اُردُو

روسی اور یوکرائنی محنت کش طبقے کے اتحاد کے لیے!

بالشویک لیننسٹوں کے ینگ گارڈ کے دو ارکان کی جانب سے انقلابی سلام

یہ 1 مئی 2023  کو انگریزی میں شائع 'For the unity of the Russian and Ukrainian working class!' ہونے والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔

یہ مبارکبادیں ینگ گارڈ آف بالشویک لیننسٹ (وائے جی بی ایل) کے دو نمائندوں نے 30 اپریل کو بین الاقوامی آن لائن یوم  مئی  ریلی 2023  میں دی تھیں جس کی میزبانی فورتھ انٹرنیشنل کی انٹرنیشنل کمیٹی نے کی تھی۔سابق سوویت یونین میں وائے جی بی ایل ایک ٹراٹسکیسٹ نوجوانوں کی تنظیم ہے جس نے آئی سی آئی ایف  کے ساتھ اپنی سیاسی یکجہتی کا اعلان کیا ہیاور انٹرنیشنل یوتھ اینڈ اسٹوڈنٹس فار سوشل ایکویلٹی (آئی وائے ایس ایس ای) میں شمولیت اختیار کی ہے۔ سٹیپن گیلر نے یوکرین میں وائے جی بی ایل  کے نمائندے کے طور پر ریلی سے خطاب کیا  اور آندرے رِٹسکی نے روس میں وائے جی بی ایل کی جانب سے اپنی مبارکباد پیش کی۔

یوکرین سے سٹیپن گیلر وائی جی بی ایل کی تقریر

میرا نام سٹیپن گیلر ہے۔ عزیز سامعین میں جنگ زدہ یوکرین سے میں آپ سے بات کر رہا ہوں۔ یہ جنگ امریکی سامراج، نیٹو اور پیوٹن حکومت نے شروع کی تھی۔ یہ ایک سامراجی جنگ ہے جو روس، یوکرین اور امریکہ کے پرولتاریہ کے مفاد میں نہیں بلکہ ان ممالک کے سرمائے کے مفاد میں لڑی جا رہی ہے۔ یہ جنگ سرمایہ داری نظام کا نتیجہ ہے جو ایک مہلک بیماری میں گھرا ہوا  ہے۔ اپنی آنے والی موت اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے لیس  سرمایہ داری تمام جانداروں کے لیے ایک قبر کھود رہی ہے تاکہ انہیں دفن کرنے سے پہلے دفن کیا جائے۔

کیا یہ سچ ہے کہ یوکرین کے تمام لوگ اس جنگ کی حمایت کرتے ہیں؟ میرا جواب ہے: نہیں! یہ دعویٰ کہ تمام یوکرین اس جنگ کی حمایت کرتے ہیں سراسر جھوٹ ہے۔ اس جنگ کی اصل حمایت  پرولتاریہ اور یوکرین کی آبادی نہیں ہے جن کی صورتحال خوفناک ہے۔ اس جنگ کا سب سے بڑا سہارا  اور حمایت یوکرین کے بورژوا قوم پرست ہیں اور جن کی وہ خدمت کرتے ہیں۔

ہم  بالشویک لیننسٹوں کے ینگ گارڈ کے آرتھوڈوکس ٹراٹسکیسٹ اس جنگ کی حمایت نہیں کرتے نہ یوکرین میں اور نہ ہی روس میں۔

بالشویک لیننسٹوں کے ینگ گارڈ کی طرف سے اس کی 5 سالہ سالگرہ کے اعزاز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ایک گرافک۔ [تصویر: ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس]

ہاں یوکرین میں ایسے لوگ ہیں جو خلوص دل سے یقین رکھتے ہیں کہ امریکی سامراج اس جنگ کو روک سکتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ 2014 کی بغاوت کے ذریعے قائم کی گئی حکومت کو فراہم کیے گئے اور اب زیلنسکی کی نمائندگی کرنے والے ہتھیار یوکرین کو فتح کی طرف لے جا سکتے ہیں اور اس جنگ کو ختم کر سکتے ہیں۔

لیکن درحقیقت امریکی سامراج اس جنگ کو  اور تیسری عالمی سامراجی جنگ کو ہوا دے رہا ہے۔ اس تیسری سامراجی جنگ کو بھڑکانے میں نہ صرف امریکہ، نیٹو ممالک اور کیف حکومت شامل ہے جس کی نمائندگی زیلنسکی کر رہے ہیں بلکہ ان حکومتوں کی خدمت کرنے والے بورژوا یوکرائنی قوم پرست بھی شامل ہیں۔ یہ قوتیں اپنے آپ کو فاشسٹ آرگنائزیشن آف یوکرائنی نیشنلسٹ (او یو این) اور یوکرائنی باغی فوج (یو پی اے) کے حامی اور نظریاتی پیروکار کہتی ہیں۔ انہوں نے مغربی یوکرین کی سرزمین پر عوام کے خلاف دہشت گردی اور قومی اور سیاسی نسل کشی کی ہے۔ انہوں نے یوکرائن کی سرزمین پر موت، خوف، غم اور آنسو بوئے ہیں۔ انہوں نے کسانوں کی جھونپڑیوں میں خون بہایا ہے اور کنویں لاشوں سے بھر دیے ہیں۔

23 مارچ 1943 کو لپنیکی میں یوکرین کی باغی فوج (یو پی اے) کے قتل عام کا شکار پولش شہری۔

ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس نے حال ہی میں ان مظالم کے بارے میں میرا مضمون شائع کیا، جسے بورژوا یوکرائنی قوم پرستوں اور اس جنگ کی حمایت کرنے والے جعلی بائیں بازو کے لوگوں نے افسانہ قرار دیا ہے اور اسے رد کرتے ہوئے کہا ہے ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ دوسروں نے اس کے نیچے دیئے گئے تبصروں میں پوچھا ہے، 'آپ بانڈرا کو کیوں چھو رہے ہیں جو 60 سال سے بھی زیادہ عرصہ پہلے مر گیا تھا اور بینڈروائٹس جن میں سے صرف  مٹھی بھر باقی رہ گے ہیں؟'

ایسے حضرات سے کوئی ایسا ہی سوال پوچھنا چاہے گا کہ آپ لینن کی یادگاروں کو کیوں تباہ کر رہے ہیں جو تقریباً 100 سال پہلے فوت ہو گیا تھا؟ آپ سوویت عوام کی یادگاروں کو کیوں تباہ کرتے ہیں جو یوکرائنی عوام کے لیے بھی وقف ہیں جو جرمن فاشسٹ حملہ آوروں پر فتح کی یادگار ہیں جب ان واقعات کو تقریباً 80 سال بیت چکے ہیں، جب اس جنگ کے بعد بھی بندرووائٹس کے جرائم کا ارتکاب کیا گیا تھا۔. کیا ان واقعات کو لوگوں کی یادداشت سے ختم کرنا اور ان لوگوں کی یاد کو مٹانا نہیں تھا اور پھر کیا کیا گیا؟

یوکرین کے قوم پرستوں نے لاویی میں لینن کا مجسمہ توڑ دیا۔ [تصویر از Andrijko Z. / CC BY-SA 4.0] [Photo by Andrijko Z. / CC BY-SA 4.0]

ہم جب اتنے سالوں کے بعد  یوکرین کے بورژوا قوم پرستوں اور ان کے جرائم کے بارے میں بار بار بولتے ہیں تو ہم یہ بات یوکرین کے محنت کش طبقے اور پوری دنیا کو یاد دلانے کے لیے کہتے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے خلاف جرم کس نے کیا  کس نے اس کا خون اور اس کے بچوں اور پوتوں کا خون بہایا۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے جنہوں نے جرمن، برطانوی اور امریکی سامراج کی خدمت کی ہے اور کر رہے ہیں جو محنت کشوں کا گلا گھونٹتے ہیں اور ان پر ظلم کرتے ہیں۔

کسی بھی ملک اور  کسی بھی قوم کے محنت کش طبقے کو پتہ ہونا چاہیے کہ بورژوا قوم پرستی نہیں بلکہ یہ پرولتاری انقلابی بین الاقوامیت ہے جو انہیں ان کے بچوں اور پوتوں کو غربت، جبر اور ناانصافی سے نجات دلا سکتی ہے۔ جہاں سرمایہ داروں کی خدمت اور حمایت میں بورژوا قوم پرست ہوتے ہیں انقلابی بین الاقوامی پرست صرف پرولتاریہ اور انقلاب کے مفادات کی خدمت کرتے ہیں نہ کہ بورژوازی کے اور نہ ہی سامراجی یا قومی مفادات کے لئے۔

محنت کش طبقہ اور انقلابی نوجوان اپنی بین الاقوامیت اور اتحاد سے ہی سامراجی جنگ کو روک سکتے ہیں۔ صرف بین الاقوامیت ہی غربت، انسانی جبر اور ناانصافی کو ختم کر سکتی ہے نہ کہ بورژوا اور پیٹی بورژوا قوم پرستی۔

سرمایہ داری کا خاتمہ ناگزیر طور پر جلد یا بدیر آئے گا۔ اسکا خاتمہ  دارالحکومت کے مرکز میں ایک بین الاقوامی ہڑتال کے تحت ہی آسکتا ہے۔ اس کی موت سے ایک نئی اور روشن زندگی کا راستہ کھل جائے گا جس میں آج کی زندگی کی تمام مصیبتیں اختتام پزیر ہو جائیں گی۔

آئیے 2023 کا یوم مئی ہم سب کو اس نئی دنیا کے اور بھی قریب لے آئے  جس کے لیے زمین کے حقیقی مالکان اور نئی دنیا کے معماروں نے جدوجہد کی ہے دنیا کے تمام ممالک اور براعظموں کے محنت کش ضرور لڑیں گے:۔

————————————————————————————

آندرے رِٹسکی، روس سے  وائے جی بی ایل  کی تقریر

آج  اس اہم سالانہ تقریب کے موقع  پر میں آندرے رِٹسکی بالشویک لیننسٹوں کے ینگ گارڈ کی جانب سے آپ سب کو مبارکباد بھیج رہا ہوں۔

آج روسی معاشرہ سوویت یونین کے انہدام کے بعد سے ایک ایسے سماجی اقتصادی بحران کا سامنا کر رہا ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس کا ایک واضح مظہر یوکرین میں جاری جنگ ہے۔

صرف 30 سال پہلے روس اور امریکہ ایک اور جوہری تخفیف اسلحہ کے معاہدے پر دستخط کر رہے تھے۔ لیکن اب ہم ان ریاستوں کے درمیان جوہری تباہی کے دہانے پر ہیں جن کے پاس دنیا کے تقریباً 90 فیصد جوہری ہتھیار ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں اس انحطاط کا احساس کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم  ماضی میں بہت دور نہ جاہیں۔

سوویت یونین کے جنرل سیکرٹری میخائل گورباچوف اور امریکی صدر رونالڈ ریگن نے 8 دسمبر 1987 کو وائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم میں انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ [کریڈٹ: وائٹ ہاؤس] [Photo: White House Photographic Office]

سوویت یونین کے انہدام کے ساتھ ہی امریکہ نے ایک 'یک قطبی' دنیا کا اعلان کر دیا جس میں امریکی سامراج کسی بھی ملک پر اپنی شرائط کا حکم لاگو کرے گا۔ اسی وقت  سرمایہ داری کی بحالی کے بعد قائم ہونے والی روسی فیڈریشن نے سامراجی ماحول کے ساتھ اپنے 'برابر تعاون' کا سلسلہ شروع کیا۔

ابتدائی طور پر امریکہ مساوی شراکت داروں کا کھیل کھیل سکتا تھا جب تک کہ وہ اپنی نظریں پورے یوریشیا کی بجائے جس میں روس کا بڑا حصہ ہے مشرق وسطیٰ کی طرف موڑنا زیادہ ضروری سمجھتا تھا۔ یلسن حکومت، جس کے بعد پیوٹن حکومت آئی  نے مغرب کے ساتھ اتحاد کی لائن کو آگے بڑھایا یہاں تک کے روس نے نیٹو میں شامل ہونا بھی ضروری سمجھا۔

تاہم نیٹو کی مشرق کی طرف توسیع اور یوکرین میں 2014 کے کودیتا کی واضع حمایت نے عیاں کیا کہ امریکی سامراج کے مفادات پیوٹن  حکومت کے مفادات کے بالکل برعکس ہیں جس نے کثیر قطبی تعاون کا خواب دیکھا تھا۔ یہ دوسری چیزوں کے علاوہ یوکرین میں موجودہ جنگ کا مقامی پیش خیمہ ڈون باس کے تنازعے میں بھی جھلکتا ہے۔

1949 کے بعد سے نیٹو کی مشرق کی طرف توسیع کو ظاہر کرنے والا نقشہ [تصویر بذریعہ پیٹرکنیل / CC BY-NC-SA 4.0] [Photo by Patrickneil / CC BY-NC-SA 4.0]

امریکہ میں داخلی بحران کی بڑھوتی نے سامراج کو توڑ پھوڑ پر مجبور کیا ہے۔ روس کے وسائل پر براہ راست کنٹرول امریکہ کے لیے اپنے بحران کو حل کرنے کے طور پر دیکھا جاتا  ہے  اور دیگر سامراجی اور بڑی  طاقتوں کے ساتھ مزید دشمنیوں میں پیش رفت کر سکتا ہے۔

 جدید روسی حکومت اسکے بدلے میں سوویت معاشرے کے بھرپور ورثے کے کھنڈرات پر ابھری ہے جسے سرمایہ دارانہ اشرافیہ نے لوٹ لیا تھا۔ اکتوبر انقلاب کے ثمرات کی سٹالنسٹ بیوروکریسی کی طرف سے آخری اور اٹل دھوکہ دہی اس عظیم ورثے کی فروخت کا باعث بنی اور جیسے استحصال اور جبر کے خلاف محنت کش طبقے نے خونی جدوجہد سے حاصل کیا گیا تھا۔

سٹالن ازم کا اصل وارث روسی اشرافیہ کا طبقہ خود کو سامراج کے حوالے کر کے اپنا مراعات یافتہ مقام کھونا نہیں چاہتا۔ اس لیے یہ اپنے دانت دکھاتا ہے اور نیٹو کے ساتھ فوجی تصادم کے لیے بھی تیار ہے۔

اس پوزیشن کا اظہار 24 فروری 2022 کو یوکرین پر حملہ کرنے کے مہم جوئی کے اقدام  میں کیا گیا ہے۔ سامراج کے ساتھ معاہدے کے یقین  پر مبنی  کمزور فوجی تیاری کے طور پر اسکا  یہ اقدام تیزی سے اس کی رجعتی اور محدود نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔

کریملن کے بیان کردہ اہداف کا نتیجہ اسکے بالکل برعکس نکلا۔ ابلیس  کے ساتھ معاہدے کے بجائے روس اس کے ساتھ ایٹمی جنگ کے راستے پر جا پہنچ  ہے۔ 'کثیر قطبی دنیا' میں یقین اور بورژوا شاونزم کا پلیٹ فارم سامراج کا مقابلہ کرنے سے پوری طرح عاجز ہے۔

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ کریملن کا واشنگٹن کے ساتھ کتنا ہی جھگڑا ہو  ان دونوں کی حکومتیں ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت کی مشترکہ بنیاد پر کھڑی ہیں۔ یہ دونوں محنت کش طبقے کی انقلابی امنگوں کے خلاف بورژوازی کے مفادات کا دفاع کرتے ہیں۔

یوکرائن کی موجودہ جنگ عالمی سرمایہ داری کے بڑھتے ہوئے بحران کا نتیجہ ہے۔ اس لیے اس جنگ کا حل اس بحران کے حل سے ہی ممکن ہے۔ یہ کہنا کہ سامراج اس بحران کو حل کرنے کے قابل ہے ماحولیاتی تباہی سے لیکر دہائیوں کی تباہی کی مذمت کرنا ہے جو اب  دنیا کو ایٹمی جنگ  کی جانب دھکیل رہا ہے۔ یہ کہنا کہ پیوٹن  جیسے بورژوا معذرت خواہ امن قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس بات پر یقین کرنا ہے کہ جڑوں کو چھوئے بغیر گھاس کاٹنا ممکن ہے۔

کریملن کو سامراجی حملے کی وجہ سے تباہی کے خطرے کا سامنا جو شدید سیاسی بحران کا شکار ہے۔ اس کی جھلک روسی حکمران طبقے کے اوپری حصے میں مسلسل جھگڑوں اور اس کی تیز رفتار زگ زیگس میں ہوتی ہے۔ اسکی جابرانہ آلات کی توسیع اور قوانین کو مزید سخت کرنے میں اور اسکولوں، یونیورسٹیوں میں اس کے عسکری پروپیگنڈے سے ہوتی ہے۔

پیوٹن ایک طرف خود کو استعمار کے خلاف جدوجہد کا وارث قرار دینے کے لیے تیار ہے تو دوسری طرف وہ روس کے بالشویک ماضی پر بہتان لگا رہا ہے۔ وہ استعمار کے خلاف حقیقی جنگجو لینن اور ٹراٹسکی پر حملہ کرتا ہے۔

روسی معاشرے کا طبقاتی زخم خود کو محسوس کر رہا ہے۔ محنت کش طبقہ تیزی سے یوکرائن میں جنگ کے جلد خاتمے کا خواہاں ہے اور یوکرائنی مزدوروں کی صورت حال سے ہمدردی رکھتے ہوئے اپنے جنگ مخالف موقف کا اظہار کرتا ہے۔ محنت کش طبقہ  جنگ شروع ہونے کے باوجود  پچھلے سال اپنی عسکریت پسندی کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا اور  مجھے یقین ہے اس سال اس کو وسعت دینے میں کامیاب ہو جائے گا۔

مزدور  سمجھتے ہیں کہ کریملن کی طرف سے جنگ کی مالی اخراجات ان کے خرچے اور ساتھ ہی دوسرے ممالک کے محنت کش طبقے کی جیب سے پورے کیے جاہیں گے۔ اسی طرح یوکرائنی، یورپی اور امریکی محنت کش طبقے اب زیلنسکی حکومت کے قرضے ادا کر رہے ہیں۔

زیادہ سے زیادہ مزدوروں کو اجرتوں میں کٹوتیاں اور یہاں تک کہ عدم ادائیگی کا سامنا ہے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں ہے کہ اجرتوں کی عدم ادائیگی گزشتہ سال مزدوروں کی جدوجہد میں اضافے کی بڑی وجہ تھی۔

روسی مزدور  دوسرے مزدوروں کی طرح عسکریت پسند ہیں۔ یہ ان کی ٹھوس جدوجہد میں بارہا ظاہر ہوا ہے۔ اس کی حالیہ مثال وائلڈ بیریز کمپنی میں ڈیلیوری ورکرز کی ہڑتال تھی۔

لیکن دنیا بھر کے روسی محنت کش بھائیوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ روس میں محنت کش طبقے کی سیاسی قیادت کا مسئلہ دنیا کے کسی بھی ملک سے کم سنگین نہیں۔ خود کو 'بائیں بازو' کہنے والی موجودہ سیاسی قوتیں بحران کا کوئی ایک بھی ترقی پسند حل پیش نہیں کرتی ہیں۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ جعلی بائیں بازو کی سیاسی قوتیں قوم پرست نقطہ نظر پر کھڑی ہیں۔ 'قانونی' قوتیں کریملن کی کھلم کھلا شاونسٹ پوزیشن پر کھڑی ہیں اور پیوٹن  کے یوکرین پر حملے کا دفاع کرتی ہیں۔ 'غیر قانونی' قوتیں زیادہ تر سامراج نواز یا قومی اصلاحی ایجنڈوں کو فروغ دیتی ہیں۔

وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جنگ بین الاقوامی بحران کا مظہر ہے نہ کہ قومی۔ اس لیے اس بحران کا حل صرف عالمی سطح پر ہی ممکن ہے جہاں اصل انقلابی موضوع محنت کش طبقہ ہے جو سرمایہ دارانہ ریاستوں کی قومی سرحدوں کے باوجود عالمی پیداوار کے دھاگوں سے جڑا ہوا ہے۔

وہ محنت کش طبقے کی عالمی پارٹی کے لیے جدوجہد کی مخالفت کرتے ہیں جو کہ بین الاقوامی تناظر کو آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھنے والی قومی پارٹیوں کی تعمیر کا نقطہ آغاز ہے۔

میں یہ کہہ کر بات ختم کرنا چاہوں گا کہ چوتھی انٹرنیشنل کی انٹرنیشنل کمیٹی اور دنیا بھر میں اس کے سکیشنز واحد انقلابی تنظیمیں ہیں جو قیادت کے بحران کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ اس حقیقت پر مبنی ہے کہ ہماری تحریک کے لیے پرولتاریہ کی صدیوں پر محیط تاریخی جدوجہد میں قائم کیے گئے انقلابی اصول پر استوار ہے اور ایک ایسی جدوجہد جس میں عظیم فتوحات اور تلخ شکستیں ہوئی ہیں یہ خالی الفاظ نہیں بلکہ ہماری زندگی کا حصہ ہیں۔   بربریت، استحصال اور عدم مساوات کے خلاف جدوجہد کی تاریخ ہے۔

اس سال لیون ٹراٹسکی کی قیادت میں بائیں بازو کی حزب اختلاف کی بانی کی سو سال مکمل ہو رہے ہیں بالشویک پارٹی جس نے  سوویت ریاست کے بیوروکریٹک اور قوم پرست انحطاط  جو کہ سٹالن کے اقتدار میں آنے کی شکل میں ہوا کے خلاف ایک طویل جدوجہد کی ہے۔

1928 میں سوویت بائیں بازو کی اپوزیشن کے جلاوطن رہنما بشمول وکٹر ایلٹسن (اوپر دائیں) اور ایگور پوزنانسکی (درمیان میں بائیں) [Photo: MS Russ 13 (T 1086), Houghton Library, Harvard University, Cambridge, Massachusetts]

اکتوبر انقلاب کی سٹالنسٹ غداری کے خلاف ٹراٹسکی تحریک نے جو جدوجہد شروع کی تھی اس کی تاریخ نے تصدیق کی ہے۔ بالشویک لیننسٹوں کا ینگ گارڈ انٹرنیشنل  کمیٹی کے بینر تلے روس کے اندر اور سابقہ ​​سوویت یونین میں ٹراٹسکی ازم کی بحالی کی مثال دیتا ہے۔

Loading