یہ 20 مئی 2023 کو انگریزی میں شائع ہونے 'US announces plans to send F-16 fighter jets to Ukraine' والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔
جمعے کو وائٹ ہاؤس نے روس کے ساتھ جنگ میں اپنی شمولیت سے لیکر اب تک کی سب سے بڑی لاپرواہی اور خطرناک حد تک اس میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس نے یوکرائنی پائلٹوں کو امریکی ساختہ ایف - 16 لڑاکا طیارے اڑانے کی تربیت دینے اور جوہری صلاحیت کے حامل طیارے میدان جنگ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے جاپان میں جی 7 سربراہی اجلاس میں صحافیوں کو بتایا کہ بائیڈن نے 'اپنے جی 7 ہم منصبوں کو مطلع کیا کہ امریکہ یوکرائنی پائلٹوں کو چوتھی نسل کے لڑاکا طیاروں بشمول ایف- 16 پر تربیت دینے کی مشترکہ کوشش کی حمایت کرے گا۔' انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس بات کا تعین کرے گا کہ طیارے کب فراہم کیے جائیں گے اور کتنی تعداد میں اور کون انہیں فراہم کرے گا۔
یوکرین میں اپنی پراکسی افواج کے لیے کئی بڑی فوجی پسپائی کے پیش نظر ریاستہائے متحدہ جنگ میں اپنی براہ راست شمولیت کو بڑے پیمانے پر بڑھا رہا ہے جس کے ممکنہ طور پر پوری انسانیت کے لیے تباہ کن نتائج ہوں گے۔
اگرچہ پہلی بار کئی دہائیوں پہلے اسے متعارف اور اترا گیا تھا ایف -16کو مسلسل اپ ڈیٹ کیا گیا ہے اور یہ دنیا کے سب سے زیادہ قابل، پیچیدہ اور مہلک ہتھیاروں کے نظام میں سے ایک ہے۔ 500 میل سے زیادہ کی رینج کے ساتھ یہ جوائنٹ ایئر ٹو سرفیس اسٹینڈ آف میزائل کو 1200 میل تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان ہتھیاروں سے ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ دونوں کو نشانہ بنانے کا مہلک خطرہ موجود ہے۔
گزشتہ مارچ میں پینٹاگون نے نیم متروک سوویت دور کے میگ -29 کو یوکرین بھیجنے کے منصوبے کو اس لیے مسترد کر دیا تھا کیونکہ یہ ' اسے روسی غلط سمجھتے ہوئے اور اس کے نتیجے میں انکا اہم ردعمل ہو سکتا تھا جس سے نیٹو کے ساتھ فوجی کشیدگی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔'
ایف-16 کو اس حد تک بھیجنے کے فیصلے پر یہ الفاظ کہیں زیادہ حقیقی طور پر درست لاگو ہوتے ہیں جس حد تک یوکرین میں جنگ قابو سے باہر ہو رہی ہے۔
ایم اون ابرامس جنگی ٹینک سے بھی بڑی حد تک ایف -16 لڑاکا طیاروں کو یوکرین بھیجنے میں نیٹو ممالک سے لاجسٹک انفراسٹرکچر اور سپلائی لائنوں کی یوکرین میں تعیناتی شامل ہوگی جس میں ممکنہ طور پر امریکی سویلین کنٹریکٹرز کی تعیناتی بھی شامل ہے تاکہ ان جدید ترین آلات کے نظام کو برقرار رکھنے میں مدد ملے۔
ایف -16 ریاستہائے متحدہ کے 'جوہری اشتراک' پروگرام کا کولھو کا بیل ہے۔ پورے پیمانے پر جوہری جنگ کی صورت میں، ترکی، جرمنی اور پولینڈ میں واقع ایٹم بم، جو ایف-16 لڑاکا طیاروں سے فراہم کیے گئے اسکے زریعے سب سے پہلے پھٹنے والوں میں شامل ہوں گے۔
یہ اعلان کہ نیٹو ایف-16 لڑاکا طیارے یوکرین بھیجے گا بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے عوام سے کیے گئے متعدد واضح وعدوں کی کھلی خلاف ورزی کا مترداف ہے جس کا مقصد آبادی کو یہ یقین دلانا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس روس کے ساتھ یوکرین کی جنگ میں اور مکمل جنگ میں اضافے سے بچنے کے لیے کوشاں ہے۔
مارچ 2022 میں بائیڈن نے زور دے کر کہا 'یہ خیال کہ ہم جارحانہ سازوسامان بھیجنے جا رہے ہیں اور امریکی پائلٹوں اور امریکی عملے کے ساتھ طیارے اور ٹینک اور ٹرینر جائیں گے تو بس پھر سمجھیں اور اپنے آپ کو بچہ نہ بنائیں اور چاہے آپ کچھ بھی ہوں۔ سب کہتے ہیں کہ اسے تیسری عالمی جنگ کہا جاتا ہے۔
مئی میں، بائیڈن نے کہا، 'ہم اس تنازعہ میں براہ راست ملوث نہیں ہوں گے یا تو یوکرین میں لڑنے کے لیے امریکی فوج بھیج کر یا روسی افواج پر حملہ کر کے۔ ہم یوکرین کو اس کی سرحدوں سے باہر حملہ کرنے کی حوصلہ افزائی یا اس اسے قابل نہیں بنا رہے ہیں۔
ایک ایک کر کے بائیڈن نے جنگ میں اپنی انتظامیہ کی شمولیت کو محدود کرنے کے لیے ہر ایک 'سرخ لکیر' کو عبور کر لیا ہے۔
جنوری میں بائیڈن انتظامیہ نے اعلان کیا کہ وہ نیٹو ممالک کے سینکڑوں دیگر اہم جنگی ٹینکوں کے ساتھ درجنوں ایم اون ابرامس جنگی ٹینک یوکرین بھیجے گا۔
اپریل میں افشا ہونے والی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ نیٹو کے خصوصی آپریشنز کے 97 فوجی یوکرین کے اندر تعینات ہیں ان کے ساتھ 71 فعال ڈیوٹی پر مامور امریکی فوجی اہلکار ہیں۔ وال سٹریٹ جرنل میں اس ہفتے شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق یہ فوجی 'فرنٹ لائنز کے بہت قریب سے کام کر رہے ہیں' اور 'یوکرین کی اسپیشل فورسز کی سرگرمیوں پر رہنما اثر' ہیں۔
یوکرین نے خود روس کے اندر حملے کرنے کے لیے ذاتی طور پر امریکی اجازت حاصل کی ہے اور فروری میں امریکی انڈر سکریٹری برائے سیاسی امور وکٹوریہ نولینڈ نے کریمیا کے اندر یوکرین کے حملوں کی کھلے عام حمایت کی۔ 'وہ جائز اہداف ہیں،' نولینڈ نے کہا۔ 'یوکرین انہیں مار رہا ہے۔ ہم اس کی حمایت کر رہے ہیں۔'
اب ایف -16 لڑاکا طیاروں کو بھیجنے کے ساتھ امریکہ نے ان خود ساختہ سرخ لکیروں میں سے آخری کو بھی عبور کر لیا ہے۔
لیکن جنگ کو آبادی کی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ یونیورسٹی آف میری لینڈ کے سروے کے مطابق پانچ میں سے صرف ایک امریکی جنگ میں امریکی شمولیت کو بڑھانے کی منظوری دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے جنگ کو بڑھانے کے اپنے منصوبوں کے بارے میں منظم طریقے سے جھوٹ بولا ہے اور اپنے نیٹو اتحادیوں اور کانگریس کے اراکین کی جانب سے عوامی 'دباؤ' کے جوابی ردعمل کے طور پر اپنے طویل منصوبہ بندی والے بڑھتے ہوئے اقدامات کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔
یہ وہ بیانیہ تھا جو امریکی میڈیا میں بار بار پیش کیا گیا۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا 'ایک سال سے زیادہ عرصے سے روس کے خلاف استعمال کرنے کے لیے یوکرین کے اوپر آسمانوں پر ایف-16 کو حاصل کرنے کی جستجو پرزور رہی ہے جس پر اچانک صدر بائیڈن نے ہاں کہہ دی،' واشنگٹن پوسٹ نے مزید لکھا۔
'امریکی، یورپی اور یوکرائنی حکام کے مطابق یہ تبدیلی اتحادیوں، کانگریس اور یوکرائنی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مسلسل دباؤ کا نتیجہ ہے جنہوں نے ابھی یورپی دارالحکومتوں کے دورے مکمل کیے ہیں۔'
اس بیانیے میں صرف ایک شکن ہے جسے نکالا جا سکتا ہے یعنی حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کم از کم جولائی 2022 سے ایف -16 لڑاکا طیارے بھیجنے کے منصوبوں پر کام کر رہا تھا اسی ماہ سٹریٹجک کمیونیکیشن کے لیے نیشنل سکیورٹی کونسل کے کوآرڈینیٹر جان کربی نے تصدیق کی کہ پینٹاگون 'یوکرینیوں کو لڑاکا طیارے فراہم کرنے' پر تبادلہ خیال کر رہا ہے اور فضائیہ کے جنرل چارلس کیو براؤن جونیئر نے زور دے کر کہا کہ یوکرین میں امریکی نیٹو جنگجو بھیجنے کے لیے 'بات چیت جاری ہے'۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ اعلان کہ وہ ایف -16 لڑاکا طیارے یوکرین بھیجے گا یوکرین میں فوجی شکستوں کے ایک سلسلے کے دباؤ کے تحت یہ جنگ میں مزید شدت پیدا کرنے کا مرحلہ طے کرتا ہے، جس سے دنیا کے دو سب سے بڑے جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کے درمیان بڑے پیمانے پر تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
