اُردُو
Perspective

ہٹلر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ٹرمپ نے بائیں بازو کے "کیڑے" کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی دھمکی دی

یہ 14 نومبر 2023 کو انگریزی میں شائع ہونے 'Channeling Hitler, Trump threatens to 'root out' leftist 'vermin''والے اس تناظر کا اردو ترجمہ ہے۔

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہفتہ 11نومبر 2023 کلیرمونٹ این ایچ میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کر رہے ہیں [AP Photo/Reba Saldanha]

ہفتے کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک بیان میں اور پھر اسی رات نیو ہیمپشائر میں ایک مہم میں اپنی تقریر میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب تک کی سب سے واضح دھمکی دی ہے کہ اگر وہ وائٹ ہاؤس واپس آتے ہیں تو اپنے سیاسی مخالفین کو جیل بھیج دیں گے یا انہیں قتل کر دیں گے۔ ' ریڈیکل بائیں بازو کے ٹھگ جو کیڑے کی طرح رہتے ہیں۔'

تقریباً دو گھنٹے طویل تقریر کے آخری الفاظ میں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ’’میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ ہم کمیونسٹوں، مارکسسٹوں، فاشسٹوں اور بائیں بازو کے ریڈیکل غنڈوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے جو ہمارے ملک کی حدود میں کیڑے کی طرح رہتے ہیں۔ جھوٹ چوری اور الیکشن میں دھوکہ دھی کے لیے اور امریکہ کو تباہ کرنے اور امریکی خواب کو تباہ کرنے کے لیے وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں چاہے قانونی طور پر یا غیر قانونی طور پر ہو“۔

اس نے امریکی سرمایہ دار طبقے کے حقیقی اندیشوں پر آواز اٹھائی کہ اس کا سب سے خطرناک دشمن امریکہ کے اندر ہے باہر نہیں: 'اصل خطرہ ریڈیکل دائیں بازو سے نہیں ہے بلکہ اصل خطرہ ریڈیکل بائیں بازو سے ہے جو کہ ہر روز بڑھتا جا رہا ہے۔ ہر ایک دن باہر کی طاقتوں کے مقابلے میں اندر کا خطرہ باہر کے خطرے سے کہیں ذیادہ ہے اور خطرناک حد تک سنگین ہے۔ ہمارا خطرہ اندر سے ہے۔'

یہ حقیقت کہ سابق صدر ٹرمپ اور موجودہ ریپبلکن کے ابتدائی انتخابات میں سب سے آگے ہیں عوامی طور پر صدارتی آمریت قائم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کر رہے ہیں اسے مزدوروں اور نوجوانوں کو ایک انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ امریکی حکمران طبقے کے حصے جو کہ بڑھتی ہوئی ہڑتال کی لہر اور بڑے پیمانے پر جنگ مخالف مظاہروں کا سامنا کر رہے ہیں وہ ایک فاشسٹ آمریت کے قیام کے حامی ہیں۔

سابق فوجیوں کے دن کی تقریر میں ٹرمپ نے ہٹلرائی زبان کا سب سے کھلا استعمال کیا تھا جس میں دھمکی دی گئی تھی کہ اگر وہ اقتدار میں واپس آئے تو اپنے دشمنوں کو تباہ کر دیں گے۔ کارپوریٹ پریس میں تبصروں کے ایک سلسلے نے ان کی تقریروں اور 1930 کی دہائی کے فاشسٹ لیڈروں کے درمیان مماثلت کو پیش کیا۔ واشنگٹن پوسٹ کے ایک کالم میں مین کیمپف (ہٹلر کی کتاب) کے اقتباسات اور ٹرمپ کی حالیہ تقاریر میں ان کے مترادفات کا حوالہ دیا گیا جس میں مخالفین کو 'کیڑے' کے طور پر بیان کیا گیا جس میں نشانہ بنائے گئے گروہ (ہٹلر کے لیے یہودی، ٹرمپ کے لیے تارکین وطن) کو 'خون میں زہر آلود' قرار دیا گیا۔ اور اسکا انتباہ کہ قوم کا سب سے خطرناک دشمن قوم کے اندر ہی موجود ہے جو سوشلسٹ اور کمیونسٹ بائیں بازو ہیں۔

تاہم ان تبصروں میں سے کسی نے بھی یہ تجویز نہیں کیا کہ ٹرمپ کا ہٹلر کی تقاریر کی طُوطی اتفاقی نہیں بلکہ شعوری اور دانستہ ہے۔ وہ 20 ویں صدی کی سب سے شیطانی شخصیت کے طویل عرصے سے مداح ہیں۔ کم از کم ان کی سابقہ ​​بیویوں میں سے ایک نے ایک سوانح نگار کو بتایا کہ ٹرمپ نے اپنے پلنگ کے پاس ہٹلر کی تقاریر کی کتاب رکھی تھی۔ اس کے والد فریڈ کا تعلق کو کلوکس کالان (کے کے کے) سے تھا اور نازیوں سے ہمدردی رکھنے کے لیے جانا جاتا تھا جو اس نے اپنے بیٹے کو ایک بلین ڈالر کے ساتھ منتقل کیا۔

ہفتہ کو شاید یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ ٹرمپ نے اس طرح کا تبصرہ کیا ہو۔ جیسا کہ کافی عرصہ پہلے مینیسوٹا میں سامعین سے اکتوبر 2019 کی تقریر جس میں زیادہ تر پولیس شامل تھی اس نے اعلان کیا کہ ان کے سیاسی مخالفین 'غداری کے مرتکب ہیں، 'خانہ جنگی' کی دھمکی دی اور فخر س کہا کہ وہ مزید 16 سال اس عہدے پر رہیں گے۔ '

2020 کے دوران ٹرمپ نے امریکی آبادی کے خلاف فوجی-پولیس بغاوت شروع کرنے کا بہانہ تلاش کیا پہلیاُس نے 25 مئی کو پولیس کے جارج فلائیڈ کے قتل پر بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے جواب میں اور پھر صدارتی انتخابات میں ان کی شکست کے بظاہر امکانات کے طور پر تاکہ انتخابات کے نتیجے کو پلٹ دے۔ پھر اس نے انتخابات کے بعد سیکرٹری دفاع کو برطرف کر دیا جنہوں نے مارشل لاء کا اعلان کرنے کے لیے بغاوت کے ایکٹ کے استعمال سے انکار کیا تھا اور پینٹاگون میں وفاداروں کو تعینات کر دیا تھا۔ اقتدار میں رہنے کی ان کی کوششوں کا اختتام 6 جنوری 2021 کو کیپیٹل پر فاشسٹ حملے میں ہوا جو نائب صدر مائیک پینس یا اسپیکر نینسی پیلوسی کو بال بال پکڑنے اور بائیڈن کو اقتدار کی منتقلی میں خلل ڈالنے کی ناکام کوشش کرتا رہا۔

یہ تمام حقائق سرکاری واشنگٹن میں مشہور ہیں اور کبھی کبھار کارپوریٹ میڈیا میں اس پر تبصرہ کیا جاتا ہے۔ لیکن اس طرح کے مباحثوں میں جس چیز کو مکمل طور پر خارج کر دیا گیا ہے وہ سب سے بنیادی سوال یہ ہے یہ کہ 2023 میں امریکہ کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں کہ ٹرمپ جیسی فاشسٹ شخصیت سیاسی منظر نامے میں اتنا نمایاں کردار ادا کرتی ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک سابق صدر جس نے تین سال سے بھی کم عرصہ قبل اقتدار میں رہنے کے لیے آئین کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی وہ ریپبلکن پارٹی کی صدارتی نامزدگی کے لیے اب تک سرکردہ امیدوار ہے اب سے کم و بیش 3 سال پہلے وہ ریپبلکن پارٹی کے صدارتی انتخابات کی نامزدگی کا سب سے بڑا نمائندہ تھا اور اب کے جب 2024 کے انتخابات میں ایک سال سے بھی کم وقت باقی ہے۔ حالیہ رواں انتخابات میں اسے ڈیموکریٹک صدر جو بائیڈن کو شکست دینے کے لیے اسے خوشنودی مل رہی ہے۔

؟

 اس صورتحال کی اصل ذمہ داری ڈیموکریٹک پارٹی اور خود بائیڈن پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے بائیڈن انتظامیہ کے مرکزی مقصد کے لیے دو پارٹیوں کی مشترکہ حمایت حاصل کرنے کے لیے پچھلے تین سالوں میں ریپبلکن پارٹی کو رعایت کے بعد رعایت دی ہے تاکہ فوجی جارحیت کے ایک پروگرام کے لیے تیاری کی جائے اور اسے عملی جامہ پہنایا جا سکے اس اقدام نے انسانیت کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

صدر بائیڈن کا سب سے اہم فیصلہ کا اعلان ان کے وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کے چند دنوں کے بعد سامنے آیا 6 جنوری کے کودیتا کی کوشش یا جمہوری حقوق پر وسیع تر حملے کے لیے ٹرمپ اور ریپبلکنز کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جائے گی۔ ریپبلکن پارٹی کی تیزی سے فاشسٹ تنظیم میں تبدیلی کو برداشت کیا گیا یہاں تک کہ اسے ایڈجسٹ کیا گیا۔

کانگریس میں دو تہائی ریپبلکن نے بائیڈن کو 2020 کے انتخابات کے فاتح کے طور پر تصدیق نہ کرنے کے حق میں ووٹ دیا ٹرمپ سے متاثر ہجوم کے کیپیٹل گراؤنڈ سے منتشر ہونے کے چند گھنٹے بعد بائیڈن نے داخلی پالیسی پر رعایتوں کے ذریعے کانگریس کے ریپبلکنز کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کی لامتناہی کوشش کی ہے، بشرطیکہ وہ روس مخالف پالیسی کی حمایت کریں جو کہ فاشسٹ ہمدردوں کے نیٹو کے حامی گروہ کے اقتدار پر یوکرین میں 2014 کے میدان کے کودیتا کے قبضے کے بعد سے ڈیموکریٹک پارٹی کا مرکزی نقطہ رہا ہے۔ 

امریکی حمایت یافتہ نیٹو کی روس کی سرحدوں تک توسیع بالآخر 2022 میں پیوٹن کے یوکرین پر رجعتی حملے کو اکسانے میں کامیاب ہو گئی، جس کی وجہ سے موجودہ فوجی تعطل پیدا ہوا ہے۔ اسرائیل اور غزہ کے درمیان جنگ کا بھڑکنا امریکی عسکریت پسندی میں مزید اضافے کا بہانہ بن گیا ہے اس بار ایران اور اس کے اتحادیوں بشمول شام، یمن میں حوثیوں اور لبنان میں حزب اللہ کو نشانہ بنایا جائے گا۔ علاقائی جنگ چھڑ رہی ہے۔ امریکی سامراج کا حتمی ہدف چین ہے، یوکرین اور غزہ کی جنگیں چین کے خلاف جنگ کی کڑیاں ہیں جو اس سے بھی زیادہ خوفناک شکل اختیار کر جائیں گی جس سے انسانی بقا کو خطرہ ہو گا۔

ٹرمپ خاص طور پر ڈکٹیٹر شپ کے لیے اپنی کوششوں میں مصروف ہیں یہ کوئی ذاتی پالیسی نہیں ہے بلکہ یہ ایک طبقاتی پالیسی ہے یہ ارب پتی چیخ چیخ کر بہت گہرے رجحانات کو آواز دے رہا ہے جس کا اظہار ڈیموکریٹک پارٹی کے ذریعے بھی ہوتا ہے۔ جنگ کی مہم کے زریعے داخلی جمہوری حقوق کو دبانے اور محنت کش طبقے پر جنگ کے اخراجات مسلط کرنے کی ضرورت کا پرزور اظہار ہے۔

بائیڈن انتظامیہ اور ڈیموکریٹس فی الحال اسرائیلی حکومت پر کسی بھی تنقید کو یہود دشمنی قرار دے رہے ہیں، مؤثر طریقے سے اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس یہود دشمنی کا الزام مکمل طور پر بوگس ہے اور یہ ایک سیاسی چال کے طور پر استمعال کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کے دلائل کا اصل مطلب امریکی حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرنے کے امریکی عوام کے جمہوری حق پر حملہ کرنا ہے تاکہ جنگ کے وقت تنقید کو غداری اور جرم قرار دیا جا سکے۔

حتمی تجزیے میں امریکی حکمران طبقہ اپنے سب سے طاقتور دشمن یعنی محنت کش طبقے کے ساتھ ان طریقوں سے نمٹنے کی کوشش کرے گا جو بنجمن نیتن یاہو اس وقت غزہ میں استعمال کر رہے ہیں۔ داخلی جبر میں پولیس اور فوج کے استعمال کو روکنے کے لیے کوئی 'سرخ لکیریں' نہیں ہوں گی۔ ڈیموکریٹک پارٹی ٹرمپ کی حقیقی مخالفت کی نمائندگی نہیں کرتی جو آمرانہ حکمرانی اور جمہوری حقوق کے پرتشدد دباو کے اسی مقصد کے تکمیل کے لیے صرف ایک مختلف راستہ متعین کرتی ہے۔

فی الحال بائیڈن اور ٹرمپ کے درمیان سرمایہ دارانہ حکمران اشرافیہ کے مفادات کے دفاع کے لیے استعمال کیے جانے والے طریقوں کے بارے میں اختلافات ہیں۔ ٹرمپ خونریز ترین سطح پر طاقت کے فوری استعمال کے حامی ہیں جبکہ بائیڈن ایک محفوظ طریقہ کے طور پر طبقاتی جدوجہد کو روکنے اور دبانے کے لیے ٹریڈ یونینوں پر انحصار کرتے ہوئے اور برنی سینڈرز اور الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز جیسے 'بائیں' حفاظتی والوز پر انحصار کرتے ہوئے محنت کش طبقے کو سیاسی طور پر ڈیموکریٹک پارٹی سے منسلک رکھنے کے لیے اور اس کے ذریعے یہ سرمایہ دارانہ نظام کو بچنے کے لیے کام کرتے ہیں۔

لیکن طبقاتی جدوجہد کو کنٹرول کرنے اور اس کا رخ موڑنے کے یہ ڈھانچے تیزی سے بدنام ہو رہے ہیں۔ مزدور کنٹریکٹ کو مسترد کر کے اور ہڑتالوں پر مجبور ہو کر یونینوں کی نفی کر رہے ہیں۔ عالمی ٹراٹسکیسٹ تحریک کی پہل پر قائم ہونے والے انٹرنیشنل ورکرز الائنس آف رینک اینڈ فائل کمیٹیز (آئی ڈبلیو اے- آر ایف سی) کی طرف سے دی جانے والی برتری کے بعد وہ آزادانہ طور پر منظم ہونا شروع کر رہے ہیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی صدارتی انتخابات کے لیے اگلے سال میں ایک بڑے حقیر 80 سالہ عہدے دار کے ساتھ جا رہی ہے جس کی ذاتی زوال پذیری مجموعی طور پر سرمایہ دارانہ دو جماعتی نظام کی حالت اور خاص طور پر ڈیموکریٹس کے اصلاحی دکھاوے کی آئینہ دار ہے۔ لاکھوں محنت کش لوگ اور نوجوان بائیڈن اور ٹرمپ کے دوبارہ میچ کے امکان کو نفرت سے دیکھتے ہیں۔ وہ ایک حقیقی متبادل چاہتے ہیں جو صرف سوشلسٹ ایکولیٹی پارٹی فراہم کر رہی ہے۔

Loading