یہ 15 جون 2023 کو انگریزی میں شائع “Mass protests against anti-Russian law in Warsaw as Poland moves towards open war with Russia' ہونے والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔
4 جون بروز اتوار 1989 میں سٹالنزم کے خاتمے اور سرمایہ داری کی بحالی کے بعد پولش حکومت کے خلاف سب سے بڑے عوامی مظاہروں میں سے ایک وارسا میں ہوا۔ مبصرین نے وارسا میں نصف ملین مظاہرین کی بات کی جس کی آبادی 1.76 ملین ہے۔ مظاہرے میں شرکت کے لیے بہت سے لوگ پورے پولینڈ سے دارالحکومت پہنچے تھے۔
مظاہروں کی بنیادی وجہ حکمران انتہائی دائیں بازو کی لا اینڈ جسٹس پارٹی (پی آئی ایس) کی طرف سے روسی اثر و رسوخ کے خلاف ایک خصوصی کمیشن قائم کرنے کا ایک حالیہ قانون تھا۔ پارلیمانی کنٹرول سے باہر رہ کر اس ' نیم عدالت' نے 2007 سے 2022 تک ملک کے سیاست دانوں کے بارے میں سابقہ طور پر تفتیش شامل کرنا ہے۔ جیسا کہ ریاستہائے متحدہ میں 1950 کی دہائی کے اوائل میں کمیونسٹ مخالف اور سوویت مخالف میک کارتھائیٹ سماعتوں کے انداز میں روسی اثر و رسوخ کے خلاف' عوامی سماعتیں منعقد کریں گے۔ اگر کسی پر 'اثر' یا تعلق پایا جاتا ہے تو مدعا علیہم کو جرمانہ اور 10 سال تک سیاسی عہدہ رکھنے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔
ایک آزاد عدلیہ کے ڈی فیکٹو خاتمے کے ساتھ پارلیمنٹ کے اختیارات کو ختم کرنے اور اسقاط حمل اور آزادی اظہار جیسے جمہوری حقوق پر بڑے پیمانے پر حملے کے بعد یہ قانون پی آئی ایس کی آمرانہ حکومت قائم کرنے کی کوششوں میں مزید اضافے کی نمائندگی کرتا ہے۔
یہ بات چیت کی پیش رفت کے دوران سامنے آیا ہے کہ پولینڈ یوکرین میں روس کے ساتھ نیٹو کی جنگ میں کھل کر مداخلت کر سکتا ہے۔ پی آئی ایس نے قانون کو 'قومی سلامتی' کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔
احتجاج سب سے بڑھ کر حزب اختلاف کی سب سے بڑی پارٹی پلیٹ“فارما اوبی واٹیلسکا“(پی او، سیوک پیلٹ فارما) نے پارٹی لیڈر ڈونلڈ ٹسک کی قیادت میں منظم کیا تھا۔ یہ پارٹی اس قانون کو خاص طور پر اس موسم خزاں میں ہونے والے قومی انتخابات سے پہلے پی او اور ٹسک پر حملے کے طور پر دیکھتا ہے
مظاہرین بنیادی طور پر شہری متوسط طبقے سے آئے تھے اور اس احتجاج کی فوٹیج میں پولینڈ کے قومی پرچموں کے ساتھ ساتھ یورپی یونین اور یوکرین کے جھنڈوں کی کسیر تعداد کو بھی دکھایا گیا تھا۔ تاہم مظاہروں میں بہت سے نوجوان بھی شامل تھے اور کچھ پلے کارڈز پر سماجی مسائل جیسے کہ 18 فیصد سے زیادہ مہنگائی کو بھی نمایا کیا گیا۔ دوسروں نے مفت اسقاط حمل کے حق کا مطالبہ کیا۔
بلاشبہ پولینڈ کی آبادی میں سماجی عدم اطمینان اور دائیں بازو کی لاء اینڈ جسٹس پارٹی (پی آئی ایس) کی حکومت اور اس کے جمہوری حقوق پر حملوں پر غصہ بڑھ رہا ہے۔ تاہم اس سماجی اور سیاسی عدم اطمینان کو پی او اپوزیشن کی جانب سے دائیں بازو اور عسکری پسندی کے چینلز کی طرف فروخ دیا جا رہا ہے۔
پی او نے احتجاج کا وقت 1989 کے انتخابات کی 34 ویں سالگرہ کے موقع پر مقرر کیا۔ جس سے سولیڈیٹری تحریک کے سابق رہنما اور 1989 کے بعد پولینڈ کے پہلے صدر لیچ والیسا نے ریلی سے خطاب کیا۔
1989 کے انتخابات کے فوراً بعد سٹالنسٹ حکومت والی پولش عوامی جمہوریہ کی تباہی اور سرمایہ داری کی بحالی ہوئی جو پولینڈ اور پورے یورپ میں محنت کش طبقے کے لیے سماجی تباہی کا باعث بنی۔ سرمایہ داری کی بحالی ہی سے پی او اور انتہائی دائیں بازو کی حکمران جماعت دونوں ابھر کر سامنے آئی تھیں۔ اور یہ دونوں پارٹیاں یوکرین میں روس کے خلاف نیٹو کے جنگی حملے کی مکمل حمایت کرتی ہیں اور اپنی کمیونسٹ اور روس مخالف ایجی ٹیشن میں ایک دوسرے سے سبقت لینا چاہتی ہیں۔
پولینڈ بالٹک ریاستوں کے ساتھ روس کے خلاف نیٹو کی اہم فرنٹ لائن ریاست ہے۔ اس ماہ کے شروع میں نیٹو کے سابق سیکرٹری جنرل اینڈرس راسموسن نے اس نے خاص طور پر پولینڈ اور بالٹک ریاستوں کا نام لے کر اعلان کیا کہ یہ اتحاد روس یوکرین جنگ میں براہ راست فوجی مداخلت کر سکتا ہے۔ مارچ میں فرانس میں پولینڈ کے سفیر جان ایمریک روسکسزیوسکی نے دھمکی دی تھی کہ اگر یوکرین اکیلے روس کے خلاف کامیابی سے جنگ نہیں کر سکتا تو پولینڈ کے پاس 'تصادم میں داخل ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔'
وارسا پولینڈ کی فوج کو 250,000 فوجیوں تک بڑھانے کی بھی تیاری کر رہا ہے جو اسے یورپ کی سب سے بڑی فوجوں میں سے ایک بنا دے گا۔ اس کے علاوہ پولینڈ کی فوج 1,500 جنگی ٹینک حاصل کرنا چاہتی ہے جس سے پولینڈ کی فوج نیٹو کے اندر تیسری سب سے بڑی ٹینک فوج بن جائے گی۔ پولینڈ کی بورژوازی کے دونوں دھڑے محنت کش طبقے کی پشت پر ان دوبارہ اسلحہ سازی اور جنگی منصوبوں کو آگے بڑھ رہے ہیں۔
انتہائی دائیں بازو کے پی آئی ایس نے 2007 سے 2014 میں پولینڈ کے وزیر اعظم اور 2014 سے 2019 تک یورپی یونین کونسل کے صدر رہنے والے ٹسک پر 'روس دوست' اور 'جرمنی دوست' پالیسیاں رکھنے کا الزام لگایا۔ حقیقت میں تمام پولش بورژوا حکمرانوں کی طرح ٹسک نے ریاست کے سربراہ کے طور پر واشنگٹن کے ساتھ مل کر کام کیا۔ ٹسک حکومت نے بھی یوکرین میں اُس وقت مرکزی کردار ادا کیا جب امریکہ اور یورپی یونین نے فروری 2014 میں وکٹر یانوکووچ کی روس نواز حکومت کے خلاف کیف میں دائیں بازو کی بغاوت کی مالی معاونت اور تعاون کو منظم کیا۔
پولش بورژوازی کے دھڑوں میں خارجہ پالیسی اور خاص طور پر جرمنی کے ساتھ پولینڈ کے تعلقات پر دیرینہ تنازعات ہیں۔ دونوں جماعتیں سختی سے روس مخالف ہیں اور واشنگٹن کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔ پی آئی ایس کے برعکس جو اکثر شدید طور پر جرمن مخالف ہے تاہم پی او یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعاون کا حامی ہے اور سب سے بڑھ کر جرمنی کے ساتھ جس کی معیشت کا پولینڈ کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ ٹسک کو اُس وقت کی جرمن چانسلر انجیلا مرکل کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا خاص طور پر ان کی یورپی یونین کونسل کے صدر کی مدت کے دوران اور پی آئی ایس کی طرف سے انہیں 'جرمن امیدوار' قرار دیا گیا تھا۔
اگرچہ دونوں جماعتوں کے اتحادیوں اور جنگ کرنے کے طریقوں کے بارے میں تلخ تنازعات ہیں مگر دونوں روس کے خلاف جنگی بنیادوں پر ایک ہیں۔ درحقیقت ذرائع کے انتخاب اور دائیں بازو کی قوم پرست اور روس مخالف بیان بازی دونوں میں پی او اور پی آئی ایس میں بہت کم فرق ہے۔
حال ہی میں موسم خزاں 2022 میں پی او نے خود پی آئی ایس کی توانائی کی پالیسی کے بارے میں انکوائری کے ایک پارلیمانی کمیشن کی تجویز پیش کی، اور یہ دعویٰ کیا کہ یہ 'روس دوست' رہی ہے۔ پی او اپنی 2015 کی انتخابی شکست کا ذمہ دار بھی اس کی سماج دشمن پالیسیوں کی وجہ سے ایک وائر ٹیپنگ اسکینڈل پر عائد کرتا ہے جس کے لیے پی آئی ایس نے مبینہ طور پر روسی خفیہ سروس کے ساتھ اتحاد کیا تھا۔ خصوصی کمیشن پر پارلیمانی ووٹنگ کے دوران پی آئی ایس کے خلاف ناراض روس مخالف غصے حزب اختلاف کی صفوں سے آئے جس میں یہ الزامات بھی شامل ہیں کہ 'یہ قانون پیوٹن کی روح کا حامل ہے۔'
پولینڈ کی بورژوازی کے اندر دھڑے بندی اور روس کے خلاف پراسرار ایجی ٹیشن گہرے سماجی تناؤ اور روس کے خلاف پولینڈ کی براہ راست مداخلت کے لیے بہت آگے کی تیاریوں کی عکاسی کرتا ہے۔
اگرچہ یہ قانون پولینڈ کی بورژوازی کے اندر ایک تیز ہوتی ہوئی دھڑے بندی کی جدوجہد کا حصہ ہے لیکن اس کا بنیادی ہدف روس کے خلاف جنگ کے مخالفین ہیں اور محنت کش طبقے کے اندر جنگ مخالفت اپوزیشن ہے۔ درحقیقت روس مخالف ہسٹیریا اور دونوں فریقوں کی جنگ بندی کا مرکزی محرک پولینڈ میں دھماکہ خیز طبقاتی کشیدگی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
پولینڈ کی سرحدیں براہ راست یوکرین سے ملتی ہیں اور جنگ کے سماجی اور معاشی نتائج سے خاص طور پر متاثر ہوئی ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد لاکھوں یوکرین فرار ہو کر پولینڈ چلے گئے جہاں انہیں پولینڈ کے لاکھوں خاندانوں نے اپنے ذاتی اخراجات کے طور پر خود اپنے پاس رکھا کچھ شہروں میں تو آبادی میں ایک چوتھائی اور ایک تہائی یا نصف تک عملی طور پر راتوں رات اضافہ ہوا۔ ملک میں افراط زر کی شرح یورپ میں سب سے زیادہ ہے جو اب بھی 13 فیصد سے تجاوز کر رہی ہے۔
جنگ نے پہلے ہی یورپ کے سب سے زیادہ سماجی طور پر غیر مساوی معاشروں میں سے ایک کو شدید طور پر غیر مستحکم کر دیا ہے۔ سرمایہ دارانہ بحالی کے نتیجے میں سب سے اوپر 1 فیصد نے 1989 کے بعد سے اپنی آمدنی میں چار گنا سے زیادہ اضافہ کیا ہے اور نئے اعدادوشمار وبائی امراض کے دوران کروڑ پتیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔
اس کے برعکس 2020 میں تقریباً 2 ملین پولش ماہانہ 640 زلوٹی (تقریباً 144 یورو) کی آمدنی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کر رہے تھے جبکہ ان میں سے 1.7 ملین کام کر رہے تھے۔ 400,000 سے زیادہ بچے انتہائی غربت کے حال میں رہ رہے تھے۔ مجموعی طور پر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اُس سال کے دوران کل آبادی کا 41 فیصد سے زیادہ (15.5 ملین) غربت اور کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ان حالات میں، کورونا وائرس وبائی امراض کے اثرات سے بڑھ کر مہنگائی نے لاکھوں پولش مزدوروں اور ان کے خاندانوں کو تباہ کر دیا ہے۔
اب پولش بورژوازی کے تیار کردہ بڑے پیمانے پر فوجی اخراجات مزدوروں کے معیار زندگی پر مزید حملوں کا باعث بنے گے۔
روس کے خلاف نیٹو کی جنگ کو یوکرین سے پولینڈ تک اور پورے مشرقی یورپ میں پھیلانے کا خطرہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ پولینڈ اور پورے خطے کے محنت کش طبقے کو بورژوازی کے تمام دھڑوں سے آزادانہ طور پر سیاسی واقعات میں مداخلت کرنے کی ضرورت ہے اور اسکا انہیں سامنا ہے۔ اس کے لیے پورے یورپ اور بین الاقوامی سطح پر محنت کشوں اور نوجوانوں کی ایک سوشلسٹ جنگ مخالف تحریک کی تعمیر کی ضرورت ہے۔ ہم اپنے پولش قارئین سے کہتے ہیں کہ وہ ڈبلیو ایس ڈبلیو ایس سے رابطہ کرنے کے لیے اس جدوجہد میں شامل ہونے کے لیے اپنے کو تیار کریں۔
