یہ 26 مئی 2023 کو انگریزی میں شائع ہونے 'The next escalation in the war against Russia: US sends largest warship ever constructed to Norway' اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔
گزشتہ ہفتے کے جی 7 اجلاس میں بائیڈن انتظامیہ کے اس اعلان کے بعد کہ وہ یوکرین کو ایف-16 لڑاکا طیارے بھیجے گا امریکہ اور اس کی یوکرینی پراکسی فورسز نے اشتعال انگیز کارروائیوں کا ایک سلسلہ جاری کر رکھ ہے جس کا مقصد تنازعہ کو مزید بڑھانا ہے۔
چونکہ یوکرائنی فوج کو زمینی جنگ میں فوجی حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جسکی سب سے واضح مثال باخموت ہے- امریکہ اور نیٹو طاقتیں اس تنازع میں اب فضائی، زمینی اور سمندری افواج کے ممکنہ براہ راست داخلے کی تیاری کر رہی ہیں۔
بدھ کو یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ ناروے کے شہر اوسلو پہنچا۔ یو ایس ایس فورڈ اب تک کا سب سے بڑا جنگی بحری جہاز ہے اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی طرف سے کمیشن کردہ اس طرح کے کیریئرز کی نئی نسل میں سے پہلا ہے۔
فورڈ کی قیادت میں کیرئیر اسٹرائیک گروپ میں دو جوہری طاقت سے چلنے والی حملہ آور آبدوزیں، دو ٹائکنڈیروگا کلاس کروزر اور تباہ کرنے والوں کا ایک سکواڈرن شامل ہے۔ سٹرائیک گروپ کی نگرانی میں ہزاروں کی تعداد میں بحری فوجی اہلکار درکار ہوتے ہیں جو روسی سرزمین کو نشانہ بنانے کے فاصلے پر کام سرانجام دیں گے۔
امریکی چھٹے بحری بیڑے کے کمانڈر وائس ایڈمرل تھامس ای ایشی نے وضاحت کی کہ اوسلو سے نکلنے کے بعد کیریئر اسٹرائیک گروپ 'نیویگیشن کی آزادی' جسکا مطلب ہے کہ ایسی کارروائیوں کو انجام دینے کے لیے شمالی آرکٹک کا کے اندار اور آس پاس طیش دلانے کے لیے پانیوں میں بحری جہاز سفر کرے گا۔
دوسرے لفظوں میں یہ بڑے پیمانے پر آرماڈا اپنے ہزاروں فوجیوں کے ساتھ روسی ساحلی پٹی کے قریب تیزی سے بڑھتی ہوئی پراکسی جنگ کے حالات میں سفر کرے گا جس کے بارے میں بائیڈن نے پچھلے سال کہا تھا کہ جوہری 'آرماگیڈن'(تباہی) کا خطرہ ہو گا۔
اس بڑے پیمانے پر آرماڈا کے پاس کون سے ہتھیار ہیں یہ عوام کو معلوم نہیں ہے۔ اگرچہ امریکہ کی اپنے جنگی جہازوں پر جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کی نہ تو تصدیق یا تردید کرنے کی پالیسی ہے لیکن امریکی فوجی تھنک ٹینک برسوں سے امریکی جہازوں پر ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کی وکالت کرتے رہے ہیں۔
ناروے میں کیرئیر کی تعیناتی تنازعات کے بڑے اضافے کے ایک سلسلے کا حصہ ہے۔
سموار کے روز انتہائی دائیں بازو کی روسی ملیشیا کا ایک گروپ جو یوکرائنی فوج کے ساتھ مل کر کام کر رہا تھا، روس میں داخل ہوا جس نے بیلگوروڈ کے علاقے پر کئی حملے کیے تھے۔ روسی حکام نے جو ملیشیا کی تصاویر دکھائیں وہ امریکہ کی فراہم کردہ گاڑیاں چلا رہے ہیں بشمول ایم آر اے پی ایس بھاری بکتر بند گاڑیاں جو عراق اور افغانستان میں امریکی جنگوں کے لیے تیار کی گئی تھیں۔
بدھ کے روز نیویارک ٹائمز نے ایک مضمون شائع کیا جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی سرکاری رہائش گاہ پر ڈرون حملوں کا سلسلہ یوکرائنی ریاست کے ایک دھڑے نے کیا جو مبینہ طور پر زیلنسکی یا امریکہ کی پیشگی معلومات فراہم کیے بغیر کیے گئے۔
شاید سب سے زیادہ اشتعال انگیز طور پر ڈائی ویلٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں یوکرین کی ملٹری انٹیلی جنس سروس کے نائب سربراہ وادیم اسکیبٹسکی نے کہا کہ یوکرین کی حکومت سرکاری طور پر پیوٹن کے قتل کی حمایت کرتی ہے اور اس لیے براہ راست روس کے اندر حملے کرتی ہے۔
ایک مضمون میں جس کا عنوان ہے 'پوٹن فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔ ہم اسے مارنے کی کوشش کر رہے ہیں،' اسکیبٹسکی سے پوچھا گیا کہ 'کون [قتل] کی فہرست میں سب سے اوپر ہے؟' جس پر انہوں نے جواب دیا 'پیوٹن کیونکہ وہ تمام عمل کی ہم آہنگی کرتے ہیں اور فیصلہ کرتا ہے کہ کیا ہونا چاہیے۔'
اس سے پوچھا گیا کہ 'کیا شمال میں روس میں بھی حملے آپ نے کیے ہیں جیسا کہ ریلوے، گوداموں اور ہوائی اڈوں پر؟' اس پر اسکیبٹسکی نے جواب دیا کہ 'تمام سامان روسٹوو سے یا کریمیا کے راستے آتے ہیں۔' انٹرویو لینے والے نے پوچھا 'اور آپ ان علاقوں پر بھی حملہ کریں گے؟' اسکیبٹسکی نے جواب دیا 'یقیناً اگر وہاں ایندھن، اسلحہ اور گولہ بارود ہے تو اسے تباہ کر دیا جائے گا۔
یوکرائنی انٹیلی جنس فورسز کے سربراہ کا سرکاری اعلان کہ روس کے صدر کو قتل کرنے کی کوشش کرنا ریاستی پالیسی ہے، امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے اس بیان کو مزید مذموم بنا دیتا ہے جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ قیادت پر اس طرح کے حملوں کی حمایت کرتا ہے' اس نے جواب دیا 'یہ یوکرین کے لیے فیصلے ہیں کہ وہ اپنا دفاع کیسے کرے گا۔'
واضح نتیجہ یہ ہے کہ روس کے اندر حملے بشمول پیوٹن پر قاتلانہ حملے جسے پریس اب تسلیم کرتا ہے کہ یوکرین نے کیا تھا - جو امریکہ کے قریبی تعاون اور منظوری کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔
امریکی حکام کھل کر روسی سرزمین پر حملوں کی وکالت کر رہے ہیں۔ جمعرات کو ایک انتہائی دائیں بازو کے رپورٹر نے ڈیموکریٹک کانگریس مین جیرولڈ نڈلر سے پوچھا 'کیا آپ کو اس بات کی فکر ہے کہ [یوکرینی افواج] روسی علاقے میں داخل ہو جائیں گی؟' جس پر نڈلر نے جواب دیا 'میں فکر مند نہیں ہوں۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو مجھے پرواہ نہیں ہوگی۔'
تنازع کو بڑھانے کی اشتعال انگیز امریکی کوششوں کے اپنے مایوس اور لاپرواہ ردعمل میں ماسکو نے اعلان کیا کہ وہ ہمسایہ ملک بیلاروس میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار نصب کرے گا۔ روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے کہا کہ روس اور بیلاروس کی مغربی سرحدوں پر خطرات کے انتہائی تیزی سے اضافے کے تناظر میں فوجی جوہری میدان میں جوابی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس ہفتے کے شروع میں ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ نے نوٹ کیا کہ یوکرین کو ایف-16 لڑاکا طیارے بھیجنے کا فیصلہ درحقیقت کئی مہینوں پہلے کیا گیا تھا جو روس کے ساتھ جنگ میں امریکی شمولیت کو بڑھانے کے طویل المدتی منصوبے کے حصے کے طور پر کیا گیا تھا۔ 'جب کہ بائیڈن انتظامیہ جنگ کو بڑھانے کے لیے ایک منظم منصوبے کے ساتھ کام کر رہی ہے' ہم نے لکھا 'اس کے تمام اقدامات بیرونی 'دباؤ' کے لیے نیم بے ساختہ رد عمل کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔'
جمعرات کو جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین مارک ملی کے بیانات سے تقریباً لفظ بہ لفظ اس تجزیہ کی تصدیق ہوتی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی 'یہ سوال نہیں ہے کہ کیا ہم بعد میں متفق ہوں گے یا ابھی متفق ہوں گے یا دباؤ میں۔ یہ اس کے ساتھ بالکل بھی نہیں ہے جو یہاں کیا جا رہا ہے۔ یہ سخت فوجی تجزیہ تھا جو لاگت فائدے اور خطرے کو دیکھتا ہے اور میدان جنگ میں اب اور مستقبل قریب میں اس کی کیا ضرورت ہے۔
میڈیا میں اعلان کے برعکس گزشتہ ہفتے کے آخر میں جی 7 سربراہی اجلاس میں بند کمرے کی ملاقاتیں لڑاکا طیاروں کو بھیجنے پر نہیں تھیں۔ بلکہ ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس نے لکھا انہوں نے اس اجلاس کی 'دو مقاصد کی تکمیل کی: پہلا سامراجی سازش کاروں کے پنجے میں کسی بھی مخالف کو صف میں لانا، اور دوسرا اس سوال پر بحث کرنا: آگے کیا کرنا ہے؟'
اس سوال کے جواب میں 'آگے کیا ہوگا؟' پیش رفت میں ابھرنے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ یوکرین میں فوجی ناکامیوں کا سامنا کرنا اور اندرون ملک بڑھتے ہوئے معاشی، سماجی اور سیاسی بحران اور سب سے بڑھ کر طبقاتی جدوجہد کے دھماکہ خیز نمو میں - سرمایہ دار حکمران اشرافیہ، جیسا کہ ٹراٹسکی نے دوسری عالمی جنگ کے موقع پر لکھا تھا، 'آنکھیں بند کر کے پہاڑ کی چوٹی سے برف پر پھسلنے والی گاڑی میں بیھٹے“ تیزی سے تباہی کی جانب رواں ہیں۔
