یہ 1 جون 2023 میں انگریزی میں شائع ہونے 'Political lessons of the 2023 Turkish presidential elections' والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔
اسلام پسند صدر رجب طیب ایردوان کا کمال کلیچ دار اولو کے خلاف الیکشن میں دوبارہ منتخب ہونا محنت کش طبقے کے لیے بین الاقوامی اہمیت کا حامل سیاسی تجربہ ہے۔ اور اُن تمام جعلی بائیں بازو کی سیاسی تنظیموں کو تباہ کن طور پر بے نقاب کرتا ہے جنہوں نے کلیچ دار اولو کو ایردوان کے خلاف ایک قیاس شدہ 'بائیں' یا 'جمہوری' امیدوار کے طور پر سپورٹ کیا۔
انتخابی نتائج نے چوتھی انٹرنیشنل کی انڑنیشنل کمیٹی (آئی سی ایف آئی) کے ترک سیکشن سوشلسٹ ایکویلٹی گروپ (ایس ای جی) کے تجزیے کی تصدیق کی ہے۔ کہ صرف محنت کش طبقے کی ایک تحریک جو ان دونوں قوتوں اردگان اور کلیچ دار اولو اور ان کے پیٹی بورژوا حامیوں سے آزاد رہتے ہوئے ہی محنت کشوں کے جمہوری حقوق اور سماجی حالات پر حکمران طبقے کے حملوں کو روک سکتی ہے اور ترکی کے قریب واقع یوکرین میں نیٹو روس جنگ کی مخالفت کر سکتی ہے۔
آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تیسری مدت کے لیے انتخاب لڑنے والے ایردوان نے الیکشن جیتنے کے لیے میڈیا سنسرشپ، پولیس کے زریعے ریاستی جبر اور ریاستی وسائل کے غیر قانونی استعمال کا سہارا لیا۔ تاہم یہ حقائق انتخابی نتائج کی وضاحت کے لیے کافی نہیں ہیں۔
ایردوان نے انتہائی نامساعد سیاسی حالات میں انتخابات میں حصہ لیا۔ وبائی مرض کے بارے میں ان کی حکومت کے ردعمل کی وجہ سے تقریبا 300,000 اضافی اموات ہوئیں۔ انہوں نے محنت کشوں سے حکمران طبقے کو دولت کی بڑے پیمانے پر منتقلی اور ترکی کے بینکنگ سیکٹر کے لیے ریکارڈ منافع کی صدارت کی ہے۔ یورپ اور بین الاقوامی سطح پر طبقاتی جدوجہد میں اضافے کے دوران زندگی کے بحران کی بڑھتی ہوئی قیمت نے 2022 میں ترکی میں ٹریڈ یونین سے آزاد ہڑتالوں کی ایک بڑی لہر کو جنم دیا ہے۔
اور وہ فروری میں آنے والے تاریخی زلزلے کی تباہی سے مزید بے نقاب ہوئے۔ اس کی وجہ سے ترکی میں کم از کم 50,000 اموات کو روکا جا سکتا تھا جو کہ غیر معیاری مکانات کی وجہ ہیں۔ کچھ لوگوں نے خبردار کیا ہے کہ اصل تعداد 150,000 تک ہو سکتی ہے۔
اگر اس کے باوجود ایردوان انتخابات جیتنے میں کامیاب رہے تو اس کی وجہ اسکے خلاف قیادت میں بورژوا حزب اختلاف کا سیاسی دیوالیہ پن ہے اور سب سے بڑھ کر کرد قوم پرست ایچ ڈی پی اور جعلی بائیں بازو کی جماعتیں جو اس کے پیچھے اسکی حمایت میں کھڑی تھیں۔
ترکی میں جہاں آبادی کی بھاری اکثریت یوکرین میں امریکہ نیٹو جنگ کی مخالفت کرتی ہے کلیچ دار اولو نے واضح طور پر نیٹو کے حامی امیدوار کے طور پر ایردوان کے خلاف مقابلہ کیا۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے ساتھ انٹرویو میں انہوں نے روس کے خلاف نیٹو کی جنگ میں انقرہ کو مزید شامل کرنے کا وعدہ کیا اور پھر بغیر کسی ثبوت کے روسی حکومت پر ترکی کے انتخابات میں مداخلت کا الزام لگایا۔
کلیچ دار اولو محنت کش طبقے میں ایردوان کے خلاف ابھرتی ہوئی تحریک کا مخالف تھا۔ بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں اور ترکی کی کاروباری فیڈریشنوں کے ساتھ قریبی تعلقات کا عہد کرتے ہوئے اس نے محنت کش طبقے کو اسٹریٹی کے سوا کچھ نہیں دیا۔
اور خاص کر دوسرے راؤنڈ سے پہلے کلیچ دار اولو نے فاشسٹ قوتوں سے اپیل کی اور پناہ گزینوں کو ممکنہ عصمت دری کرنے والوں اور مجرموں کے طور پر کھلے عام انکی مذمت کی اور انکے خلاف ویڈیوز شائع کیں۔ انہوں نے ایک انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد پر مہر ثبت کی جس کی بنیاد پر لاکھوں شامی، افغان اور عراقی پناہ گزینوں جو اپنے ممالک میں سامراجی جنگوں سے بھاگ آئے تھے انہیں دوبار ملک بدر کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس نے کردوں اور ان کے منتخب سیاست دانوں کو نشانہ بنانے کے عمل کو بڑھانے کا بھی وعدہ کیا اور کہا کہ وہ 'دہشت گردی کے خلاف لڑیں گے'۔
کلیچ دار اولو کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس فاشسٹ مہم کو وسیع تر عوامی حمایت نہیں ملی۔ ایردوان نے بالآخر 52 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوبارہ انتخاب جیت لیا۔
ترکی کے صدارتی انتخابات کا یہ نتیجہ ایک بار پھر ٹراٹسکی کے مستقل انقلاب کے نظریہ کی نفی میں تصدیق کرتا ہے۔ یہ نظریہ کہتا ہے کہ ترکی جیسے سرمایہ دارای میں تاخیر میں شامل ہونے والے ممالک میں بورژوازی جمہوری نظام قائم کرنے، نسلی خطوط سے بالا تر ہو کر لوگوں کو متحد کرنے یا سامراج کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے سے قاصر ہے۔ یہ جمہوری فریضہ محنت کش طبقے کے کندوں پر آتا ہے جنہیں سوشلسٹ اور انٹرنیشنلسٹ پروگرام کی بنیاد پر اقتدار حاصل کرنے کے لیے لڑنا پڑتا ہے۔
نہ صرف کرد قوم پرست ایچ ڈی پی بلکہ ترک جعلی بائیں بازو کے متعدد سٹالنسٹ اور پابلوائٹ رجحانات نے بھی اس اسٹریٹجک سمجھ کو مسترد کر دیا جس نے روس میں اکتوبر 1917 کے انقلاب کی بنیاد ولادیمیر لینن اور لیون ٹراٹسکی کی قیادت میں کی۔ ایچ ڈی پی اور جعلی بائیں بازو کے گروہوں نے تیزی سے دائیں طرف منتقل ہو کر محنت کش طبقے اور نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی ریڈیکلیزشن اور سرگرمیوں پر ردعمل کا اظہار کیا۔
یہ پارٹیاں بشمول سٹالنسٹ ورکرز پارٹی آف ترکی (ٹی آئی پی) جس نے 10 لاکھ ووٹ اور چار پارلیمانی نشستیں حاصل کیں، نے کلیچ دار اولو کی غلیظ مہم کی مکمل حمایت کرکے خود کو بے نقاب کیا۔ ان کے نعروں نے ایردوان کے خلاف 'فاشزم کی مخالفت' اور 'جمہوریت کا دفاع' کرنے پر کلیچ دار اولو کی تعریف کی۔ اس میں انہیں بین الاقوامی سطح پر اسی طرح کی جعلی بائیں بازو کی جماعتوں جیسے ڈیموکریٹک سوشلسٹ آف امریکہ (ڈی ایس) اور جرمنی میں لیفٹ پارٹی اور گرین پارٹی کی پرجوش حمایت حاصل ہوئی۔
تاہم حقیقت میں ان تمام جماعتوں نے ایک دائیں بازو کے سامراج نواز امیدواروں کو فاشسٹ قوتوں کے ساتھ کھلے عام اتحاد کیا۔ یہ ان تنظیموں کی ایک تاریخی نمائش تھی جو محنت کش طبقے کی بائیں بازو کی جماعتیں نہیں ہیں بلکہ درمیانے طبقے کی جعلی بائیں بازو کی جماعتیں ہیں جو سامراج کے ساتھ پوری طرح سے جڑی ہوئی ہیں۔
دراصل یہ تمام حقیقی انقلابی اور سوشلسٹوں کو روکنے کے لیے کام کرتے ہیں یعنی محنت کش طبقے کے اندر جیسا کہ ٹراٹسکی تحریک جو بورژوازی اور سرمایہ دارانہ نظام کی مخالفت کرتی ہے۔ انہوں نے محنت کشوں اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ محنت کش طبقے میں بڑھتی ہوئی مخالفت کے باوجود سامراج نواز دائیں بازو کے دو امیدواروں میں سے ایک کی حمایت کریں۔
2015 میں ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کے انٹرنیشنل ایڈیٹوریل بورڈ کے چیئرمین ڈیوڈ نارتھ نے ایک بین الاقوامی رجحان کے طور پر جعلی بائیں بازو کی درج ذیل تعریف کی:
جعلی بائیں بازو کی سیاسی پارٹیوں، تنظیموں اور علمی/ نظریاتی رجحانات کی تعبیر اس طرح سے کی جا سکتی ہے یہ متوسط طبقے کے مراعات یافتہ اور خوشحال درمیانے طبقے کے سماجی و اقتصادی مفادات کو فروغ دینے کے لیے پاپولسٹ نعروں اور جمہوری جملوں کا استعمال کرتے ہیں۔ … جعلی بائیں بازو مارکسسٹ مخالف ہیں۔ یہ تاریخی مادیت کو مسترد کرتے ہیں۔ … جعلی بائیں بازو سوشلسٹ مخالف ہیں جو طبقاتی جدوجہد کی مخالفت کرتے ہیں اور محنت کش طبقے کے مرکزی کردار اور معاشرے کی ترقی پسند تبدیلی میں انقلاب کی ضرورت سے انکار کرتے ہیں۔ یہ آزاد سیاسی تنظیم اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف محنت کش طبقے کے بڑے پیمانے پر متحرک ہونے کے برخلاف طبقے سے بالا تر پاپولزم کا ڈھول بجاتے ہیں۔ جعلی بائیں بازو کا معاشی پروگرام اپنی ضروریات میں سرمایہ دارانہ اور قوم پرستی کا حامی ہے۔
نارتھ نے یہ بھی وضاحت کی کہ جعلی بائیں بازو جو 'شناخت کی سیاست' کو فروغ دیتا ہے اور 10 فیصد امیر ترین آبادی کے درمیان دولت کی زیادہ سازگار تقسیم چاہتا ہے عام طور پر سامراج کا حامی ہے۔
ترک جعلی بائیں بازو کے گروپ اب ایردوان کے انتخاب کا جواب دائیں جانب اپنی تبدیلی کو جاری رکھتے ہوئے دے رہے ہیں۔ کلیچ دار اولو کے حمایتیوں کے سیاسی رجحانات نے اعلان کیا ہے کہ جن مزدوروں نے ایردوان کو ووٹ دیا وہ 'ناقابلِ درست' ہیں اور انہوں نے '48 فیصد' کی طرف رجوع کرنے کا عہد کیا جنہوں نے کلیچ دار اولو کو ووٹ دیا۔
ایس ای جی اس خصوصیت کو یکسر مسترد کرتی ہے جو محنت کش طبقے کے معروضی انقلابی کردار کی تردید کرتے ہیں اور مزدورں کو رجعت پسند قرار دیتے ہیں جب مزدوروں نے ایسے امیدوار کو ووٹ دینے سے انکار کر دیا تھا جو تارکین وطن سے فوبیا اور نفرت کو ہوا دیتے ہیں اور فاشسٹ بنیاد پر کرد مخالفت کی اپیل کرتے ہیں۔
ترکی میں 2023 کے انتخابات نے ایس ای جی کے سیاسی تناظر کی تصدیق کی ہے۔ ایس ای جی نے ایردوان اور کلیچ دار اولو کو بین الاقوامی محنت کش طبقے کے نقطہ نظر کی بنیاد پر اور سوشلزم کی جدوجہد اور سامراجی جنگ کے خلاف ان دونوں کو مسترد کر دیا۔ اس نے مہاجرین اور ترکی کی کرد اقلیت کے خلاف دونوں بورژوا امیدواروں کے قوم پرست پروپیگنڈے کو مسترد کر دیا اور اس نے مختلف پیٹی بورژوا قوم پرست، سٹالنسٹ اور پابلوائٹ رجحانات کی ناقابل مصالحت مخالفت کی جنہوں نے کلیچ دار اولو کی حمایت کا مطالبہ کیا۔ اپنے انتخابی بیان میں ایس ای جی نے وضاحت کی:
بین الاقوامی ٹراٹسکی تحریک کے بے پناہ تاریخی تجربے اور بورژوا اور متوسط طبقے کی جماعتوں سے محنت کش طبقے کی سیاسی طور پر آزاد اور خود مختار بنیادوں پر قائم کرنے کے لیے اس کی جدوجہد کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے یہ [ایس ای جی] ان انتخابات میں مداخلت کر رہی ہے تاکہ سیاسی مسائل کو سب سے زیادہ باشعور طبقوں کو سمجھایا جا سکے۔ محنت کش طبقے اور نوجوان کو ایک بین الاقوامی سوشلسٹ پروگرام پیش کرتے ہوئے اور یہ بتاتے ہوئے کہ انہیں کیا کرنا چاہیے نہ صرف انتخابات کے دن بلکہ اس کے بعد عملی سیاسی زندگی میں بھی۔
ایس ای جی کے پروگرام میں جس میں بنیادی جمہوری اور سماجی حقوق کے دفاع کے لیے عبوری مطالبات شامل تھے نے وضاحت کی کہ سرمایہ دارانہ ریاست کے خلاف ہر جگہ محنت کشوں کو تیزی سے کھڑا کرنے والے تنازعہ کو اور ریاستی طاقت کو 'اصلاحات' کے زریعے سے حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی سے محنت کش طبقے کو اقتدار کی منتقلی سے حل کیا جا سکتا ہے۔.
اس اسٹریٹجک تجربے سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس الیکشن میں محنت کش طبقے کو جن نازک مسائل کا سامنا تھا ان میں سے کوئی بھی الیکشن نے حل نہیں کیا۔ روس کے خلاف نیٹو کی جنگ تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور حکومت بڑھتے ہوئے بین الاقوامی مالیاتی بحران کے درمیان کارپوریٹ مالیاتی اشرافیہ کے مفادات میں سفاکانہ سماجی اسٹریٹی کی پالیسیاں شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ جلد ہی ایردوان کو محنت کش طبقے میں مخالفت کی ایک دھماکہ خیز تحریک کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ترکی میں 2023 کے انتخابات کا بنیادی سبق یہ ہے کہ محنت کش طبقے کو سرمایہ داری، پولیس جبر اور ریاستی حکمرانی اسٹریٹی اور جنگ کے خلاف جدوجہد کرنے کے لیے اپنی انقلابی قیادت کے قیام کی ضرورت ہے۔ انتخابی عمل نے ظاہر کیا کہ ایس ای پی واحد سیاسی رجحان ہے جو ترکی میں اس طرح کی قیادت بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ مزدور اور نوجوان جو جعلی بائیں بازو کے بند گلی کے انجام کو مسترد کرنا چاہتے ہیں اور بین الاقوامی سوشلزم کے لیے لڑنا چاہتے ہیں انہیں آئی سی ایف آئی کے ترک سیکشن کے طور پر سوشلسٹ ایکویلیٹی پارٹی کی تعمیر میں شامل ہونا چاہیے۔
