اُردُو
Perspective

امریکی سامراج نے نئے سال کا آغاز ایک نئی جنگ سے کیا

ٹرمپ کی وینزویلا پر مجرمانہ حملے کی مخالفت کرو! مادورو کو رہا کرو!

یہ 4 جنوری 2026 کو انگریزی میں شائع ہونے والے اس  Oppose Trump’s criminal invasion of Venezuela! Release Maduro! بیان کا اردو ترجمہ ہے۔

ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ، امریکہ میں سوشلسٹ ایکویلیٹی پارٹی اور فورتھ انٹرنیشنل کی انٹرنیشنل کمیٹی نے ہفتہ کی صبح سویرے وینزویلا پر حملے اور صدر نکولس مادورو کے مجرمانہ اغوا کی واضح اور صاف الفاظ میں مذمت کی۔ ہم مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی فوری رہائی اور خطے سے تمام امریکی فوجیوں اور فوجی دستوں کے مکمل انخلاء کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اُس حملہ جس میں کم از کم 40 افراد کی ہلاکت شامل تھی، ٹرمپ حکومت کی طرف سے قانونی حیثیت کی کسی بھی علامت کی مکمل تردید ہے۔ یہ جارحیت کی ایک بلا اشتعال جنگ ہے جو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی میں شروع کی گئی ہے اور وینزویلا اور پورے لاطینی امریکہ پر نوآبادیاتی کنٹرول کو دوبارہ نافذ کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ اس سامراجی حملے کی امریکہ اور پوری دنیا کے محنت کش طبقے کی جانب سے اسکی مخالفت کرنی چاہیے۔

ہفتہ کی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کے 'سیکرٹری آف جنگ' پیٹ ہیگستھ نے اعلان کیا کہ '2026 میں خوش آمدید'۔ نئے سال کے صرف تین دن بعد وینزویلا پر حملہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ سامراجی تشدد جس نے 2025 میں غزہ کی نسل کشی اور لبنان، شام اور ایران پر بمباری کی تھی یہ مزید 2026 میں بڑھیں گے۔

خارجہ اور اندرونی پالیسی کے درمیان کوئی ٹھوس دیوار نہیں ہے۔ امریکہ کی سرحدوں سے باہر سامراجی غنڈہ گردی کے ساتھ ساتھ امریکہ کے اندر فاشسٹ صدارتی آمریت مسلط کرنے کی سازش میں تیزی آئے گی۔

ہفتہ کی پریس کانفرنس میں اپنے ریمارکس میں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ 'ملک کو اس وقت تک چلائے گا جب تک کہ ہم ایک محفوظ، مناسب اور منصفانہ منتقلی نہیں کر سکتے۔' ماضی میں امریکی سامراج نے جمہوریت اور انسانی حقوق کی منافقانہ دعوتوں سے اپنی جنگوں کو جائز قرار دینے کی کوشش کی۔ لیکن اسکے برعکس ٹرمپ نے کھلے عام ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وینزویلا پر حملے کا مقصد اس ملک اور اس کے تیل کے وسائل پر قبضہ کرنا تھا۔

ٹرمپ نے اعلان کیا کہ 'ہم اپنی بہت بڑی ریاستہائے متحدہ کی تیل کمپنیاں جو دنیا میں کہیں بھی سب سے بڑی ہیں مزید اور بنائیں گے ان پر اربوں ڈالر خرچ کریں گے۔' اگر کوئی مزاحمت ہوئی تو ٹرمپ نے مزید وحشیانہ فوجی حملے کی دھمکی دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں ایسا کرنے کی ضرورت پڑی تو ہم دوسرا اور بہت بڑا حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

وال سٹریٹ اخبار نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا کہ اعلیٰ ہیج فنڈز اور اثاثہ جات کے منتظمین مارچ میں ایک وفد کراکس بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ ایک سرمایہ کار نے اگلے پانچ سالوں میں 'سرمایہ کاری کے مواقع' میں 500 سے 700 بلین ڈالر تک کی سرمایہ کاری کرنے کا کہا ہے۔

اپنے تیل کے بڑے ذخائر کے علاوہ وینزویلا دیگر اہم وسائل سے غیر معمولی طور پر مالا مال ہے۔

 جس میں سونے کے اہم ذخائر ہیں جو خاص طور پر جنوب مشرق میں (گیانا ہائی لینڈز) ہیں اس کے علاوہ کم مقدار میں ہیروں کے ذخائر بھی گیانا کے علاقے میں پائے جاتے ہیں جو سونے اور باکسائٹ سے کم مقدار میں ہیں۔ وینزویلا کے پاس تانبے، نکل، مینگنیج اور کم مقدار میں اور دستاویز میں کولٹن اور کیسیٹرائٹ کے ذخائر کی بھی نشان دھی کی ہے جو کان کنی کی نئی سرحدوں سے وابستہ ہیں۔ جب کہ سروے ممکنہ طور پر کافی یورینیم اور تھوریم کے ذخائر کی موجودگی کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔

سب سے بڑھ کر جنگ ایک اہم جیوپولیٹیکل مقصد کی تکمیل کرتی ہے۔ وینزویلا پر حملہ اور اس کے صدر کے اغوا کا مطلب ہے جیسا کہ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اسے 'کسی بھی ایسے شخص کے لیے جو امریکی خودمختاری کو خطرہ بنائے گا' کے لیے 'انتباہ' کے طور پر پیش کیا۔

اپنی نئی قومی سلامتی کی حکمت عملی کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے اعلان کیا کہ 'مغربی نصف کرہ میں امریکی تسلط پر دوبارہ کبھی سوال نہیں کیا جائے گا۔' انیسویں صدی کے پرشین عسکریت پسند بسمارک کی بدنام زمانہ 'خون اور لوہے' کی تقریر کو مدعو کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس حملے کو 'آہنی قوانین جو ہمیشہ عالمی طاقت کا تعین کرتے ہیں' کے دوبارہ دعویٰ کے طور پر سراہا ہے۔

فوری ہدف لاطینی امریکہ کی حکومتیں ہیں جو امریکی سامراجی مفادات کے خلاف کام کر سکتی ہیں۔ کولمبیا کے صدر گسٹاو پیٹرو کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے بازاری غنڈے کی زبان میں خبردار کیا، 'اسے اپنے کو محتاط رکھنا ہوگا۔' جنگ کے فاشسٹ سیکرٹری پیٹ ہیگستھ نے مزید کہا: 'امریکہ اپنی مرضی کو کہیں بھی کسی بھی وقت پیش کر سکتا ہے،' وینزویلا اور گزشتہ سال ایرانی جوہری مقامات پر امریکی بمباری کے درمیان براہ راست مماثلت پائی جاتی ہے۔ 'مادورو کے پاس موقع تھا،' انہوں نے طنز کیا 'جیسے ایران کو موقع ملا تھا - جب تک کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔'

سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو جو ٹرمپ کے لیے وہی ہے جو ہٹلر کے لیے وان ربینٹرپ تھا - نے کیوبا کی حکومت کو اپنی دادا گیری میں دھمکی جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ جزیرے کی قوم کا رہنما ہوتا تو 'مجھے فکر ہوتی۔'

لیکن خطرات لاطینی امریکہ تک محدود نہیں ہیں۔ وینزویلا اور ایران کے علاوہ امریکہ نے پچھلے سال پانچ اضافی ممالک پر بمباری کی: شام، عراق، یمن، صومالیہ اور حال ہی میں، دسمبر میں نائجیریا میں۔ ٹرمپ نے میکسیکو کے خلاف جنگ کی دھمکیاں جاری کیں گرین لینڈ اور کینیڈا کے الحاق کا اعلان کیا اور پاناما کینال کو امریکی کنٹرول کے لیے 'غیر گفت و شنید' قرار دیا۔

چین کو جارحانہ پیغام بلا شبہ ہے۔ حملے سے چند گھنٹے پہلے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے ایک اعلیٰ سطحی چینی وفد سے ملاقات کی جس کی قیادت بیجنگ کے خصوصی نمائندے برائے لاطینی امریکہ اور کیریبین امور کے کیا شیاوُکی کر رہے تھے جو مشترکہ توانائی کے تعاون پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے گے تھے۔ امریکی چھاپہ اس ملاقات کے موقع پر ایک جارحانہ کارروائی تھی جس کا مقصد چین اور لاطینی امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کو متاثر کرنا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے کیے گئے اقدامات نہ صرف مجرمانہ ہیں بلکہ ان میں سراسر پاگل پن کا کردار ہے۔ 2003 میں جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ نے خبردار کیا کہ امریکی سامراج 'تباہی کے ساتھ ٹکراوُ میں داخل ہو چکا ہے، وہ دنیا کو فتح نہیں کر سکتا وہ مشرق وسطیٰ کے عوام پر استعماری بیڑیاں دوبارہ نہیں لگا سکتا اور اسے جنگ کے ذریعے اپنے اندرونی مسائل کا کوئی قابل عمل حل نہیں ملے گا۔'

اس انتباہ کی تصدیق ہوگئی۔ جو اب حرکت میں آرہا ہے وہ اور بھی زیادہ لاپرواہی سے تباہی کے ساتھ ہمکنار ہو رہا ہے۔

ٹرمپ نے ہفتے کے روز وینزویلا پر آمریت مسلط کرنے کے ارادے کا اعلان کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس ملک کو ٹرمپ کے دور حکومت میں روبیو، ہیگستھ اور دیگر حکام 'چلائیں گے'، گویا 30 ملین آبادی والا ملک اور جو 350,000 مربع میل سے زیادہ پھیلا ہوا ہے، کیا واشنگٹن کے بیوروکریٹس کے حکم پر چلایا جا سکتا ہے۔ حقیقت میں، اس طرح کے قبضے کے لیے لاکھوں امریکی فوجیوں کی تعیناتی اور عوامی مزاحمت کے درمیان شہری جنگ کی ایک ظالمانہ مہم کی ضرورت ہوگی۔ ٹرمپ نے اتنا ہی کہا جب انہوں نے کہا کہ وہ 'زمین پر فوج' اترانے سے نہیں ڈرتے۔

یاد رہے کہ عراق پر 2003 کے حملے کے لیے تقریباً 180,000 اتحادی فوجیوں کی ضرورت تھی جن میں 130,000 امریکہ شامل تھے۔ مجموعی طور پر جنگی کوششوں کی حمایت میں تقریباً نصف ملین امریکی اہلکار پورے خطے میں تعینات تھے۔ اور عراق جس کی آبادی وینزویلا سے کم ہے، ایک دہائی کی پابندیوں سے پہلے ہی تباہ ہو چکا تھا۔ وینزویلا کی محکومیت کو نافذ کرنے کے لیے درکار فوجی قبضے کا پیمانہ تیزی سے پورے لاطینی امریکہ اور درحقیقت پوری دنیا میں ایک خونی طویل تنازعہ میں تبدیل ہو جائے گا۔

ٹرمپ حکومت کی لاپرواہی کو صرف امریکی سامراجیت کے بحران کے تناظر میں ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ سیاسی طور پر ٹرمپ کے اقدامات کے پیچھے بہت سے غیر بیان شدہ مقاصد ہیں، جن میں ایپسٹین سیکس ٹریفکنگ نیٹ ورک سے متعلق دھماکہ خیز انکشافات سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی شامل ہے، جس نے مالی اشرافیہ اور ریاستی نظام کے اعلیٰ شخصیات کو ملوث کیا ہے۔

لیکن اس سے کہیں زیادہ اہم مفادات داؤ پر ہیں۔ امریکہ اپنے عالمی غلبے کی معاشی بنیادیں ڈرامائی طور پر ختم ہونے کے بعد فوجی طاقت اور جنگ کے ذریعے امریکی سرمایہ داری کے طویل مدتی زوال کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی ڈالر کے عالمی ذخیرہ کرنسی کے طور پر اعتماد میں شدید کمی کا ثبوت یہ ہے کہ سونا فی اونس 4,300 ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ قومی قرضہ 38 ٹریلین ڈالر سے بڑھ چکا ہے۔ وینزویلا کے تیل پر قبضہ اور مغربی نصف کرہ پر امریکی کنٹرول کی دوبارہ بحالی کو حکمران طبقہ اپنی معاشی اور جیوپولیٹکل پوزیشن کی بقا کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے۔

اس پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے محنت کش طبقے پر بھرپور حملے کی ضرورت ہوگی۔ فوجی طاقت اور عالمی فتح کے فلکیاتی اخراجات کو سخت گیر معاشی پالیسیوں کی شدت اور جو اہم سماجی پروگرام باقی بچے ہیں ان کی تباہی کے ذریعے برداشت کیا جائے گا۔ بیرون ملک نوآبادیاتی تسلط نافذ کرنے کے لیے انتظامیہ کو گھر میں بڑے پیمانے پر مخالفت پر قابو پانا بھی پڑے گا۔ اس حکمت عملی سے پیدا ہونے والی ناگزیر تباہیاں بین الاقوامی سطح پر اور امریکہ کے اندر دونوں جگہوں پر مزید شدید تشدد کے ساتھ کا سامنا کریں گی۔

ہفتہ کی پریس کانفرنس میں ٹرمپ کے غیر متوقع بیانات بغیر کسی رکاوٹ کے مادورو کا ' جھپٹ کر چھین لینا' اغوا سے لے کر بڑے امریکی شہروں کو دھمکیاں دینے تک منتقل ہو گئے۔ واشنگٹن ڈی سی، لاس اینجلس، میمفس اور نیو اورلینز میں نیشنل گارڈ کی تعیناتیوں کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا، 'انہیں مزید شہروں میں بھی یہ کرنا چاہیے۔' وہی 'آہنی قوانین' تشدد کے جو امریکہ کے بیرون ملک طرز عمل کو کنٹرول کرتے ہیں اب گھریلو آبادی پر بھی نافذ کیے جائیں گے۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ٹرمپ انفرادی طور پر نہیں بلکہ امریکی حکمران طبقے کا منتخب آلہ کار ہے ایک بدمعاش جسے اشرافیہ نے پیش کیا ہے جب جمہوری یا قانونی ذرائع سے پالیسیاں آگے نہیں بڑھائی جا سکتیں۔

2025 میں امریکی ارب پتیوں، تقریباً 900 افراد جن کی مجموعی دولت میں 18 فیصد اضافہ ہوا جس سے ان کی مجموعی دولت تقریباً 7 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ جرمن حکمران طبقے نے 1933 میں ہٹلر کو اقتدار میں لایا تاکہ ایسی پالیسیاں نافذ کی جائیں جو آمریت کے بغیر ممکن نہ تھیں۔ ٹرمپ بھی اسی کردار کو ادا کر رہا ہے۔

خاص طور پر ایمیزون کے ارب پتی جیف بیزوس کی ملکیت والے واشنگٹن پوسٹ نے ایک اداریہ شائع کیا جس میں مادورو کے اغوا کو 'ایک صدر کی جانب سے برسوں میں کیا گیا سب سے بہادر اقدام' قرار دیا گیا۔ اخبار نے فوجی آپریشن کی 'ناقابل تردید حکمت عملی کامیابی' کی تعریف کی مادورو کی شکست کو 'اچھی خبر' کہا اور ٹرمپ کی 'آگے بڑھنے' کی خواہش کی تعریف کی جہاں پچھلی انتظامیائیں ہچکچا رہی تھیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی اسی طبقے کی نمائندگی کرتی ہے اور وہی نظام دفاع کرتی ہے جو ٹرمپ کرتا ہے۔ اس کے حلقوں سے کوئی سنجیدہ مخالفت نہیں ہوگی۔ ٹرمپ کے ساتھ ان کے اختلافات محض حکمت عملی کے ہیں نہ کہ بنیادی یا اسٹریٹجک۔ یہ بات وینزویلا پر حملے کے جواب میں ان کے خاموش ردعمل سے واضح ہو گئی۔ ہاؤس میں اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے کانگریشنل اطلاع نہ دینے پر شکایت کی لیکن ساتھ ہی دوبارہ تصدیق کی کہ مادورو 'حکومت کا جائز سربراہ نہیں ہے۔'

صرف چند ہفتے قبل ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز نے مل کر 900 ارب ڈالر کے فوجی اخراجات کے بل کو منظور کیا جو اس سامراجی ایجنڈے کی واضح توثیق تھی جو اب بے رحمانہ طور پر نافذ کیا جا رہا ہے۔

اپنی طرف سے وسیع عوامی مخالفت کی توقع کرتے ہوئے، سینیٹر برنی سینڈرز نے ایک بیان جاری کیا جس میں وینزویلا کے خلاف کارروائی کو 'غیر قانونی اور غیر آئینی' قرار دیا لیکن انہوں نے جنگ روکنے کے لیے کوئی حکمت عملی تجویز نہیں کی اور نہ ہی اس کے خلاف عوامی تحریک کی اپیل کی۔

محنت کش طبقے میں ردعمل ضرور آئے گا اور یہ صرف وینزویلا اور لاطینی امریکہ تک محدود نہیں رہے گا۔ نوآبادیاتی تسلط کی دوبارہ بحالی کو پوری دنیا میں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکہ میں سروے بتاتے ہیں کہ وینزویلا کے خلاف جنگ کے خلاف غالب اکثریت ہے۔ ٹرمپ کی منظوری کی شرح دفتر میں واپسی کے پہلے سال کے اختتام پر صرف 36 فیصد رہ گی ہے جو پچھلے نصف صدی سے زیادہ عرصے میں اس مقام پر کسی بھی صدر کی سب سے کم شرح ہے۔

وینزویلا پر حملے کے چند گھنٹوں کے اندر مظاہرے شروع ہو گئے جو عوامی مخالفت کا ابتدائی اشارہ ہے جو مزید پھیلے گا اور بڑھے گا۔ تاہم غزہ میں نسل کشی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کے تجربے سے ظاہر ہوا ہے کہ واشنگٹن سے اپیل کرنے سے حکومت کی پالیسی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پروگرام اور قیادت کے بغیر عوامی غم و غصہ سرمایہ دارانہ ریاست کی سیاسی ساختوں میں واپس بہہ جاتا ہے۔

جو چیز درکار ہے وہ سیاسی جدوجہد جو ایک سوشلسٹ پروگرام کی بنیاد پر محنت کش طبقے کی شعوری مداخلت ہے۔ جنگ کی مذمت جو اس کی جڑوں کو سرمایہ دارانہ نظام اور ملک پر حکمرانی کرنے والی اشرافیہ کے مفادات سے نظر انداز کرے گی وہ صرف شکست اور مایوسی کی طرف لے جائے گی۔

ایسی جدوجہد کے لیے حالات اب بہت پک کر تیار ہو چکے ہیں۔ بیرون ملک جنگ اندرون خانہ میں سماجی رد انقلاب سے الگ نہیں کی جا سکتی—بے تحاشا مہنگائی، اے آئی کی وجہ سے نوکریوں کی تباہی، بڑھتی ہوئی غربت، اور ہر جمہوری اور سماجی حق کو منظم طریقے سے تحلیل کیا جا رہا ہے۔

اشرافیہ ایک سماجی بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہوئی ہے۔ امریکی سامراجیت کا عالمی آتش فشاں ایک عالمی طبقاتی جدوجہد کے سونامی کو جنم دے رہا ہے۔ دونوں ایک ہی سرمایہ دارانہ نظام کے تضادات سے پیدا ہو رہے ہیں۔

اور اگرچہ یہ سب سے زیادہ شدت سے امریکہ میں ظاہر ہو رہا ہے، وہی بنیادی رجحانات پوری دنیا میں موجود ہیں۔ تمام سامراجی طاقتیں اب دنیا کی عالمی دوبارہ تقسیم میں مصروف ہیں۔

یورپ میں بڑی سرمایہ دار حکومتیں دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی بحالیِ اسلحہ مہم چلا رہی ہیں جبکہ وہ روس کے خلاف جنگ کا شور مچا رہی ہیں اور سماجی پروگراموں کو تباہ کر رہی ہیں۔ برطانیہ، فرانس اور نیٹو میں ان کے سامراجی شراکت داروں کے لیے وینزویلا کے خلاف ٹرمپ کا حملہ ان کے پرانے نوآبادیاتی سلطنتوں کو دوبارہ حاصل کرنے کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ جرمن حکمران طبقہ جو بڑے پیمانے پر فوجی تیاری میں مصروف ہے چوتھے رائخ کے خواب دیکھ رہا ہے اور براعظم بھر میں اور اس سے آگے اپنی فوجی طاقت کا اعلان کر رہا ہے۔

حکمران طبقے نے واضح کر دیا ہے کہ وہ 2026 کو کیا بنانا چاہتے ہیں: بے لگام فوجی تشدد کا سال۔ اس کا جواب یہ ہونا چاہیے کہ 2026 کو طبقاتی جدوجہد اور سوشلزم کے لیے بڑے پیمانے پر تحریک کی ترقی کا سال بنایا جائے۔

جنگ کے خلاف جدوجہد دراصل اس سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد ہے جو اسے جنم دیتا ہے۔ یہ جدوجہد محنت کش طبقے کی قیادت میں ہونی چاہیے، جو عوام کے تمام ترقی پسند حصوں کو ایک ایسی جدوجہد میں متحد کرے جس کا مقصد حقیقی جمہوریت اور مساوات کا قیام ہو۔

اشرافیہ کی آمریت کا متبادل سوشلزم ہے: ایک آزاد سیاسی تحریک کی تعمیر جو سرمایہ داری کا خاتمہ کرے اور معاشرے کو نجی منافع کے بجائے سماجی ضروریات کی بنیاد پر دوبارہ منظم کرے۔

سوشلسٹ ایکویلیٹی پارٹی اور فورتھ انٹرنیشنل کی بین الاقوامی کمیٹی امریکہ بھر میں پورے لاطینی امریکہ میں اور بین الاقوامی سطح پر محنت کشوں، طلبہ اور نوجوانوں سے اپیل کرتی ہے: ہماری صفوں میں شامل ہو جائیں۔ امریکہ میں سوشلسٹ ایکویلیٹی پارٹی اور دنیا بھر میں آئی سی ایف آئی کے سیکشنز کی تعمیر کریں۔ سرحدوں کے پار محنت کش طبقے کو متحد کرنے سرمایہ داری کو ختم کرنے اور ایک نئے سماج کی بنیاد کے طور پر سوشلزم کے قیام کی جدوجہد شروع کریں۔

Loading