت میں اسے 'ٹراٹسکی فرقہ واریت'  سے تشبیہ دے کر اور یہاں تک کہ 'سوویت مخالف پروپیگنڈے' کے طور پر کہا کر مسترد کر دیا۔

لیون ٹراٹسکی اور مارکسزم کی بڑھوتی ان مہینوں کے دوران بالکل درست لکھی گئی تھی جب طویل عرصے بڑھاپے کے امراض کا شکار سوویت رہنما لیونیڈ بریزنیف اپنے بیمار بستر سے ریڈ اسکوائر میں کریملن کی دیوار کے قدیم  قبرستان دفنانے کے لئے  لے جائے جا رہے تھے۔ سٹالنسٹ بیوروکریسی نے اپنی وفاداری پہلے یوری اینڈروپوف اور پھر کونسٹنٹین چرنینکو کو منتقل کر دی جو دو سال سے کچھ زیادہ عرصے کے بعد  کریملن کی دیوار کے قبرستان میں اپنے پیشرو کے ساتھ دفن ہو گئے اور آخر کار مارچ 1985 میں میخائل گورباچوف کو اقتدار سونپ دیا گیا۔

سوویت تاریخ کے مطالعہ میں ایک نئے 'کھلے پن' [گلاسناسٹ] کے مؤخر الذکر کا یہ نقط نظر کریملن کی جانب سے اپنے جانشینوں کی طرح  ٹراٹسکی کی طرف سے سٹالنسٹ حکومت کے خلاف لڑی جانے والی جدوجہد اور اکتوبر انقلاب کے ساتھ غداری کی پھر پور مذمت  کرتا رہا ہے۔

نومبر 1987 کے اواخر میں جب سٹالنسٹ حکومت گرنے کی جانب بڑھ رہی تھی تو گورباچوف نے اکتوبر انقلاب کی سترویں سالگرہ کے موقع پر اپنے خطاب میں سٹالن کا دفاع اور ٹراٹسکی کے خلاف زہریلی تنقید اور اُسے  مذمت کا نشانہ بنایا۔ لیکن جیسا کہ ٹراٹسکی نے ایک بار کہا تھا تاریخ کے قوانین سب سے طاقتور جنرل سیکرٹری سے بھی زیادہ طاقتور ہوتے ہیں نے تاریخ کی کھسوٹی میں اسے سچح ثابت کیا۔

میخائل گورباچوف (درمیان) میں 7 مارچ 1985 آندرے گرومیکو اور نکولائی تیخونوف کے ساتھ [اے پی فوٹو/بورس یورچینکو] [AP Photo/Boris Yurchenko]

واحد سیاسی رجحان جس نے پیش گوئی کی اور خبردار کیا کہ گورباچوف کی پالیسیاں سوویت یونین کی تحلیل اور سرمایہ داری کی بحالی کی جانب گامزن ہیں وہ  انٹرنیشنل کمیٹی آف فورتھ انٹرنیشنل  (آئی سی ایف آئی) تھی۔ مارچ 1987 کے اوائل میں نئے سوویت رہنما کی  پرجوش  حمایت اور  'گورباچوف کی ستائش ' کے نام سے مشہور عالمی پذیرائی کے دوران  انڑنیشنل  کمیٹی نے خبردار کیا:

سوویت یونین میں محنت کش طبقے اور بین الاقوامی سطح پر محنت کشوں اور مظلوم عوام دونوں کے لیے گورباچوف کی نام نہاد اصلاحاتی پالیسی ایک خوفناک خطرے کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ اکتوبر انقلاب کی تاریخی فتوحات کو خطرے میں ڈالتے ہوئے  اور عالمی سطح پر سامراج کے ساتھ بیوروکریسی کے رد انقلابی تعاون کے گہرے ہونے کے ساتھ جڑی  ہوئی ہے۔[1]

دو سال بعد  1989 میں نے گورباچوف کی پالیسیوں کے تجزیہ میں جس کا عنوان  پریسٹوریکا  بمقابلہ سوشلزم تھا میں لکھا:

گزشتہ تین سالوں کے دوران  گورباچوف نے پیداواری قوتوں کی نجی ملکیت کو فروغ دینے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کیے ہیں۔ بیوروکریسی مکمل طور پر سرمایہ دارانہ خطوط پر منظم سوویت کوآپریٹیو کو فروخ دیتے ہوئے  اپنے مفادات کی مزید کھل کر نشاندہی کر رہی ہے۔ اس طرح بیوروکریسی کی اپنی مراعات جس حد تک ان سوویت کواپریٹس کے پابند نہیں ہیں بلکہ وہ ریاستی ملکیت کی سماجی شکلوں سے دشمنی رکھتی ہیں عالمی سامراج کے ساتھ اس کے تعلقات میں ایک ہم آہنگ اور اہم تبدیلی ابھر رہی ہے۔ سوویت خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد اب  سامراجی حملے کے خلاف سوویت یونین کا دفاع  بڑی حد تک کم سے کم تر ہوتا چلا جا رہا ہے بلکہ اپنے مفادات کے لیے سامراجی حمایت کو متحرک کر رھا ہے تاکہ  سیاسی اور اقتصادی طور پر  پریسٹوریکا کے زریعے داخلی   مقاصد کے حصول کے لیے سرمایہ دارانہ ملکیت کے فروخ  سے  سوویت یونین کے اندر سرمایہ دارانہ تعلقات کو استوار کیا جا سکے۔ اس طرح ایک ملک میں سوشلزم کے  سٹالنسٹ نظریہ کی رد انقلابی منطق کا  اپنا حتمی اظہار خارجہ پالیسی کی ترقی میں تلاش کرتی ہے جس کا مقصد سوویت ریاستی ملکیت کو نقصان پہنچانا اور خود یو ایس ایس آر کے اندر سرمایہ داری کو دوبارہ متعارف کرانا ہے۔[2]

میں گورباچوف کی پالیسیوں کے اس جائزے کے لیے غیر معمولی کریڈٹ کا دعویٰ نہیں کر سکتا  جس کی تصدیق بعد میں ہونے والی پیش رفت سے ہوئی۔ انٹرنیشنل  کمیٹی کا نقطہ نظر سوویت معاشرے کے تضادات اور سٹالنسٹ حکومت کی رد انقلابی رفتار کے تجزیہ پر مبنی تھا جو ٹراٹسکی نے نصف صدی قبل اپنی لکھی گی کتاب انقلاب سے غداری کے تناظر میں بیان کیا  تھا۔ مزید برآں یہ کہ سرمایہ دارانہ بحالی کے بعد کے سوویت عمل کے بارے میں آئی سی آئی ایف  کی تفہیم اس حقیقت سے آسان ہوئی کہ یہ ٹراٹسکی کے متوقع خطوط پر ہی آگے بڑھا۔

سوویت یونین کی تحلیل کا وہ  نتیجہ برآمد  نہیں ہو سکا جس کی  فرانسس فوکویاما نے پیشن گوئی کی تھی، 'تاریخ  کا خاتمہ' میں جسے رینڈ کارپوریشن کے تجزیہ کار نے 'انسان کے نظریاتی ارتقاء کا اختتامی نقطہ اور مغربی لبرل جمہوریت کی عالمگیریت کو حتمی شکل کے طور پر انسانوں کی آخری طرز حکومت کے طور پر  بیان کیا تھا۔' [3]

لیکن یہ بالکل واضح ہے کہ فوکویاما نے ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی صدارت تک رسائی کی پیش گوئی نہیں کی تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ  نہ تو سوویت روس کے بعد کے روس میں اور نہ ہی ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں حالات اور واقیات نہ ہی  رینڈ تھنک ٹینک کہ پنڈتوں کے نقط نظر کے مطابق تھیں۔ روس کے اندر  وہ تمام خوش آئند پیشن گوئیاں جن کے ساتھ سرمایہ داری کی بحالی کا جواز پیش کیا گیا تھا  واقعات نے انہیں رد کر دیا۔ خوشحالی کے بجائے  سابق سوویت بیوروکریٹس اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کو سرکاری اثاثوں کو انتہائی کم قیمت پر تھوک کے حساب سے فروخت کیا گیا جس نے بڑے پیمانے پر غربت اور سماجی عدم مساوات کی حیران کن سطح کو جنم دیا۔ جمہوریت کے پھولوں کو پروان چڑھانے کی بجائے  نئی روسی ریاست نے تیزی سے ایک محدود امرا شاہی حکومت کی شکل اختیار کر لی۔ اور یہ دعویٰ کہ روس جب ایک بار  اکتوبر انقلاب کے ساتھ اپنی تاریخی وابستگی کو اٹل طور پر مسترد اور ختم کر دے گا تو پھر  اس کے نئے 'مغربی شراکت داروں' کی طرف سے اسے انتہائی نرمی اور مسرت کے ساتھ خوش آمدید کہا جائے گا اور سرمایہ دارانہ اقوام کے بھائی چارے میں پرامن طریقے سے ضم ہو جائے گا یہ نقط نظر انتہائی غلط اور شرمناک  اور تمام پیشین گوئیوں سے سب سے زیادہ غیر حقیقی ثابت ہوئیں۔

بڑے سامراجی ممالک کے اندر سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ہونے والے واقعات  نے معاشی، جغرافیائی سیاسی اور سماجی بحرانوں کا پے درپے جو پچھلی تین دہائیوں کی خصوصیات ہیں کا سلسلہ دیکھا اور   ان تضادات کے مارکسی تجزیے کو درست  ثابت کیا ہے جو سرمایہ داری کو ایک عالمی نظام کے طور پر آگے بڑھاتے ہوئے تباہی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ فورتھ انٹرنیشنل کی بانی دستاویز  جو ٹراٹسکی نے 1938 میں لکھی تھی  نے تاریخی عہد کو سرمایہ داری کی 'موت کی اذیت' کے طور پر بیان کیا اور دوسری علمی جنگ  کے موقع پر عصری جاری صورتحال کو اس طرح بیان کیا:

بنی نوع انسان کی پیداواری قوتیں جمود کا شکار ہیں۔ پہلے ہی نئی ایجادات اور بہتر مادی دولت کی سطح کو بلند کرنے میں ناکام ہیں۔ پورے سرمایہ دارانہ نظام کے سماجی بحران کے حالات میں اجتماعی بحران عوام کو پہلے سے زیادہ شدید محرومیاں اور مصائب کا شکار کرتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور اس کے نتیجے میں ریاست کے مالیاتی بحران کو مزید گہرا کرتی ہے اور غیر مستحکم مالیاتی نظام کو کمزور کرتی ہے۔ …

سرمایہ دارانہ ٹوٹ پھوٹ کے بڑھتے ہوئے تناؤ کے تحت سامراجی مخاصمتیں ایک تعطل کو عروج پر پہنچتی ہیں جس میں الگ الگ جھڑپیں اور خونی مقامی خلفشار جو پھر ناگزیر طور پر عالمی سطح پر  یکجا ہو کر پھٹ جاتا ہے۔ بلاشبہ بورژوازی اپنے تسلط کے لیے جان لیوا خطرے سے آگاہ ہے جس کی نمائندگی ایک نئی جنگ سے ہوتی ہے۔ لیکن سرمایہ دار طبقہ کے پاس اب 1914 کے مقابلے میں جنگ کو ٹالنے کی صلاحیت بہت کم رہ گی  ہے۔[4]

موجودہ عالمی صورتحال اس سے زیادہ پریشان کن مماثلت رکھتی ہے جسے ٹراٹسکی نے پچاسی سال پہلے اس قدر شدت سے بیان کیا تھا۔ عالمی حالات کے بارے میں ان کی سمجھ سرمایہ داری کے بحران کے ماخذ کے بارے میں ان کے تجزیہ سے اخذ کی گئی تھی: 1) سماجی پیداوار اور ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت کے درمیان تصادم؛ اور 2) عالمی معیشت کی معروضی ترقی کے ساتھ سرمایہ دارانہ قومی ریاستی نظام کی سرمایہ داری کے فریم ورک کے اندر عدم مطابقت اور  ان تضادات سے پیدا ہونے والا بحران فاشسٹ بربریت اور عالمی جنگ کی دوہری تباہیوں کا باعث بنتا ہے۔

عالمی سرمایہ داری کے مہلک حرکیات کے اپنے تجزیے میں ٹراٹسکی نے امریکی سامراج کے کردار پر مرکزی زور دیا تھا۔ 1928 میں وسطی ایشیا میں دور قزاقستان میں الماتا سے لکھتے ہوئے (جس وقت سٹالنسٹ حکومت نے اُسے جلاوطن کر دیا تھا) اس نے لکھا:

بحران کے دور میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی بالادستی عروج کے دور کی نسبت میں زیادہ مکمل طور پر زیادہ کھلے عام اور زیادہ بے رحمی سے عمل پیرا ہو کر سامنے آئے گی۔ امریکہ بنیادی طور پر یورپ کی قیمت پر اپنی مشکلات اور مسائل سے خود کو نکالنے  کی کوشش کرے گا قطع نظر اس کے کہ یہ ایشیا، کینیڈا، جنوبی امریکہ، آسٹریلیا، یا خود یورپ  کے زریعے واقع ہوتا ہے یا یہ پرامن طریقے سے ہوتا ہے یا جنگ کے ذریعے عمل میں آتا ہے۔ [5]

1934 میں ٹراٹسکی نے امریکی سامراج کی رفتار کو مزید تیز الفاظ میں بیان کیا:

امریکی سرمایہ داری انہی مسائل سے دو چار ہے جن مسائل نے 1914 میں جرمنی کو جنگ کی راہ پر دھکیل دیا تھا۔ کیا دنیا تقسیم ہے؟ اسے دوبارہ تقسیم کیا جانا چاہیے۔ جرمنی کے لیے یہ 'یورپ کو منظم کرنے' کا سوال تھا۔ امریکہ کو دنیا کو 'منظم' کرنے کا سوال ہے۔ تاریخ انسانیت کو امریکی سامراجی  آتش فشاں کے پھٹنے سے روبرو کر رہی ہے۔[6]

ٹراٹسکی نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی غارت گر پالیسیوں کو انسانی ہمدردی کے فقروں سے پاک کرنے کے رجحان کا مذاق اڑایا۔ اس نے یادگار کے طور پر پہلی عالمی جنگ  کے بعد صدر ووڈرو ولسن کو ' کندہ نا تراش اور منافق' کے طور پر بیان کیا اور ایک ' مزہبی منافق' جو 'خون آلود یورپ کو اخلاقیات کے اعلیٰ ترین نمائندے کے طور پر درس دیتا ہے اور امریکی ڈالر کے مسیحا کے فریب میں ان میں صراعیت  کرتا ہے۔ سزا دینا، معاف کرنا، اور لوگوں کی قسمت کا بندوبست کرنے کا ناٹک کرتا ہے' [7] اب جب کہ ولسن کی شیطانی نسل پرستی مشہور ہو چکی ہے، ٹراٹسکی کا  ایک زمانے کے قابل احترام امریکی صدر کے بارے میں بیان جس کی طویل عرصے سے جمہوری لبرل ازم کے شناخت کے طور پر تعریف کی جاتی تھی علمی برادری کی متفقہ رائے بن گئی ہے۔

لیکن اگرچہ اس کی منافقت کو بے نقاب کرنا موزوں تھا، مگر ٹراٹسکی نے امریکی سامراج کی پالیسیوں کی وضاحت نہیں کی یا اس معاملے کو صاف طور پر   ہٹلر کے ماتحت اس کے جرمن حریف کی پالیسیوں کو محض ایک دوسری صورت میں پرامن دنیا کی مجرمانہ رکاوٹوں کے طور پر بیان کیا۔  ان ممالک اور دیگر سامراجی طاقتوں کی پالیسیوں پر اس کا فرد جرم کا الزام ایک تاریخی تھا نہ کہ غیر مہزب اخلاقی کردار کے۔ ٹراٹسکی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ  حملوں، الحاق اور فتوحات کی پالیسی انفرادی لیڈروں کے پاگل پن میں پیوست نہیں ہے حتیٰ کہ ہٹلر جیسے نفسیاتی مریض کے معاملے میں بھی نہیں بلکہ یہ ریاستی سرحدوں کی طرف سے مسلط کردہ حدود کو عبور کرنے کی اشد ضرورت کی پیداوار  تھی۔ عالمی وسائل اور عالمی منڈی۔ سامراجی عسکریت پسندی کی مسلسل نشوونما ناگزیر طور پر عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے جو قومی ریاستی نظام کے تاریخی دیوالیہ پن کی نشاندہی کرتی ہے۔ جیسا کہ ٹراٹسکی نے 1934 میں امریکی جریدے فارن افیئرز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں پیش گوئی کی تھی:

غیر ملکی منڈیوں کے لیے جدوجہد غیر معمولی طور پر تیز ہو جائے گی۔ استبداد کے فوائد کے بارے میں پاکیزہ تصورات کو ایک ہی وقت میں ایک طرف پھینک دیا جائے گا  اور قومی ہم آہنگی کے دانا نخسوں کے منصوبوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے گا۔ اس کا اطلاق نہ صرف جرمن سرمایہ داری بلکہ اس کی دھماکہ خیز حرکیات  یا جاپان کی تاخیری اور لالچی سرمایہ داری کے علاوہ امریکہ کی سرمایہ داری پر بھی لاگو ہوتی ہے جو اپنے نئے تضادات کے باوجود طاقتور ہے۔[8]

1920 اور 1930 کی دہائی کے اواخر میں ٹراٹسکی کے ذریعے سمجھے جانے والے تضادات اب بہت زیادہ ترقی یافتہ حتیٰ کہ آخری سطح کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ سوویت یونین کی تحلیل کے بعد امریکہ کی عالمی بالادستی کے مفادات میں ’’دنیا کو منظم‘‘ کرنے کی مہم نے ایک عالمی ہنگامہ آرائی کی شکل اختیار کر لی ہے۔ امریکی سامراج کے 'آتش فشاں پھٹنے' کی پیشین گوئی تقریباً نوے سال پہلے ٹراٹسکی نے کی تھی جو بڑے واضع انداز سے جاری ہے۔

لیکن صرف امریکہ  عسکریت پسندی کے  آتش فشاں کے  پھٹنے کا واحد مقام نہیں ہے۔ بین الاقوامی سطح پر فوجی اخراجات میں بڑے پیمانے پر اضافہ جاری ہے۔ جنگ کے دیوتا پھر پیاسے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ  کی دو اہم شکست خوردہ طاقتیں اپنے منافقانہ امن پسندی کے بہانے ترک کر رہی ہیں۔ یوکرین کی جنگ سے ملنے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جرمن بنڈسٹاگ (جرمن کی پارلیمنٹ) نے ملک کے فوجی بجٹ میں تین گنا اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ جاپان  جو پہلے ہی ایشیا کی دوسری بڑی فوجی طاقت ہے، نے 'دفاعی'  اخراجات میں 26.3 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ وہ پرعزم ہیں کہ وہ مال غنیمت کی تقسیم اور اسکی لوٹ مار سے باہر نہیں رہیں گے جو کہ تیسری عالمی جنگ  کے بعد  دنیا کی ایک نئی تقسیم سے بشرطیکہ تقسیم کے لیے یہ دنیا باقی رہ جائے۔

یہ کہ دنیا ایک عالمی فوجی تباہی کے قریب پہنچ رہی ہے، اب سرمایہ دارانہ میڈیا میں بڑے پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ یوکرین پر روسی حملے کو ایک 'بلا اشتعال جنگ' کے طور پر پیش کرنے کے ایک سال کے پروپیگنڈے کے بعد بورژوا مبصرین اب اس جنگ کو زیادہ حقیقت پسندانہ بین الاقوامی تناظر میں پیش کر رہے ہیں۔ فنانشل ٹائمز کے خارجہ پالیسی کے ماہر گائیڈون رچمین نے حال ہی میں موجودہ صورتحال اور '1930 اور 1940 کی دہائیوں میں بین الاقوامی کشیدگی میں اضافہ' کے درمیان 'تاریخی مماثلت' کو بیان  کیا۔

یہ حقیقت کہ چین کے صدر اور جاپان کے وزیر اعظم نے روس اور یوکرین کے دارالحکومتوں کے بیک وقت اور مسابقتی دورے کیے جو یوکرین کی جنگ کی عالمی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ جاپان اور چین مشرقی ایشیا میں سخت حریف ہیں۔ دونوں ممالک سمجھتے ہیں کہ ان کی جدوجہد یورپ میں تنازعات کے نتائج سے بہت زیادہ متاثر ہوگی۔

یوکرین پر چین اور جاپان کے درمیان یہ شیڈو باکسنگ ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہے۔ یورو- اٹلانٹک اور ہند-بحرالکاہل کے علاقوں میں سٹرٹیجیک دشمنیاں تیزی سے ایک دوسرے کے ساتھ سبقت کی تگ و دو میں مصروف عمل  ہو رہی ہیں۔ جو کچھ ابھر کر سامنے آ رہا ہے وہ ایک جیوپولیٹیکل جدوجہد کی جانب زیادہ نمایا شکل میں نظر آ رہا ہے۔ [9]

ہر تاریخی شخصیت یقیناً اپنے زمانے کی پیداوار ہے۔ لیکن ٹراٹسکی ایک ایسی تاریخی شخصیت ہے جس کا عصری واقعات پر فعال اثر و رسوخ ان کی زندگی سے بھی آگے بڑھ چکا ہے۔ ان کی تحریروں کا مطالعہ نہ صرف اس بصیرت کے لیے کیا جاتا ہے جو وہ پچھلی صدی کی پہلی چار دہائیوں کے واقعات میں فراہم کرتی ہیں بلکہ موجودہ دور کے واقعات کو سمجھنے اور ان میں مداخلت کرنے کے لیے ضروری تجزیے کے طور پر بھی سائنسی بنیادیں مہیا کرتی ہیں۔

یو ایس ایس آر کی تحلیل کے عین موقع پر 1991 میں شائع ہونے والے بین الاقوامی ٹراٹسکی ازم کے 1,124 صفحات پر مشتمل ایک بڑے مطالعے میں آنجہانی رابرٹ جے الیگزینڈر ایک مارکسسٹ مخالف علمی اور خارجہ تعلقات کی کونسل کے دیرینہ رکن نے تشویش کا اظہار کیا۔ کہ یو ایس ایس آر کی تحلیل ٹراٹسکی ازم کو ایک عوامی تحریک کے طور پر دوبارہ زندہ کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس نے لکھا:

1980 کی دہائی کے آخر تک ٹراٹسکی کبھی کسی ملک میں اقتدار میں نہیں آئے۔ اگرچہ بین الاقوامی ٹراٹسکی ازم کو ایک اچھی طرح سے قائم حکومت کی حمایت حاصل نہیں ہے جیسا کہ یہ موقع سٹالنزم کے وارثوں کے پاس آیا تھا لیکن دنیا کی بیشتر اقوام کی سیاسی زندگی کے عدم استحکام کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک میں تحریک کے استقامت کا مطلب یہ ہے کہ یہ امکان موجود  ہے اور اس بات کو بالکل مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ مستقبل قریب میں ٹراٹسکی پارٹی اقتدار میں آ سکتی ہے۔[10[

حکمران اشرافیہ نے پروفیسر الیگزینڈر کی وارننگ کو سنجیدگی سے لیا۔ انہوں نے سٹالنسٹ حکومتوں کے خاتمے سے لاحق بائیں جانب سیاسی خطرے کا جواب ٹراٹسکی کی تہمت آمیز جعلی سوانح عمریوں کا ایک سلسلہ شروع کر دیا۔ لیکن پروفیسر ایان تھیچر، جیفری سوین اور رابرٹ سروس کے کام سرمایہ دارانہ پریس میں ابتدائی پرجوش جائزوں کے باوجود  بری طرح ناکام ہوئے۔ ان کے جھوٹ کو بین الاقوامی کمیٹی نے بڑے پیمانے پر بے نقاب کیا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے مشہور پروفیسر رابرٹ سروس کی لکھی ہوئی سوانح عمری اس کے پبلشر ہارورڈ یونیورسٹی پریس کے لیے شرمندگی کا باعث بن گئی جب امریکن ہسٹوریکل ریویو نے اعتراف کیا کہ سروس کی سوانح حیات پر میری تنقید ' ایک روزمرہ' کے طور پر 'سخت الفاظ'  میں تھی۔ لیکن جائز اور درست ہے۔'[11]

لاتعداد دشمنوں کی طرف سے کئی دہائیوں پر محیط مسلسل ظلم و ستم کے باوجود بین الاقوامی ٹراٹسکی تحریک کی استقامت اور ترقی کے لیے ایک تاریخی مادیت پسند وضاحت موجود ہے۔ وہ بنیادی معروضی معاشی اور سماجی قوتیں جنہوں نے ٹراٹسکی کی زندگی میں سیاسی واقعات کا عمومی رخ متعین کیا جو کہ بورژوازی اور پرولتاریہ کی عالمی طبقاتی جدوجہد پر مرکوز تھی تاریخ نے ان کی جگہ نہیں لی۔ ٹراٹسکی کا نظریہ مستقل انقلاب بین الاقوامی محنت کش طبقے کی سرمایہ داری کے خلاف جدوجہد کی تاریخی اسٹریٹیجک بنیاد ہے۔ انہوں نے 1930 میں لکھا:

سوشلسٹ انقلاب کی قومی حدود میں تکمیل ناقابل تصور ہے۔ بورژوا معاشرے میں بحران کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کی تخلیق کردہ پیداواری قوتیں اب قومی ریاست کے فریم ورک سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتیں۔ اس سے ایک طرف سامراجی جنگیں ابھرتی ہیں تو دوسری طرف یورپ کی بورژوا ریاست ہائے متحدہ کا یوٹوپیا۔ سوشلسٹ انقلاب قومی میدان سے شروع ہوتا ہے  یہ بین الاقوامی میدان پر آشکار ہوتا ہے اور عالمی میدان میں مکمل ہوتا ہے۔ اس طرح سوشلسٹ انقلاب لفظ کے نئے اور وسیع معنی میں ایک مستقل انقلاب بن جاتا ہے۔ یہ ہمارے پورے سیارے پر نئے معاشرے کی حتمی فتح میں ہی تکمیل پاتا ہے۔[12]

واقعات کی زد میں آنے سے پہلے ہی پیداواری قوتوں کی عالمی سطح پر مربوط ترقی اور محنت کش طبقے کی وسیع ترقی نے ٹراٹسکی کے سوشلسٹ انقلاب کے تصور کو بین الاقوامی طبقاتی جدوجہد کے ایک دوسرے پر منحصر عمل کے طور پر مزید ثابت کر دیا ہے۔ تاریخ کی تحریک اب فیصلہ کن طور پر عظیم مارکسی نظریہ دان اور انقلابی کے اسٹریٹجک نقط نظر سے مکمل جڑ رہی ہے۔

موجودہ عالمی صورتحال ایسی ہے کہ ٹراٹسکی کو پہچاننے اور تجزیہ کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوگی۔ ہم سامراجی جنگ اور سوشلسٹ انقلاب کے اسی تاریخی عہد کے آخری مرحلے میں جی رہے ہیں۔ ٹراٹسکی نے جن تاریخی مسائل سے نمٹا خاص طور پر 1923 میں لینن کے نااہل ہونے والے فالج کے حملے اور سیاسی سرگرمیوں سے ہٹائے جانے اور 1940 میں اس کے اپنے قتل کے درمیان سولہ سالوں میں وہ غیر حل شدہ وجودی سیاسی مسائل ہیں جو محنت کش طبقے کو درپیش رہے ہیں: سامراجی جنگ، جمہوریت کا ٹوٹنا۔ اور فاشزم کا دوبارہ سر اٹھانا، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بڑے پیمانے پر بے روزگاری، غربت، موجودہ عوامی مزدور تنظیموں کی غداری اور سرمایہ دارانہ ریاست کے ڈھانچے میں ان کا انضمام ہو جانا۔

1927 میں بائیں بازو کی اپوزیشن کے اراکین۔ (سامنے سے بائیں کی طرف) لیونیڈ سیریبریاکوف، کارل راڈیک، لیون ٹراٹسکی، میخائل بوگوسلاسکی، ایوگینی پریوبرازنسکی؛ (واپس) کرسچن راکوسکی، جیکب ڈروبنس، الیگزینڈر بیلوبورودوف، اور لیو سوسنوسکی

اس سال سوویت یونین میں بائیں بازو کی اپوزیشن کے قیام کی سو سال مکمل ہو رہیں ہیں۔ ٹراٹسکی کی ابتدائی عوامی تنقید جو اُس نے  1923 کے موسم خزاں میں شروع کی جسکی بنیاد سوویت ریاست اور کمیونسٹ پارٹی  دونوں میں نوکر شاہی کی نشوونما کے خلاف تھی نے بیسویں صدی کی سیاسی طور پر سب سے زیادہ نتیجہ خیز جدوجہد کا آغاز کیا۔ سٹالن کی قیادت میں سوویت بیوروکریسی کے ذریعے سیاسی اقتدار پر قبضے کے بین الاقوامی محنت کش طبقے کی قسمت اور سوشلزم کی جدوجہد کے لیے تباہ کن نتائج برآمد ہونے تھے۔ اس غاصبانہ قبضے کا سیاسی جواز  اس بنیاد پر اٹھایا گیا —  محنت کش طبقے کو بیوروکریسی کے ماتحت کرنا، محنت کشوں کی جمہوریت کی تمام شکلوں کو ختم اور تباہ کرنا اور بالآخر سوویت یونین کے اندر مارکسسٹوں کا جسمانی طور پر خاتمہ کرنا —  ان اقدامات کو  ایک ملک میں سوشلزم  کے اسٹالنسٹ عقیدے نے فراہم کیا تھا۔ ٹراٹسکی کے مستقل انقلاب کے نظریہ کے خلاف سب سے پہلے اور سب سے اہم اس جعلی تھیوری نے بین الاقوامی سوشلزم کے اس نقطہ نظر کی تردید کی منظوری دی جس پر اکتوبر انقلاب کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

سٹالنزم کے خلاف ٹراٹسکی کی جدوجہد کے مطالعہ کے لیے وقف کردہ ایک حال ہی میں شائع شدہ جلد کا آغاز درج ذیل دعوے سے ہوتا ہے: 'ان کی زندگی کی آخری دو دہائیوں میں سے زیادہ تر سیاسی اور نظریاتی مسئلہ جو لیون ٹراٹسکی کو کسی بھی دوسرے سے زیادہ پریشان کرتا تھا وہ سوویت بیوروکریسی کا مسئلہ تھا۔ '[13]

یہ بیان بنیادی طور پر بلکل غلط ہے۔ ٹراٹسکی کے لیے سوویت بیوروکریسی کا مسئلہ انقلابی بین الاقوامیت کے سوال کے لیے مکمل طور پر ثانوی تھا۔ درحقیقت سٹالنسٹ بیوروکریسی کی اصل نوعیت کو سوویت یونین کے بین الاقوامی طبقاتی جدوجہد اور عالمی سوشلزم کی تقدیر سے تعلق کے تناظر میں ہی سمجھا جا سکتا ہے۔  اکتوبر انقلاب کے نتیجے میں وسطی اور مغربی یورپ میں محنت کش طبقے کی شکستوں کے نتیجے میں بالشویک پارٹی کے اندر ابھرنے والے اس رجعتی رجحان کو سمجھا جا سکتا ہے۔ سٹالنزم مارکسی بین الاقوامیت کے خلاف ایک قوم پرست ردعمل کی نمائندگی کرتا تھا۔ جیسا کہ ٹراٹسکی نے اپنے قتل سے صرف ایک سال پہلے لکھا تھا 'یہ کہا جا سکتا ہے کہ سٹالنزم کا سارا نظریہ نظریاتی سطح پر  مستقل انقلاب کے نظریہ کی تنقید سے پروان چڑھا جیسا کہ اسے 1905 میں وضع کیا گیا تھا۔'[14]

بیوروکریٹک آمریت کے خلاف لڑائی سوشلسٹ انٹرنیشنلزم کے پروگرام سے جڑی ہوئی تھی۔ موجودہ عالمی حالات میں تمام سیاسی کاموں پر بھی یہی سٹریٹیجک اصول لاگو ہوتا ہے۔ عصر حاضر کے عظیم مسائل کا کوئی قومی حل نہیں ہے۔

ٹراٹسکی کے نظریہ مستقل انقلاب نے بین الاقوامی طبقاتی جدوجہد کے معروضی حرکیات کا تجزیہ فراہم کیا جس پر عالمی سوشلسٹ انقلاب کی حکمت عملی کی بنیاد رکھی جانی تھی۔ لیکن ٹراٹسکی نے یہ بھی وضاحت کی کہ سوشلزم کی فتح سرمایہ دارانہ تضادات سے خود کار طریقے سے کام کرنے سے حاصل نہیں ہو گی۔ ان تضادات نے صرف معروضی حالات اور محنت کش طبقے کے اقتدار پر فتح کے امکانات پیدا کیے تھے۔ لیکن صلاحیت کا حقیقت میں بدلنا انقلابی پارٹی کے شعوری فیصلوں اور اقدامات پر منحصر تھا۔

فورتھ انٹرنیشنل کی 1938 کی بانی دستاویز میں ٹراٹسکی کا یہ اعلان کہ 'انسانیت کا تاریخی بحران انقلابی قیادت کے بحران میں سمٹ گیا ہے' محنت کش طبقے کی گزشتہ پندرہ برسوں کی شکستوں کے مرکزی اسباق کا خلاصہ تھا۔  جو دراصل سٹالنسٹ اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹیوں اور ٹریڈ یونینوں کی موقع پرستی اور غداری کا نتیجہ تھا۔

1926 میں برطانیہ میں عام ہڑتال کی شکست 1927 میں چیانگ کائی شیک کے ہاتھوں شنگھائی کے محنت کش طبقے کو کچلا جانا 1933 میں جرمنی میں نازیوں کی فتح اور  فرانس میں پاپولر فرنٹ کی سیاست کی طرف سے 1936 کی بڑے پیمانے پر ہڑتالیں کے بعد  محنت کش طبقے میں مایوسی اور پست حوصلے، 1939 میں ہسپانوی انقلاب کی شکست جیسے واقعات اور آخر کار ہٹلر کے ساتھ سٹالن کے معاہدے اور دوسری عالمی جنگ کے آغاز نے ملک کے وسیع طبقوں میں سوشلزم کے امکانات سے مایوسی اور بددلی کو جنم دیا۔ بائیں بازو کے دانشور  انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ان شکستوں نے یہ ثابت نہیں کیا کہ محنت کش طبقہ اقتدار پر قابض ہونے کی صلاحیت اور اہلیت نہیں رکھتا؟

ٹراٹسکی نے اس مایوسی کو سختی سے مسترد کر دیا اور اس  سوال کا جواب دیتے ہوئے بحث کو متحرک کیا۔ کہ سوشلزم کے حصول کی راہ میں رکاوٹ محنت کش طبقے کا 'غیر انقلابی' کردار نہیں تھا  بلکہ موجودہ ماس پارٹیوں کی بوسیدگی تھی۔ لیکن اس سے ایک اور سوال پیدا ہوا: کیا ایسی پارٹی بنانا ممکن تھا جس کے لیڈران انقلاب کے تقاضوں کے برابر ثابت ہوں؟ جن لوگوں نے اس امکان سے انکار کیا وہ انتہائی مایوس کن سیاسی نتائج کی طرف مڑ گئے یعنی سوشلسٹ انقلاب کے پروگرام نے ایک ناقابل تصور یوٹوپیا کو آگے بڑھایا جو کہ انسانیت کے بنیاد کے جوہر میں ناامید کا رجحان تھا۔ ٹراٹسکی نے 1939 کے موسم خزاں میں لکھا، 'ہمارے تمام مخالفین اس سوچ کا واضح طور پر اظہار  کرتے ہیں جن میں انتہائی بائیں بازو کے سینٹرسٹ، انارکسٹ، سٹالنسٹوں اور سوشل ڈیموکریٹس شامل ہیں ان سب نے شکست کی ذمہ داری اپنے پر قبول کرنے کے برعکس پرولتاریہ کے کندھے پر منتقل کر دیتے ہیں ان میں سے کوئی بھی قطعی طور پر اس بات کی نشاندہی نہیں کرتا ہے کہ پرولتاریہ کن حالات میں سوشلسٹ انقلاب لانے  کے قابل ہو گا۔'[15]

ٹراٹسکی نے بائیں بازو کے دانشوروں کی سیاسی مایوسی کے ماخذ کی نشاندہی کی تھی۔ محنت کش طبقے کی انقلابی صلاحیت کو مسترد کرنا دوسری  عالمی جنگ  کے بعد پیٹی بورژوا بائیں بازو کے ماہرین تعلیم کے اینٹی مارکسزم کی  بنیادی اساس تھی۔ ٹراٹسکی کے تاریخی نقطہ نظر کے خلاف اپنے دلائل کی ہدایت کرتے ہوئے (چاہے انہوں نے کھلے عام اس بات کو تسلیم نہ کیا ہو)  فرینکفرٹ اسکول نے مارکسزم کو محنت کش طبقے سے منقطع کرنے کی کوشش کی۔ مابعد جدیدیت پسندوں نے 'عظیم بیانیہ' کے خاتمے کا اعلان کیا جس نے تاریخ کو ایک معروضی قانون کے زیر انتظام عمل کے طور پر بیان کیا اور محنت کش طبقے کو معاشرے میں مرکزی انقلابی قوت کے طور پر شناخت کیا۔ سماجی فکر میں رجعت کا ناگزیر نتیجہ مارکسزم اور محنت کش طبقے پر مبنی سماجی انقلاب سے مکمل انکار تھا۔ اس رجعت کے دو سرکردہ نمائندوں کے طور پر ارنسٹو لاکاؤ اور چنٹیل موفے نے 1985 میں دو ٹوک اعلان کیا:

اس مقام پر ہمیں واضح طور پر بتا دینا چاہیے کہ ہم اب مارکسزم  کے بعد کے دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مارکسزم کے ذریعہ بیان کردہ موضوی  اور طبقات کے تصور کو برقرار رکھنا اب ممکن نہیں ہے اور نہ ہی سرمایہ دارانہ ترقی کے تاریخی دھارے کے بارے میں اس  نقط نظر کا کوئی امکان ہے.[16]

مارکسسٹ مخالف نظریات کی تردید واقعات نے کی ہے۔ صرف ٹراٹسکی تحریک نے اس کی توقع کی تھی اور اس نے طبقاتی جدوجہد کے عالمی ابھار کے لیے تیاری کی ہے جو اب جاری ہے۔ مستقل انقلاب کے نقطہ نظر کی بنیاد پر بین الاقوامی کمیٹی نے 1988 میں کہا:

ہم توقع کرتے ہیں کہ پرولتاریہ جدوجہد کا اگلا مرحلہ معروضی معاشی رجحانات اور مارکسسٹوں کے موضوی اثر و رسوخ کے مشترکہ دباؤ کے نیچے،

 ایک بین الاقوامی رفتار کے ساتھ  بے حد ترقی کرے گا۔ پرولتاریہ خود کو عملی طور پر ایک بین الاقوامی طبقے کے طور پر بیان کرنے کا زیادہ سے زیادہ رجحان رکھتا ہے۔ اور مارکسی بین الاقوامی ماہرین  جن کی پالیسیاں اس نامیاتی رجحان کا اظہار ہیں اس عمل کو فروغ دیں گے اور اسے شعوری شکل دیں گے۔[17]

عالمی سرمایہ دارانہ بحران اور عالمی طبقاتی جدوجہد میں تیزی سوشلسٹ انقلاب اور سرمایہ داری کے خاتمے کے لیے معروضی حالات فراہم کرے گی۔ ’’لیکن،‘‘ جیسا کہ ٹراٹسکی نے خبردار کیا، ’’عظیم تاریخی مسئلہ کسی بھی صورت میں حل نہیں ہو گا جب تک کہ انقلابی پارٹی پرولتاریہ کی سربراہی میں کھڑی نہ ہو جائے۔‘‘

وقت اور وقت کے وقفوں کا سوال بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن یہ نہ تو عام تاریخی تناظر کو بدلتا ہے اور نہ ہی ہماری پالیسی کی سمت  نتیجہ ایک سادہ سا ہے: یہ ضروری ہے کہ پرولتاریہ کے ہراول کو دس گنا توانائی کے ساتھ تعلیم اور منظم کرنے کا کام جاری رکھا جائے۔ بالکل یہ ہی فریضہ چوتھی انٹرنیشنل کے کا کام ہے۔[18]

پچھلی صدی کے تاریخی تجربات نے ان تمام سیاسی تحریکوں جماعتوں اور رجحانات کو اچھی طرح جانچا جو سرمایہ داری کے خلاف جدوجہد کی قیادت کرنے کا دعویٰ کرتی تھیں۔ لیکن بیسویں صدی کے انقلابات نے سٹالنسٹوں، سوشل ڈیموکریٹس، ماؤسٹوں، بورژوا قوم پرستوں، انارکسٹوں اور پابلوائٹس کے رد انقلابی کردار کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بین الاقوامی کمیٹی کی سربراہی میں صرف چوتھی انٹرنیشنل  تاریخ کی کسوٹی پر پورا اتری ہے۔ ہر براعظم میں محنت کش طبقے کی بین الاقوامی انقلابی سوشلسٹ تحریک اکیسویں صدی کے مارکسزم، ٹراٹسکی ازم کی نظریاتی اور سیاسی بنیادوں پر استوار ہوگی۔

یہ جلد وجے ڈیاس (27 اگست 1941 - 27 جولائی، 2022) کی یاد کے لیے وقف ہے جو چوتھی انٹرنیشنل کی  انٹرنیشنل کمیٹی کے ایک سرکردہ رکن اور پینتیس سال تک اس کے سری لنکا سیکشن کے جنرل سیکریٹری رہے۔ کامریڈ وجے جدوجہد کے دوران بڑھاپے میں اور بے پناہ جذبے کے ساتھ  اپنی جوانی کے نظریات کو برقرار رکھتے ہوئے انتقال کر گئے۔ اس کی وراثت - جرات، ٹراٹسکی اصولوں سے وابستگی اور سوشلزم سے لگن محنت کش طبقے کو عظیم طبقاتی لڑائیوں میں ایک متاثر کن مثال فراہم کرے گی جو بنی نوع انسان کی تقدیر کا فیصلہ کرے گی۔

ڈیوڈ نارتھ

ڈیٹرائٹ

4 اپریل 2023

[1]

چوتھی انٹرنیشنل کی انٹرنیشنل کمیٹی، یو ایس ایس آر میں کیا ہو رہا ہے: گورباچوف اور سٹالنزم کا بحران (ڈیٹرائٹ: لیبر پبلیکیشنز، 1987)، صفحہ۔ 12.

[2]

ڈیوڈ نارتھ، پیرسٹرریکا بمقابلہ سوشلزم: سٹالنزم اور یو ایس ایس آر میں سرمایہ داری کی بحالی (ڈیٹرائٹ: لیبر پبلیکیشنز، 1989) صفحہ۔ 49.

[3]

دی نیشنل انٹرسٹ، 19 (موسم گرما 1989)، صفحہ۔ 3۔

[4]

سرمایہ داری کی موت کی اذیت اور چوتھی انٹرنیشنل کا کام (عبوری پروگرام)،

https://www.marxists.org/archive/trotsky/1938/tp/tptext.htm#op

[5]

لینن کے بعد تیسری بین الاقوامی (سیکشن 2: امریکہ اور یورپ)،

https://www.marxists.org/archive/trotsky/1928/3rd/02

[6]

'جنگ اور چوتھی بین الاقوامی،' 10 جون 1934،

https://www.marxists.org/archive/trotsky/1934/06/w

[7]

' انتشار سے باہر کا آرڈر،' (Oder out of chaos)

https://www.marxists.org/archive/trotsky/1919/xx/or

8]

'قوم پرستی اور اقتصادی زندگی،'

https://www.marxists.org/archive/trotsky/1934/xx/n

[9]

'چین، جاپان اور یوکرین کی جنگ،' فنانشل ٹائمز، 27 مارچ 2023۔

[10]

رابرٹ جے الیگزینڈر، انٹرنیشنل ٹراٹسکی ازم 1929-1985: تحریک کا ایک دستاویزی تجزیہ (ڈرہم اور لندن: ڈیوک یونیورسٹی پریس، 1991) صفحہ۔ 32.

[11]

برٹرینڈ ایم پیٹناؤڈ کا امریکی تاریخی جائزہ، جلد 116 نمبر 3 (جون 2011)، صفحہ۔ 902; ڈیوڈ نارتھ کے ذریعہ ان ڈیفنس آف لیون ٹراٹسکی میں بھی حوالہ دیا گیا (اوک پارک، ایم آئی: مہرنگ بوکس، 2013)، پی پی 243-48۔

[12]

لیون ٹراٹسکی، 'مستقل انقلاب کیا ہے؟'، مستقل انقلاب،

https://www.marxists.org/archive/trotsky/1931/tpr/p

[13]

تھامس ایم ٹویس، ٹراٹسکی اور روسی انقلاب کے مسائل(ھے مارکیٹ بکسز شکاگو: 2014) صفحہ۔1۔

[14]

روسی انقلاب کے تین تصورات،' (1939)،

https://www.marxists.org/archive/trotsky/1939/xx/3concepts.htm

[15]

' یو ایس ایس آر جنگ میں ' مارکسزم کے دفاع میں، https://www.marxists.org/archive/trotsky/1939/09/ussr-war.htm

[16]

ارنسٹو لاکلاو اور چینٹیل موفی،بالادستی اور سوشلسٹ حکمت عملی: ریڈیکل جمہوری سیاست کی جانب(لندن اور نیویارک: ورسو) صفحہ۔4

[17]

ڈیوڈ نارتھ، ورکرز لیگ کی 13ویں نیشنل کانگریس کی رپورٹ، چوتھی انٹرنیشنل، جولائی-دسمبر 1988، صفحہ۔ 39.

[18]

سامراجی جنگ (1940) پر چوتھی بین الاقوامی کا منشور،

https://www.marxists.org/history/etol/document/fi/1949/emergconf/fi-emerg02.htm

Loading