اُردُو
Perspective

یوم مئی 2023: قومی شاونزم اور جنگ کے خلاف محنت کش طبقے کے بین الاقوامی اتحاد کے لیے!

یہ 30 اپریل 2023 کو انگریزی میں شائع ہونے 'For the international unity of the working class against national chauvinism and war!' اس مضمون کا اردو ترجمہ ہے۔

یہ ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کے انٹرنیشنل ایڈیٹوریل بورڈ کے چیئرپرسن ڈیوڈ نارتھ کی تقریر کا متن ہے جس نے 30 اپریل بروز اتوار منعقد ہونے والی عالمی یوم مئی کی آن لائن ریلی 2023 کا افتتاح کیا۔ پوری ریلی کی ریکارڈنگ یہاں حاصل اور دیکھی جا سکتی ہے۔

مزدور طبقے کی یکجہتی کے اس دن پر چوتھی انٹرنیشنل کی انٹرنیشنل کمیٹی دنیا بھر میں ان تمام لوگوں کو جو اس آن لائن ریلی کو دیکھ رہے ہیں اس کو انقلابی سلام پیش کرتی ہے۔ ہم تمام براعظموں اور تمام ممالک میں محنت کشوں اور نوجوانوں کے تمام طبقات کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں جنہوں نے سرمایہ داری کے خلاف جدوجہد کی ہے۔

انٹرنیشنل کمیٹی انڈیا کے درلحکومت دہلی میں ماروتی سوزوکی آٹو ورکرز کی آزادی کے لیے لڑنے کے لیے اپنے عزم کی تجدید کرتی ہے، جنہیں کام کے ظالمانہ حالات کے خلاف ہڑتال کرنے کی سزا کے طور پر عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ آئی سی آئی ایف  جولین اسانج کی آزادی کو محفوظ بنانے کے لیے بین الاقوامی محنت کش طبقے کی طاقت کو متحرک کرنے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتی  ہے  جو سامراجی حکومتوں کے جرائم اور کارپوریٹ میڈیا میں ان کے حامیوں کے جھوٹ کے خلاف سچائی کی جنگ کی علامت بن چکے ہیں۔

آج کی ریلی انٹرنیشنل کمیٹی کی یوم مئی کی دسویں آن لائن تقریب ہے۔ یہ اس وقت منقد ہو رہی ہے جب یوکرین میں جنگ مسلسل بڑھ رہی ہے  جس سے روس کے ساتھ نیٹو کے تصادم سے آگے چین کے ساتھ جنگ ​​اور عالمی جوہری تصادم کی طرف پھیلنے کا خطرہ ہے۔

یوکرین کی جنگ کو بھڑکانے میں اپنے کردار پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے بائیڈن انتظامیہ پیوٹن کی 'غیر اشتعال انگیز جنگ' کے تاریخی اور مضحکہ خیز بیانیے پر عمل پیرا ہے۔ اور ولادیمیر پیوٹن کو بھوت کے طور پر پیش کرنا — جو واشنگٹن کی طرف سے مجسم شر کے الزامات  کی ایک لمبی فہراست میں تازہ ترین ہے — جنگ کے تاریخی، اقتصادی، سماجی اور سیاسی ماخذ کے بارے میں کچھ نہیں بتاتی۔

یہ یوکرین میں امریکہ اور نیٹو جنگ کے درمیان تعلق کے کسی بھی تفصیلی جائزہ سے توجہ ہٹاتی ہے اور اسکے ساتھ ساتھ ان تمام واقعات پر پردہ ڈالتی ہے جو کہ مندرجہ زیل ہیں:

(1) عراق، سربیا، افغانستان، صومالیہ، لیبیا اور شام میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی طرف سے چھیڑی جانے والی عملی طور پر بلاتعطل جنگ کے پچھلے 30 سال؛

(2) 1991 میں سوویت یونین کی تحلیل کے بعد سے نیٹو کی مشرق کی جانب مسلسل توسیع؛

(3) چین کے ساتھ بڑھتا ہوا جغرافیائی سیاسی تنازع جسے امریکی سامراج اس کی اپنی غالب عالمی پوزیشن کے لیے ایک خطرناک خطرہ کے طور پر دیکھتا ہے؛

(4) ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی عالمی اقتصادی پوزیشن کی طویل تنزلی جو عالمی ریزرو کرنسی کے طور پر ڈالر کی بالادستی کے لیے بڑھتے ہوئے چیلنج میں اپنا سب سے واضح اظہار تلاش کرتی ہے؛

(5) معاشی جھٹکوں کا وہ سلسلہ جس میں امریکی مالیاتی نظام کے مکمل خاتمے کو روکنے کے لیے مایوس کن بیل آؤٹ کی ضرورت؛

(6) امریکی سیاسی نظام کا واضح بگڑ جانا جس کی مثال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 6 جنوری 2021 کو نومبر 2020 کے قومی انتخابات کے نتائج سے معزول کرنے کی کوشش کی گی ہے؛

(7) عدم مساوات کی حیرت انگیز سطحوں سے متاثر معاشرے کا بڑھتا ہوا داخلی عدم استحکام، وبائی امراض کے اثرات اور مہنگائی کے ایک نئے افراط زر کا طوفان ایک  شدت اختیار کر گیا جو امریکی محنت کش طبقے کو ریڈیکلیز کر رہا ہے۔

'بلا اشتعال جنگ' کے بیانیے کی ناقابل جواب تردید عالمی سوشلسٹ ویب سائٹ پر شائع ہونے والی انٹرنیشنل کمیٹی آف دی فورتھ انٹرنیشنل (آئی سی آئی ایف) کے بیانات ہیں جن میں گزشتہ چوتھائی صدی کے دوران معاشی، سیاسی اور سماجی تضادات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ جنگ کے ذریعے پیچیدہ بحرانوں سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کے لیے امریکی کارپوریٹ مالیاتی اشرافیہ کی بے چین کوششوں کا حصہ ہے جس سے اُس نے آگے بڑھایا ہے۔

انٹرنیشنل کمیٹی کی پہلی آن لائن یوم مئی ریلی فروری 2014 کے میدان(کیف) کے کودیتا کے  تین ماہ سے بھی کم عرصے کے بعد منعقد کی گئی تھی جس میں امریکہ اور جرمنی کی طرف سے یوکرین کے صدر وکٹر یانوکووچ کا تختہ الٹنے کی ہدایت کی گئی تھی  جسے واشنگٹن اور برلن روس کے لیے ضرورت سے زیادہ ہمدردی کے طور پر دیکھتے تھے اور اسکی جگہ نیٹو کے حامی حکومت کو اقتدار میں لائے۔ اس بغاوت کے بعد کریملن نے کریمیا پر  قبضہ  کے بعد اسے روس کے ساتھ الحاق کر دیا جسے واشنگٹن نے روس کے خلاف نیٹو کی بحری کارروائیوں کے لیے بحیرہ اسود کے اڈے میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

12 اپریل 2014 کو شائع ہونے والی اپنی پہلی آن لائن یوم مئی ریلی کے اعلان میں ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ نے کہا کہ میدان بغاوت 'روس کے ساتھ تصادم کو ہوا دینے کے ارادے سے' کی گئی تھی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ:

یوکرین پر روس کے ساتھ محاذ آرائی سامراجی طاقتوں کی سمت میں ایک نئے اور خطرناک موڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔ سامراجی جنگ کے دیوتا پیاسے ہیں!  پہلی اور دوسری عالمی جنگ  سے پہلے کے سالوں کی طرح دنیا کی ایک نئی تقسیم کی تیار کی جا رہی ہے۔

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چین اور روس کے ساتھ جنگ ​​ایک ناممکن ہے  کہ بڑی سامراجی طاقتیں ایٹمی طاقتوں کے ساتھ جنگ ​​کا خطرہ مول نہیں لیں گی  وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ بیسویں صدی کی تاریخ اپنی دو تباہ کن عالمی جنگوں اور اس کے لاتعداد اور خونی مقامی تنازعات کے ساتھ ان خطرات کا خاطر خواہ ثبوت فراہم کرتی ہے اور حکمران طبقے اس خطرات کو دوبارہ لینے کے لیے تیار ہیں۔ درحقیقت میں وہ نہ صرف پوری انسانیت بلکہ اس  سیارے کی تقدیر کو بھی خطرے میں ڈالنے کے خواہاں ہیں۔

پہلی عالمی جنگ  شروع ہونے کے سو سال بعد اور دوسری  عالمی جنگ  کے آغاز کے 75 سال بعد  تیسری سامراجی جنگ کا تباہ کن خطرہ  عالمی محنت کش طبقے پر  منڈلا رہا  ہے۔

انٹرنیشنل  کمیٹی کے پاس کوئی بلوری گولا(جو قسمت کا حال بتانے والے استمعال کرتے ہیں) نہیں تھا۔ بلکہ یہ مارکسی تھیوری کے طاقتور ہتھیار اور پہلی عالمی جنگ کے دوران لینن کے تیار کردہ عالمی سامراج کی حرکیات کے تجزیے کو اطلاق کرنے میں کامیاب رہا۔ اس وقت لینن نے سامراجی حکومتوں کی طرف سے قتل وغارت کے جواز کے لیے استعمال کیے جانے والے جھوٹ کو بے نقاب کیا اور ساتھ ہی ان نفاست پسندوں کو بھی بے نقاب کیا جو سرمایہ دارانہ حکومتوں کی جنگی پالیسیوں کی مخالفت کرنے اور محنت کش طبقے کے بین الاقوامی اتحاد کو برقرار رکھنے کے اپنے پہلے وعدوں سے مکر گئے تھے۔

ولادیمیر لینن

لینن کے تجزیے نے جنگ کی جڑیں سامراج کی معاشی بنیادوں اور سرمایہ دارانہ ریاستوں کے درمیان ہونے والے  ناگزیر تنازعات سے آخذ کیں۔ انہوں نے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ جنگ کی حمایت 'قوم کے دفاع' کے نام پر کی جا سکتی ہے یا یہ کہ فوجی تنازعہ محض پالیسی آپشنز کے غلط انتخاب کا نتیجہ ہے۔ سابقہ ​​استدلال محض قومی شاونزم کو تسلیم کرنے کا ایک منافقانہ جواز تھا۔ مؤخر الذکر دلیل نے سامراجی جنگ کی معروضی وجہ اور محنت کش طبقے کی جنگ مخالف حکمت عملی کی بڑہوتی کے لیے اس کے انقلابی مضمرات کو مبہم کرنے کا کام کیا۔

سامراجی معاشیات نے سامراجی جنگ اور اس کی تمام ہولناکیوں کو ناقابل تلافی طور پر آگے بڑھایا۔ بالشویک پارٹی کے رہنما نے 1916 میں لکھا تھا کہ 'سامراج، عام طور پر تشدد اور رد عمل کی طرف ایک کوشش ہے...' تشدد کے بے رحمانہ استعمال کے ذریعے سامراجیوں کا مقصد بڑی طاقتوں کے درمیان دنیا کی دولت اور وسائل کی موجودہ تقسیم کو تبدیل کرنا تھا۔. جسکی لینن نے وضاحت اسطرح سے کی:

حقیقت یہ ہے کہ دنیا پہلے ہی تقسیم ہو چکی ہے ان لوگوں کو مجبور کرتی ہے جو دوبارہ تقسیم پر غور کر رہے ہیں تاکہ ہر قسم کے علاقے تک رسائی حاصل کر سکیں کے۔ اور (2) سامراج کی ایک لازمی خصوصیت یہ ہے کہ بالادستی کے لیے جدوجہد کرنے والی بڑی طاقتوں کے درمیان مسابقت کی دوڑ ہے یعنی علاقوں کی فتح کے لیے البتہ اپنے لیے اتنا براہ راست نہیں بلکہ یہ کہ مخالف کو کمزور کر کے اس کی بالادستی کو کمزور کیا جائے...

لینن نے اس زمن میں مزید کہا:

سوال یہ ہے کہ: سرمایہ دارانہ نظام کے تحت جنگ کے علاوہ اور اسکا کیا مطلب ہو سکتا ہے کہ ایک طرف پیداواری قوتوں کی ترقی اور سرمائے کے جمع ہونے کے درمیان فرق کو دور کیا جا سکے اور دوسری طرف  نوآبادیاں کی تقسیم  مالیاتی سرمائے کے لیے اثر و رسوخ کے لیے تگ و دو کی جائے۔

یوکرین کی موجودہ جنگ اور چین کے ساتھ بڑھتا ہوا تنازعہ ایک صدی سے بھی زیادہ پہلے لینن کے  تجزیہ کردہ عالمی تضادات کا مظہر ہیں اگرچہ یہ بہت زیادہ جدید اور پیچیدہ سطح پر رونما ہو رہے ہیں۔

پیوٹن کے 'بلا اشتعال' حملے کے اچانک اور غیر متوقع نتائج سے  کوسوں دور  یہ کہ کیا 1991 سے نیٹو کی مشرق کی طرف 800 میل کی توسیع نے روس کے خلاف اشتعال انگیزی نہیں کی ہے - اور یہ کہ کیا یوکرین کی جنگ 30 سال سے جاری مسلسل جنگوں کا تسلسل اور اس میں اضافہ نہیں ہے۔ امریکہ کی طرف سے  تنازعات کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کا بنیادی مقصد امریکی سامراج کے طویل معاشی زوال کو روکنا ہے  اور فوجی فتح کے ذریعے اس کی عالمی بالادستی کو محفوظ بنانا ہے۔

1934 میں لیون ٹراٹسکی نے لکھا کہ جب کہ جرمن سامراج نے 'یورپ کو منظم کرنے' کی کوشش کی یہ امریکی سامراج کی خواہش تھی کہ وہ 'دنیا کو منظم' کرے۔ اس زبان کا استعمال کرتے ہوئے جس کا مقصد ٹراٹسکی کے تجزیے کی تصدیق کرنا تھا  جو بائیڈن جو اُس  وقت صدارت کے امیدوار تھے نے اپریل 2020 میں لکھا: 'بائیڈن کی خارجہ پالیسی ریاستہائے متحدہ کو مضبوط اپوزیشن میں ڈال دے گی اور اس طرح سامنے آئے گی …  کہ دنیا منظم نہیں ہے۔ '

فورتھ انٹرنیشنل کے بانی، لیون ٹراٹسکی

لیکن امریکہ ایک ایسی دنیا کا سامنا کر رہا ہے جو کہ ضروری نہیں کہ امریکہ منظم ہو۔ عالمی ریزرو کرنسی کے طور پر ڈالر کا کردار جو کہ امریکی جغرافیائی سیاسی بالادستی کی مالی بنیاد ہے کو تیزی سے چیلنج کیا جا رہا ہے۔ ایک اقتصادی اور فوجی حریف کے طور پر چین کے بڑھتے ہوئے کردار کو واشنگٹن امریکی تسلط کے لیے ایک وجودی خطرہ کے طور پر دیکھتا ہے۔

1914 میں سامراجی طاقتوں کے جنگ میں جانے کے فیصلے کا ایک بڑا عنصر یہ خوف تھا کہ وقت ان کے ہاتھ سے جا رہا  ہے- یعنی جنگ میں انکی تاخیر  ان کے حریفوں کو مزید مضبوط ہونے کا موقع فراہم کرے  گی۔ اس حد تک کہ جنگ کو ناگزیر کے طور پر دیکھا گیا اور جب جنگ شروع کرنے کی انتخاب کی بات آئی تو اس نے 'بعد میں جلد سے بہتر' رویہ اختیار کیا۔ سرمایہ دارانہ سیاسی رہنماؤں اور فوجی جنرل اسٹاف کے درمیان یہ موضوعی یقین کہ تنازعہ ناگزیر ہے ایک نازک موڑ پر اگست 1914 میں جنگ میں جانے کے فیصلے کا ایک اہم عنصر بن گیا۔

 سرمایہ دارانہ پریس اور اسٹریٹجک جرائد میں آنے والے پندار، دس  یا اس سے بھی کم  پانچ سالوں میں چین کے ساتھ جنگ ​​کی پیش گوئی کرنے والے متعدد مضامین موجودہ واشنگٹن میں اسی طرح کی ذہنیت کے پھیلاؤ کی گواہی دیتے ہیں۔ تائیوان میں بائیڈن انتظامیہ کے لاپرواہی سے اشتعال انگیز کردار کی کوئی اور سنجیدہ سیاسی وضاحت نہیں ہے جس کا مقصد واضح طور پر چینیوں کو فوجی کارروائی کرنے یعنی 'پہلی گولی چلانے' کے لیے اکسانا ہے اور اس طرح واشنگٹن کو پروپیگنڈہ کے لیے یہ  بیانیہ مل جائے گا۔ تاکہ وہ طویل منصوبہ بند فوجی کارروائی کا جواز پیش کر سکیں۔

امریکہ سامراجی طاقتوں میں سب سے زیادہ جارح ہے لیکن وہی حرکیات  جو  واشنگٹن کو جنگ کی طرف لے جاتی ہے وہ یورپ میں بھی متحرک ہے۔ اگرچہ نیٹو اتحاد میں امریکہ کے یورپی سامراجی اتحادی طاقت کے موجودہ عالمی توازن کی وجہ سے واشنگٹن کے وضع کردہ منظر نامے کی پیروی کرنے پر مجبور ہیں لیکن وہ روس کے ساتھ محاذ آرائی میں کسی بھی طرح معصوم تماشائی  نہیں ہیں۔

تمام پرانی یورپی سامراجی طاقتیں پچھلی صدی میں دو عالمی جنگوں کے تجربہ کاریوں کے ساتھ اور اپنی سابقہ ​​نوآبادیوں میں وحشیانہ جرائم اور اپنے ہی ملکوں میں فاشزم اور نسل کشی کے تجربات کے ساتھ  انہی سیاسی اور معاشی بیماریوں میں مبتلا ہیں جیسے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مگر امریکہ کے مقابلے میں ان  وجوہات سے نمٹنے کے لیے اس سے بھی کم مالی وسائل رکھتے ہیں۔

اگرچہ یہ  آزادانہ طور پر اپنے سامراجی عزائم کی پیروی کرنے سے قاصر ہیں نہ تو برطانیہ، فرانس، اٹلی یا جرمنی اور نہ ہی 'کم طاقتیں' جیسے سویڈن، فن لینڈ، ناروے، ڈنمارک، اسپین، بیلجیم اور  یہا ں تک کہ سوئٹزرلینڈ جیسے بھی علاقوں کی دوبارہ تقسیم سے اپنے اخراج کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ تمام قدرتی وسائل اور مالی فوائد تک رسائی  کے لیے روس کی فوجی شکست اور متعدد ریاستوں میں اس کی تقسیم کی تگ ودو میں شامل ہیں جس کی وہ توقع کرتے ہیں۔

'پہلی گولی کس نے چلائی؟' کے سوال پر توجہ مرکوز کرکے جنگ کے لیے 'الزام' کا اندازہ لگانے کی تمام کوششیں ایک انتہائی محدود ٹائم فریم میں پرکھنے سے  جو کسی ایک واقع کو واقعات کے ایک بہت طویل تسلسل سے الگ کر دیتا ہے سے عبارت ہوتی ہے۔

جب 24 فروری 2022 کو یوکرین پر روسی حملے کو اور  واقعات کو ضروری تاریخی اور سیاسی تناظر میں رکھا کر دیکھا جائے تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا  صرف اسکے  کہ یہ جنگ امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں نے اکسائی تھی۔

تاہم  یہ حقیقت کہ یہ جنگ امریکہ اور نیٹو کی طرف سے اکسائی گئی تھی لیکن یوکرین پر روسی حملے کے لئے  کوئی جواز پیش نہیں کرتی  اور نہ ہی  یہ روسی حکمران طبقے کے رجعتی کردار کو بدل سکتی ہے۔ جو لوگ اس حملے کا اس بنیاد پر دفاع کرتے ہیں کہ یہ روس کی سرحدوں کو نیٹو کے خطرے کا جائز جواب تھا  وہ محض اس حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ پیوٹن ایک سرمایہ دارانہ ریاست کے رہنما ہیں جس کی 'قومی سلامتی' کی تعریف کا تعین اس کے اقتصادی مفادات سے کیا جاتا ہے۔ وہ ہے مالیاتی اشرافیہ کا طبقہ جس کی دولت سوویت یونین کی سابقہ ​​قومیائی گئی جائیداد کی تحلیل اور چوری پر مبنی ہے۔

جنگ کے آغاز اور قانونی چارہ جوئی دونوں میں پیوٹن کی تمام غلط فہمیاں اور غلطیاں ان طبقاتی مفادات کی عکاسی کرتی ہیں جن کی وہ خدمت کرتا ہے۔ جنگ کا مقصد مغربی سامراجی طاقتوں کے فوجی دباؤ کا مقابلہ کرنا اور قومی سرمایہ دار طبقے کے لیے روس کی سرحدوں کے اندر قدرتی وسائل اور محنت کشوں کے استحصال میں غالب پوزیشن کو برقرار رکھنا ہے اور جس حد تک ممکن ہو  بحیرہ اسود کا خطہ اور وسطی ایشیا کے پڑوسی ممالک اور ٹرانسکاکیشیا کی حدود کو اپنے مفادات کے زیر کنٹرول میں رکھنا ہے۔

ان مقاصد میں کچھ بھی ترقی پسند نہیں ہے اور نہ ہی یہ سامراج مخالفت پر استوار ہے۔

ان کے موجودہ تنازعات سے قطع نظر روس اور یوکرین میں سوویت یونین کے تحلیل  کے بعد کے نئے حکمران طبقات جو سرمایہ داری کی بحالی میں ایک ہی مجرمانہ بنیاد رکھتے ہیں۔

جنگ اب اپنے دوسرے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ سرمایہ دار میڈیا اس خونریزی پر جھنجھلا رہا ہے کیونکہ اسے یوکرائنی جوابی حملے کے آغاز کی توقع ہے جس سے دونوں طرف سے دسیوں ہزار جانیں ضائع ہوں گی۔

اس وقت سب سے خونریز لڑائی باخموت شہر میں مرکوز ہے۔ یہاں تک کہ دونوں جانب پروپیگنڈے کے اعتبار اور دعوں کے برعکس یوکرین اور روس دونوں کی طرف سے معلومات کے ہیرا پھیری کو مدنظر رکھا جائے تو اس میں کوئی شک  نہیں ہے  کہ اس  شہر کی لڑائی نے انسانی زندگی کو ایک ہولناک نقصان پہنچایا ہے۔

لیکن شہر اور اس کے ارد گرد فوجی کارروائیوں پر تمام تر توجہ کے باوجود پریس میں شہر کی تاریخ کے بارے میں عملی طور پر کچھ نہیں لکھا گیا۔ اس تاریخ کا جائزہ اس برادرانہ تنازعہ کے المناک کردار اور اس خوفناک سماجی رجعت کی گواہی دیتا ہے جو یہ روس اور یوکرین دونوں کے لوگوں کے لیے پیش کرتا ہے۔

باخموت شہر 1917 کے اکتوبر انقلاب کے بعد ہونے والی خانہ جنگی کا ایک بڑا محاذ تھا۔ یہ اُس وقت سیمیون پیٹلیورا کی بالشویک مخالف قوم پرست یوکرین کی فوج کے کنٹرول میں آ گیا  جس کی حکومت نے قتل و غارت گری کو اکسایا جس کے نتیجے میں 50,000 سے 200,000 کے درمیان یہودی ہلاک ہوئے۔

ریڈ آرمی نے 27 دسمبر 1919 کو بخموت کو آزاد کرایا اور اس فتح نے ایک وسیع سماجی تبدیلی کو مہمیز دی۔ ایک 'مزدوروں کی فتح' کا کارخانہ بنایا گیا اور شہر کے آس پاس کی بارودی سرنگوں کا نام جرمن انقلابی کارل لیبکنیچ اور سوویت رہنما یاکوف سویرڈلوف کے نام پر رکھا گیا۔ 1924 میں ایک سرکردہ بالشویک  فیوڈور اینڈریوچ سرگئیف جو کامریڈ آرٹیوم کے نام سے جانے جاتے تھے کی یاد میں شہر کا نام بدل کر آرٹیمیوسک رکھ دیا گیا۔

ان کی زندگی انقلابی بین الاقوامیت کی عکاسی کرتی ہے جس نے سوشلسٹ سوچ رکھنے والے محنت کش طبقے دانشوروں اور کثیر القومی روسی سلطنت کے نوجوانوں کو متاثر کیا۔

فیوڈور سرگئیف، یا کامریڈ آرٹیوم

سرگئیف (آرٹیوم)  نے 1901 میں روسی سوشل ڈیموکریٹک لیبر پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی اور 1903 کی تقسیم کے بعد لینن کے بالشویک دھڑے کی حمایت کی تھی۔ 1905 کے انقلاب کے دوران  اس نے خارکوف شہر میں مزدوروں کی مسلح بغاوت کی قیادت کی۔ انقلاب کی شکست کے بعد اسے سائبیریا میں قید کر دیا گیا۔ لیکن کامریڈ آرٹیوم تین سال بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور جاپان اور کوریا کے راستے آسٹریلیا پہنچ گئے۔

وہ جلد ہی آسٹریلوی محنت کش طبقے کی جدوجہد میں سرگرم ہو گیا۔ بڑے پیمانے پر 'بگ ٹام' کے نام سے جانا جاتا ہے، آرٹیوم 1912 میں ایکو آف آسٹریلیا جریدے کا ایڈیٹر بن گیا۔ آسٹریلیائی سوشلسٹ پارٹی کے رکن کے طور پر اس نے پہلی عالمی جنگ  میں آسٹریلیا کی جنگ میں شرکت کے خلاف  ٹریڈ یونینوں میں حزب اختلاف کی قیادت کی۔

فروری کے انقلاب کے بعد روس واپس آکر آرٹیوم نے انقلابی بغاوت کی تنظیم میں اہم کردار ادا کیا جس نے کھرکوف اور ڈونیٹس بیسن کے علاقے میں بالشویک حکمرانی کو محفوظ بنایا۔ اس نے خانہ جنگی میں نمایاں کردار ادا کیا جس نے بالآخر سوویت اقتدار حاصل کیا۔ 1921 میں آرٹیوم ایک ٹرین حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ تین سال بعد بخموت  کا نام  آرٹیمیوسک رکھ دیا گیا۔

سوویت یونین پر حملہ کرنے کے چار ماہ بعد 31 اکتوبر 1941 کو نازی افواج نے آرٹیمیوسک پر قبضہ کر لیا۔ 1942 کے اوائل میں نازیوں نے دائیں بازو کے یوکرائنی قوم پرستوں کی مدد سے 3000 یہودیوں کا قتل کیا، جنہیں پکڑ کر بارودی سرنگ میں دھکیل دیا گیا اور  جن کا دم گھٹنے سے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

5 ستمبر 1943 کو آرٹیمیوسک کو ریڈ آرمی نے آزاد کرایا۔

2014 کے میدان کودیتا کے بعد پوروشینکو کی دائیں بازو کی حکومت جو یوکرائنی فاشزم کے ہیروز کی بحالی اور سوویت دور کے تمام سیاسی، سماجی اور ثقافتی آثار کو ختم کرنے کے لیے بے چین تھی نے آرٹیمیوسک کو یوکرین کے نقشے سے ہٹا دیا اور شہر کا پرانا نام بخموت بحال کر دیا۔

اکتوبر انقلاب کی باقیات کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ اسٹیپن بانڈرا، دمتری ڈونٹسوف اور فاشسٹ اور نو نازی بورژوا یوکرائنی قوم پرستی کے دیگر ہیروز کی تجدید اور تعریف کی گئی۔

لیکن یوکرائنی فاشزم کے خلاف لڑنے کے پیوٹن کے دعوے میں سیاسی اعتبار کا فقدان ہے۔ وہ روسی قوم پرستی کے رجعتی جھنڈے تلے جنگ لڑ رہا ہے۔ جب پیوٹن زار ازم کے ورثے کو جنم دیتا ہے اور لینن، ٹراٹسکی، بالشوزم اور اکتوبر انقلاب کی مذمت کرتا ہے تو وہ اپنی حکومت کے تاریخی رجعتی اور سیاسی طور پر دیوالیہ ہونے کی گواہی دے رہا ہے۔

جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہم سوشلسٹ بین الاقوامیت کے اصول پر زور دیتے ہیں۔ محنت کش طبقے کا کوئی ملک نہیں ہے۔ اس جنگ سے نہ تو یوکرائنی اور نہ ہی روسی محنت کش طبقے کو کچھ حاصل ہے۔ 80 سال پہلے یوکرین اور روس کے محنت کش نازی حملہ آوروں کو سوویت یونین سے نکالنے کی جدوجہد میں شانہ بشانہ لڑے تھے۔ اب  سرمایہ داری کی بحالی کے نتیجے میں وہ اسی سرزمین پر ایک دوسرے کو مار رہے ہیں جس کا انہوں نے کبھی فاشزم کے خلاف اور اکتوبر انقلاب کی فتوحات کے دفاع میں شانہ بشانہ دفاع کیا تھا۔

صرف سیاسی طور پر قابل عمل  سامراجی جنگ کا جواب سوشلسٹ پالیسیوں کی بنیاد پر بین الاقوامی محنت کش طبقے کو انقلابی طور پر متحرک کرنے پر ہے۔ آج کل ایک 'کثیر قطبی' دنیا کے آنے کے بارے میں بہت سی باتیں ہو رہی ہیں جو کہ امریکی سامراج کی 'یک قطبی' تسلط کو ختم کرتے ہوئے 'کثیر قطبیت'  کو  عملی جامہ پہنا  دے گا۔ جعلی بائیں بازو کے نظریے کے خالقوں کے مطابق واشنگٹن کی حکمرانی کو سرمایہ دارانہ ریاستوں کے کنسورشیم کے ذریعے بدل دیا جائے گا جو عالمی وسائل کی زیادہ پرامن تقسیم کو اجتماعی اور ہم آہنگی سے سر انجام دے گا۔

ایک پرامن 'انتہائی سامراجیت' کا یہ نیا بیانیہ نظریاتی طور پر اور سیاسی طور پر قابل عمل نہیں ہے اور نہ ہی زیادہ مربوط ہے  جتنا کہ ایک صدی پہلے تھا جب اسے پہلی بار جرمن اصلاح پسند کارل کاؤٹسکی نے تجویز کیا تھا اور لینن نے اس کی جامع تردید کی تھی۔ سرمایہ دارانہ اور سامراجی ریاستوں کے درمیان عالمی وسائل کی پرامن تقسیم کا سوال  ناممکن ہے۔ کیونکہ عالمی معیشت اور سرمایہ دارانہ قومی ریاستی نظام کے درمیان تضادات جنگ کا باعث بنتے ہیں۔

کسی بھی صورت میں، ایک 'کثیر قطبی' دنیا کا ادراک اسکی تمام تر غلط نظریاتی بنیادوں کو ایک جانب  رکھتے ہوئے اور یہ توقع کہ  غالب سامراجی طاقت یعنی  امریکہ اس سے پرامن طور پر قبول کر لے۔ یہ ایک بالکل  حقیقت پسندانہ امکان نہیں ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ 'یک قطبی' بالادستی  کی مہم کو روکنے کے لئے اپنے اختیارات  کی کوششوں کے تمام ذرائع کے ساتھ اسکی مخالفت کرے گا۔ اس طرح یوٹوپیائی ایک 'یک قطبی' کو 'کثیر قطبی' دنیا سے بدلنے کی کوشش اور خواہش کو اپنی ہی خمیدہ منطق سے تیسری عالمی جنگ اور کرہ ارض کی تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔

آخری تجزیے میں ان مارکسسٹ مخالف نظریات اور پالیسیوں کی بنیاد سرمایہ داری کے خلاف جدوجہد کی مخالفت میں ہے اور متصادم سرمایہ دارانہ اور سامراجی ریاستوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش ہے۔

انٹرنیشنل کمیٹی سرمایہ دارانہ حکومتوں کے لیے ایسی تمام بزدلانہ نقط نظر اور انقلابی کاموں سے چشم پوشی کو مسترد کرتی ہے۔ جیسا کہ ٹراٹسکی نے دوسری عالمی جنگ  کے آغاز پر کہا تھا: 'ہم حکومتی پارٹی نہیں ہیں۔ بلکہ ہم ناقابل مصالحت انقلابی حزب اختلاف کی جماعت ہیں...'

ہم اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کرنا چاہتے ہیں 'بورژوا حکومتوں کے ذریعے نہیں … بلکہ صرف ایجی ٹیشن کے ذریعے عوام کی تعلیم کے ذریعے مزدوروں کو یہ سمجھانے کے ذریعے کہ انہیں کس چیز کا دفاع کرنا چاہیے اور انہیں کس چیز کا تختہ الٹنا چاہیے۔'

تاریخی مسائل کے حل کے لیے اس طرح کا نقطہ نظر ٹراٹسکی نے تسلیم کیا تھا ' کہ ہم فوری معجزاتی نتائج نہیں دے سکتے۔ لیکن ہم معجزاتی کارکن ہونے کا بہانہ نہیں کرتے۔ جیسا کہ حالات بتا رہے ہیں ہم ایک انقلابی اقلیت ہیں۔ ہمارے کام کی ہدایت اس لیے ہونی چاہیے کہ جن کارکنان پر ہمارا اثر ہے وہ واقعات کا صحیح اندازہ لگائیں خود کو بے خبری میں پس جانے کی اجازت نہ دیں اور اپنے طبقے کے عمومی جذبات کو ہمارے سامنے آنے والے کاموں کے انقلابی حل کے لیے تیار کریں“۔

انسانیت کو درپیش خطرات کو کم نہ ظاہر کیا جائے۔ ایک حقیقی انقلابی کی پہلی ذمہ داری یہ بتانا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔ لیکن اس کے لیے اس بات کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ معروضی حقیقت نہ صرف تیسری عالمی جنگ  اور انسانیت کی تباہی کا خطرہ پیش کرتی ہے بلکہ اس کے ساتھ عالمی سوشلسٹ انقلاب اور انسانی تہذیب میں شاندار پیش رفت کا بھی امکان ہے۔

چوتھی انٹرنیشنل  کا پروگرام عالمی سوشلسٹ انقلاب کی پارٹی انٹرنیشنل  کمیٹی کی قیادت میں اس صلاحیت کا بھر پور ادراک کرتے ہوئے  سامراجی جنگ کے خلاف  ایک ماس تحریک استوار کرکے اور پوری دنیا میں سوشلزم کی تعمیر کے لیے محنت کش طبقے کو اقتدار کی منتقلی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ یہ وہ نقطہ نظر ہے جو تمام مشکلات اور خطرات کے باوجود آج کے یوم مئی کے جشن کو حیات دیتا ہے۔

Loading