اُردُو

بھارت کی مودی حکومت نیوز کلک کے ایڈیٹر اور منیجر کو دبانے کے لیے "انسداد دہشت گردی" قوانین کا استعمال کر رہی ہے۔

یہ 6 اکتوبر 2023 کو انگریزی میں شائع ہونے  'India’s Modi government uses 'anti-terror' laws to persecute NewsClick editor and manager' والے اس ارٹیکل کا اردو ترجمہ ہے۔

فاشسٹ حکومت کے لیے موزوں اقدام کے طور پر بھارت کی حکومت بائیں بازو کی نیوز کلک ویب سائٹ کو ڈرانے اور خاموش کرنے کے لیے بنیادی جمہوری حقوق کو بے دریغ پامال کر رہی ہے۔ منگل کو اس کے دفاتر اور ویب سائٹ سے وابستہ کئی لوگوں کے گھروں پر پولیس کے چھاپوں کے بعد پولیس نے نیوز کلک کے بانی اور ایڈیٹر انچیف پربیر پورکایست اور انسانی وسائل کے سربراہ امیت چکرورتی کو دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔

 پورکایست اور چکرورتی جو اب جیل میں بند ہیں ان پر غیر قانونی سخت سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت جرائم کا الزام لگایا گیا ہے یہ ایکٹ حکومت لوگوں کو عدالتی سماعت کے بغیر اور یا ان کے خلاف کسی بھی قسم کے بامعنی ثبوت فراہم کیے بغیر جعلی الزامات پر سالوں تک بند رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔

2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے مودی کی ہندو سپرمسٹ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے بار بار یو اے پی اے کا استعمال کیا ہے جو ریاست کو آئینی طور پر محفوظ شدہ مناسب عمل کو روکنے کی اجازت دیتا ہے اور حکومت کے مخالفین کو ستانے اور دبانے کے لیے بھارت کے اس وسیع بغاوت کے قوانین کو استمعال میں لایا جاتا ہے۔

یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے ہندوستان کی عدالتوں نے جنہوں نے بار بار مودی سرکار کے جمہوری حقوق کی زیادہ ڈھٹائی سے اجازت اور منظوری دی ہے پرکاستھ اور چکرورتی کے خلاف یو اے پی اے کے الزامات کی منظوری دے دی ہے اور انہیں کم از کم سات دن کے لیے پولیس کی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

حکام نے الزام لگایا ہے کہ نیوز کلک کو 'چین سے' مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے یہ جان بوجھ کر اشتعال انگیز دعویٰ ہے کیونکہ ہندوستانی حکومت چین کو اپنا بنیادی اسٹریٹجک خطرہ کے طور پر سمجھتی ہے اور چین کو گھیرنے کے لیے امریکی سامراج کے ساتھ ایک حقیقی فوجی اتحاد قائم کیا ہے۔ 2020 سے بیجنگ اور نئی دہلی اپنی متنازعہ سرحد پر دونوں ممالک نے دسیوں ہزار فوجیوں، ٹینکوں اور جنگی جہازوں کی تعیناتی کی ہے جو تنازعہ کا شکار ہیں۔

حکومت نے دہلی پولیس کے ذریعے جو براہ راست ہندوستان کی وزارت داخلہ کے کنٹرول میں ہے اور وزارت خزانہ کے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے نیوز کلک ویب سائٹ پر 'چینی پروپیگنڈہ' اور انڈیا کے خلاف 'سازش' کرنے کا الزام لگایا ہے۔'

نیوز کلک انتہائی دائیں بازو کی مودی حکومت کی گرفت میں ہے کیونکہ یہ ان چند نمایاں نیوز ویب سائیٹس میں سے ایک ہے جو اس کے اقدامات پر سخت تنقید کرتی ہے، بشمول اس کے فرقہ پرستی کو فروغ دینا۔ 

نیوز کلک نے مودی اور ان کے ارب پتی قریبی دوست تاجر گوتم اڈانی کے درمیان بدعنوان گٹھ جوڑ کو بھی بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے۔

منگل 3 اکتوبر کی صبح سویرے سینکڑوں پولیس نے پورے ہندوستان میں ڈریگنیٹ طرز کی کارروائی شروع کی، کئی صحافیوں، تاریخ دانوں اور محققین سے پوچھ گچھ کرنے کے لیے دفاتر اور رہائش گاہوں پر چھاپے مارے۔ ان افراد کو یا تو اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے نیوز کلک کے لیے مضامین لکھے تھے یا دوسری صورت میں اس سے وابستہ تھے۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق دہلی میں 88 اور دیگر ریاستوں میں سات مقامات پر چھاپے مارے گئے۔

نئی دہلی میں چھاپے دہلی پولیس (ڈی پی) کے خصوصی سیل جو معاشی جرائم کے لیے مخصوص ہے اور ہندوستانی حکومت کے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی طرف سے لگائے گئے تھے جو کہ منی لانڈرنگ جیسے مالی جرائم کی تحقیقات کے لیے قائم ایک پولیس ایجنسی ہے۔

پولیس نے مبینہ طور پر نشانہ بنائے گئے افراد سے اوسطاً آٹھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی اور ان کے لیپ ٹاپ، سیل فون اور دیگر آلات بشمول ڈسک اسٹوریج کو ضبط کر لیا۔

چھاپوں کے حقیقی سیاسی محرکات کے واضح مقاصد ہیں کیونکہ پولیس نے ان لوگوں کے بارے میں جاننے کا مطالبہ کیا جن سے انہوں نے پوچھ گچھ کی کہ آیا انہوں نے 2020-21 کی کسانوں کی بغاوت، فروری 2020 میں دہلی میں بی جے پی کے ذریعہ بھڑکائے گئے مسلم مخالف حملوں یا کوویڈ- 19 وبائی مرض پر حکومت کا تباہ کن ردعمل کا احاطہ کیا تھا۔

جن لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی ان میں صحافی اور سماجی کارکن تیستا سیٹلواد بھی شامل تھیں۔ ہندوستان کی اعلیٰ ترین عدالت کے اکسانے پر، سیٹلواد کو پہلے ہی 2002 کے گجرات مسلم مخالف قتل عام میں اس وقت کی مودی کی زیرقیادت گجرات ریاستی حکومت اور پولیس کے اعلیٰ حکام کے کردار کو ظاہر کرنے کی کوششوں کے لیے 'من گھڑت ثبوت' کے سنگین مجرمانہ الزامات کا سامنا ہے۔

حکام نے نیوز کلک کے دفاتر کو سیل کر دیا ہے۔ ویب سائٹ نے منگل کے چھاپے کے بعد ایک بیان جاری کیا جس میں پولیس کی جانب سے ان پر کاروائی کے دوران سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی۔ جس میں کہا گیا ہے کہ 'ہمیں ایف آئی آر (ابتدائی پولیس رپورٹ) کی کاپی فراہم نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی ہمیں ان جرائم کی صحیح تفصیلات سے آگاہ کیا گیا ہے جس کے حوالے سے ہم پر الزام لگایا گیا ہے۔ برقی آلات کو نیوز کلک کے احاطے اور ملازمین کے گھروں سے ضبط کیا گیا تھا، جو کہ ضبطی کے قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ڈیٹا کی کاپیاں بھی ضبط کر لی گئیں ہمیں اپنی رپورٹنگ جاری رکھنے سے روکنے کی کھلی کوشش میں نیوز کلک کے دفتر کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔'

نیوز کلک کو 2021 سے 'منی لانڈرنگ' کے الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے جو مبینہ طور پر غیر ملکی فنڈز حاصل کرنے کے حوالے سے جو دو سال کی نام نہاد تحقیقات کے بعد بھی حکام نے نیوز کلک کے ریکارڈ کی چھان بین کی ہے اور اس دوران نہ تو ڈی پی اور نہ ہی ای ڈی عدالتوں میں اس کے خلاف کوئی سرکاری شکایت درج کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

نیو یارک ٹائمز کی عمارت کے سامنے کارکنوں اور صحافیوں کا مظاہرہ جو نیوز کلک پر ظلم و ستم کی مذمت کررہے ہیں۔ [تصویر: ریڈیو فری امنڈا/ٹویٹر یا ایکس] [Photo: Radio Free Amanda/Twitter or X]

نیوز کلک پر 'چینی پروپیگنڈہ' کرنے کا الزام نیویارک ٹائمز (این وائی ٹی) کی جانب سے 5 اگست کو ایک غلیظ چین مخالف آرٹیکل شائع کرنے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں 'مالی نیٹ ورکس [جو] چینی نقط نظر کے نکات کو آگے بڑھاتے ہیں' انہیں بے نقاب کرنا ہے ۔ ٹائمز کے نقطہ نظر سے ' امریکی سامراج کے تزویراتی اور چین کے خلاف جنگی تیاریوں پر کوئی بھی تنقید اسکے مفادات کے خلاف ہے۔“

ٹائمز کے مضمون میں ایک امریکی آئی ٹی ماہر اور کاروباری شخصیت، نیویل رائے سنگھم کا ذکر کیا گیا جس کا دعویٰ ہے کہ ' وہ بائیں بازو سوشلسٹ فائدہ مند کے طور پر جانا جاتا ہے اور چینی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔' آرٹیکل کے مطابق سنگھم نے نیوز کلک کو 'فنانس' کیا ہے جس نے 'چینی حکومت کے چینی نقط نظر کے نکات کے ساتھ اپنی کوریج پھیلاتا ہے۔'

امریکہ کے نام نہاد ' اخبار کے ریکارڈ' سے امریکی خفیہ ایجنسی کے اسکرپٹ شدہ 'انکشاف' کو بنیاد بنا کر مودی حکومت نے نیوز کلک پر ظلم و ستم کو تیز کرنے اور یو اے پی اے کے تحت اپنے دو سب سے سینئر اہلکاروں کے خلاف الزامات عائد کرنے کے لئے موقع فراہم کیا ہے۔

پولیس نیوز کلک کے ایڈیٹر انچیف پورکیاستھ کے خلاف اس کیس کو ایک اور بدنام زمانہ یو اے پی اے جعلی کیس سے جوڑنے کی بھی کوشش کر رہی ہے- جسے بھیما کوریگاؤں کیس کے نام سے جانا جاتا ہے- جس میں حکومت مخالف مصنفین اور سماجی سرگرم افراد کا ایک گروپ ہے جسے 'شہری نکسلائیٹس' کا نام دیا گیا ہے۔ پولیس اور بی جے پی کی طرف سے نکسلائیٹس پر فرقہ وارانہ تشدد بھڑکانے اور ممنوعہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) کے ساتھ ملی بھگت کا الزام لگایا گیا ہے۔ عدالتی دستاویزات میں پولیس نے مبینہ طور پر نیوز کلک کے چیف ایڈیٹر اور بھیما کوریگاؤں (یا ایلگار پریشد) کیس کے ایک ملزم شہری حقوق کے کارکن گوتم نولکھا کے درمیان دوستی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ نولکھا نیوز کلک کے شیئر ہولڈر ہیں اور 'چینی' فنڈز انہیں نیوز کلک کے ذریعے تقسیم کیے گئے تھے۔

پولیس ریاستی ہتھکنڈوں کا سہارا لینے اور پریس پر مودی کے حملے میں سہولت فراہم کرنے میں نیویارک ٹائم کے گھناؤنے کردار کے لئے مودی حکومت کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی ہے۔ اورٹائمز کے نیوز کلک کے کردار کے خلاف اس جعلی اور ایذا پہنچانے کی مہم کی جانب کی توجہ مبذول کرنے کے لیے مظاہرین نے منگل کو ٹائمز کے مین ہٹن کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا۔

جنوبی ہندوستان میں نئی ​​دہلی اور حیدرآباد میں بھی سینکڑوں صحافیوں اور کارکنوں کو شامل کرنے والے احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

پریس کلب آف انڈیا، ڈیجیپب نیوز انڈیا فاؤنڈیشن اور انڈین ویمن پریس کور سمیت پندرہ ہندوستانی پریس تنظیموں نے ہندوستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر آئینی طور پر دی گئی آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے لکھا، 'صحافیوں کو ایک مرتکز مجرمانہ عمل کا نشانہ بنایا گیا ہے کیونکہ حکومت ان کی قومی اور بین الاقوامی امور کی کوریج کو مسترد کرتی ہے، انتقامی کارروائی کے خطرے سے پریس کو خاموش کرنے کی ایک کوشش ہے۔ '

اپنے نو سالہ اقتدار کے دوران مودی حکومت نے صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور یہاں تک کہ غیر ملکی خبر رساں تنظیموں کو تنگ کرنے کے لیے جابرانہ طریقے استعمال کیے ہیں جنہوں نے اس کے طرز عمل پر تنقید کی ہے۔

اس سال فروری میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی پر انکم ٹیکس حکام کی جانب سے بڑے پیمانے پر چھاپہ مارا گیا تھا جو اسکی سب سے نمایاں مثال تھی۔ بی بی سی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب اس نے دستاویزی فلمیں نشر کیں جس میں مودی کے مرکزی کردار کی طرف اشارہ کیا گیا تھا جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے جس نے فروری 2002 میں کم از کم 2,000 بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کو اکسانے اور سہولت فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔

اسی طرح جولائی 2021 میں اسی بھارتی ٹیکس حکام نے 'ٹیکس چوری' کے لیے ٹی وی چینل بھارت سماچار اور ہندی اخبار ڈینک بھاسکر کے دفاتر پر چھاپہ مارا تھا۔ یہ حکومت کی نظروں میں اس وقت آئیں جب انہوں نے کچھ ایسی ہولناکیوں کو بے نقاب کیا جو کوویڈ-19 وبائی امراض کے بارے میں حکومت کی مجرمانہ بے حسی کے نتیجے میں پیدا ہوئیں، اور اسرائیلی نژاد پیگاسس جاسوسی سافٹ ویئر کا استعمال کرتے ہوئے صحافیوں، سیاست دانوں اور کارکنوں کی حکومت کی معمول کی جاسوسی کی طرف سب کی توجہ مبذول کروائی۔ 

یہاں تک کہ مین اسٹریم نیوز میگزین اور ویب سائٹ آؤٹ لک کو بھی اس ہفتے یہ تسلیم کرنے پر مجبور کیا گیا: 'پچھلی دہائی کے دوران ان گنت ہندوستانی صحافیوں کو تحقیقاتی ایجنسیوں نے نشانہ بنایا اور بہت سے کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔ اگرچہ ان کے خلاف الزامات دہشت گردی کے مبینہ روابط یا غیر قانونی فنڈنگ ​​اور ملک دشمن سرگرمیوں پر عائد کیے گئے ہیں، یہ صحافی عموماً اپنی تفصیلی رپورٹنگ کے لیے مشہور ہیں جو کہ عام طور پر حکومت کے حق میں زیادہ نہیں ہے۔

کشمیر میں پریس پر مودی سرکار کا حملہ خاصا شدید رہا ہے۔ وہاں صحافیوں کو معمول کے مطابق گرفتار کیا جاتا ہے اور ان پر مودی حکومت کے بیانیے کے خلاف کسی بھی قسم کی رپورٹنگ کرنے پر مجرمانہ جرائم کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ اکتوبر 2020 میں پولیس نے طویل عرصے سے قائم کشمیر ٹائمز کے سری نگر دفاتر کو سیل کر دیا۔ کم از کم پانچ کشمیری صحافی اس وقت یو اے پی اے کے تحت غیر معینہ مدت کے لیے نظر بند ہیں- جن کے نام آصف سلطان، فہد شاہ، سجاد گل، منان گلزار ڈار، اور عرفان مہراج ہیں۔

Loading