اُردُو
Perspective

جاپان اور جنوبی کوریا کے سربراہان کے ساتھ بائیڈن کی جنگ کے بارے میں میٹینگ

یہ 22 اگست 2023 کو انگریزی میں شائع 'Biden’s war summit with Japan and South Korea' ہونے والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔

جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول بائیں اور جاپان کے وزیر اعظم فومیو کشیدا دائیں، صدر جو بائیڈن جمعہ 18 اگست 2023 کو کیمپ ڈیوڈ، صدارتی اعتکاف، میری لینڈ کے قریب ایک مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران خطاب کر رہے ہیں جس سے وہ دونوں سن رہے ہیں۔ [اے پی فوٹو/اینڈریو ہارنک] [AP Photo/Andrew Harnik]

گزشتہ جمعہ کو امریکی صدر جو بائیڈن، جاپانی وزیر اعظم فومیو کشیدا اور جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول کے درمیان ہونے والی کیمپ ڈیوڈ سربراہی ملاقات نے چین کے ساتھ جنگ ​​کے لیے امریکی مہم کو تیز کرنے کے لیے ایک بد شگونی کے طور پر سنگ میل کی حثیت سے دیکھا جا سکتا ہے۔

ایشیا میں 'امن و استحکام' کو برقرار رکھنے اور 'چین کو روکنے' کی آڑ میں امریکی سامراج اور شمال مشرقی ایشیا میں اس کے دو اہم فوجی اتحادی فوجی اور اقتصادی تعاون پر آمادہ ہوئے جس کا واحد مطلب جنگ کی تیاری ہے۔ ان میں سالانہ مشترکہ جنگی مشقیں، توسیع شدہ ملٹری انٹیلی جنس شیئرنگ، سپلائی چینز کا استحکام اور بحرانوں کا جواب دینے کے لیے تین طرفہ رہنماؤں کی ہاٹ لائن شامل ہیں۔

جاپان اور جنوبی کوریا جو دونوں بڑے امریکی اڈوں اور دسیوں ہزار فوجی اہلکاروں کی میزبانی کرتے ہیں کا فوجی تعاون اپنے جوہری ہتھیاروں سے لیس حریف کے ساتھ جنگ ​​کے امریکی منصوبوں کے لیے ضروری ہے۔ کسی بھی جدید تنازعہ میں مواصلات اور انٹیلی جنس کا اشتراک بہت ضروری ہوتا ہے۔ لیکن یہ خاص طور پر جاپان اور جنوبی کوریا میں جدید ترین اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹم کی ہم آہنگی کے لیے اہم ہے جو چین کے ساتھ جوہری جنگ کے لیے پینٹاگون کی حکمت عملی کے لیے اہم ہیں۔

یہ کہ بائیڈن جاپان کی کوریا پر وحشیانہ نوآبادیات کی وجہ سے پیدا ہونے والی دیرینہ دشمنی پر قابو پانے میں کامیاب رہا ہے جسے امریکی حکمران حلقوں میں سراہا گیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ میں ایک رائے میں اسے 'بائیڈن کی ایک بڑی کامیابی' کے طور پر سراہا جو 'شمالی کوریا اور چین سے بڑھتے ہوئے خطرات' کا مقابلہ کرنے کے لیے 'ایک نئے سہ فریقی اتحاد' کی طرف ایک اہم قدم کی نمائندگی کرتا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل نے 'شمالی ایشیا میں بائیڈن کی کامیابی' کے لیے ایک اداریہ مختص کیا جس میں سربراہی اجلاس کو ' ایک علامت اور ٹھوس متن کے طور پر ایک سفارتی کامیابی' قرار دیا۔ اس نے اس تنقید کو مسترد کر دیا ہے کہ یہ میٹنگ نیٹو جیسا معاہدہ قائم کرنے میں ناکام رہی ہے جس میں تینوں طاقتوں کو فوجی کارروائی کے لیے یکسو کیا جائے گا یہ کہتے ہوئے: 'امریکہ نے جاپان اور جنوبی کوریا میں فارورڈ فورسز کو تعینات کرتے ہوئے کسی کو یہ سوچنا نہیں چاہئے کہ اگر کسی ایک ملک پر حملہ کیا جاتا ہے تو یہ فوجی اپنی بیرکوں میں بیٹھیں رہیں گے۔

اسی وقت اداریہ نے بیان کیا کہ بائیڈن کو امریکی فوج کو فروغ دینے اور جاپان اور جنوبی کوریا کو چین کو اقتصادی طور پر کنارے کرنے کے لیے مزید بہت کچھ کرنا ہے۔ اس نے لکھا، 'ایک ایسے خطے میں جہاں چین فوجی اور اقتصادی غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہاں اس اثر و رسوخ کا کوئی دوسرا متبادل نہیں ہو سکتا جو امریکی فوجی طاقت اور آزاد تجارت کے ساتھ آتا ہے،' اس نے لکھا۔

اگرچہ شمالی کوریا کا تذکرہ ایک خطرہ کے طور پر کیا جاتا ہے لیکن کسی کو اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ کی قیادت میں بننے والے سہ فریقی فوجی اتحاد کا اصل ہدف چین ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ لاپرواہی سے یوکرین میں روس کے خلاف بڑھتی ہوئی جنگ میں مصروف ہے، امریکی سامراج چین کو دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکی عالمی بالادستی کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ میں قومی سلامتی کے مشیر ایلبرج کولبی کے ساتھ اس ماہ اخبار ڈیر اسپیگل کے انٹرویو کا عنوان یہ ہے 'عظیم طاقتوں کے تنازعہ میں امریکی حکمت عملی: شی پیوٹن سے زیادہ خطرناک ہیں۔' کولبی وہ شخصں ہے جن کے دادا صدر نکسن کے دور میں سی آئی اے کے سربراہ تھے 'مطالبہ کرتے ہیں کہ یوکرین میں جنگ کا بوجھ اکیلے یورپی ہی اٹھائیں گے۔ جرمن اخبار نے وضاحت کی کہ امریکہ کو چین کے ساتھ جنگ ​​کے لیے خود کو تیار کرنے کے لیے اپنے تمام وسائل کی ضرورت ہے۔

یوکرین کی جنگ کی طرح جو کہ سوویت یونین کی تحلیل اور 2014 میں کیف میں امریکی حمایت یافتہ انتہائی دائیں بازو کی بغاوت کے نتیجے میں روسی سرحدوں پر نیٹو کی مداخلت کا نتیجہ ہے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے امریکی تصادم کی جڑیں گہری تاریخی ہیں۔

1972 میں نکسن-ماؤ کی ملاقات کے بعد امریکی سامراج نے یو ایس ایس آر کے خلاف چین کا استحصال کیا۔ پھر جیسا کہ چینی کمیونسٹ پارٹی نے سرمایہ دارانہ بحالی کو قبول کیا چین کو سستی مزدوری کے آلہ ایک طور پر استعمال کیا گیا۔ تاہم دنیا کی دوسری بڑی معیشت بننے کے لیے چینی معیشت کی بہت ترقی نے واشنگٹن کی عالمی پوزیشن کو کمزور کرنا شروع کر دیا ہے۔

چین کے خلاف جنگ کے لیے امریکی تیاریوں کا آغاز اوباما انتظامیہ کے 'ایشیا کے گرد گھیر' تنگ کرنے کے ساتھ شروع ہوا - ایک ہمہ گیر سفارتی، اقتصادی اور فوجی حکمت عملی جس کا مقصد ایشیا میں چینی اثر و رسوخ کو کم کرنا بیجنگ کو چھوڑ کر ایک اقتصادی بلاک قائم کرنا اور پورے ملک میں امریکی فوجی قوتوں اور اتحاد کو بڑھانا ہے۔ انڈو پیسیفک علاقیکے لیے پینٹاگون کے فضائی اور بحری وسائل کا 60 فیصد مختص کرنے والا فوجی 'دوبارہ توازن' 2020 میں مکمل ہو گیا تھا اور فوجی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں۔

شمال مشرقی ایشیا [تصویر بذریعہ نارمن آئن اسٹائن / سی سی بائے۔ ایس اے 3.0] [Photo by NormanEinstein / CC BY-SA 3.0]

ٹرمپ انتظامیہ نے تصادم کو جاری رکھا چین پر تعزیری تجارتی محصولات اور اقتصادی پابندیاں عائد کیں جنہیں بائیڈن انتظامیہ کے تحت برقرار رکھا گیا ہے اور اس میں بہت زیادہ توسیع کی گئی ہے۔ 'قومی سلامتی' کے نام پر بائیڈن جنہوں نے اوباما کے دور میں نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دیں نے برآمدات پر پابندیاں عائد کی ہیں جس کا مقصد چینی ہائی ٹیک صنعتوں کو تباہ کرنا اور اقتصادی اور فوجی دونوں شعبوں میں امریکی تکنیکی غلبہ کو یقینی بنانا ہے۔

بائیڈن کا جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ سہ فریقی اتحاد قائم کرنا ان کے چار فریقی سیکورٹی ڈائیلاگ، یا کواڈ — ہندوستان، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ ایک نیم فوجی گروہ بندی کے بعد کا اقدام ہے۔ اس کے علاوہ پچھلے سال اس نے برطانیہ اور آسٹریلیا کے ساتھ آکس (اییوکییوایس) معاہدے کو باقاعدہ بنایا جو آسٹریلیا کو ایٹمی طاقت سے چلنے والی حملہ آور آبدوزیں فراہم کرے گا اور میزائل کی صلاحیت کو بہت زیادہ بڑھا دے گا جبکہ اسے امریکی افواج کے لیے مزید اڈے کھول کر چین کے ساتھ جنگ ​​کے لیے جنوبی لنگر میں تبدیل کر دے گا۔

ایشیا میں امریکی حکمت عملی یوکرین کی جنگ کے ساتھ ایک مناسبت رکھتی ہے۔ جس طرح اس نے ماسکو کو یوکرین پر حملہ کرنے پر اکسایا ہے اسی طرح امریکہ جان بوجھ کر تائیوان کی حیثیت کے سوال پر چین کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کی تمام بنیادوں کو کمزور کر رہا ہے۔ واشنگٹن نے ون چائنا پالیسی کو توڑ دیا ہے جس کے تحت اس نے بیجنگ کو تائیوان سمیت تمام چین کی ڈی فیکٹو جائز حکومت کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ تائیوان کے ساتھ اقتصادی اور فوجی انتظامات کو فروغ دے کر واشنگٹن بیجنگ کو جزیرے پر حملہ کرنے اور جنگ کا بہانہ فراہم کرنے کا طعنہ دے رہا ہے۔

دنیا تیزی سے دوسری عالمی جنگ سے پہلے کے پاگل خانے سے مشابہت اختیار کر رہی ہے اقتصادی بلاکس اور فوجی معاہدوں کی تشکیل کے ساتھ جو ایک تباہ کن عالمی تنازعہ پر منتج ہوا جس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کی جانیں گئیں۔ امریکی سامراج اور اس کے اتحادیوں کی جارحانہ حکمت عملی کے جواب میں چین اور روس ایک ساتھ اکھٹے ہو رہے ہیں۔ برکس کے موجودہ سربراہی اجلاس جس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ کے رہنما شامل ہیں، چینی صدر شی جن پنگ امریکی اقتصادی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کی توسیع اور ایک گروپ میں تبدیلی پر زور دے رہے ہیں۔

عالمی جنگ کی طرف تیزی سے ڈوبنے کی بنیاد امریکی سامراج پر مرکوز عالمی سرمایہ داری کا گہرا بحران ہے، جو اپنے عالمی تسلط کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی چیز سے باز نہیں آئے گا۔ سوشلسٹ ایکویلٹی پارٹی (یو ایس) کے 2023 کے انٹرنیشنل سمر سکول کے اپنے تعارف میںورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کے چیئرمین ڈیوڈ نارتھ نے وضاحت کی:

بحران کے بنیادی طور پر وجودی کردار کو سمجھنے کے لیے اس بات کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ اس جنگ کو دانستہ طور پر اکسایا جانا اور جوہری ہتھیاروں سے لیس دو طاقتوں روس اور چین کے ساتھ تصادم کو بڑھانے کا لاپرواہ عزم محض غیر معقول جارحیت کا نتیجہ نہیں ہے۔ جیسا کہ 1930 کی دہائی میں، حکمران طبقات کو جنگ کے علاوہ اپنے بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ 1938 میں ٹراٹسکی نے عبوری پروگرام کے آغاز میں لکھا تھا کہ سامراجی طاقتیں دوسری عالمی جنگ کو روکنے کی اس سے بھی کم صلاحیت رکھتی ہیں جتنا کہ وہ پہلی جنگ عظیم کے موقع پر تھیں۔ شمالی امریکہ اور یورپ کے سرمایہ دار اشرافیہ تیسری عالمی جنگ عظیم کو روکنے کی کم اہلیت رکھتے ہیں جتنا کہ وہ دوسری جنگ عظیم کو روکنے میں تھے۔

یہ مان لینا چاہیے کہ بائیڈن انتظامیہ اس اعلیٰ امکان سے پوری طرح بے خبر نہیں ہے کہ جوہری جنگ کے نتیجے میں دسیوں یا سو ملین افراد ہلاک ہوں گے اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی تباہی ہو گی۔ لیکن اس کا مطلب صرف یہ ہو سکتا ہے کہ حکمران اشرافیہ جوہری جنگ کو ایک خطرے کے طور پر دیکھتی ہے جسے امریکی سرمایہ داری کی بقا کے لیے اور بھی زیادہ اہم مقاصد کے حصول کے لیے لینا چاہیے۔ مزید برآں حکمران طبقے کے نقطہ نظر سے سرمایہ داری کے بغیر امریکہ ایک ایسا ملک ہے جو وجود کے طور پر قابل نہیں ہے۔

تاہم ایٹمی ہولوکاسٹ میں لپٹی ہوئی دنیا ناگزیر نہیں ہے۔ سرمایہ داری کے وہی تضادات جو جوہری تصادم کی طرف گامزن ہیں بین الاقوامی محنت کش طبقے کی جدوجہد میں اضافے کو ہوا دے رہے ہیں جو پہلے سے زیادہ معاشی بوجھ اٹھانے پر مجبور ہے۔

ایسی تباہی کو روکنے کے لیے محنت کشوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جنگ اور اور انکے خلاف طبقاتی جنگ لڑی جا رہی ہے وہ ایک ہی ہے یعنی منافع کا نظام اور حریف قومی ریاستوں میں اس کی دیوالیہ تقسیم کی بنیا د ہے۔ جنگ کو روکنے کے لیے سرمایہ داری کا تختہ الٹنے اور سوشلزم کے قیام کے لیے محنت کش طبقے کی بین الاقوامی جنگ مخالف تحریک سے زیادہ کسی اور چیز کی اہمیت نہیں ہے۔ یہی وہ انقلابی نقطہ نظر ہے جس کے لیے فورتھ انٹرنیشنل کی بین الاقوامی کمیٹی عالمی ٹراٹسکیسٹ تحریک لڑ رہی ہے۔

Loading