اُردُو
Perspective

برطانوی حکومت روس کے خلاف جنگ میں فوج بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔

یہ 2 اکتوبر 2023 کو انگریزی میں شائع  'British government prepares to send troops into the war against Russia' ہونے والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔

ولنیئس، لتھوانیا کے قریب برطانوی فوجی فوجی مشق 'آئرن سورڈ 2014' میں شرکت کر رہے ہیں۔ (اے پی فوٹو/مائنڈاگاس کلبیس، فائل)

ہفتے کے روز برطانوی وزیر دفاع گرانٹ شیپس نے یوکرین میں براہ راست برطانوی فوجیوں کی تعیناتی کے امکانات کا حوالہ دیا ہے جو بظاہر یوکرائنی افواج کے لیے بطور تربیت سر انجام دیں گے۔

انہوں نے دی ٹیلی گراف کو بتایا کہ 'خاص طور پر ملک کے مغرب کی طرف میرے خیال میں ملک میں مزید چیزیں حاصل کرنے کا موقع ہے،'

'میرے خیال میں ملک میں مزید تربیت اور پیداوار حاصل کرنے کے لیے ایک اقدام ہو گا،' شیپس نے مزید کہا۔ اس نے روس کے بحیرہ اسود کے بحری بیڑے کے خلاف جنگی کارروائیوں میں رائل نیوی کی براہ راست شمولیت کے امکانات کے سوال کو بھی اٹھایا یہ اعلان کرتے ہوئے کہ 'برطانیہ ایک بحری قوم ہے اس لیے ہم مدد کر سکتے ہیں۔'

برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سنک نے مؤثر طریقے سے شیپس کے دعووں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا، 'جو کچھ وزیر دفاع کہہ رہے تھے وہ یہ تھا کہ مستقبل میں ایک دن یہ ممکن ہے ہم اس تربیت کا ایک حصہ یوکرین میں کریں۔'

ان بیانات کو انتباہ کے طور پر لینا چاہیے: اگر یوکرین میں نیٹو فوجیوں کی تعیناتی کے منصوبے پر عوامی سطح پر بات کی جا رہی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ پہلے ہی کر لیا گیا ہے۔ خفیہ طور پر کام کرنے والے ایک سیاسی اور فوجی کیبل نے ابتدائی طور پر انہیں 'مشیر' “ماہرین“ یا 'محافظ' کے طور پر کہا جا سکتا ہے لیکن انکی حکمت عملی واضح ہے: برطانوی 'مشیر' اور ' ماہرین ' اگر یوکرین میں مارے جائیں گے اور سنک حکومت اس حقیقت کو ایک بہانے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے جنگ میں مزید اضافہ کر دے گی.

روس کے خلاف امریکہ اور نیٹو کی جنگ عوامی حمایت کے بغیر چلائی جا رہی ہے۔ نیٹو کی حکومتیں تنازعہ کو بڑھانے کی سازش میں عوام کو خبر کیے بغیر خوفیا طور پر مصروف ہیں۔ عوامی سطح پر پر وہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ روس کے ساتھ برائے راست جنگ ​​میں نہیں ہیں اور وہ تنازعہ میں اپنی شمولیت کو سختی سے محدود کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن نجی طور پر وہ تنازعہ کو جوہری ہتھیاروں سے لیس طاقتوں کے درمیان مکمل پیمانے پر جنگ تک بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بار بار نیٹو کی حکومتوں نے واضح طور پر زور دیا ہے کہ وہ 'سرخ لکیروں ' کو عبور نہیں کریں گے اور پھر انہیں عبور کرنے کے لیے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پہلے یہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھیج کر کیے تھے۔ پھر انہوں نے ٹینک اس کے بعد جدید لڑاکا طیارے بھیجے۔ ہر بار عوام کو دو ٹوک بتایا جاتا ہے کہ کوئی کارروائیاں نہیں کی جائیں گی لیکن پھر صرف مہینوں بعد بتایا جائے گا کہ نیٹو کی حکومتیں انہیں پہلے ہی سے انجام دے رہی ہیں۔

صرف دو ہفتے قبل ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ نے سوال اٹھایا کہ 'اب جبکہ نیٹو کے ہتھیار روس کے اندر حملوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں امریکہ کے پاس مزید کتنی گنجائش باقی ہے؟ کیا اگلا مرحلہ امریکی اور نیٹو فوجیوں کی تعیناتی ہے۔

شیپس اور سنک کے بیانات گزشتہ ماہ خارجہ امور کے ایک مضمون کے بعد سامنے آئے جس کا عنوان تھا کہ 'امریکہ کو یوکرین میں فوجی مشیر کیوں بھیجنا چاہیے'، جس میں کہا گیا تھا کہ 'اس لیے واشنگٹن کو یوکرین میں امریکی حکومت کے اہلکاروں کی تعداد پر عائد سخت پابندیوں کو ختم کرنا چاہیے اور ملک کے اندر اور اس کے دفاعی آلات میں فوجی مشیروں کو تعینات کرنا شروع کر دیں۔

نیٹو کے سیکڑوں متحرک فوجی پہلے ہی یوکرین میں موجود ہیں ان کے ساتھ ہزاروں سابق نیٹو فوجی ارکان بھی کرائے کے فوجیوں کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ نومبر میں پینٹاگون نے تصدیق کی کہ فعال ڈیوٹی والے فوجی اہلکاروں کی 'چھوٹی ٹیمیں' ملک میں 'مختلف مقامات' پر ہیں۔ اس سال کے اوائل سے لیک ہونے والی پینٹاگون کی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ نیٹو کی تقریباً 100 خصوصی افواج جن میں 50 برطانیہ کی ہیں اور 100 دیگر امریکی سرکاری عملہ یوکرین میں موجود ہیں۔

نیٹو نہ صرف یوکرین کے اندر فوجیوں کی موجودگی میں اضافہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے بلکہ روس کے خلاف جنگ میں نیٹو فوجیوں کی براہ راست شمولیت کا بھی منصوبہ بنا رہا ہے۔

حقیقت صرف شاپس یا سنک کے بیانات سے نہیں بلکہ صورتحال کی عسکری منطق سے پیدا ہوتی ہے۔ امریکہ اور نیٹو نے یوکرین میں جنگ کے نتائج پر اپنی ساکھ داؤ پر لگا دی ہے۔ جنوری میں امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین مارک ملی نے کہا تھا کہ امریکہ کے اہداف 'روس کے زیر قبضہ یوکرین کو آزاد کرانا' اور 'مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرانا' ہیں۔ گزشتہ اپریل میں وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا تھا ’’ہم روس کو کمزور دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘ اسی مہینے نیٹو کے سابق سپریم الائیڈ کمانڈر بین ہوجز نے زور دے کر کہا کہ تنازع میں نیٹو کا ہدف روس کی 'کمر توڑنا' ہے۔

نیٹو طاقتیں ان تمام مقاصد میں ناکام رہی ہیں۔ امریکی میڈیا میں مہینوں تک قائم یوکرائنی حملوں کو ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر پیش کرتا رہا جو دوسری عالمی جنگ کے دوران نارمنڈی پر حملے کے مترادف قرار دیا جس نے خونی تباہی کو جنم دیا۔ ایک مضمون میں بعنوان 'یوکرین کو ایک طویل جنگ کا سامنا ہے۔ سمت اور حرکت کی تبدیلی کی ضرورت ہے،' ماہر اقتصادیات نے لکھا،

“جوابی کارروائی… کام نہیں کر رہی… یوکرین نے 0.25 فیصد سے بھی کم علاقے کو آزاد کریا گیا ہے جس پر روس نے جون میں قبضہ کیا تھا۔ 1,000 کلومیٹر کی فرنٹ لائن بمشکل منتقل ہوئی ہے…. یوکرین کے فوجی تھک چکے ہیں۔ اس کے بہت سے بہترین فوجی مارے گئے ہیں۔ بھرتی ہونے کے باوجود اس کے پاس مستقل بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کو برقرار رکھنے کے لیے افرادی قوت کی کمی ہے۔ اسے وسائل کو بڑے احتیاط سے استمعال کرنے کے ضرورت ہے اور جنگی حکمت عملی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔“

روس کے ساتھ تنازعہ میں یوکرین کے پاس فوجیوں کی شدید قلت کے بحث نیٹو افواج کے لیے 'جنگ کا پاسا' بدلنے کا واحد راستہ تنازعہ میں براہ راست مداخلت ہی رہ گیا ہے جو اب تک یوکرینی فوج کے لیے ہتھیار، انٹیلی جنس، لاجسٹکس اور کمانڈ ڈھانچہ فراہم کر رہے ہیں، 

یوکرین میں فوج بھیجنے کی کھلی بات گزشتہ ماہ اقوام متحدہ میں امریکی صدر جو بائیڈن یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور جرمن چانسلر اولاف شولز کی تقریروں کے بعد ہوئی جس میں سے کسی بھی جنگ کے پرامن تصفیے کی مذمت کی گئی۔ بائیڈن نے اعلان کیا 'روس کی امن کے لیے قیمت یوکرین کے تسلط، یوکرین کی سرزمین اور یوکرینوں کا ہتھیار ڈالنا ہے۔'

اس کے بعد کینیڈین پارلیمنٹ میں زیلنسکی کی تقریر ہوئی جس میں کینیڈا کے تمام اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ نیٹو کے سرکردہ ممالک کے سفیروں نے ایک 98 سالہ یوکرائنی نازی جنگی مجرم کے لیے کھڑے ہو کر سلامی پیش کی۔

اسی ہفتے امریکہ نے تصدیق کی کہ ابرامز جنگی ٹینک پہلے ہی یوکرین میں پہنچ چکے ہیں اور امریکی خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے پہلے ہی یوکرین کو اے ٹی اے سی ایم ایس (ATACMS) طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھیجنے پر رضامندی ظاہر کر دی تھی۔ بائیڈن کی گفتگو کے صرف دو دن بعد یوکرین نے نیٹو انٹیلی جنس اور نیٹو ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے روس کے بحیرہ اسود کے بحری بیڑے کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں درجنوں اعلیٰ فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔

پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں یورپ میں لاکھوں لوگ مارے گئے۔ نوجوانوں کی پوری نسلیں میدان جنگ میں برباد ہو گئیں۔ اب یورپی حکومتیں واشنگٹن کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں، ایک نئی عالمی جنگ کو ہوا دینے کی سازش کر رہی ہیں جس سے مزید دسیوں ملین افراد کا ہلاک ہو جانے کا خطرہ ہے۔

برطانیہ، یورپ، امریکہ اور پوری دنیا میں محنت کش طبقہ اس تباہی کو قطعی طور پر قبول نہیں کر سکتا۔ برطانیہ میں محنت کشوں کو یوکرین میں برطانیہ کی فوج بھیجنے کی سازش کو ختم کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے، جو کہ ایک نفرت انگیز حکومت کی طرف سے کی گئی ہے جو ملک کے اندر محنت کش طبقے کے خلاف جنگ کر رہی ہے۔ نیٹو کے تمام ممالک کا بیرون ملک جنگ میں اضافے کا تعلق اجرت، سماجی پروگرام اور جمہوری حقوق پر حملے سے ہے۔

محنت کش طبقے میں بڑھتی ہوئی سماجی تحریک کو جنگ کے خلاف جدوجہد کرنا ہوگی۔ دنیا بھر کے محنت کشوں کے مطالبات کو سوشلزم کے لیے عالمی جدوجہد کے حصے کے طور پر جنگ کے خاتمے کی کوششوں سے جوڑا جانا چاہیے۔

Loading