یہ 30 اپریل 2024 میں شائع ہونے والے اس تناظر کا 'Demand the release of Bogdan Syrotiuk, socialist opponent of NATO’s proxy war, from a Ukrainian prison' اردو ترجمہ ہے۔
جمعرات، 25 اپریل کو فاشسٹ زیلنسکی حکومت اور نیٹو کی طرف سے اکسائی گئی یوکرین روس جنگ کے ایک سوشلسٹ مخالف بوگڈان سیروتیوک کو یوکرین کی سیکورٹی سروس ایس بی یو نے جنوبی یوکرین میں اس کے آبائی شہر پرواماسک سے گرفتار کر لیا۔
بوگدان جس کی عمر 25 سال ہے اور صحت خراب ہے، کو یوکرین کی علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے اور روس کے مفادات کی خدمت کرنے کے دھوکہ دہی کے الزامات کے تحت نکولائیف کی ایک جیل میں بدترین حالات میں رکھا گیا ہے۔ اگر ان الزامات میں کینگرو عدالت کی طرف سے قصوروار پایا جاتا ہے تو بوگڈان کو 15 سال سے لے کر عمر قید کی سزا کا خطرہ ہے جو کہ سزائے موت کے برابر ہے۔

بوگڈان کی گرفتاری زیلنسکی حکومت کے بائیں بازو کی تحریکوں پر وحشیانہ جبر کی تازہ ترین مثال ہے جس کی جنگ کے خلاف مخالفت یوکرین کے محنت کش طبقے کے اندر پزیرائی حاصل کر رہی ہے۔
ایس بی یو کے ایجنٹوں نے بوگڈان کے اپارٹمنٹ اور دفتر میں توڑ پھوڑ کی جسے وہ سیاسی اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتا تھا۔ ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کو اطلاع دی گی ہے کہ ایس بی یو دعوی کر رہا ہے کہ اسے ایک روسی فوجی کوٹ کے ساتھ ایک بیگ ملا ہے جس پر “زیڈ“ کا حرف لکھا ہوا ہے جو روسی فوجی شاونزم کی علامت ہے اور دفتر میں ایک گیس ماسک بھی ملا ہے۔ یہ بیوقوف فاشسٹ پولیس لوگوں سے یہ توقع کرے گی کہ اس طرح کی چیزیں کسی ایسے دفتر میں ملیں گی جہاں پر لیون ٹراٹسکی کی تصویر نمایاں طور پر آویزہ ہے اور مارکسسٹ ٹراٹسکی ادب کا وسیع انتخاب دستیاب ہے۔
اگر ایسی چیزیں بوگڈان کے دفتر میں 'ملی' بھی ہیں تو اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ یہ اشیا وہاں ایس بی یو کے ذریعہ منتقل کی گی ہونگی جو انتہائی بے ایمان ہیں اور انکے گیسٹاپو جیسے طریقے یوکرین کے عوام کے علم عام میں ہیں۔
بوگڈان کو پیوٹن حکومت کے حامی کے طور پر پیش کرنے اور یوکرین پر اس کے حملے کی کوششیں سیاسی طور پر مضحکہ خیز ہیں۔ کامریڈ سیروتیوک ینگ گارڈ آف بالشویک لیننسٹ (وائے جی بی ایل) کے ایک سرکردہ رکن ہیں جو کہ یوکرین اور پورے سابق سوویت یونین میں سرگرم ٹراٹسکی نوجوانوں کی تنظیم ہے۔
انٹرنیشنل کمیٹی آف دی فورتھ انٹرنیشنل (آئی سی ایف آئی) کے ساتھ سیاسی یکجہتی میں وائے جی بی ایل یوکرین اور روس دونوں میں اولیگرک سرمایہ دارانہ حکومتوں کی مخالفت کرتا ہے۔ ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ پر شائع ہونے والے متعدد مضامین میں اور آئی سی ایف آئی کی طرف سے سپانسر ہونے والے پروگراموں میں دی جانے والی تقاریر میں بوگڈان نے واضح طور پر جنگ کی مذمت کی ہے اور یوکرائنی اور روسی محنت کش طبقے کے رجعتی قومی شاونسٹ حکومتوں کے خلاف اتحاد پر زور دیا ہے جس کا صدر دفتر کیف اور ماسکو میں ہے۔ روس میں ان کے ساتھی پیوٹن کی سرمایہ دارانہ بحالی کی حکومت اور اس کی نیو زارسٹ روسی قوم پرستی کی فریب کاری کی مخالفت کرتے ہیں۔
اپنی گرفتاری سے تین دن پہلے لکھی گئی ایک تقریر میں جو اس نے بین الاقوامی کمیٹی کے آئندہ یوم مئی کی تقریب میں دینے کا منصوبہ بنایا تھا کامریڈ بوگڈان نے کہا:
محنت کش طبقے کی بین الاقوامی یکجہتی کے دن ہم بالشویک-لیننسٹوں کے ینگ گارڈ کی یوکرائنی شاخ کے اراکین اور پوری وائے جی بی ایل سامراجی ممالک میں پرولتاریہ کے ساتھ یوکرائنی اور روسی پرولتاریہ کے اتحاد کا مطالبہ کرتے ہیں اور اس جنگ کے خاتمے کے لیے۔
کامریڈ بوگڈان سیروتیوک کی گرفتاری جنگ کے مخالفین اور پوری محنت کش طبقے کے خلاف زیلنسکی حکومت کے ظالمانہ جابرانہ اقدامات کے نمونے کا ایک حصہ ہے۔ اور اس جھوٹے دعوے کو بے نقاب کرتی ہے کہ روس کے خلاف امریکہ اور نیٹو کی جنگ جمہوریت کے دفاع میں چلائی جا رہی ہے۔ یوکرین ایک پولیس ریاست ہے۔ اس کی آبادی مارشل لاء کی زد میں ہے۔ انتخابات منسوخ کر دیے گئے ہیں اور زیلنسکی ایک آمر کے طور پر حکمرانی کر رہا ہے جو صرف اپنے نیٹو سپانسرز ارب پتی اولیگارچوں کے مالی مفادات اور نیو نازی گروہوں کے تابع ہے جن پر وہ یوکرائنی عوام کو ڈرانے کے لیے انحصار کرتا ہے۔
درحقیقت امریکی محکمہ خارجہ کے بیورو آف ڈیموکریسی ہیومن رائٹس اور لیبر نے اس ماہ کے شروع میں جاری ہونے والی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں یوکرائنی حکومت کے ظالمانہ جابرانہ کردار کا اعتراف کیا ہے۔ رپورٹ میں جن سنگین 'انسانی حقوق کے مسائل' کا حوالہ دیا گیا ہے ان میں یہ سب کچھ شامل ہیں:
جبری گمشدگی؛ تشدد اور ظالمانہ غیر انسانی یا ذلت آمیز سلوک یا سزا، جیل کے سخت اور جان لیوا حالات؛ من مانی گرفتاری یا حراست؛ عدلیہ کی آزادی کے ساتھ سنگین مسائل، اظہار رائے کی آزادی پر پابندیاں میڈیا کے اراکین کے لیے اور بشمول صحافیوں کے خلاف تشدد یا تشدد کی دھمکیاں صحافیوں کی بلا جواز گرفتاریاں یا ان پر مقدمہ چلانا اور سنسرشپ انٹرنیٹ کی آزادی پر سنگین پابندیاں پرامن اجتماع اور انجمن کی آزادیوں میں خاطر خواہ مداخلت، نقل و حرکت کی آزادی پر پابندیاں، سنگین حکومتی بدعنوانی، صنفی بنیاد پر وسیع تشدد مزدوروں کی انجمن کی آزادی پر منظم پابندیاں اور چائلڈ لیبر کی بدترین شکلوں کا وجود پایا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ انسانی حقوق کے مسائل مارشل لاء سے پیدا ہوئے، جس نے جمہوری آزادیوں کو کم اور محدود کیا جن میں نقل و حرکت کی آزادی، پریس کی آزادی، پرامن اجتماع کی آزادی اور قانونی تحفظات شامل ہیں۔
ریاستی جبر کے ان حالات میں بوگدان سیروتیوک کی زندگی فوری طور پر خطرے میں ہے۔ جیلوں کے اندر قیدی یوکرین کے فاشسٹوں سے بھری ہوئی انتظامیہ کی طرف سے قائم کردہ پرتشدد حکومت کے تابع ہیں۔ محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے:
اگرچہ آئین اور قانون نے تشدد اور دیگر ظالمانہ اور غیر معمولی سزاؤں کی ممانعت کی ہے لیکن ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے حکام اس طرح کے غلط استعمال میں مصروف ہیں۔ عام حالات میں عدالتیں قانونی طور پر زیر حراست افراد کی طرف سے پولیس پر دباؤ کے تحت دیے گئے اعترافات اور بیانات کو عدالتی کارروائی میں ثبوت کے طور پر استعمال نہیں کر سکتی تھیں، لیکن روس کے حملے کے آغاز کے بعد سے مارشل لاء کے ادارے نے اس کی اجازت دی۔
بوگڈان کو روسی فوج کے ایجنٹ کے طور پر تیار کرنے کی ایس بی یو کی کوشش کو دیکھتے ہوئے محکمہ خارجہ کی یہ تلاش خاص طور پر ناگوار ہے کہ:
ایسی اطلاعات تھیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فوجی اہلکاروں کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور بعض اوقات ان سے اعترافات کرنے کے لیے حراست میں رکھے گئے افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جن کا تعلق عام طور پر روس کے ساتھ مبینہ تعاون سے تھا۔
کیف حکومت جو ان مظالم کی ذمہ دار ہے ان پر اربوں ڈالر کی بارش کر رہی ہے اور امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں کی طرف سے جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہے۔ بوگڈان کی گرفتاری اس وقت ہوئی جب امریکی کانگریس نے اس جنگ کے لیے مزید 60 بلین ڈالر مختص کرنے کے حق میں ووٹ دیا جس میں پہلے ہی لگ بھگ 500,000 یوکرائنی فوجیوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ اور لندن، پیرس، برلن، روم اور دیگر دارالحکومتوں میں اس کے ہم منصب بوگڈان سیروتیوک کی قسمت کے لیے کیف میں اپنے ایجنٹوں سے کم ذمہ دار نہیں ہیں۔
پوری دنیا کے محنت کش طبقے اور نوجوان اس مجرمانہ جنگ سے برہم ہیں جو غزہ کے عوام کے خلاف اسرائیل کی طرف سے بائیڈن انتظامیہ اور نیٹو کی حمایت سے چھیڑی جا رہی ہے۔ لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وہی حکومتیں جو غزہ کی نسل کشی میں تعاون کر رہی ہیں یوکرین میں پراکسی جنگ کی سرپرستی کر رہی ہیں۔ غزہ اور یوکرین میں تشدد اور عالمی سطح پر اس بڑھتے ہوئے فوجی تنازعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے محاذ ہیں جو انسانیت کو جوہری تباہی کے خطرے سے دوچار کر رہے ہیں۔
بوگڈان کی آزادی اور پراکسی جنگ کے خاتمے کی لڑائی کو سامراج، نسل کشی اور فاشزم کے خلاف جدوجہد کے ایک لازمی جزو کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
فورتھ انٹرنیشنل کی بین الاقوامی کمیٹی اور ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ بوگڈان سیروتیوک کی فوری رہائی کا مطالبہ کرنے کے لیے عالمی مہم چلانے کا مطالبہ کرتی ہے۔
بین الاقوامی محنت کش طبقے اور پوری دنیا کے طلبہ نوجوانوں کو بوگڈان کی حراست کے بارے میں آگاہ کیا جانا چاہیے اور اس کے دفاع میں متحرک ہونا چاہیے۔
ہم تمام دستیاب سوشل میڈیا پر اس بیان کی وسیع تر گردش کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بوگڈان کی آزادی کا مطالبہ کرنے والی ایک آن لائن پٹیشن Change.org پر قائم کی گئی ہے۔ ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ پٹیشن پر دستخط کریں اور اس کی آزادی کے لیے آپ کی کال کو بڑھانے کے لیے سائٹ پر ایک بیان پوسٹ کریں۔ اس مہم کو اپنے مزدوروں اور طلبا ساتھیوں کی توجہ کی طرف مبذول کریں۔ بوگڈان کی جیل سے رہائی کی لڑائی میں آپ کس طرح شامل ہو سکتے ہیں اس بارے میں مزید معلومات کے لیے اس ایڈریس پر ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ سے رابطہ کریں۔
