یہ 16 اپریل 2023 کو انگریزی میں شائع ہونے 'Sudan fighting erupts between rival military factions backed by external powers' والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔
یہ لڑائی مہینوں کے بڑھتے ہوئے تناؤ کے بعد ہوئی ہے جو ملک کے کنٹرول کے لیے ایک ہمہ گیر جنگ میں تبدیل ہو گئی ہے۔ ریپڈ سپورٹ فورس (آر ایس ایف) کے نیم فوجی دستوں نے جس کی سربراہی وار لارڈ محمد حمدان دگالو کر رہے ہیں جو حکمران خودمختار کونسل کے نائب رہنما ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے پاس 100,000 جنگجو ہیں نے کہا کہ انہوں نے صدارتی محل، سرکاری ٹیلی ویژن سٹیشن، خرطوم ہوائی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جہاں دو فوجی سعودی جیٹ طیاروں اور دیگر اہم عمارتوں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ جبکہ فوج جس کی سربراہی آرمی چیف اور خودمختار کونسل کے رہنما اور قابض حکمران جنرل عبدالفتاح البرہان نے ان دعوؤں کی تردید کی۔
بحیرہ احمر پر واقع پورٹ سوڈان، مغربی دارفور، میرو اور جنوبی صوبوں سمیت ملک بھر میں مسلح جھڑپوں کی اطلاع ملی ہے اور دونوں فریقوں نے کلیدی تنصیبات کے کنٹرول کا دعویٰ کیا اور ایک دوسرے پر بغاوت کا الزام لگایا۔ مصری افواج کی سوڈانی فوج کے شانہ بشانہ میرو میں لڑنے کی اطلاعات سے خیال کیا جا سکتا ہے کہ خانہ جنگی کا وسیع خدشہ ہے جو پڑوسی ممالک کو لیپٹ میں لے رہا ہے جہاں قاہرہ میں 2020 میں مشترکہ مشقوں میں استعمال ہونے والے لڑاکا طیاروں کا اڈہ ہے۔
فضائیہ نے لوگوں کو گھر کے اندر رہنے کی تعقید کی ہے جب کہ خرطوم کے جڑواں شہر اومدرمان میں آر ایس ایف کے اڈے پر فضائی حملے کیے گئے اور سوڈانی فوج نے کہا کہ ہوائی اڈہ اور دیگر اڈے اس کے 'مکمل کنٹرول' میں ہیں۔ رہائشی علاقوں میں لڑائی ہونے کے ساتھ جہاں دونوں فریقوں کے دفاتر اور اڈے ہیں کم از کم 56 افراد کے ہلاک اور 600 سے زائد زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے جن میں عام شہری اور جنگجو بھی شامل ہیں۔ اتوار جو کام کا دن ہے حکام نے ریاست خرطوم میں چھٹی کا اعلان کرتے ہوئے اسکول، بینک اور سرکاری دفاتر بند کر دیے۔
یہ دونوں رہنما مغربی سوڈان کے دارفور میں جنگ کے دوران نمایاں ہوئے جہاں 2003 سے 2008 تک لڑائی میں 300,000 لوگ مارے گئے اور 25 لاکھ بے گھر ہوئے۔ البرہان ایک آرمی چیف تھے، جب کہ دگالو (جسے ہمدتی کے نام سے جانا جاتا ہے) کی قیادت میں بدنام زمانہ جنجاوید ملیشیا تنازعہ کے بدترین مظالم کی ذمہ دار ہے۔
البرہان کو مصر کے ظالم آمر عبدالفتاح السیسی کی حمایت حاصل ہے اور وہ فوج کے قریب ہیں جنہوں نے طویل عرصے سے سوڈان کے وسیع و عریض فوجی صنعتی کمپلیکس کو کنٹرول کیا ہے۔ مبینہ طور پر وہ یوکرین میں روس کے خلاف امریکہ، نیٹو کی جنگ میں امریکہ اور یورپی طاقتوں کا حامی ہے۔ ڈگالو جو دارفر کے سونے کی بنیاد پر بے حد امیر ہو گیا ہے، اسے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔ سونے کی برآمد کو کنٹرول کرتے ہوئے اس کے روس کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں جس کے ویگنر کرائے کے فوجی سوڈان اور پڑوسی وسطی افریقی جمہوریہ میں کام کرتے ہیں۔
تنازعے کے بھڑکنے سے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری انتونیو گوٹیرس سعودی اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ روس چین عرب لیگ اور افریقی یونین نے تنازعات کا شکار ملک کو پرامن رہنے کی اپیل کی ہے اور ساتھ ہی تنازعہ میں متعدد مسابقتی مفادات کی گواہی دی ہے۔ اتوار کی سہ پہر البرہان کی افواج نے خرطوم میں بظاہر برتری حاصل کر لی دونوں فریقوں نے اقوام متحدہ کی تین گھنٹے کے انسانی وقفے کی تجویز پر اتفاق کیا۔
طویل عرصے سے متوقع اقتدار کی کشمکش سے نہ صرف سوڈان بلکہ ہارن آف افریقہ (جزیرہ صومالیہ) کا بڑا علاقہ غیر مستحکم ہونے کا خطرہ ہے جو کہ خشک سالی اور قحط زدہ ہے اور شمار تنازعات سے گھرا ہوا ہے اور خلیجی طاقتوں امریکہ، یورپی یونین اور روس ان ممالک کے اثر و رسوخ کی جنگ کا میدان ہے۔
سوڈان کی فوج کے روس کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں جو بحیرہ احمر پر پورٹ سوڈان میں اڈہ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسکا زیادہ تر سونا روس برآمد ہوتا ہے جو کہ یو اے ای کے راستے جاتا ہے جو اسکی روس کو برآمدات کا 40 فیصد بنتا ہے۔ اس نے اقوام متحدہ والی قرارداد پر پابندی میں ووٹ نہیں دیا جو یوکرین پر روس کے حملے کی مخالفت میں تھی۔ جس سے بائیڈن انتظامیہ مشتعل ہوئی۔ واشنگٹن ایران، روس اور چین کے ساتھ سوڈان کے تعلقات منقطع کرنے، پورٹ سوڈان کو روسی بحریہ کے لیے بند کرنے اور اپنے علاقائی ایران مخالف اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے اور وہ سوڈان کے اس معاہدہ کے خلاف ہے جس کے لیے سوڈان نے اس سال کے شروع میں دستخط کیے تھے۔
یورپی طاقتیں سوڈان میں کسی بھی عدم استحکام سے بچنے کے لیے بے چین ہیں جو بحیرہ احمر کے ساتھ ساتھ ہارن آف افریقہ میں واقع ہے اور نہر سویز کے داخلی راستے پر جس سے تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے یا مہاجرین کی نئی لہر پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ اس نقط نظر سے کہ جب ایتھوپیا جو کہ افریقہ کا دوسرا سب سے زیادہ آبادی والا ملک اور ہارن کا پاور ہاؤس ہے ٹگراین باغیوں کے ساتھ دو سال سے جاری خانہ جنگی کو ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے پر پہنچ گیا ہے اسے اپنی علاقائی مسلح افواج کو قومی فوج میں ضم کرنے کے منصوبے پر صوبہ امہارا میں بڑے پیمانے پر بدامنی کا سامنا ہے۔ امہارا افواج نے ٹگراین کو شکست دینے میں کلیدی کردار ادا کیا جن کے ساتھ اس کے علاقائی تنازعات ہیں۔
ہفتے کے آخر میں تشدد کئی ہفتوں کی بڑھتی ہوئی کشیدگی فوج کی تعیناتی اور حفاظتی اقدامات میں اضافے اور آر ایس ایف کے منصوبہ بند انضمام کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں میں شورشوں میں ملوث سابق باغی ملیشیا کے ساتھ سوڈانی فوج میں شامل ہو جائے پر عوامی اور بین الاقوامی حمایت کے لیے تگ و دو کے بعد پھوٹ پڑا۔ سوڈانی فوج اس ماہ ہونے والے مذاکرات میں جو البرہان کے دھڑے کا ایک اہم مطالبہ تھا کہ ملک کو سویلین حکمرانی کی طرف لوٹانا اور دسمبر 2018 سے ملک کو لپیٹے ہوئے سیاسی اور اقتصادی بحران کا خاتمہ۔ جبکہ دگالو نے البشیر دور سے اسلام پسند طاقت کے دلالوں کے خاتمے اور فوج پر سویلین کنٹرول کا مطالبہ کیا تھا۔
اپریل 2019 میں اخوان المسلمون کی حمایت یافتہ صدر عمر البشیر کی فوجی آمریت کے خلاف مہینوں کے بڑے پیمانے پر مظاہروں کے بعد جسے قطر اور ترکی کی حمایت حاصل تھی فوجی سربراہ البرہان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور سعودی عرب کی حمایت سے البشیر کا تختہ الٹ کر پیشگی بغاوت کر دی۔ اس کا مقصد پورے ریاستی اداروں کا تختہ الٹنا نہیں تھا اور ان کے کافی مالیاتی اور کارپوریٹ اداروں کو ضبط کرنے کو روکنا تھا جو سوڈانی معیشت کے زیادہ تر حصے کو کنٹرول کرتے ہیں۔
اس کے بعد کے مہینوں میں اور ہزاروں سے زائد غیر مسلح مظاہرین کے فوج کے ہاتھوں قتل عام کے باوجود احتجاجی تحریک کے قائدین - آزادی اور تبدیلی کی قوتوں (ایف ایف سی) جو کہ 22 بورژوا اور پیٹی بورژوا گروپوں کا ایک امبریلا گروپ نے بشمول پیشہ ورانہ ٹریڈ یونینوں اور سوڈانی کمیونسٹ پارٹی نے فوج کے ساتھ سویلین حکمرانی کی واپسی کے بارے میں بات چیت کے امکان کو ظاہر کیا۔ سوڈان کی 1956 میں بغاوت اور فوجی حکمرانی کی برطانیہ سے آزادی کے بعد کی طویل تاریخ کو دیکھتے ہوئے اس طرح کا غدار راستہ فوج کو صرف ان معاشی اقدامات کو انجام دینے کے لیے ایک پردہ فراہم کر سکتا ہے جو ملک کو معذور کرنے والی امریکی پابندیوں کو ہٹانے اور بین الاقوامی قرضوں تک رسائی کے لیے درکار تھے۔
اس واقعے میں وزیر اعظم عبد اللہ حمدوک کی حکومت جو ایک برطانوی تربیت یافتہ ماہر اقتصادیات اور سوڈانی کمیونسٹ پارٹی کے سابق رکن ہیں، ایک عبوری 'ٹیکنو کریٹک' حکومت کے سربراہ کے طور پر قائم ہوئی لیکن حقیقی طاقت البرہان کی خودمختار کونسل کے پاس تھی چانچے یہ حکومت بہت کم عرصہ ایک دو سال تک چلی.
جب آزاد منڈی اور سیاسی اصلاحات بشمول ایندھن کی سبسڈی کے خاتمے، سینکڑوں ریاستی کمپنیوں کی نجکاری اور بدعنوانی کے خلاف کریک ڈاؤن اور البشیر اور فوج سے منسلک کمپنیوں کے ذریعہ ریاستی محصولات کی لوٹ مار نے جب فوج کی خاطر خواہ تجارتی، سیاسی استحکام اورسفارتی مفادات کو خطرہ لاحق کردیا۔ تو البرہان نے حمدوک اور اس کی 'ٹیکنو کریٹک' حکومت کو برطرف کر دیا اور اکتوبر 2021 میں فوجی حکمرانی دوبارہ شروع کر دی۔ اس نے گورننگ اور سرکاری اداروں کو جرنیلوں، اسلام پسندوں اور البشیر حکومت کے دیگر قابل اعتماد اتحادیوں کے ساتھ مل کر جبر سے دوبارہ اٹھنے والی احتجاجی تحریک کو روک دیا۔ بے محابا اہم اپوزیشن جماعتوں نے فوج کے ساتھ ایک اور غدار اور غیر مقبول معاہدے پر اتفاق کیا جس نے حمدوک کو بحال کیا جو کہ ہفتوں بعد حکومت سے الگ ہو گیا اور البرہان کو اقتدار میں چھوڑ دیا۔
اس کے بعد سے برہان اور ہمدتی کے تعلقات بڑھتے ہوئے تناؤ کا شکار ہیں جاری سماجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران جس کی وجہ سے 120 سے زیادہ شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ سوڈان کے 46 ملین افراد میں سے تقریباً 15 ملین کو خوراک اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے 2011 میں تیل کی دولت سے مالا مال جنوبی سوڈان کی علیحدگی اور سیاسی عدم استحکام، تنازعات اور تقریباً 30 لاکھ افراد کی بے گھر ہونے سے پیدا ہونے والا معاشی بحران سیلاب اور فصلوں کی تباہی نے بحران کو گہرا کر دیا۔
ایف ایف سی نے دگالو کی حمایت کی ہے جسے وہ اسلام پسندوں کے خلاف ایک متبادل کے طور پر دیکھتے ہیں اور دسمبر میں شہری حکمرانی میں واپسی کے لیے ایک تجدید شدہ فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے ہیں حالانکہ مقامی مزاحمتی کمیٹیوں نے اس معاہدے کی مخالفت کی ہے۔ اس معاہدے میں سابقہ حکومت کو ختم کرنے میں سرسرای بات کی گی ہے۔ مختلف باغی تحریکوں کے ساتھ جوبا امن معاہدہ جو تنازعات کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے اور سوڈان کے وسائل سے مالا مال مشرق میں بحران کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا جو کہ ہیروں اور سونے کی کانوں کا گھر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اہم بندرگاہ سوڈان جہاں مسلح گروہوں نے ملک کی بندرگاہوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور مزید خود مختاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ دعویٰ کہ کوئی بھی سویلین حکومت ایسی قوتوں کے ساتھ مل کر سوڈانی محنت کشوں اور دیہی عوام کو درپیش بے پناہ سماجی اور اقتصادی مسائل کو حل کرنے کی اہلیت رکھتی ہے ایک خطرناک جال ہے۔ ان مڈل کلاس قوتوں، لبرل پرتوں اور ان کے جعلی بائیں بازو کے حامیوں کا مقصد ایک سماجی انقلاب کو روکنا ہے جیسا کہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ کی تاریخ نے دکھایا ہے۔
فوجی جارحیت اور سامراجی اور علاقائی طاقتوں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے اور سوڈان میں جمہوری حکومت قائم کرنے کا واحد راستہ محنت کش طبقے کی قیادت میں انقلابی سوشلسٹ نقطہ نظر سے جدوجہد کرنا ہے۔ سرمایہ داری کے خلاف اور سوشلزم کی تعمیر کے لیے محنت کش طبقے کی وسیع بین الاقوامی جدوجہد کے تناظر میں اقتدار پر قبضہ کرنے اور حکومت کی ناجائز دولت کو ضبط کرنے کے لیے اس تناظر پر کی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے سوڈان میں فورتھ انٹرنیشنل کی بین الاقوامی کمیٹی کے سیکشن کے ساتھ ساتھ مصر اور شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک میں ان سیکشنز کی تعمیر کی ضرورت ہے۔
