اُردُو

2001 سے امریکی جنگوں میں 4.5 ملین لوگ مارے جا چکے ہیں۔

یہ 19 مئی 2023 کو انگریزی میں شائع' US wars since 2001 have killed 4.5 million people' ہونے والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔

سموار کو جاری ہونے والی ایک تباہ کن رپورٹ میں جیسے براؤن یونیورسٹی کے جنگی منصوبے کی لاگت نے اندازہ لگایا ہے کہ 2001 میں 9/11 کے حملوں کے بعد سے امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی جنگوں کے نتیجے میں کم از کم 4.5 ملین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تحقیقی پروجیکٹ جس نے باقاعدگی سے ان جنگوں میں براہ راست ہلاکتوں کے بارے میں تخمینہ شائع کیا ہے- کافی حد تک اندازوں کو کم ظاہر کرتے ہوئے استمال کیا ہے اور موجودہ رپورٹ میں اپنی توجہ بالواسطہ طور پر اموات کی طرف مبذول کرائی جو کہ زراعت، صحت کی دیکھ بھال، نقل و حمل میں خلل کی وجہ سے ہوئیں ہیں۔ جو مجموعی طور پر معیشت کو جنگوں سے منسلک کر کے دیکھ گیا ہے۔

داخلی طور پر بے گھر ہونے والا ایک افغان بچہ 15 دسمبر 2019 کو کابل افغانستان میں کچرے کے ڈھیر میں پلاسٹک اور دیگر اشیاء تلاش کر رہا ہے جنہیں لکڑی کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ [اے پی فوٹو/الطاف قادری] [AP Photo/Altaf Qadri]

حیرت انگیز طور پر 4.5 ملین اموات میں افغانستان، عراق، لیبیا، صومالیہ، شام اور پاکستان کے وہ حصے شامل ہیں جو افغانستان میں جنگ کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ امریکی فوجیوں اور ٹھیکیداروں کی ہونے والی اموات، بشمول کینسر، خودکشی اور جنگوں کے دیگر نتائج کی وجہ سے بعد میں ہونے والی اموات توجہ کا مرکز نہیں ہیں۔

حالیہ امریکی جنگوں سے ہونے والی ہلاکتوں کی تخمینہ ان دعوؤں کو جھوٹ ثابت کرتی ہیں کہ امریکہ نے آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق کے دفاع کے لیے یوکرین کی جنگ میں مداخلت کی ہے۔ امریکی سامراج کرہ ارض پر سب سے زیادہ پرتشدد اور خون آلود طاقت ہے اور خطرہ یہ ہے کہ اگر روس کے خلاف پراکسی جنگ ایک عام تنازعہ کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور اس میں جوہری ہتھیار بھی استمعال ہوتے ہیں تو مرنے والوں کی تعداد ماضی کی 22 سال ہولناک تعداد سے بھی تجاوز کر جائے گی۔

 یہ رپورٹ غیر جانبدار اور ادبی زبان میں لکھی گئی ہے اور 'کسی ایک جنگجو کو براہ راست ذمہ داری سے منسوب نہیں کرتی ہے،' جنگ کی لاگت کے منصوبے کے شریک چیئر مصنف سٹیفنی سیویل کے مطابق ۔ بہر حال ہہ اندازے اور اس کے ساتھ دیے گئے حکایت 21 ویں صدی کے سب سے بڑے جرائم کے لیے ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں انتظامیہ کے تحت واشنگٹن کو اسکی ذمہ داری کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔

مطالعہ میں شامل ممالک میں آبادیاتی اعداد و شمار کے درست حصول تک رسائی کی مشکلات کو مند نظر رکھے ہوئے جن میں سے کئی اب بھی جنگی علاقوں میں شمار ہوتے ہیں، یہ ضروری سمجھا گیا کہ 'ہر ایک براہ راست موت کے لیے چار بالواسطہ کے اوسط تناسب کو لاگو کرکے ایک بڑا تخمینہ تیار کیا جائے۔' یہ جنیوا ڈیکلریشن سیکرٹریٹ کے 2008 کے مطالعے پر مبنی ہے جس نے 1990 کی دہائی کے اوائل سے تمام جنگوں کے جائزے میں پایا جاتا ہے جو کہ بالواسطہ اور براہ راست اموات کا تناسب تین سے 15 تک ہے۔

جنگ کی لاگت کے پروجیکٹ کے پچھلے مطالعات کی بنیاد پر جس نے ان جنگوں سے ہونے والی کل براہ راست اموات کا تخمینہ تقریباً 900,000 لگایا تھا (ایک کم حقیت پسند تعداد ہے جس کے مطابق صرف عراق جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 600,000 ہے جو دی لانسیٹ نے شائع کی ہے) جو بالواسطہ کل 3.6 ملین ہے اگر دونوں کو ایک ساتھ شامل کرنے سے پھر تمام اموات 4.5 ملین کا حتمی تخمینہ بن جاتی ہے۔

اس طرح کے اندازے کے لیے غلطی میں کمی بیشی چاہیے کچھ بھی ہو یہ بے قاعدہ اعداد و شمار بہ ذات خود ہی بڑی حد تک خوفناک ہیں۔ یہ '21 ویں صدی کی جنگوں' کے بے پناہ انسانی نقصان کا ان پر ایک کھلا الزام ہے جیسا کہ صدر جارج ڈبلیو بش نے افغانستان اور عراق میں پہلی دو جنگیں شروع کرنے پر انہیں بے دردی اور مسرت سے شروع کیا تھا۔ براک اوباما نے ان دو جنگوں کو جاری رکھا اور اس میں تین کو مزید شامل کیا گیا یعنی لیبیا اور شام اور یمن میں دو پراکسی فورسز کو استعمال کرتے ہوئے کیا گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن نے پانچوں کو کسی نہ کسی شکل میں جاری رکھا۔

جدید دور کے نیورمبرگ ٹرائل میں یہ چاروں صدور کٹہرے میں ہوں گے جن پر جارحیت کی غیر قانونی جنگیں کرنے اور اجتماعی موت اور مصائب کی ذمہ داری کا الزام عائد کیا جائے گا۔

ان جنگوں میں سے چھٹی صومالیہ میں جو دراصل بش کے والد نے 1992 میں ابتدائی امریکی مداخلت کے ساتھ شروع کی تھی۔ اس کے بعد سے ہر امریکی انتظامیہ نے فضائی حملوں، اسپیشل آپریشنز فورسز کے چھاپے اور ڈرون میزائل حملوں کے ساتھ ساتھ خوراک اور دیگر انسانی امداد کو کسی نہ کسی خطے یا پورے ملک کے لیے بند کر دیا ہے۔ ایتھوپیا اور کینیا سے بھی امریکی پراکسی فورسز نے ملک پر حملے کیے ہیں۔

جنگ کی لاگت کا پروجیکٹ ان جنگوں کے درمیان اور اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہونے والی اموات کی چار باہم منسلک بنیادی وجوہات بتاتا ہے:

  • معاشی تباہی، معاش کا نقصان، اور عدم تحفظ خوراک؛
  • عوامی خدمات اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی؛
  • ماحولیاتی آلودگی؛ اور
  • صدمے اور تشدد کی بازگشت۔

شاید سب سے زیادہ تباہی کا شکار ملک افغانستان ہے جس نے 20 سال امریکی قبضے اور جنگ کا تجربہ کیا سوویت یونین کے حملے کے بعد 10 سال کی گوریلا جنگ پھر طالبان کے اقتدار پر قبضے تک سات سال کی خانہ جنگی، اورامریکی حملے سے پہلے کی پانچ سال طالبان کی حکومت شامل رہی ہے۔

افغانستان میں آبادی کے تمام طبقات کے لیے اموات کی شرح اس خوفناک تاریخ کے کسی بھی دوسرے وقت کے مقابلے میں اب زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق:

افغانستان کی معیشت تباہ ہو چکی ہے اور اب نصف سے زیادہ آبادی انتہائی غربت میں زندگی گزار رہی ہے جو یومیہ ڈالر 1.90 سے بھی کم ہے۔ صورتحال انتہائی سنگین ہے: 95 فیصد افغانوں کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں مل رہا ہے اور خواتین کی سربراہی والے گھرانوں میں یہ تعداد 100 فی صد ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2022 میں 18.9 ملین افراد جو کہ ملک کی تقریباً نصف آبادی ہے شدید طور پر غذائی عدم تحفظ کا شکار تھے۔ ان میں سے 3.9 ملین بچے شدید غذائیت کا شکار ہیں یا ' کم وزن' جس کی انتہائی کم ضروری غذائی اجزاء کا استعمال کر رہے ہیں جس کے سنگین جسمانی نتائج ہیں۔ دس لاکھ افغان بچے موت کے خطرے سے دوچار ہیں۔

تمام تر ضروری مقاصد کے لیے چند بڑے شہروں سے باہر ملک میں صحت کی دیکھ بھال کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ: 'افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد صحت کی دیکھ بھال کے لیے تمام غیر ملکی فنڈنگ ​​اچانک بند ہو گئی اور ایک ماہ بعد افغانستان کی 80 فیصد سے زیادہ صحت کی سہولیات کے غیر فعال ہونے کی اطلاع ملی ہے۔'

دنیا میں نئے پیدا ہونے والوں کا سب سے برا حال ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ 'افغانستان میں جنوری سے مارچ 2022 کے درمیان دس میں سے ایک نوزائیدہ بچے کی موت ہوئی، جو کہ صرف تین ماہ میں 13,000 سے زیادہ ہے۔'

جیسا کہ ماہر بشریات انیلا دولت زئی نے کابل کے دورے کے بعد اس تحقیق کو بتایا کہ 'افغانستان جیسی جگہ میں اہم سوال یہ ہے کہ کیا آج کسی بھی موت کو جنگ سے غیر متعلق سمجھا جا سکتا ہے۔'

مطالعہ کیے گئے بیشتر ممالک میں، زراعت اور صحت کی دیکھ بھال کی تباہی جنگ کی غیر منصوبہ بند پیداوار نہیں تھی، بلکہ اس کا ایک لازمی ہدف تھا۔ رپورٹ کے مطابق شام میں:

شام روس اور امریکہ کی حکومتوں سمیت مختلف فریقین اور اسلامک اسٹیٹ اور النصرہ فرنٹ جیسے جنگجو گروپوں نے ہسپتالوں اور صحت کی سہولیات پر بمباری کی ہے۔

یمن میں امریکی حمایت یافتہ سعودی فوج نے آبادی کو بھوکا سے مارنے کی دانستہ کوشش میں کھیتوں، خوراک کے ذخیرہ کرنے کی سہولیات، گروسری، حتیٰ کہ ماہی گیری کی کشتیوں پر بمباری کی۔ عراق میں امریکی حملے سے پہلیامریکی بمباری نے صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات کے ساتھ ساتھ ادویات بنانے والی فیکٹریوں کو بھی نشانہ بنایا۔

عراق مشرق وسطیٰ میں صحت کی دیکھ بھال کے جدید ترین نظاموں میں سے ایک تھا۔ لیکن امریکی حملے کے پانچ سالوں کے دوران 2003 سے ملک کے نصف ڈاکٹروں نے ملک چھوڑ دیا جنکی مجموعی تعداد 18,000 تھی۔ 2014 میں آئی ایس آئی ایس کے عروج اور خانہ جنگی کے حالات میں اس میں مزید شدت آئی اور 5,400 ڈاکٹروں نے ملک چھوڑ دیا۔ اب صرف ایک بہت کم تعداد باقی رہ گی ہے۔

جنگ کی لاگت کا مطالعہ امدادی کارکنوں کے ساتھ ساتھ حکومتوں کی رپورٹوں پر مبنی بچوں کی غذائی قلت پر موجودہ رپورٹس مرتب کرنے میں کامیاب رہا۔ اس کا تخمینہ ہے کہ 'ان ممالک میں اس وقت 7.6 ملین بچے کمی نمو یا شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔' ان میں سے نصف افغانستان میں ہیں اور باقی یمن میں مجود ہیں۔

یمن میں سعودی حکومت نے سامراجی طاقتوں خاص طور پر امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ بموں اور جنگی طیاروں کا استعمال کرتے ہوئے جنہیں امریکی اور برطانوی فوجی افسران کی طرف سے اہدافی معلومات فراہم کی جاتی تھیں۔ ایک اندازے کے مطابق 33 ملین کی آبادی والے ملک پر 24000 فضائی حملے ہو چکے ہیں۔ ان حملوں میں سے 7,000 غیر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا 8,000 فوجی تنصیبات اور 9,000 اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن کا تعین نہیں کیا جا سکا۔

لیبیا میں یہ امریکہ ہی تھا جس نے 2011 میں امریکہ اور نیٹو دونوں نے ملک پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں دیرینہ حکمران معمر قذافی کی بے دخلی اور بہیمانہ قتل ہوا اور اس کے نتیجے میں جب ملک ایک طویل خانہ جنگی کے نتیجے میں ٹوٹ گیا۔ جنگ میں اسلامی عسکریت پسندوں کے کچھ کو امریکہ کی حمایت حاصل ہے کچھ اس کے خلاف ہیں جو اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

پینٹاگون کی رپورٹ کے مطابق قذافی کی جائے پیدائش سرت شہر میں جو اس وقت داعش کے زیر کنٹرول تھا، امریکا نے اگست سے دسمبر 2016 تک 500 فضائی حملے کیے 300 ڈرونز اور 200 انسان بردار طیاروں کے ذریعے کیے گئے۔ جیسا کہ جنگ کی لاگت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یہ 'شام اور عراق میں امریکی فضائی مہم کے تقابلی ادوار کے مقابلے میں زیادہ شدید بمباری تھی۔'

ان جنگوں کے لاتعداد دیگر نتائج بھی ہیں: بڑی مقدار میں نہ پھٹنے والا اسلحہ، ماحولیاتی انحطاط، وسیع پیمانے پر پی ٹی ایس ڈی اور دماغی صحت کے دیگر مسائل، سیوریج کے نظام کی تباہی اور صحت عامہ کے لیے دیگر بنیادی ڈھانچے کی تباہی۔ آخری ایشو پر رپورٹ نوٹ کرتی ہے: کہ 'پانچ سال سے کم عمر کے عراقی بچوں میں موت کا بنیادی سبب سانس کی نالی میں انفیکشن اسہال اور خسرہ ہیں۔'

ان جنگوں کے سب سے اہم نتائج میں سے ایک کروڑوں لوگوں کا بے گھر ہونا ہے۔ مطالعہ کا تخمینہ ہے کہ 9/11 کے بعد کی جنگوں سے 38 ملین لوگ بے گھر ہوئے ہیں، جن میں اکثریت بچوں کی ہے جو کہ (53 فیصد) ہے۔

شام کی جنگ سے پہلے کی آبادی کا نصف سے زیادہ بے گھر ہو چکا ہے: دوسرے ممالک میں 5.6 ملین پناہ گزین، 6.5 ملین اندرونی طور پر بے گھر افراد (اقوام متحدہ اور انسانی امداد کے گروپوں کی اصطلاح میں جیسے آئی ڈی پیز کہا جاتا ہے)۔ افغانستان میں 2022 میں 40 لاکھ بے گھر افراد تھے جن میں 60 فیصد بچے تھے۔ 2019 میں یمن میں 3.6 ملین بے گھر افراد تھے لیکن سمندر پار یا سعودی عرب کے راستے فرار ہونے میں دشواری کی وجہ سے بہت کم پناہ گزین تھے۔

رپورٹ اس نتیجے پر اختتام پذیر ہوتی ہے جو کہ قدرے مختصر یہ کہ وہ مختلف حکومتوں کو پالیسیوں میں تبدیلی کی اپیل کرتی ہے بشمول ریاستہائے متحدہ امریکہ کے جو کہ یہ واضح کرتا ہے کہ مصنف خود بھی اس پر یقین نہیں رکھتا۔ اچھی بات تو یہ ہے کہ ان تباہ کن حقائق اور اعداد و شمار کا واحد عقلی ردعمل سامراج اور اس کے تمام جرائم کا خاتمہ کرنے کے لیے بین الاقوامی محنت کش طبقے پر مبنی انقلابی سوشلسٹ تحریک کی تعمیر پر ہے۔

Loading